Hesham A Syed

January 4, 2009

A few queries from Aethiests – !

Filed under: Religion,Social Issues — Hesham A Syed @ 7:49 pm
Tags:

Urdu Article : MulhidoaN sey chand sawalaat – hesham syed

حشام احمد سید                                   ملحدوں  سے  چند  سوالات
کنیڈا ہی کیا دنیا میں ایسی بے شمار شیطانی جماعتیں بنی ہوئی ہیں اور بن رہی ہیں جو اس کائنات کو خارج از خدا ثابت کرنے پہ تلی ہوئی ہیں۔ کیا ان جماعتوں کو شیطانی کہا جا سکتا ہے؟ ابلیس شیطان ہوتے ہوئے بھی خدا کے وجود سے بخوبی واقف ہے۔ لیکن شاید یہی بات شیطان کو شیطان بناتی ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی حق کا انکار کیا جائے۔ ایسی تنظیمیں یا جماعتیں بڑے خوبصورت نام رکھتی ہیں کہ لوگ ان کے نام کے سحر میں رہیں اور ان کی مکاری کا بھی پتہ نہ چلے۔ کبھی یہ دل کی بات کریں گے توکبھی انسانی دماغ و  نفسیات کی ، کبھی یہ انسانیت کو سب سے بڑا دین قرار دیتے ہیں تو کبھی فکری آزادی کی بات کرتے ہیں ۔یہ جماعتیں بڑی فلسفیانہ گفتگو کرتیں ہیں ۔بڑے بڑے مقالے ترتیب دیئے جاتے ہیں ۔نظم و نثر میں الجھاوا پیدا کردیتے ہیں تا کہ لوگوں کا ذہن پیچیدہ باتوں میں ہی الجھا رہے اور ان میں تاریکی اور روشنی کی تمیز اٹھ جائے۔ دھوکے میں ایسی جماعتوں میں ایسے افراد بھی شامل ہو جاتے ہیں جن میں سچائی ہوتی ہے یا کم سے کم اسے پانے کی تڑپ ہوتی ہے لیکن رفتہ رفتہ ایسے لوگ بھی ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے شیطانی دھونکنی سے مخبوط الحواس ہو جاتے ہیں ان کا حال وہی ہوتا ہے جو قران نے کہا ہے کہ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے تاریک رات میں آگ سلگائی ہو لیکن بینائی چھن گئی ہو یا پھر یہ کہ آسمان کی بجلی کی کڑک (یعنی آوازِ حق ) سنائی دے تو اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اس کی چمک میں چند قدم بڑھائیں تو سہی لیکن پھر ان کے آگے تاریکی چھا جائے۔ حق اور سچائی کی سادگی کا یہ مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ یہ خود اپنا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کے معاونین اور کارندوں میں یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ باہر سے وہ بڑے مرنجا ںمرنج دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے اندرذات کی انا خدا بن کے حکومت کر رہی ہوتی ہے۔ جس کی تمیز انہیں خود نہیں ہوتی اور اگر ہو سکتی تو پھر ان کے بارے میں اللہ یہ کیوں کہتا کہ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں سو یہ نہیں پھریں گے ۔ زعم ِ علم اور منکرانہ و کافرانہ باتوں اور کتابوں کی یہاں بھر مار ہوتی ہے تاکہ خاص و عام ان سے مرعوب رہے۔ اور قران پھر یہ کہتا ہے کہ ان کی مثال ایسی ہے جیسے گدھے پر بے شمار کتابیں لدی ہوں لیکن گدھا تو پھر گدھا ہی ہے۔ ان کے مرغوب موضوعات میں عورتوں کی آزادی ، فکری آزادی ، انسانی برادری ، مذہب سے نجات ، علما ومذہبی مفکرین کی حیثیت کو مشکوک بنانا ، انبیا ء و رسول کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔ در اصل یہ سارے خوبصورت استعارے اور روشن خیالی کے عنوان  ہر قسم کی بیہودہ باتوں کو فروغ دیتے اور بے راہ روی کی ہر رکاوٹ کو فرسودہ قرار دینے کے لئے ہیں۔ اگر واقعی انہیں معاشرے کی اصلاح مرغوب ہوتی تو یہ اللہ خالق کائنات سے ہی رجوع کرتے اور اسی سے ہدایت طلب کرتے ۔ سو ان کے اپنے خفیہ ایجنڈے پرکام خدا کی موجودگی میں کیسے ہوسکتا ہے تا وقتیکہ اس سے پیٹھ موڑ کر اس کے وجود کا انکار نہ کیا جائے۔ ان کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی تو خدا کی ہی ذات ہے کیونکہ اللہ ہی یہ کہتا ہے کہ انسان کو پیدا کر کے یونہی مادر پدر آزاد نہیں چھوڑ دیا گیا ۔ اس کی مقصدیت اور رہنمائی کا پورا انتظام کیا گیا لیکن آپ حضرات نے کبھی کسی ناخلف اولاد کا تجربہ کیا نہیں تو دیکھا ہو گا کہ وہ والدین کی ہزار شفقتوں کے باوجود کیسا انہیں اذیت دینے پہ تلا ہوتا ہے وہ ہر وہ کام کرتا ہے جس سے کوئی فساد پیدا ہو ،یہاں تک کہ اسے اپنے والدین کی موجودگی بھی گراں گزرتی ہے۔ ایسے گم راہوںکے ساتھ آپ کا رویہ کیا ہوتا ہے ؟ یہی نا کہ اپنے بچوں کو ایسے آوارہ مزاج سے بچاتے ہیں تاکہ آپ کا گھر محفوظ رہے۔ کتابوں کا پڑھ لینا ، مقالات لکھ لینا ، شعر و شاعری کر لینا ، تقاریر کر لینا ، لوگوں کا انٹرویو کر کے کئی کتابوں کو مرتب کر لینا ، پیشہ ورانہ تعلیم حا صل کر لینا اس وقت تک علمیت کی دلیل نہیں ہوتی جب تک ہدایت کی روشنی نصیب نہ ہو یا باطنی تربیت کا فقدان دور نہ ہو۔  اگر آپ ایسے منکرین و ملحدین کی باتوں پہ غور کریں تو ان کی باتیں بڑی سطحی اور اوچھی نظر آتی ہیں ۔
j  مجھے تو ایسے لوگوں پہ بھی افسوس ہوتا ہے جو دشمنانِ خدا و رسول کی محفلوں میں جاکر اپنی بینائی پوری نہیں تو آدھی سے زیادہ کھو آتے ہیں اس لئے کہ وہاں ان کی پذیرائی کی جاتی ہے انہیں اس جماعت کی رکنیت دی جاتی ہے اور انہیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو انہیں عطا ہوا ہے ،۔یہی تو حربہ ہے جو شیطان آدمی کو بہکانے کے لئے استعمال کرتا ہے یعنی اس کے اپنے نفس کو خوب موٹا کر دو ۔صاحب و صاحبہ جو آپ سوچتے ہیں یا سوچتی ہیں وہ تو کوئی اور نہیں سوچ سکتا ۔  اور پھر یہ لوگ وہاں سے دستار بندی کے بعد آکر ایسی جماعتوں کی تعریف میں رطب اللسان ہو جاتے ہیں تا کہ اوروں کو بھی اس طرف گھسیٹا جائے۔ گمراہ کن جماعتوں کے بارے میں اللہ کے احکامات یہ ہیں کہ ان لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے ، انہیں بالواسطہ یا بلا واسطہ ، دیدہ و دانستہ تقویت پہنچانے والے سب کے سب ہی اللہ کی نظر میں اسی قبیل میں ہیں اور معتوب ہیں تا وقتیکہ وہ تائب نہ ہو جائیں۔ یا پھر چھوٹ ان لوگوں کو ہے جو ان سے کوئی ربط صرف اس لئے رکھیں کہ انہیں راہ راست پہ لے آئیں اور انہیں علم حق کی روشنی عطا کریں۔ نیتوں سے تو صرف اللہ واقف ہے۔ ایسے ملحدین جو اللہ کے وجود کے انکار کی تحریک چلاتے رہتے ہیں ان سے میری بات ہوئی ہے اور میں نے ایک سوالنامہ تحریر کر کے انہیں بھجوایا تھا جس کا جواب ظاہر ہے انہیں دینا گوارہ نہیں کہ اس سے ان کا پول کھل جاتا ہے ۔ ان کا مقصد حق کی تلاش تو ہے نہیں وہ تو باطل کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں ۔ اگران کے کام میں کوئی رکاوٹ آئے تو وہ کترا کر یا نظریں چرا کر اپنی تاریک راہوں پہ نکل جاتے ہیں ۔روشنی ان کی آنکھوں کو راس نہیں آتی ، وہ تاریکی میں رہنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ میرا دیا ہوا سوالنامہ قارئین کی دلچسپی کے لئے اس مضمون میں شامل کیا جارہا ہے ، شاید کوئی ملحد اس کا جواب دینے کی ہمت کر سکے ۔
۱۔  آپ کو یہ بات کیسے پتہ چلی کہ خدا نہیں ہے ؟ کسی نے آپ کو یہ بات بتائی ؟ جس نے یہ بات بتائی اس کی عقل و علمیت پہ آپ کو کتنا اعتبار ہے ؟ کیاآپ نے خود ہی یہ اخذ کر لیا کہ خدا نہیں ہے ؟ آپ کو اپنی عقل پہ کس حد تک اعتبار ہے ؟
۲۔  اگر آیات ِالٰہی یعنی زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی بے شمار نشانیاں اور فطرت  و ماحول کے تغیرات آپ کو  اللہ کی موجودگی کا احساس نہیں دلاتےں؟ انسان کوسب سے پہلے علم کسی نے عطا کیا ہوگا جب اس علم کی تخلیق کی گئی ہوگی پھر ساری کائنات میںعلم انسان کے توسط سے ہی پھیلا۔ چاہے کوئی بھی شعبہ علم کیوں نہ ہو۔ اس علم کے حاصل کرنے کے لئے اپنے مرشد و استاد اور رہنما پہ اعتبار لازم قرار پایا کیونکہ یہی طریقہ ازل سے چلا آرہا ہے۔ ایسے مرشدین یا اساتذہ دو گروہوں پہ مشتمل ہوسکتے ہیں۔ ایک وہ جو اللہ کے وجود کو حق کہتے رہے اور دوسرا گروہ وہ جو اس کا منکر رہا تو آپ کے لئے اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کون سا گروہ زیادہ قابل اعتبار ہے ؟ قول و عمل کی یکسانیت و کردار و اخلاق کی بلندی و معاشرے کی خیر و فلاح کے اعتبار سے کیا آپ اللہ کے انبیاء و رسولوں کو جن کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی جاتی ہے
 انہیں ( نعوذو باللہ) جھوٹا قرار دیں گے یا جو منکرین الٰہی ہیں انہیں جھوٹا کہیں گے؟ 
۳۔   اگر آپ ساری کائنات کو فقط ایک حادثے سے تعبیر کرتے ہیں اور انسان کو جانوروں کا تدریجی عمل و  ارتقائی مرحلہ اور بندروں کی اولاد ہی سمجھتے ہیں تو پھر تو مسئلہ ہی کوئی نہیں آپ کو اپنے والدین کا بندر ہونا مبارک ہو ، آپ انسانی شکل کے بندر بنے رہیں ، جانور بنے رہیں ۔ بزم انسانی یا دور انسانی میں داخل ہونے کی کوشش ہی کیوں کر رہے ہیں ؟
  مجھے تو صرف انسانی جماعتوں سے کہنا ہے کہ انسان ہوکر انسان نما شیطانوں یا جانوروں کے چنگل میں نہ پھنس جائیں ۔ ہشیار باش ! کیونکہ یہ بد بخت ناشکرے اپنے ہی خالق و مالک ِ کائنات کو اپنے دل اور دنیا سے بے دخل کرنے پہ تلے ہوئے ہیں ۔ استغفر اللہ !
٭  کچھ لوگ اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم و ہدایت کے اور روشن کتاب کے بحث کرکے شیطان لعین کی پیروی کرتے ہیں اور مستوجب عذاب بنتے ہیں (القران  ۲۲  ۳ ، ۸ ، ۹ )۔
٭  اللہ انسانوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا رہتا ہے سو یہ کس کس کا  ا نکار کریں گے ( القران  ۰۴  ۳۱ ، ۱۸ ۔ ۵۴  ۴ )۔
٭ زمین و آسمان کے نظام میں بے شمار آیات ہیں مگر یہ آیات و تنبیہات اس قوم ( انسان ) کو فائدہ نہیں دیتیں جو ایمان نہ لانے پر تلی بیٹھی ہو( القران  ۰۱  ۱۰۱ ۔ ۲۱  ۵۰۱ ، ۔ ۵۴  ۰۳ )۔
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے  :  کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حشام احمد سی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: