Hesham A Syed

January 4, 2009

Freedom of thinking and expression !

Filed under: Media,Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 4:09 pm
Tags:

Urdu Article : Azaadiey Afkaar ki haqeeqat – Hesham Syed

حشام احمد سید                                 آزادیء افکار کی حقیقت

ابلاغ عامہ کے فروغ ء ساتھ آزادیء افکار ، آزادیء صحافت ، آزادیء انسان وغیرہ کی اصطلاحیں بھی عام ہوتی جارہی ہیں۔دراصل آزادیوں کے ہنگامے کے پیچھے بھی ایسا ذہن کام کر رہا ہوتا ہے جو صرف اپنی فکر کی ترویج و تبلیغ چاہتا ہے۔انسانی فکر جب تک کسی نہج یا کسی دائرہ عمل کا پابند نہ ہو وہ فکر ، فکر ہی نہیں کہلاتی بلکہ محض دیوانہ پن یا ہذیان ہوتا ہے جس میں انسان ایک شتر بے مہار کی طرح بغیر کسی سمت و مقصد کے دوڑتا چلا جاتا ہے۔ یہ مصرعہ بھی زباں زدِ عام ہے کہ ’آزادیء افکار ہے ابلیس کی ایجاد ‘تو اس سے مراد ایسی ہی فکر کی آزادی ہے جس میں مکمل لاقانونیت یا ہر قسم کی غیر اخلاقی رویوں کا پرچار کیا جا سکے ۔ اورزندگی گزارنے کا ایک ایسا نسخہ ہاتھ آئے کہ جس میں کوئی پوچھ گچھ نہ ہو اور IT’S MY LIFE اٹ  از  مائی  لائیف کا دھمال ہر وقت ہوتا رہے ۔ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ جو لوگ معاشرے کے مروجہ نظام سے ہٹ کر زندگی گزارتے ہیں وہ بھی اپنے مجرمانہ یا شاعرانہ یا محرمانہ طرز حیات میں بھی کسی نہ کسی رسم و قیود سے منسلک ہو تے ہیں اور اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کی بڑی سختی سے پابندی کرتے ہیں۔ حق بات یہ ہے کہ ہر انسان کو اللہ نے آزاد پیدا کیا ہے ، لیکن جس مفہوم میں یہ آزادی لی جاتی ہے  وہ  غلط ہے ۔ 

« مفہوم :کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ یونہی بے قید چھوڑ دیا جائے گا۔  القرآن :  ۵۷۶۳ ۔

 ٭ خالقِ کُل نے جب انسان کی تخلیق کی تو اس کے اندر اپنی روح پھونک دی۔ 

« انسان کو اللہ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اور اس میں اپنی روح پھونک دی ۔القرآن : ۵۱۲۹ ، ۸۳۵۷ ۔

 ٭ گویا انسان کا تعلق باطنی طور پر اللہ سے اس وقت تک برقرار ہے جب تک اس کے اندر روح موجود ہے۔جسم تو ایک کیمیائی مرکب ہے اور ظاہر ہے کہ یہ بھی اللہ کی بنائی ہوئی فطرتِ تخلیق کا نتیجہ ہے۔

« انسان کی تخلیق ابتداََمٹی سے ہوئی پھر سلسلہ تناسل نطفہ سے جاری ہوا ۔القرآن : ۳۹۵ ، ۶۲، ۷۱۶ ، ۸۱۷۳

 ٭ یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ علم و شعور ہی انسان کو کسی اور جاندار یا حیوان سے ممتاز کرتا ہے لیکن ہدایت ِ الہٰی کی بدولت انسان اپنے افکار کے سہارے انسانیت کی ارتقا ء کے تکمیلی مراحل سے گزرتا ہے۔ذات ِظاہر کے اعتبار سے تو اسے خاندان اور رشتوں سے جوڑا جاسکتا ہے لیکن صفاتِ باطنی کے اعتبار سے اس کا تعلق یا اس کی تقسیم صرف دو ہی طرح ہو سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یا تو وہ حق شناس اور حق پرست ہے یا پھر باطل پرست ۔ پھر یہ بات بھی متعین ہے کہ انسان کو بحیثیت اشرف ا لمخلوقات اللہ نے مادر پدر آزاد نہیں چھوڑ دیا ۔ جہاں اس نے اس زمین کے مادی وسائل کو اس کے تابع کیا اور اسی سے انسان کے رزق کا سامان مہیا کیا تاکہ وہ اپنے ساری جسمانی صلاحیتوں کے ساتھ دنیا میں اپنی معینہ مدت پوری کرے وہیں اس کی عقل و شعور و ارتقا روحانی کا سامان بھی بہ شکل ِ انبیاو رسول و صحیفہ و کتاب بہم پہنچایاجس سے اسے اپنے مقصدِتخلیق کا احساس ہواور وہ اس مقصد کے حصول کے لئے رو بہ عمل ہو۔

]القران : ۷۱۰۷ ، ۵۹۴ ، ۲۳۳، ۲۱۳ و۲۳و۹۳۲ ، ۵۴ ، ۶۲۹ ، ۵۵۲و۴ ،۶۹۵ ، ۲۰۳، ۷۶۹ ، ۴۱۲۳ ،و۳۳ ، ۶۱۲۱ تا ۶۱ ، ۲۲۶۳

و۷۳ ،۶۳۱۷ و۲۷ ، ۲۹۲ و ۲۲۵۶ ، ۳۴۱ ، ۹۳۶، ۵۹۴ ، ۷۰۱ ، ۸۱۷، ۱۱۷ ، ۵۴۲۱ ، ۱۵ ۶۵و۷۵ ، ۷۶۳ ، ۱۲۶۱ و۷۱ ، ۴۴۸۳ ، ۶۳۷ ، ۴۶۸۳ ، ۳۱۹۱ ، ۸۳ِ۷۲ ، ۹۴ ۳۱ ، ۴۱و۶ ، ۹۴۳۱ ، اور بیشتر آیاتِ قرآنی [۔ اللہ نے انسان کواحسنِ تقویم (بہترین شکل و صورت ) میں پیدا کیا ، انسان کو اکثر مخلوق سے اکرم و افضل و احسن بنایا بحر وبر پہ سوار کرایا اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں دیں ، انسان نے فرشتوں پہ علمی برتری حاصل کی، علم و عرفان کی خصوصی صلاحیتوں سے نوازا ، زمین پر اپنا نائب و خلیفہ بنایا ، مویشی انسان کے بس میں دیئے ، جو کچھ زمین میں ہے اسے انسان کے بس میں دیا ، زمین و آسمان کی ہر چیز اس کے تابع کیا ، آٹھ قسم کے چوپائے بنائے ، زمین کو انسان کے لیے بچھونا بنایا اور اس میں سے راہیں نکالیں ، نظام شمسی اور سمندر و ندیوں کو انسانی افادیت پہ مامور کیا ، انسان کو زمین پر اقتدار دیا اور اس کی ضروریات زندگی ودیعت کردیں ، اللہ نے زمین کو بے مقصد نہیں بنایا ،اللہ نے زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ، زمین و آسمان اور اس کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر بے مقصد نہیں بنایا ، جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ( عبادت سے مفہوم نظامِ ربوبیت کو جاری کرنا ہے) ، زمین کی زینت سے انسان کی آزمائش ہوتی ہے ، ایک دوسرے کو مختلف صفات و درجات عطا کئے تاکہ ایک دوسرے کے معاونت میں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو سکیں ، کیا انسان نے یہ خیال کرلیا ہے کہ وہ بے مقصد ہے اور اس امتحان گاہ سے اسے لوٹ کے میرے پاس نہیں آنا ہے، تمام انسان ایک خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، شعوب و قبائل صرف پہچان کی غرض سے ہیں ، معیار فضیلتِ انسانی صرف تقویٰ ہے

٭ سو یہ بات اللہ الخالق کُل نے ہی واضح کردی ہے کہ مقصد ِتخلیق انسانی کیا ہے اور عظمت انسانی کیا ہے ۔ ساری جدوجہد نظام ربوبیت کو جاری کرنے کی ہے ، حیاتِ انسانی لمحاتی ہے اور جو لمحہ بھی میسر ہے وہ آزمائش کا ہے امتحان کا ہے تاکہ انسان اپنے جائے قرار پر سکون پاسکے اور اس سے زیادہ یا اس کے بعد کی دنیا کا انسان کے پاس علم بھی نہیں۔ایسے قیمتی وقت کو اگر ہم ایسی محفلوں کے سجانے میں ضائع کریں جس میں باطل خیالات کا فروغ ہو ، اللہ کے بتائے ہوئے اصولِ زندگی اور اس کے نظام تکوینی کا مذاق اڑائیں ،  اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزا کریں ، اسکی رہنمائی اور کتاب کو ناکافی سمجھیں یا اس میں ترمیم کریں ، خود دانشور بن کے ابلیسیت کی نمائندگی کریں ، اللہ کی ہی عطا کی ہوئی عقل اور جسمانی قویٰ کو استعمال نہ کریں یا اسے گمراہیوں کی تخلیق میں استعمال کریں ، خوداپنے مالک و خالق اللہ کے وجود کے منکر ہوجائیں تو اس سے بڑی بد قسمتی اور نا شکری کیا ہو سکتی ہے۔یہ کیسی فکر کی آزادی ہے جو معاشرے میں بگاڑ کی صورت پیدا کرنے پہ تلی ہوئی ہے ؟ دانشوری کی اس میں کون سی بات ہے کہ کوئی اللہ کے وجود کا ہی منکر ہو یا اللہ کے دین کا  مذاق اڑاتا رہے ؟ یہ کیسے اہل نظر ہیں جن کا سارا سرمایہ چند گمراہوں کی مدح سرائی ہے ۔ جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا ؟ یہ تو عقل کے اندھے ہیں لوگ انہیںاپنا رہنما کیوںبنائیںاور ان کی تصانیف اور شعر و سخن پہ سر کس لئے دھنتے رہیں ۔ یہ آزادیء افکار نہیں ہے بلکہ ایک بندراہ ہے جس میں شیطانی فکر بندھی ہے۔ اس گروہ آزاد خیال میں اٹھنے اور بیٹھنے والے بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے اور ایسے لوگوں کی خدمت میں ہرطرح کے غیر شرعی یا غیر اخلاقی فعل تو انجام دیتے ہی ہیں ۔ان کی مرعوبیت کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اپنے نام کو منسوب کر کے اپنا قد بڑھاتے ہیں اور پھر ان کے دلوں سے حق و باطل کی تمیز بھی اٹھتی جاتی ہے اور وہ گمراہیوں کو ہاتھ سے روکنے کی بات تو بہت بڑی ہے اسے برا کہنے کو بھی برا جانتے ہیں بلکہ اسے برا سمجھتے بھی نہیں گویا حلاوت ایمان کی کوئی رمق ان میں باقی نہیں رہ جاتی۔ یہ کیسی علم و ہنر کی تجارت ہے جس میں صرف خسارہ ہی خسارہ ہے۔یہ تو فکر کی سوداگری ہے اور وہ بھی  چند سکے کے عوض یا لمحاتی نام و نمود کے عوض!! 

رسوا  کیا  اس  دور  کو  جلوت  کی ہوس نے  :  روشن  ہے  نگاہ  آئینہ  دل  ہے  مکدر 

بڑھ جاتا ہے  جب  ذوقِ  نظر  اپنی  حدوں  سے  :  ہوجاتے  ہیں  افکار  پراگندہ  و  ابتر

 غیر ِ مرد ِ حق  چو  ریگ  خشک  داں  :  کاب  عمرت ر ا  خورد  اُہر   زماں

(جو مرد ِ خدا نہیں اسے ریت سمجھ : جو ہر وقت تیری زندگی کا پانی  چوس  رہا ہے ) ۔

طالب ِ حکمت  شو  از  مر د حکیِم  :  تا  از  و گردی  تو  بینا  و  علیم

( مرد  دانا سے  دانائی  کا طالب  بن  :  تاکہ  تو اس سے صاحب ِبصیرت اور عالم بنے )۔

ہم میں اتنی تو تمیز ہونی ہی چاہیے کہ پیشہ کوعلم کا ایک جزو سمجھیں مکمل علم نہیں ۔ حقیقت ِعلم تو انسان کو اپنے خالق کی پہچان کراتا ہے نہ کہ اس سے دور لے جاتا ہے   ؎

 عشق  کی  تیغِ  جگردار  ا ڑا لی  کس  نے :  علم  کے  ہاتھ  میں  خالی ہے  نیام  اے  ساقی

          ہمارے دور کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کو غیرمسلمین سے سیکھتے ہیں ۔ قرآن کو بھی سمجھنے کے لئے ہمیں انگریزی رسالوں اور اقوامِ غیر کی کتابوں سے مدد لینی پڑتی ہے ۔ یہ ہے حال ہمارے روشن خیال دانشوروں کا ۔ اور پھر ذہنی غلامی یا مرعوبیت کے کیا کہنے ؟ مغرب کی چمک ان کی آنکھوں کو اس درجہ خیرہ کرتی ہے کہ اپنی شکل بھی بھلی معلوم نہیں ہوتی۔زندگی کو گزارنے اور اقوام مغرب سے برابری کی صورت ایک ہی نظر آتی ہے کہ اپنی چال بھول جائیں اور ہر وہ کچھ اپنا لیں جو ہمارے اندر حلال و حرام کی تمیز مٹا دے۔

خود  بدلتے نہیں قرآں کو  بدل  دیتے  ہیں  :   ہوئے کس درجہ فقیہان  ِحرم بے توفیق

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب  :  کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق

r        ایسے افراد جو اپنے مسلمان ہونے پہ نادم ہیں اور انتہائی درجہ تک احساس کمتری کا شکار ہیں، انہیں ایک مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ کسی صاحبِ علم و حکمت و تقویٰ کی صحبت اختیار کریں اور اللہ کے دین کو صحیح طور پہ سمجھیں تاکہ اللہ کے در پہ انہیں توبہ کی توفیق نصیب ہو وہ اگر اپنی ڈگر سے نکلنا نہیں چاہتے تو وہ اپنی کور ذہنی اور کوتاہ بینی کا پرچار کرنے کہ بجائے مذہب اسلام سے باہر نکل آئیں اور کسی اور طرز کی زندگی کو اپنا لیں ۔ اللہ نے تو اس بارے میں پورا اختیار دیا ہوا ہے ہر انسان کو کہ چاہے تو اللہ اور اس کے رسولؐ کا راستہ اختیار کر لے اور چاہے تواپنا ٹھکانہ کہیں اور بنالے۔

          یہ خود ساختہ دانشورچور دروازے سے اسلام میں داخل ہوکر اور اسلام ہی کا نام لے کرکیوں نقب لگاتے ہیں اور کسی اور ہی فلسفہ کا پرچار

 کرتے ہیں ؟ انہیں اسلام پسند نہیں تواسلام کو بھی ایسے افراد کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی محض ہجومِ آبادی سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں معیار اور کردار کی ضرورت ہے اعداد و شمار کی نہیں۔اللہ تبارک تعالیٰ کسی جمہوری اداروں اور لوگوں کے شمارِ انتخاب کے طفیل تو الہیت کی کرسی پہ متمکن نہیں۔ اگر کوئی اللہ کے بتائے  ہوئے قوانین کا احترام کرتا ہے تو اس میں اسی کی بھلائی ہے ۔ اللہ پہ تو کسی کے ایمان کااحسان نہیں۔] القران : ۲۶۵۲ ، ۸۱۹۲ و ۷۰۱ ، ۱۴۰۴ ، ۷۳ اور بیشتر آیات [۔

          ہدایت واضح ہوچکی دین میں کوئی  جبر وکراہ نہیں ، جس کا جی چاہے کفر اختیار کرے جس کا جی چاہے ایمان لے آئے ، جو کچھ چاہو کرو اللہ تمھارے اعمال دیکھ رہا ہے ، ہم نے انسان کو راہ دکھا دی اب وہ شکر گزار بنے یا نافرمان۔

٭ اسلام تو اللہ کا واحد پسندیدہ دین ہے اور اسلام وہی ہے جو قرآن میں ہے اور سیرت ِرسولؐ میں ہے۔ اس سے الگ جو کچھ ہے وہ کچھ اور ہو سکتا ہے لیکن اسلام نہیں۔یہ بات بھی کسی کو دکھ دیتی ہے تو اس کی شکایت اللہ سے کیا کریں یا پھر کسی اور خدا کو پکاریں کیونکہ اللہ مالک کُل اور رب السماوات و ا لارض نے تو واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کردیاکہ :] اللہ کے نزدیک تو دین صرف اسلام ہے۔القران :۳۱۹ ۔

٭ اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ قابل قبول نہیںاور ایسا شخص آخرت میں خسارے میں ہوگا۔القران :۳۵۸ ۔

٭ آج ہم نے تمہارے ( عالم انسانیت کے) لئے تمہارا دین کامل کردیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کردیں اور تمھارے لئے دینِ اسلام کو پسند کیا۔القران :۵۳ ۔

٭ جس شخص کا سینہ فراخ ہوا وہ اسلام پسند کرتا ہے اور جس کا سینہ تنگ ہے اور گھٹا ہوا ہے جیسے کہ آسمان پر چڑھ رہا ہو وہ اسلام نہیں لاتے اس طرح اللہ ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے۔القران :۶۶۲۱ ۔

٭ جن کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا گیا وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہیں تو کیا وہ ایسے ہو سکتے ہیں جو سخت دل ہوںجن پہ افسوس ہے اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔القران :۹۳۲۲ ۔

           ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اکثر حضرات آزادیء افکار کو اپنا یا ہر کسی کا حق گردانتے ہیں اور جو چاہے دل میں آئے اس کی ترویج بلا سوچے سمجھے کرتے ہیں یا ایسی باتوں کے لئے کوئی پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں یا ابلاغ کے دوسرے ذرائع کا استعمال کرتے ہیں ۔ ان کی توجہ اس طرف دلائیے تو یہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے ۔ ایسے حضرات یہ بھول جاتے ہیں کہ بلا شبہ یہ حق تو اللہ نے ابلیس کو بھی دیا ہے لیکن ’حق کا استعمال‘ ذمہ داری سے کیا جاتا ہے ورنہ ابلیسیت سر چڑھ کے بولنے لگتی ہے ۔ پھر جو حشر ہوتا ہے وہ تو سب کو معلوم ہے۔ حق اور عہدۂ  تصرف کے ساتھ عدل اور ذمہ داری بھی جڑے ہوئے  ہیں۔ ایسی بات جس سے معاشرے میں فتنہ و فساد پھیلے یا گمراہی میں اضافہ ہو ، اس کا اظہار یا اس کی معاونت نقصان کا ہی سبب ہے سو اس سے تو پرہیز کرنا ہی چاہیے۔ انسان اس دنیا میں مادر پدر آزاد تو نہیں چھوڑ دیا گیا۔ جو فرد یا معاشرہ ان باتوں کو نہیں سمجھتا اس کی اخلاقی حالت روز بروز بگڑتی ہی جاتی ہے اور وہ رو بہ زوال ہو کر رہتا ہے۔

آزادیء افکار  سے  ہے ان کی  تباہی  :  رکھتے  نہیں جو  فکر  و  تدبر  کا  سلیقہ

ہو  فکر  اگر  خام  تو  آزادیء افکار   :   انساں  کو  ہے حیوان  بنانے  کا  طریقہ

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: