Hesham A Syed

January 4, 2009

From East Pakistan to Bangladesh

Filed under: Urdu Articles — Hesham A Syed @ 6:56 am
Tags:

Urdu article – Mashriqi Pakistan sey bangladesh tak – hesham syed

حشام احمد سید
 مشرقی پاکستان سے  …بنگلہ دیش تک
 
 ۶۱ دسمبر ۱۷۹۱ ء سقوط ڈھاکہـہماری صحافتی برادری کا اصرار ہے کہ میں اس موضوع پہ لکھوںـ کیا لکھوں ؟ اس موضوع پہ بہت کچھ لکھا جا چکا ، کہا جا چکا ، تاریخ کے صفحات تو سیاہی سے بھرے ہوئے ہیں ـ ہماری آنکھ پھر بھی نہیں کھلتی ہے تو کیا کیا جائے۔! یہ ضرور ہے کہ ان دنوں مجھے مشرقی پاکستان جانے کا موقع ملا ، جنگ سے پہلے بھی اور جنگ کے دوران بھی۔ وہاں کے بہت سے واقعات جو افسانہ لگتے ہیں ان کی حقیقتوں سے صرف وہ واقف ہیں جن کی نظروں کے سامنے یہ سب کچھ ہوا یا جن کے ساتھ یہ سانحہ گزرا۔ بنگلہ دیش کی تحریک کی بنیاد تو اس وقت سے پہلے پڑ چکی تھی جب محمد علی جناح ؒ کو اس وقت کے بنگالی اسٹوڈنٹ لیڈروں نے جس میں مجیب الرحمان بھی شامل تھا پاکستان کی زبان اردو ہونے پر چیلنج کیا تھا ۔ پھر رفتہ رفتہ مغربی پاکستان کے خلاف نفرتوں کو فروغ دینے کی نت نئی ترکیبیں جنم لیتی رہیں۔ مغربی پاکستان نے بھی ان نفرتوں کو محسوس کئے بغیر اقربا پروری کی فضا کو برقرار رکھا۔ گویا یہ آگ دو آتشہ تھی ۔ بنگالی علیحدہ نواز جتھوں کو مغربی پاکستان نے بھی اپنی حکومتی پالیسیوں سے یہ جواز فراہم کیا کہ وہ اپنے لوگوں کو یہ باور کرادیں کہ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والا کوئی آدمی  یا اردو زبان  بولنے والا یا ہر غیر بنگالی ،بنگالیوں کا دوست نہیں بلکہ دشمن ہے۔ وہاں یہ فتوے تک جاری ہوئے کہ اردو داں اورپنجابی لوگوں سے بنگال کو پاک کیا جائے اور ان کا قتل واجب ہے۔
 پاکستان کے ایک نظریاتی مملکت ہونے کا خواب اور دو قومی نظریہ بے چینی سے کروٹ بدلتا رہا اور مشرقی پاکستان عرف مشرقی بنگال میں مکتی باہنی یعنی بنگالیوں پہ مبنی ایک عسکری و انقلابی یا باغی گروہ سرحد سے باہر جا کر ہندوستان  میں تربیت حاصل کر کے اپنے ہی ملک میں واپس آکر شب خون مارتا رہا اور مغربی پاکستان کے جیسی شکل و  زبان رکھنے والوں کا قتل عام کرتا رہا ، انہیں لوٹتا رہا ، ان کی ماؤں بہنوں کی عصمت وری کرتا رہا با لکل ویسے ہی جیسے کہ ۷۴ ء میں ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا۔ جگہ جگہ قتل گاہیں قائم کی گئیں تھیں جہاں کا منظر انتہائی درد ناک تھا ، فرش پہ خون گھٹنوں تک جمع ہوا رہتا ۔ عورتوں کے بال اور ان کی کٹی ہوئی چھاتیاں بکھری رہتی تھیں۔مرد ، عورت ، بچوں کی مسخ شدہ لاشوںسے فضامتعفن رہتی تھی ۔ یہ سب شہریوں اور معصوموںکے ساتھ ہو رہا تھا ۔ اپنے ہی پڑوسیوں کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ گھر بستیاں اور محلے اجاڑے جا رہے تھے ۔ شیطانی قہقہے ہر جگہ سنائی دیتے تھے ، جوئے بانگلہ کا نعرہ سن کر سارے غیر بنگالی سہم کر اپنی اپنی پناہ گاہوں کی طرف دوڑ پڑتے تھے کیونکہ اب ان کے عزت فروش اور قاتل وہ تھے جن کے ساتھ مل کر سب نے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت بنائی تھی۔ان ساری تفصیلات کو بیان کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ۷۴ء کے قتل و غارتگری کی داستان بیان کی جارہی ہے۔ ان دنوں پاکستانی افواج مغربی اور مشرقی پاکستان کی سرحدوں پہ جنگ لڑ رہی تھی۔ وہاں مشرقی پاکستان کی سرحدوں کے اندر ہی بنگالی مکتی باہنی جن کی شکلیں پاکستانی ہی لگتی تھیں، جن کے آبا و اجداد بھی پاکستان بنانے میں شریک تھے وہی اب افواج پاکستان کے خلاف تھے اور ہر پاکستانی کے خلاف جنگ کر رہے تھے ۔ ملک کا توڑ دینا ان کے فرض اولین میں تھا ۔سرحدوںکی حفاظت تو پھر بھی آسان تھی لیکن اندرون خانہ اور ہر گلی یا ہر گاؤں بستی میں اپنے ہی لوگوں پہ بندوق اٹھانا بہت مشکل تھا ۔ ان حالات میں افواج پاکستان نے اکثر وہاں کے مقیم غیر بنگالیوں کو اپنے ساتھ ملایا تاکہ قتل و غارت گری پہ قابو پایا جا سکے۔افواج پاکستان کے دو محاذ تھے ایک تو سر حدوں پہ ہندوستان کے ساتھ جنگ تھی اور دوسری جنگ مکتی باہنی کے خلاف شروع ہوگئی تھی ۔ وہ سرحدوں پہ سامنے کے دشمن سے لڑتے تو پیچھے سے ان ہی کی صف میں شریک بنگالی فوجی لیکن مکتی باہنی کے دستِ راست ان پہ گولی چلاتے اور بغاوت کر تے۔ شہروں اور گاؤںکی گلیوں اور بازاروں میں عام شہری کو مکتی باہنی قتل کرتے پھر رہے تھے۔ ان کے پاس اسلحہ ہندوستان سے اسمگل ہو کر آرہا تھا۔کوئی  گھر ایسا نہیں تھا جو محفوظ ہو۔ ان مکتی باہنی کے ساتھ عام بنگالی شہری بھی شریک ہو تے جا رہے تھے اور ان کی پولیس بھی۔ اس وقت اگر سو فیصد نہیں تو ۹۹ فی صد بنگالی مکتی باہنی کے ساتھ اور معاون تھے ۔ واقعات کے چشم دید گواہوں نے اور جو اس سانحہ سے دوچار ہوئے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض خاندانوں کو بنگالی امام مسجد نے قتل کروایا اور بعض کو ہندو دھوبی نے پناہ دی ۔ گھر کے بنگالی ملازموں نے پڑوسیوں نے بلکہ بنگالی رشتہ داروں نے، بیوی نے شوہر کو قتل کروایا اور لوٹا تو بعض کی جان ہندوستانی فوجیوں نے بچائی ۔
v  انسانیت اور انسانی ہمدردی کسی قوم یا کسی طبقہ کی میراث نہیں ۔ زندگی میں واقعات کے مشاہدات اتنے ہوئے ہیں کہ میں اس نتیجہ پہ پہنچا ہوں کہ انسانوں کی آبادی صرف دو طبقوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ ایک حق پرست اور دوسری باطل پسند ۔ نام کی ، رسوم کی اور کسی زبان اور ثقافت کی مماثلت کی بنیاد پر انسانی اقوام کو بانٹنا بہت بڑی غلطی ہے۔ انسان نے ہمیشہ دھوکہ کھایا ہے،  اور تبھی اللہ تبارک تعالیٰ نے منافقین کا درجہ اسفل السافلین میں رکھا ہے۔ پوری انسانی تاریخ اور اقوام کی آپس کی کشمکش اس پہ گواہ ہیں۔کوئی اپنی طرزِ فکر کی افیم کی گولی کھا کر آنکھیں نہ کھولنا چاہے تو یہ اور بات ہے۔!
 ہاں یہ ضرور ہوا کہ افواج پاکستان کے بعض سینئر آفیسرز نے بھی شیطانیت کا روپ دھارا اور بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے کا عمل شروع کر دیا۔ ایک اسلامی فوج کا کسی بھی حالت میں دوسری قوم کی عورتوں اور شہریوں کے ساتھ زیادتی کا عمل چاہے وہ ردِ عمل میں ہی کیوں نہ ہو زیادتی ہی کہلائے گا ۔ اس اخلاقی بد حالی کا شکار کچھ آفیسرز ضرور ہوئے لیکن بیشتر فوجی ایسے نہیں تھے ۔وہ اپنے وطن کے محافظ ہی بن کر اپنا فرض نبھا رہے تھے ۔ مکتی باہنی سے جنگ کر تے ہوئے عالم تکبر میں ان بد کردار آفیسرز کے ہاتھوں بے شمار شہری بنگالی بھی ان کی ہوسناکیوں کا شکار ہوگئے لیکن وہاں کے سارے قتل و غارت کو افواج پاکستان سے منسوب کر دینا بھی بد دیانتی ہے۔
 ہندوستان نے پاکستان کے افیم زدہ سیاستدانوں ، ابلاغ کے اداروں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ساری قتل گاہوںجو مکتی  باہنیوں نے غیر بنگالیوں کے لیے تعمیر کر رکھی تھیں ان کی تصاویر تمام دنیا میں پاکستانی فوجوں کے نام منسوب کر کے پھیلا دیں اور وہ سر بریدہ ،بے حرمت اور مسخ شدہ عورتوں بچوں اور مردوں کی لاشیں جو کہ بنگالیوں کا کارنامہ تھیں انہیں بھی افواج پاکستان کے سر منڈھ دیا۔ پاکستان کے ڈپلومیٹ اپنے غنے میں بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے اور کسی نے اٹھ کے ابلاغ کی اس دودھاری تلوار کی کاٹ کا اندازہ ہی نہیں کیا کہ ہندوستان نے بنگالیوں کے ساتھ مل کر کھیل کیا کھیلا ہے ؟ پاکستان جنگ ہار بیٹھا ، ذلت آمیز سقوط ڈھاکہ ، ۳۹ ہزار افواج پاکستان کا اپنی جان بچانے کے لئے ہتھیار پھینک کردشمنوں کی قید میں چلے جانا اور پھر ذلت آمیز معاہدے کے بعد مغربی پاکستان لوٹ جاناپوری اسلامی تاریخ کا منفرد واقعہ بنا۔
  وہ غیر بنگالی جو اُن فوجیوں کے ساتھ ان کی جنگ میںساتھ دے رہے تھے اُنہیں خوں آشامیوں میں بے یارومددگار چھوڑ دیا ۔ تاریخ نے دوسری بار پھر ان لوگوں کو اپنے دشمن کے علاقے میں مقید کر دیا ۔ مغربی پاکستان کے سیاستدانوں اور افواج نے اپنے محسنوں سے بے وفائی اور بے رخی کی شراب چھلکا چھلکا کے پی ۔ یہ غیر بنگالی جو اپنے آپ کو پاکستانی کہتے رہے اور پاکستان کا جھنڈا ان حالات میں بھی لہراتے رہے ان کی نسلیں آج بھی بنگلہ دیش میں انتہائی مخدوش حالت میں مہاجر کیمپوں میںاس انتظار میں بیٹھی ہیں کہ شاید پاکستان انہیں اس ملک کی شہریت دے جس کے وہ شہری تھے ۔ اس پاکستان جانے کے جائز حقدار تھے جس کی پہچان میں ان کی تین نسلیں وطن دشمنوںکی حیوانی بربریت کا شکار ہوگئیں۔ ان میں سے کچھ ہی خاندان کے افراد اپنی جان و مال اور عزت لٹا کر دوبارہ ایک نئے عزم کے ساتھ نیپال کے رستے پاکستان آسکے جہاں زندگی کے مسائل مزید ان کے منتظر تھے ۔ ستم یہ ہے کہ وہی بنگالی جنہوں نے اپنا ملک توڑا ، بنگلہ دیش بنایا ، روزگار نہ ملنے کے سبب تقریباً ۸ لاکھ سے زیادہ پاکستان خصوصاً کراچی میں چور رستوں سے داخل ہو گئے اور اچھی زندگی گزارنے لگے۔ پاکستان میں پھیلی ہوئی رشوت کی لعنت کے سبب ان میںسے اکثر نے پاکستانی پاسپورٹ بھی بنوا لیا اور وہ ساڑھے چھ لاکھ غیر بنگالی جو ہر قدم پہ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے شریک سفر تھے وہ بے کسی کے عالم میں پاکستان کی بے وفائی کا تماشہ دیکھتے رہے۔ ان کے نام اور مسائل کو استعمال کر کے پاکستانی سیاستداں ووٹ اور ان کو بلانے اور آبادکاری کے نام پر امدادی اداروں خصوصاََ متمول اسلامی ممالک سے ڈالر،ریال اور نوٹ تو اکٹھا کر تے رہے لیکن انہیںاپنے ملک کا شہری بنانے پر کوئی تیار نہیں تھا ۔ وہ ملک جو ان کا اپنا تھا جہاں ان کے بے شمار رشتہ دار ہیں جس ملک کے وہ ویسے ہی شہری تھے جیسے ہم اور آپ یا کوئی اور سیاستداں یا فوجی ہے۔ مگر اب وہ پاکستان نہیں تھا جس کا بزرگوں نے خواب دیکھا تھا ۔
e
 دو قومی نظریہ اور اسلام کا نام لے کر عوام کو دھوکہ دیا گیا ۔یہ کھیل تو بہت پرانا ہے ،مذہب کو ہمیشہ ہی لوگوں نے اپنی دنیا بنانے کے لئے استعمال کیا ہے۔بچے کھچے پاکستان کے بعض دانشوروں اور فوجی و سیاستدانوں کومیں نے خود یہ کہتے ہوئے سنا کہ اچھا ہی ہوا یہ مشرقی پاکستان تو ایک بوجھ (Liability)ہی تھا ہر سال سیلاب میں اس کی امداد کر نی پڑتی تھی ۔ ادھر بنگالیوں کا رونا کہ مغربی پاکستان ہمارے سنہرے ریشے پٹ سن پہ پل رہا ہے۔پھر پٹ سن پر ناز کا بھی حشر دیکھا گیا کہ اس پیداوار کی ساری ملوں سے ان کی مشینیں ہندوستانی لوٹ کر لے گئے۔ظلم و ستم چاہے کتنا بھی بڑھے سازش چاہے کتنی بھی گہری ہو قدرت ان باتوں کو معاف نہیں کرتی ۔ لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ وہ جو اپنے آپ کو بانیء بنگلہ دیش اور بنگلہ دیش کا باپو کہلاتا تھا اسے خود اسی کے آدمیوں نے اس کے گھر جا کے قتل کردیا ۔ ہندوستان کی جو ملکہ بنی ہوئی تھی اور بنگلہ دیش بنانے میں معاون تھی اسے اسی کے محافظ نے قتل کر دیا ، وہ بنگالی جنرل جس نے سب سے پہلے ریڈیو پر بنگلہ دیش کے بننے اور پاکستان کی شکست کا اعلان کیا تھا اسے اسی کے ماتحتوںنے تہہ تیغ کر دیا ۔مغربی پاکستان کا معروف سیاستداں جس نے صرف اپنی کرسی کی خاطر سازش کی اور الیکشن کے نتیجہ کے بعد بھی جمہوریت کے قیام کے لیے انصاف سے کام نہیں لیا ۔جس نے تم ادھر میں ادھر کا نعرہ لگایا تھا وہ سولی پہ چڑھا دیا گیا ۔ وہ پاکستانی جنرل جو شراب میں اتنا دھت رہتا تھا کہ اپنی پتلون میں پیشاب کر دیا کرتا تھا اور وہ اس وقت بھی جب مشرقی پاکستان میں ایک بے
 ضمیر پاکستانی جنرل ہتھیار ڈال رہا تھا تو مغربی پاکستان میں یہ بے ہوش جنرل ٹی وی پہ آکر ہندوستان سے ہزار سال جنگ کرنے کی تقریر کر رہا تھا۔ اس کی موت بھی عبرت ناک ہوئی۔
, غدار وں کاکبھی بھی حشر اچھا نہیں ہوا۔ اس ملک کو جو بھی حکمراں ملے وہ اسے لوٹتے ہی رہے ۔ ظاہر ہے جو ملک لاکھوں مسلمانوں کے قتل اور ان کی عورتوں کی عصمت لٹنے کے بعد بنا تھا ۔قیامِ پاکستان کے دورین خصوصاََ تقسیم ملک کے بعد جو قتلِ عام ہوا انسانی تاریخ میں ایک دن میں اس سے بڑی قتل و غارت کے واقعہ کا سراغ نہیں ملتا ۔ اس نومولود مملکت کے سیاستدانوں ، فوج کے جنرلوں ، حکومتی کارندوں ،تجارتی ساہوکاروں ، زمینداروں ، وڈیروں ، پیروں اور مذہبی اجارہ داروں نے مل کر ایک کھیل تماشہ بنا لیا ۔ دولت اور اقتدار کی اپنی ہوسناک بھوک کا شکار بنا لیا۔
  ۰۶ سال سے زائدہونے کو آئے لیکن ابھی تک یہ قوم اپنی بدمستیوں میں ناچ رہی ہے۔وہی تعصب و نفرت لسانی ، مذہبی ، علاقائی  بنیادوں پہ جاری ہے۔ اس ملک کے مزید حصے کرنے کے لئے معاشرتی بے عدلی ، قبیلہ پرستی اور علیحدگی پسندی ابھی تک دندناتی پھر رہی ہے۔ نفسا نفسی کا عالم ہے ، ہر روز ایک نیا فتنہ ہر شعبہ زندگی میں کھڑا ہو جاتا ہے۔پاکستانی بھی اپنا وطن ہونے کے باوجود دنیا بھر میں اپنی نئی پناہ گاہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے کسی اور ملک کی شہریت اپنا تے رہتے ہیں۔ اس ملک سے محبت کا دعویٰ  کسے باشدصرف اپنی سجی سجائی محفلوں تک مسدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ناچ و رنگ و موسیقی و پتنگ بازی اور اسی قسم کے طرزِ عمل نے سب کومد ہوش کر رکھا ہوا ہے۔ دن ، ہفتے میں ، ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدل رہے ہیں لیکن ہم نہیں بدل رہے۔ اب جبکہ ہم ایک نئے سال کا آغاز کر رہے ہیں پچھلے سال کے جرائم کی تفصیل پڑھیں تو یقین نہیں آتا کہ یہ کسی اسلامی مملکت میں ہو رہا ہے ۔ ہر سال اپنے ترانے کو گا کر ایک نئی امید کا چراغ روشن کرتے ہیں لیکن نہ جانے ہم ہی اسے اپنے ہاتھوں کیوں گل کر دیتے ہیں۔ بار بار میری نظر قرآن کی اس آیت کی طرف لوٹتی ہے کہ :
’’اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ  اپنی اندرونی حالت نہیں بدلتی‘‘( القران:۳۱  ۱۱ )
حشام احمد سید

Advertisements

1 Comment »

  1. […] for this post. Post a comment or leave a trackback: Trackback URL. « Media : In Pakistan ( 2 ) From East Pakistan to Bangladesh » 8 […]

    Pingback by Cults in Muslim world « Cults+Deviants's Blog — March 28, 2010 @ 8:02 am | Reply


RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: