Hesham A Syed

January 4, 2009

Time is over Over ?

Filed under: Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:41 pm
Tags:

Urdu Article : Waqt Poora hoa chuka ? ! hesham syed

حشام احمد سید                                         ۱

                                        وقت پورا ہوچکا۔۔۔۔؟!

۔جب آپ کے بچے آپ کو احمق تصور کرنے لگےں اور پیٹھ پیچھے مذاق اڑائیں تو سمجھیں کہ وقت پورا ہو چکا۔

۔جب آپ کی بیوی آپ سے صرفِ نظر کرنے لگے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب آپ کا  افسر  یا  استاد آپ کے لیے وقت نہ نکال سکے  تو سمجھیں کہ وقت پورا ہو چکا۔۔

۔جب کوئی انجان لڑکی یا عورت کسی کے ساتھ خود کو تنہائی میں بھی قطعی محفوظ سمجھے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہو چکا۔۔

۔جب آپ کے ملک کے سربراہ  یا لیڈروں کا انتخاب قوم کے بدنام ِزمانہ  لوگوں میں سے ہو تو سمجھیں کہ وقت پورا ہو چکا۔۔

۔جب آپ  پر ہر دم موسیقی اور فلم کا خمار طاری رہے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہو چکا۔۔

۔جب بے حیائی ثقافت کے نام پہ دندناتی پھرے  تو سمجھیں کہ وقت پورا ہو چکا۔۔

۔جب قوم  لہو و  لعب میں ، کھیل تماشوں میں مصروف ہو جائے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہو چکا۔۔

۔جب ہر شخص اپنے آپ کو عقلِ کُل اور عالمِ دین و مفتی سمجھنے لگے  تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب جہل دانشوری بن جائے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب  بڑے چھوٹوں کی کمزوریوں میں ان کا ساتھ دینے لگیں تو سمجھیں کہ وقت پورا ہو چکا۔۔

۔جب سیاست  کے پسِ پردہ جھوٹ ،  بد دیانتی اور منافقت عام ہوجائے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب عدالت بھی سیاست کا اکھاڑا بن جائے اور بکنے لگے  تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب شیوخ  اور  علمأ مصلحت انگیز رویہ اختیار کر لیں تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب عزت ، محبت و تعلقات کا معیار صرف اور صرف دولت کی کثرت ہو تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب اپنی چادر سے زیادہ پیر پھیلایا جانے لگا جائے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب معاشرے میں عدل و انصاف کا حصول مہنگا ہو اور پنپ نہ سکے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب والدین کے ساتھ وقت گذارنے کا وقت نہ ملے  تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب والدین کی موجودگی  یا ان کی نصیحتیںوبالِ جان بن جائیں تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۲

۔جب بیوی یا شوہر کسی اور شخص کا سوچےں، اس کی صحبت یا اس کے تصور سے لطف اندوز ہوں اور اس سے ایک دوسرے کا موازنہ

کرےں تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب والدین کے پاس اپنے بچوں کے لیے وقت نہ ہو  تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب علم صرف کتابوں اور ویب سائیٹ تک محدود ہوجائے اور تربیت پہ کوئی توجہ نہ دی جائے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب علم کا حصول بھی صرف دنیا کمانے کے لیے ہو  تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا ہے۔۔

۔جب عبادت صرف دنیا کے حصول کے لیے کی جائے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا ہے۔۔

۔جب عبادات میں تساہل برتا جائے یا صرف حجت تمام کر لی جائے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب اونچے مکان ، وسیع دالان ، عیش و عشرت کا سامان ہی زندگی کا نصب العین بن جائے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب آپ کی شرافت کو کمزوری سمجھا جائے، وصفِ امانت و دیانت کو بے وقوفی گردانا جائے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب امر بالمعروف و نہی المنکر  کے فریضہ سے صرفِ نظر ہونے لگے  تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

۔جب وقت کی اہمیت ہی ختم ہوجائے تو سمجھیں کہ وقت پورا ہوچکا۔۔

 کیا  وقت پورا ہوچکا  ہے بھائی  ؟  وقت پورا  ہوچکا۔۔ ؟!

حشام احمد سید

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: