Hesham A Syed

January 4, 2009

Muharram ul haraam ( 1st month of Islamic / Hijri Calender ) & our attitude + behavior

Filed under: Islam,Religion,Social Issues — Hesham A Syed @ 3:22 pm
Tags:

Urdu Article : Muharramul haram aur hamaraa rawaiya – Hesham Syed

 

  محرم الحرام اور ہمارا رویہ

کیا یہ ایک اتفاق ہے کہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ذی الحج درسِ ابراہیمی و اسمٰعیلی یعنی اللہ کی راہ میں سرشاری و قربانی کی تعلیم دیتا ہے اور خیرالامۃ انسانی کی تربیت کرتا ہے تو سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام نواسۂ و جگر گوشۂ رسول ا  اور اہلِ بیت اطہارؓکے جذبۂ تعمیرِدین الٰہیہ ا ور مقصدِ وجودِ انسانی کی عملی تفسیر نمونۂ شہادت کی شکل میں پیش کرتا ہے ۔ یہ دونوں ماہ متصل بھی ہیں اور پورے سال کا احاطہ بھی کئے ہوئے ہیں ۔

 غریب و  سادہ  و  رنگیں ہے  داستانِ  حرم   :  نہایت اس  کی  حسینؓ  ابتدا ہے  اسمٰعیل ؑ

           آغاز ہو یا انتہائے سال شعورِ اسلام یا حیات و ممات یہ ہے کہ اللہ گکے لئے ہی زندہ رہا جائے اور اللہگ  ہی کے لیے موت کو گلے لگا لیا جائے۔   ؎

 جان دی  دی ہوئی  اسی کی  تھی  :  حق  تو یہ ہے کہ حق  ادا  نہ  ہوا

پیامِ  زندگی  بھی کتنا  سادہ  ہے   :  آپ  کہیے  کہ  کیا  ارادہ  ہے ؟

          کارِ جہاں دراز ہو تو حضرتِ انسان کی بے راہ روی کے کیا کہنے ۔لیکن نفس کی بے شمار آلائشوں میں گھرے ہوئے انسان کے انبوہِ کثیر میں بھی ایسی پاکیزہ ارواح ہمیشہ موجود رہی ہیںجو شعارِ حق پرستی میں مال و متاع و جان کا نذرانہ پیش کرتی رہی ہیں۔   ؎

 وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے  :  ہزارسجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

اور پھر وہ سجدۂ حسینؓ  کہ:   ؎  

  تہہ شمشیر سجدہ  اور  ایسا  معتبر سجدہ   :  بتا  اے  بے نیاز  اب اعتبارِ بندگی آیا ؟

          اللہ د اور اسکے رسول اکے محبوبین اور راہِ حق کے مجاہدوں اور شہیدوں کی ایک طویل فہرست ہماری تاریخ کا حصہ ہے ۔ اس کارواں کے معروف اور کچھ غیر معروف مسافروں کو نام و نمود سے کیا غرض ۔ ان کے پاس تو سرمایۂ اخلاصِ الٰہی ہے. فریبِ سود و زیاں لا الٰہ الا اللہ۔

          ماہِ محرم کی حرمت قرآن ( ۶۳ : ۹ ) و روایاتِ رسولؐ سے ثابت ہے۔ اس ماہ میں بھی انسانی فطرت کی تربیت کے مسنون طریقے و عبادات کے فضائل درج ہیں بہ شکل :  نفلی صلوۃ ( نماز) عاشورہ ( ۹ ، ۰۱ محرم ) کا روزہ، صدقہ و خیرات ، یتیموں کی کفالت ، رشتہ داروں اور احباب کی ضرورتوں کا خیال ، اور نفس مطمٔنہ اور ارواح  نورا  نیہ سے رابطہ رکھنا اور ان کی صحبت اختیار کرنا ۔ ( القرآن ۔ ۴۵۱: ۲ ، ۹۶ ۱  تا  ۲۷۱ : ۳ )۔

 «جو لوگ اللہ کی راہ میں مر جائیں یا مارے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو ، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمہیں اس کا شعور نہیں۔جو  لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے انہیں مردہ نہ سمجھو وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں ، اپنے رب کے پاس سے رزق پا رہے ہیں ، جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اس پر وہ خوش و خرم ہیں اور مطمٔن ہیں ان کے بارے میں جو اہل ایمان وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی خوف اور رنج کی کوئی بات نہیں ۔وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پہ شاداں و فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ، ایسے مومنوں کے اجر کو جنہوں نے تکلیف و زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسولؐ  کی پکار پر لبیک کہا ۔ ان میں جو اشخاص نیکو کار و احسان فرمانے والے ہیںاور پرہیز گار ہیں ان کے لیے بڑا  اجر ہے ) ۔   ؎

 ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز  :  چراغ مصطفوی ؐ سے شرارِ  بو لہبی

۔ نمرودیت ہو کہ، فرعونیت ہو کہ بو لہبیت ہو کہ ، یزیدیت یہ تو استعارہ ہے کفر و باطل  ، ظلم و تکبر کا ۔

 یزیدیت کی  ہے فطرت ستم اٹھا کے چلے  :  حسینیت  سے مگر  سلسلے  وفا  کے  چلے

قتلِ حسین  اصل میں  مرگِ  یزید  ہے   :   اسلام  زندہ  ہوتا ہے ہر کربلا  کے  بعد

 «  انسانی جدو جہد کی تاریخ تو رقم ہوتی ہی رہی ہے اور ہوتی ہی رہے گی ۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم خود اس تاریخ  کا کون سا حصہ ہیں ؟ ہمیں کس باب میں لکھا جا رہا ہے ؟ کہیں صفحہ قرطاس پہ ہمارا نام بھی آ رہا ہے یا ہم صرف خس و خاشاک کی صورت ایک انبوہِ کثیر کا حصہ بنے ہوئے ہیں ؟

          ستم تو یہ ہے کہ ہم صدیوں سے اسلاف کی اجتہادی غلطیوں کا پرچار کر کے دین حق اور پیغامِ رسول ؐ  کے ساتھ نا انصافیوں کا ارتکاب کرتے چلے آئے ہیں۔ ہماری ساری کوششیں بنو عباس اور بنو ا میۂ کے سیاسی اختلافات کو ہوا دینے میں صرف ہو رہی ہیں ۔ ہم خلافت ارضی اور خلافت رسولؐ کے نظریات کی غلط تعبیر بن گئے ہیں ۔کم از کم ایک بار ہی ہمیں یہ سوچناتو چاہیے کہ کرنا کیا ہمیںہے اور کیا کر رہے ہیں ۔ قبیلہ پرستی جسے سرورِ کائناتؐ نے آکر مٹایا تھا اسی تعصب کے عمیق غاروں میں ہم دوبارہ کود پڑے ہیں۔ ہماری بیشتر صلاحیتیں تاریخ کے مسخ شدہ صفحات کے مطالعہ اور اس کی اشاعت میں صرف ہو رہی ہیں جس سے سوائے افتراق و فتنہ پروری کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ۔   ؎ 

آہ اس راز سے واقف ہے نہ ملاّ نہ فقیہہ  :  وحدت افکار کی بے وحدتِ کردار ہے  خام

٭ہمیں اگر حضورؐ ، اہل بیت اطہارؓ اور صحابہ کرام اجمعین ؓسے محبت ہی کرنا ہے تو محبت کے تقاضے تو کچھ اور ہی ہیں ۔ تعن و تشنع  تو نہیں !

٭ہمیں اسلاف کی تاریخ سے محبت ہے تو ان کے مجاہدانہ طرز زندگی کو اختیار کرنا چاہیے نہ کہ صرف شاعری اور مناظرہ بازی سے منبر و جلسہ گاہ سجاتے رہیں۔موضوع اور فرسودہ روایات کا سہارا لے کر اپنی واہ واہ کرواتے رہیں۔ ع

  نہیں ہے  دنیا  کو  اب گوارا  :  پرانے  افکار  کی  نمائش

٭ہمیں ماتم ہی کرنا ہے تو اپنی کھوئی ہوئی عقل و علم و ہنر کا ماتم کریں۔ 

ہوا ہے بندۂ مومن فسوفیء افرنگ  :  اسی سبب سے قلندر کی آنکھ ہے نمناک

٭ہمیں سبیل لگانی ہے تو علم و حکمت کا دریا بہائیں۔محبت و ایثار کا عملی نمونہ بن کے دکھائیں۔

٭ہمیں علَم ِ علی ث و حسن و حسین ث اٹھانا ہے تو ان کے علم و تدبر و سخاوت و شجاعت و جہد زندگی کا عَلم اٹھائیں۔

٭ہمیں تبرَّہ ہی پڑھنا ہے تو اپنی جہالت ، رسوائی ، نسلی تعصب و نفرت انگیزی ، فتنہ و فساد پہ لعنت و ملامت بھیجیں۔

٭ہمیں شامِ غریباں ہی منانا ہے اور نوحہ گری کرنی ہے تو اپنی ٹوٹی ہوئی یکجہتی اور دور جاہلیہ کی رسوم کا رونا روئیں۔افسوس کہ امام حسینؓ اور ان کے فدائین ؒ نے جس مقصد زندگی کے لیے خون کا نذرانہ دیا ان  کے چاہنے وا لے سال میں ایک بار صرف آنسو بہا کے اپنے ضمیرکو سلا دیتے ہیں۔

٭ہمیں اپنے نام کے آگے القاب ہی لگانے ہیں تو عبداللہ کا لگائیں ۔ کہ عبدِالٰہی سے بڑا کوئ مقام نہیں ۔نہ کہ ہر منبر پہ اپنا بت سجا کر خود اس کی پرستش کرنے لگیں ،صرف اور صرف مصطفوی بن کے دکھائیںکہ یہی اللہ کو محبوب ہے۔   ؎

دنیا کو ہے اس مہدئ  برحق کی ضرورت   :  ہو  جس  کی  نگاہ  زلزلہ عالمِ  افکار

٭ہمیں اگر صحابہ کرام ص سے محبت ہے تو ان چار خلفائے راشدین کی شب و روز کی جان نثاری رسول ا اور فکر دنیا و آخرت کی بھلائی ، منتظمانہ و مدبرانہ و حکیمانہ صلاحیتوں کو ا پنائیں ۔ انسانی و اخلاقی معیار کا عملی پرچار کریں ۔ صرف قصیدہ گوئی اور ان کی عزت کے محافظت کے داعی بن کے قتل و غارت کا بازار گرم کرنے سے کیا حاصل ہوگا ؟

 حق بات کو لیکن میں چھپا کر نہیں رکھتا  :  تو ہے ، تجھے جو کچھ نظر آتا ہے نہیں ہے

٭ہمیں زمانے کے بدلتے ہوے انداز کو سمجھنا ہے ، ہماری بقا روشن دماغی ہے بے بصری نہیں ۔ ع

فرسودہ  طریقوں  سے  زمانہ  ہوا   بیزار

«کیا ہم آغازِ سال محرم الحرام کے مہینے میں اللہ گ کے سامنے سر بسجود ہو کر اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کر سکتے اور شعور زندگی کو اجاگر نہیں کر سکتے ۔ اپنا نصب العین مرتب نہیں کر سکتے ، ہم صرف اور صرف اللہ کے لئے نہیں جی سکتے ؟  ۔ عروج آدمِ خاکی کے منتظر ہیں تمام  ؎

مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر

فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر

حشام احمد سی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: