Hesham A Syed

January 4, 2009

Now , not any thing makes me laugh !

Filed under: Global Politics,Middle East,Pakistan — Hesham A Syed @ 3:52 pm
Tags: ,

Urdu Article : Abb kisi baat pey naheeN Aati – Hesham Syed

اب کسی بات پر نہیں آتی

پہلے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی      اب کسی  بات  پہ نہیں آتی

حالیہ ایک انٹرویو کے دوران مہدیِ بے وقت صدرِ امریکہ و عالم ِ جہانی بُش نے فرمایا !جس کا لب ِلباب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے دور حکومت میں عراق اور افغانستان کا مسئلہ حل کردیا اور جمہوریت و امریکہ کیا بلکہ تمام دنیا محفوظ ہو گئی ہے ،’’ میرے بعد کے آنے والوں کو صرف پاکستان کی خبر لینی ہوگی تاکہ اس چین و سکون و آشتی کی فضا جو میں نے قائم کی ہے وہ برقرار رہے بلکہ اس میں اضافہ ہو‘‘۔ ویسے تو جریدے میں ، ویب سائٹ پر بُش کے بے شمار بیانات اور حماقتوں سے متعلق باتیں اور داستانیں پھیلی ہوئی ہیں اور اسے لوگ لطیفہ کے طور پر پڑھتے رہتے ہیں۔ بُش یا اس کے حکومتی کارندوں نے جہاں دنیا کو آگ اور خون میں دھکیل دیا ہے اور خو د امریکہ کی ساکھ جس بری طرح متاثر ہوئی ہے اس سے قطع نظر بُش کی بے وقوفیوں اور حماقتوں سے لبریز بیانات نے سب کو ہنسنے کا جواز ضرور فراہم کیا ہے۔ ایسے عالم میں جہاں سوائے دُکھ اور پریشانیوں کے کچھ نہیں رکھا ایک ایسا جوکر جو سب کو خون میں نہلا کر بھی ہنساتا رہے ،اس سے پہلے کہاں دستیاب تھا ، یہ کام تو چنگیز خان اور ہٹلر نے بھی نہیں کیا ۔ بات تو یہ ہوئی  کہ  لوگ ستم بالائے ستم کو بھی ہنس کے جھیل جائیں۔    ؎

 بُش جو  رُلا رہا ہے ،  سو ہے وہ بھی آدمی      بُش جو ہنسا رہا ہے ،  سو ہے وہ بھی آدمی

          ابھی کھیل ختم ہی کہاں ہوا  میرے دوست ۔ابھی تو کھیل باقی ہے، شایدابھی انٹرول بھی نہیں ہوا ۔عراق، افغانستان اور دیگر ممالک کی تباہی کے بعد لیبیا نے تو ایک ہی دھمکی میں اپنی پتلون اتار دی اور اب کوریا نے بھی اپنے نیوکلیئر پلانٹ کی بلڈنگ کو اڑا کر وفاداری بُش کا یقین دلا دیا ، لے دے کر اب ایران اور پاکستان ہی رہ گئے ہےں جو صیہونی طاقتوں کو کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں ۔عتابِ بُش برسنے کو ہے۔ سنتے ہیں کہ ایران پہ حملے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ اب بدلنے کو ہے۔ سو کیا پتہ کہ اسی ایک جھٹکے میں پاکستان بھی لپیٹ میں لے لیا جائے ، بار بار پلان کون بناتا رہے، یک نہ شُد دو شُد ، ایک تیر سے دو شکار۔  ویسے بھی پاکستان کی سا  لمیت یا جغرافیائی حد بندیوں کا کون سا لحاظ باقی رہا ہے۔ حملے تو براہِ راست ہو ہی رہے ہیں اور اب تو پاکستانی حکومت اس بات کو چھپاتی بھی نہیں بلکہ خود اس کا اعتراف کرتی ہے کہ یہ ان کے ہی ایما پہ ہو رہا ہے ، اس اعتراف میں اب کوئی پس و پیش بھی نہیں کیونکہ جمہوریت قائم ہو چکی ہے اور اب پاکستان میں خاص عوامی حکومت ہے۔سو اب ڈر کاہے کا جب سیاں  بھئے کوتوال ۔

          بہ ظاہرجتنی بھی مسلمان حکومتیں ہیں وہ تو اپنی غلامی کے بدلے میں عطا کی ہوئی عیاشیوں میں ہی مگن ہیں ، کبھی کبھی کسی طرف سے ایک آدھ بیان جاری ہوجاتا ہے کہ اب کے مار کے دیکھو تو بتاتا ہوں۔ ہائے اللہ !  بُش نے پھر سے چھیڑ دیا ، ندیدہ کہیں کا ! جو لوگ صدیوں سے غلامی میں رہنے کے عادی ہوچکے ہوں وہ کیسے یہ جسارت کر سکتے ہیں کہ وہ سر اُٹھا کے چلیں اور اپنے آقائی و مولائی کی برابری کر سکیں ؟ بُش ہو یا نہ ہو اس کا فتنہ امریکی حکومت میں سرائیت کر چکا ہے اور اب کسی نئی آنے والی حکومت سے یہ توقع کرنا بھی حماقت ہوگی کہ وہ کچھ مختلف ہوگی ،بلکہ جو زہر کا پودا لگایا جاچکا ہے اس کی آبیاری ہوتی ہی رہے گی۔ ع

 کھول آنکھ  زمیں  دیکھ ،  فلک دیکھ  فضا  دیکھ 

اور یہ سب خود ہی دیکھ۔نیوکلیئر پاور بننے کا حق صرف اور صرف صیہونی قوتوں اور اس کے محافظوں کو ہے، یہ بات اب فیصلہ کن ہے۔ ہائے اللہ ، اپنی محکوم قوم کا حال یہ ہے کہ :   ؎

نہ  چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی  

  تجھے اٹکھلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: