Hesham A Syed

January 4, 2009

Vow ! Pakistan or Alas, Pakistan !

Filed under: Pakistan — Hesham A Syed @ 3:41 pm
Tags:

Urdu Article : Aah Pakistan yaa waah Pakistan – Hesham Syed

آہ پاکستان یا واہ پاکستان

حسرت و یاس کی ایک عجیب سی فضاطاری ہے۔ پاکستان سے باہر بیٹھے ہوئے پاکستانی شاید پاکستان کے بارے میں زیادہ ہی فکر مند رہتے ہیں۔ ہر کوئی جو پاکستان سے لوَٹ کر آتا ہے وہ یہ بھی کہتا ہے کہ یا تو وہاں کا میڈیا حالات کو ضرورت سے زیادہ اندوہناک بنا کر پیش کرتا ہے یا پھر پاکستان میں رہنے والے آنے والے طوفان و زلزلے سے بے خبر ہیں۔وہ روزانہ کے مسائل کو سُن سُن کر یا جھیل کر بے حس ہو چکے ہیں یعنی    ؎

رنج سے خوگر ہوا  انساں  تو مٹ جاتا ہے رنج     مشکلیں اتنی پڑیں  مجھ پہ  کہ  آساں  ہو گئیں

          اخبار کے ادارئیے ، کالمز ، ویب سائیٹس ، ٹاک شو جسے پڑھئے ، دیکھئے یا سنیئے تو پاکستان میں معاشرتی ، معاشی ، سیاسی ، اخلاقی ، اقتصادی مسائل کا تذکرہ ،پاکستان کے نیوکلیئر پاور کے خلاف سازشوں کا ذکر،خود پاکستان کے ٹوٹنے،ختم ہوجانے کا سنسنی خیز بیان یا تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حیرت تو یہ ہے کہ یہ ساری باتیں بلا جھجک میڈیا اس طرح مشتہر کر رہا ہے کہ دشمنانِ پاکستان کو سہولت ہو گئی ہے اور بہت سی تخریب کاری کی ترکیبیں انہیں عقل سے پیدل پاکستانی خود فراہم کر رہے ہیں ۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔

          پچھلے دو سالوں سے مایوسیاں اس قدر بڑھتی جا رہی ہیں کہ وہ لوگ جو پاکستان کے بننے کو ایک دینی فریضہ سمجھتے تھے اور اسے اللہ تبارک تعالیٰ کی نصرت اور حضور ؐکی دعاؤں یا خواہش کا نتیجہ بتانے پر طرح طرح کی دلیلیں پیش کرتے تھے وہ بھی پاکستانی لیڈروں اور کنگ میکرز ، سیاسی پارٹیوں ( چاہے اسلامی ہوں، غیر اسلامی یا نیم اسلامی ) کی بد عنوانیوں سے عاجز آکر پاکستان کے بننے کو بھی ایک تاریخی سانحہ گرداننے لگے ہیں۔ وہ لوگ جوپاکستان کا بھجن دن رات گاتے تھے وہ بھی جھنجھلا کر یہ کہتے ہیں کہ چھوڑو یار اس ملک کو، خود ملک والوں نے ہی لوٹ کے ختم کر دیا اور حالات روز بروز ناگفتہ بہ ہی ہوتے جا رہے ہیں۔ ع

 اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

          بے بسی کا یہ عالم ہے کہ سوائے تماشہ دیکھنے ،اپنا دل دکھانے یا اِدھر اُدھر کی ہانکنے کے ہم کچھ کر بھی نہیں سکتے۔ لگتا تو یوں ہے کہ سیاستدانوں، فوجیوں اور نہ ہی دانشوروں کو صحیح صورت حال کا اندازہ ہے۔ ہر کوئی اپنی رو میںجو چاہے بکے جا رہا ہے جیسے کہ سب پہ اک ہذیان طاری ہو۔مختلف گروہ بندیاں جاری ہیں ، عصبیت اور شخصیت پرستی کے بخار میں اب بھی لوگ مبتلا ہیں ۔ آپس کے تعلقات کا پیمانہ بھی یہی ہے کہ کون کس سیاسی مداری یا فوجی کے گُن گا رہا ہے ۔ سنجیدہ مزاج لوگ بھی نہایت غیر سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ جنہوں نے پاکستان کے لیے بہت کچھ کیا ،وہ بھی پاکستان کی حرمت و سلامتی سے قطع نظر اپنی دور اندیشی اور بصیرت کھو چکے ہیں اور شخصی دشمنی میں ہلاکت خیز بیان دے رہے ہیں یا اس ملک کے مستقبل کے بارے میں ایک منفی فکر اور رَوئیے کا شکار ہو چکے ہیں۔ ع

 جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

b        پاکستان کی عصمت کی چادر اب اتنی ہی تنگ ہو چکی ہے کہ۔سر ڈھانکو تو پیر کھلتا ہے اور پیر ڈھانکو تو سر۔اس چادر کو بھی لوگ تار تار کرنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ پاکستان توڑنے کی سازشیں کہیں بھی ہو رہی ہو ں، کوئی بھی کر رہا ہو لیکن ان باتوں کو سر عام کہنا اور اس پہ ٹاک شو کرنا کون سی عقلمندی کی بات ہے۔ اس پہ طرہ یہ  کہ یہ ساری باتیں وہ ہی کر رہے ہیں جو پاکستان کے محافظ سمجھے جاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ’ امریکن نیوک گروہ‘ نے پاکستان کو ۵۱۰۲ ء سے پہلے ختم کرنے کا پورا پلان بنایا ہوا ہے تو کوئی پاکستان کو مزید ۰۱ سال اور دینا چاہتا ہے۔ اگر ایسی بات ہے بھی تو عوام الناس یہ جان کر کیا کر لیں گے ، اس پلان کے خلاف تو پاکستان کے محافظین کو کوئی قدم اٹھانا چاہیے ۔نہ کہ اسے موضوع بنا کر کھُلے عام اس پہ گفتگو کی جائے۔ مجھے تو یہ بھی ایک سازش کا ہی حصہ لگتا ہے کہ اس بات کو زباں زدِ عام اتنا کر دیا جائے کہ پاکستانی عوام پاکستان کو مزید ٹوٹتے ہوئے دیکھنے کے لئے ذہنی طور پہ تیار ہوجائیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہو جانے کا غم ایک لمحہ کو رہا پھر اس غم کو بچے ہوئے پاکستان کے رکھوالوں نے دھمال ، رقص ، موسیقی ، ترانے اور نئے پاکستان کی تعمیر اور اس ملک کی خوشحالی کا نیا خواب دکھا کر ختم کر دیا ۔ قوم پھر سے اپنے پیٹ پرپتھر باندھ کر بندر ناچ اور بندر بانٹ دیکھنے میں مست ہوگئی۔ تقسیمِ ہند ، تعمیر و تسخیرِ پاکستان میں نسلوں کی نسلیں تباہ و برباد ہو گئیں، اس سے کیا فرق پڑ گیا ۔ لوٹنے والے تو ابھی بھی ڈگڈگی بجا رہے ہیں اور قوم پتنگ بازی ، دھمال اور بڑک لگانے میں مشغول ہے۔ جن میںشعور کچھ باقی ہے وہ اپنی سیلاب زدہ لیکن خشک آنکھوں سے خلا میں تکے جارہے ہیں۔

          اس وقت پاکستانیوں میں کئی ایک گروہ واضح طور پہ بن چکے ہیں۔ ایک تو وہ جسے پاکستان سے کوئی دلچسپی نہیں رہی ،سو وہ کبھی ادھر کبھی ادھر ہاں میں ہاں ملاتے نظر آتے ہیں۔ جیسے کسی فلم، ڈرامے یا کسی ہیرو یا ہیروئین کی بات ہوتی ہے۔ ویسے ہی پاکستان بھی ان کے لیے محفل میں گپ شپ لگانے کے لیے ایک موضوع ہے  ۔ محفل برخواست پاکستان برخواست۔ پاکستان کا کوئی بھی مسئلہ ہو ان بیس کھوپڑیوں کے پاس ان سب کا حل ان کی پوٹلیوں میں موجود ہے۔ ایر کنڈیشنڈ کمرے اور انواع و اقسام کے طعام کا انتظام ہو تو دماغ کیوں نہ چلے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو ہمہ وقت ایک ماتمی کیفیت کا شکار رہتا ہے ، اسے پاکستان میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی،  ہر وقت ایک سنسنی خیز خبر کی تلاش رہتی ہے، اپنے تجزیوں میں یہ دور کی کوڑی لاتے ہیں اور اپنی سیاسی بصیرت کا دعویٰ بہ بانگ دہل کرتے رہتے ہیں ۔ان کی حیثیت کسی محفل میں ایسی ہوتی ہے جیسے کہ کوئی خود کُش حملہ آور اپنی جان سے بے پرواہ ہوکر کسی بھیڑ میں کود پڑے، اپنے آپ کو جنت میں محفوظ کر لے اور لوگوں کے پرخچے اڑا دے۔ تیسرا گروہ وہ ہے جو حالات اور معاملات کا تجزیہ دن رات کرنے میںمصروف ہے، پاکستان کی خواندہ آبادی۳۱ فی صد سے بھی کم ہے ، اس کا تعلیمی بجٹ ہر شعبے سے کم ہے اور اتنا کم کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ہر بچہ تعلیم حاصل کر سکے ، نہ عدلیہ صحیح ،نہ اخلاقی معیار باقی رہا ، ہر قسم کی دادا گیری سے گھرا ہوا یہ ملک ۔ایسے میں جمہوریت کا نعرہ ایک ڈھکوسلہ ہی ہے۔ جمہور کا نعرہ اصل میں بچہ جمھورا کا نعرہ ہے ، پس ماندہ اور ناخواندہ عوام کی اکثریت پیٹ کے ہاتھوں اپنے اپنے محلے کے دادا ؤں، سرداروں کے سامنے بے بس ہے اور اسی کو بلا سوچے سمجھے ووٹ دیئے جا رہی ہے جس کا نعرہ یا ڈرامہ زیادہ رنگین و دلچسپ ہو یا جن کے ہاتھوں میں اس کی جان اور اس کی تقدیر کا قلمدان ہو۔ غلام یا غلامانہ ذہن کے لوگ آزادی کا سوچ تو سکتے ہیں لیکن آزادی سے سوچ نہیں سکتے۔ چوتھا گروہ بھی ہے کو ہروقت سب ٹھیک ہے کے نشہ میں زمینی حقائق سے تہی کیے بیٹھا ہے۔ وہ ہر لمحہ اسی کا وظیفہ کر رہا ہے کہ پاکستان کو اللہ بچا لے گا ، یہ لوگ ہر دم آسمان پہ ابا بیلوں کو تلاش کرتے ہیں ، معجزات کا انتظار کرتے ہیں ، اکثر کو یہ بھی خواب آتا ہے کہ حضورؐسفید گھوڑے پہ سوار ہاتھوں میں تلوار لیے پاکستان کے دشمنوں کے مقابلے پر نکلے ہوئے ہیں ، کچھ سادہ دل لوگ اس بات کا بھی پرچار کر رہے ہیں کہ پاکستانی غزوہ ہند میں پیش پیش ہونگے، قطع نظر اس بات کے کہ اپنے ملک کو جو سنبھال نہ پائے وہ کسی اور ملک میں فتح و کامرانی کے جھنڈے کیسے گاڑ سکیں گے۔ کیا غزوۂ اُحد اس بات کی دلیل نہیں کہ قوم اور فوج کی تربیت ، ڈسپلن یا یکجہتی ہی اسے کسی بھی معرکہ میں کامیاب و کامران کرتی ہے ، یہی اللہ کی سنت اور رسول ؐکی ہدائت ہے ۔ خیال و خواب کی دنیا میں رہنے والے یہ نہیں دیکھتے کہ جب پاکستان دولخت ہوا تو ان کے بچکانہ خواہشوں اور خوابوں کی تعبیر کیا نکلی ؟ جانے کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ اسی قوم کی تقدیر بدلتا ہے جس میں خود اپنے حالات کو بدلنے کا جذبہ ہو اور اس کے لیے کوئی عملی قدم اٹھائے ۔ صرف شتر مرغ کی طرح ریت میں سر ڈالنے سے طوفان تھم نہیں جاتا ۔ بنگلہ دیش یا مشرقی پاکستان کو چھوڑئیے کہ اس کا ذکر بھی کوئی سننا یا کرنا نہیں چاہتا اور ہم نے اپنی بے حسی میں ہی سکون و اطمینان تلا ش کر لیا ہے ، بلوچستان ، فرنٹئر ، سندھو دیش یا پنجاب میں کیا ہو رہا ہے کس سے مخفی ہے ؟

J        ہم پورے پاکستان کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کر چکے ہیں۔ ہر جگہ بم کے دھماکے ، قتل و غارت گری کا ذمہ دار کیا واقعی شدت پسند مذہبی جماعتوں کو دیا جا سکتا ہے یا اس کے پسِ پردہ یہ سب کچھ کوئی اور کروا رہا ہے۔ سازشیں بیرون ملک تیار ہو رہی ہیں اور اندرون ملک ان ممالک کے ایجنٹ اپنا کام کیے جا رہے ہیں ، نہ کوئی گھر محفوظ ہے اور نہ کسی کی جان۔کسی بھی غیر اسلامی جماعت یا گروہ کے لوگوں کوداڑھی بڑھا کر یہ کام کرنے میں کیا مشکل پیش آ سکتی ہے ، ایک تیر سے دو شکار،ملک میں انتشار و بد نظمی تو پیدا ہو ہی رہی ہے، ساتھ ساتھ اسلام  کے پیروکار بھی بدنام ہورہے ہیں۔

          دوسری طرف پاکستان کے رکھوالے عوام الناس کو دھوکہ دے کر اور سنہرے خواب دکھا کر انہیں زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم کر رہے ہیں اور عوام کی دولت لوٹ کر ان کی غربت کو ختم کرنے کی کانفرنس چارٹرڈ پلین، رولز روائیس ، مرسڈیز گاڑیوں میں پھرتے ہوئے دبئی ، لندن ، جدہ ، واشنگٹن اور نیو یارک میں کرتے پھر رہے ہیں۔ لوٹی ہوئی دولت سے ،ملک سے باہربڑی بڑی حویلیاں اور بڑے بڑے کاروبار سجا کر قوم کے غم کی تشہیر کرنا ضمیر فروشوں کو کتنا اچھا لگتا ہے۔ دنیا کی امیر ترین اور ترقی یافتہ قوموں کے لیڈر کا بھی رہن سہن وہ نہیں ہے جو عسرت زدہ ، مہنگائی ، بے روزگاری ، ناقص نظامِ تعلیم و صحت کے گرداب میں پھنسے ہوئے لوگوں کے ملک کے رکھوالوں کا ہے۔ قوم کی خدمت کرنا اور بات ہے اور اس پہ حکومت کرنا اور اسے یرغمال بنا لینا اور بات ہے۔

          ہم میں سے کچھ لوگ جو دیانتداری ، امانت داری سے زندگی گزارنا جانتے ہیں، وہ ہیں جو پاکستان کے حالات کو دیکھ کر خون کے آنسو روتے ہیں ، ان کے سامنے فلسطین ، چیچنیا ، بوسنیا ، کشمیر ، عراق ، افغانستان کی مثالیں ہیں اور پاکستان کے بنانے میں صدیوں سے نسل در نسل کی تباہیوں و قربانیوں کے مناظر ہیں۔ وہ خود سے سوال کرتے ہیں کہ خدا نخواستہ پاکستان کو کچھ ہو گیا تو ہم اپنی نسلوں کو کیا دے کر جائیں گے ؟ گرین کارڈ یا  ہجرت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ؟ غلامی در غلامی ؟ کیا ہماری نسلیں غیر ملکوں میں جا کر ان کی سڑک کی مرمت کریں گی؟ پٹرول پمپ پہ اٹنڈنٹ لگیں گےں ؟ گھروں میں خدمت کریں گی؟ماسی اور نوکر بن کر ان کے بچے پالیں گی ؟ سیکوریٹی گارڈ بنیں گی ، ان جیسی شکل ، ان کی تہذیب اپنا لیں گی ؟ اپنا نام اور تشخص بدل لیں گی ؟

           ہم نے تو ، آہ !  پاکستان کا نہیںسوچا تھا ، ہم نے تو واہ پاکستان کا خواب دیکھا تھا ۔

دیکھئے کہ قوم اپنے عمل کا حساب خود کب لے گی ؟ واللہ عالم !

یہی فرزندِ آدم ہے کہ جس کے اشک ِ خونیں سے

کیا ہے حضرتِ یزداں نے دریاؤں کو طوفانی

حشام احمد سی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: