Hesham A Syed

January 4, 2009

What should I write ?

Filed under: Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:34 pm
Tags:

Urdu Article : MaiN kia likhooN – ek anshaiya – hesham syed

حشام احمد سید

 میں کیا لکھوں ؟

کچھ  توکہیے کہ لوگ کہتے ہیں ! میں کیا کہوں اور کیا لکھوں ۔ ایک عجیب کشمکش میں ہوں ! انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا۔احباب کا اصرار بڑھا ۔ نہ جانے مجھ میں دانشوری کی ایسی کیا بات نظر آئی کہ لکھنے کی فرمائش کر بیٹھے۔ یہ حسن ظن ہے یا دلجوئی یا پھر اس بات کا ہی احساس دلانا مقصود ہو کہ میں واقعی کچھ نہیں لکھ سکتا اور کسی قابل نہیں۔ سو یہ احساس تو شروع سے ہی قائم ہے لیکن کسی نے کہا کہ :    ؎

بہ قدر پیمانہ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا  :  اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا

          یہ بھی ممکن ہے کہ میں ہی غلط سمجھا اور لکھنے لکھانے کو دانشوری پہ محمول کر بیٹھا۔موجودہ دور میں بھلا لکھنے سے دانشوری کا کیا تعلق۔ آج کل تو ہر شخص اپنے آپ سے آگے بھاگ رہا ہے۔فکر عمیق عنقا اور لچر و بے ہودہ باتوں کے خار و خشت سے ہی سے دانائی کا تختِ طاؤس سجایا جا رہا ہے۔   ؎

سر پہ چڑھ کے بول رہے ہیں بونے جیسے لوگ  :  پیڑ بنے خاموش کھڑے ہیں کیسے کیسے لوگ

میں تو اس خیال کا آدمی ہوں کہ ؛   ؎

 روتے ہیں دل کے زخم تو ہنستا نہیں کوئی   :  اتنا  تو  فائدہ  مجھے  تنہائیوں  سے  ہے

 لیکن دوستوں نے بار بار کہا کہ :   ؎

حبس سے شیشے درک جائیں گے روشندان کھول  :  تنگ اتنا بھی اے دوست زندان تنہائی  نہ کر

          خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم کے پیش نظر میں نے لکھنے سے پہلے کچھ سوچنا شروع کیا کہ میں کیا لکھوں ؟ منتشر خیالات کو کیونکر اکٹھا کروں ؟زندگی کا میرا مشاہدہ ہی کیا ہے ۔ بس یہی نا کہ چند آئینے سے رکھے ہوئے ہیں سرِ وجود اور ان میں اپنا جشن مناتی ہے میری ذات۔ میں کیا کہوں کس بات کا ذکر کروں ؟ ذکر اس دنیا اور ہستی کا ہو کہ عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے۔دنیا نیند ہے اور آخرت بیداری ۔ان کے درمیان موت ہے۔بزم ہستی کو ہم نے حق جانا در حقیقت اسے گماں کہیے۔ یا پھر اس زمانے کا جہاں ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے۔ گزرا حصار وقت سے میری نظر کا تیر ، پھر اس کے بعد معرکۂ رنج و الم رہا۔ موضوعِ سخن ہو توکیا ہو ؟ اس خالق ِکل کا جو پوشیدہ بھی ہے اور ظاہر بھی ۔ پوشیدہ ہے تو قلب میں اور ظاہر ہے تو نگاہ میں۔وہ کہ فطرت کا ہے اسرارِ دروں اور منکشف چاہے اُسے میرا جنوں۔ میں عجیب اضطراب میں ہوں کہ گفتگو کے لیے عنواں بھی نہیں اور بات کرنے پہ بھی مجبور ہیں دوست ۔لیکن میرے حال کی کس کو خبر ۔ اپنی حالت کریں بیاں کس سے ، کس کو آخر انیس ِجاں کہیے۔کبھی دل نے چاہا بھی کہ بات کریں تو بھی اپنی ذات ہی مخاطب بنی۔ آ بات کریں ، دل کی اس ویرانی کی ، جس میں ہر پل تیرے سانسوں کی آہٹ ، دستک بن کے آتی ہے۔ شہر تمنا ، دشتِ سکوت ، اس میں رہ کے ویرانی بڑھ جاتی ہے ، آ بات کریں ، اس لمحے کی ۔ اس لمحے میں کھو جائیں ہم جو ٹھہرا ہے ، آ بات کریں۔ میں کیسے سمیٹوں آج اپنے آپ کو ؟ ذکر آج ہو تو کس کا ہو اور کیا  ہو ؟

          ۔ذکر خشیت الہٰی کا ہو :  اے رسول  ؐ آپ تاکید کریں ان کو جو آپ کی نصیحتوں کا اتباع کریں اور بے انتہا رحیم خدا کی خشیت بھی ان میں ہو جو بظاہران کی نظروں سے پوشیدہ ہے تو ایسے لوگوں کو خوشخبری ہے مغفرت کی اور عزت و نیک مقام کی۔

          ۔یا خوف الہٰی کا :  نہ ڈرو لوگوں سے بلکہ مجھ سے ڈرو ۔ حدیث قدسی ہے کہ : جو دنیا میں میرے عذاب سے ڈرتا ہے اسے میں آخرت میں عذاب سے بے خوف کردیتا ہوں۔   ؎ 

ہر بڑے انسان کے اندر بڑا انساں نہیں  :  ہر بلند ایوان کے در پہ جبیں ساۂ  نہ کر

          ۔یا صبر و شکر کا :  بےشک اللہ صابر و شاکر سے محبت کرتا ہے ۔ حدیث قدسی ہے : جو میری قضا پہ راضی نہیں اور نہ میری عطا پہ شکر کرے وہ میرے سوا کوئی اور رب تلاش کر لے۔

          ۔یا اس حقیقت کا کہ حضرت انسان کی تخلیق کی وجہ رب العزت کی پہچان بنی۔ یہ حدیث قدسی ہے لیکن انسان کی شناخت ہمیشہ اس کے لئے ایک سوال بنی رہی ہے۔   ؎

 صرف  شیطاں  ہی  نہ تھا  منکر  تکریمِ  ندیمؔ   :  عرش پہ جتنے فرشتے تھے مری گھات میں تھے

          ذکر آج ہو تو کس کا ہو :  نفسانی خواہشات و ریاضت کا : حضرت سلیمان  ؓ کا قول کہ جو شخص اپنے نفس پہ قابو پالے وہ اس سے زیادہ طاقتور ہے جو تنہا ایک شہر فتح کر لے۔ یا غفلت کا  : 

غفلت سے رہی ہم کو حد درجہ پشیمانی  :  یارب میرے حسرت کا بھی پندار ِبھرم رکھ۔

          یا عشق و محبت کا :  آدمی کام کا نہیں ہوتا ، عشق جب تک نہ کام کر جائے ۔ بقول حضرت شبلی ؒ کے ۔ کیا تو نے ایسے محب کو دیکھا ہے جو مدہوش نہ ہو ؟ بقول حضرت ذو النون ؒ  کے ۔ ’جو اللہ سے محبت کا دعویٰ کرے وہ اس بات سے بچے کہ غیر کے سامنے عاجزی کرے‘۔ حضرت شبلی  ؒ کا فرمان ہے ۔ ’عارف اگر بات کرے تو ہلاک ہو جائے ، محبت کرنے والا خاموش ہو  تو ہلاک ہوجائے‘۔حضرت ابراھیم خواص ؒنے فرمایا ۔’ محبت نام ہے ارادوں کو ختم کر دینے ، تمام صفتوں اور حاجتوں کو مردہ کردینے اور اپنے وجود کو اشارات کے سمندر میں ڈبودینے کا‘۔ حضرت منصورؒ نے اس رمز کو پایا توکہا ’اللہ کی ذات کے سوا ہر شے باطل ہے ۔ذات الہٰی ہی حق ہے ‘۔اس سرشاری میںوہ اپنا نام بھی بھلا بیٹھے۔ لوگوں نے پوچھا تو کہا حق ہے۔ اور  میں نے کہا کہ :

 سچ کا گناہ گار ہوں پہچان لو مجھے  :  زنجیر کر لو صورت منصور لے چلو‘۔

          یا ذکر ہو حب رسولؐ کا جس کی کسوٹی اتباع رسول ؐ ہے ۔کہہ دیجیے کہ اگر اللہ سے تمہیں محبت ہے تو میری اتباع کرو اللہ بھی تمہیں محبوب بنا لے گا۔ ایک طرف یہ دعویٰ ہے کہ :   ؎

نہ  دھنک  نہ  تارا  نہ  پھول  ہوں  :   قدمِ  حضورؐ   کی   دھول   ہوں

 تو دوسری طرف حالت یہ ہے کہ:   ؎

 قدم اٹھے ترے رستے میں کیسے   :  سگِ دنیا ہوں زنجیریں بہت ہیں

 اتباع محبت و سرشاری کی پہلی سیڑھی ہے یا محبت خود اتباع کی جانب پہلا قدم ہے یا دونوں لازم و ملزوم ہیں اس کا فیصلہ کون کرے ۔ چلئے یہ معاملہ صاحبِ حال پہ چھوڑتے ہیں۔

          آئیے ذکر کریں علم و عقل کا :  حضورؐ  کا قول ۔ ایک قبیلے کی موت عالم کی موت سے آسان ہوتی ہے ۔تکبر علم کے لئے بڑی مصیبت ہے ۔اللہ جب کسی بندے کو رد کرتا ہے تو علم سے دور کردیتا ہے۔ کسی نے کہا کہ علم کیا علم کی حقیقت کیا ۔ جو بھی جس کے گمان میں آئے لیکن اس گتھی کو سلجھانے آئے ۔اور اقبال نے کہا کہ :  ؎

خرد کی گتھیاں سلجھا  چکا  میں  :  میرے مولا مجھے صاحبِ جنوں کر

          آئیے بات کریں زہد کی :  قول ِابراہیم بن ادھم ؒ ہے کہ زہد کے تین درجہ ہیں ۔

(۱)  فرض زہد  ۔ حرام کاموں سے بچنا 

(۲)  سلامتی کا زہد  ۔ مشبہات کو چھوڑ دینا 

(۳)  فضیلت کا زہد  ۔حلال میں بھی زہد کا رویہ اختیار کرنا ۔ ہم میں سے اکثر زعم ِ زہد میں مبتلا ہیں ۔ہر شخص اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ :   ؎

تر دامنی  پہ  شیخ  ہماری  نہ  جائیو   :  دامن نچوڑ  دوں تو  فرشتے  وضو کریں

          بات کس کی کریں :  اطلس و کمخواب میں لپٹے ہوئے مر مریں بدن کی یا شکستہ و مجہول بے آب تن کی جس میں سے دو آنسو بھی مشکل سے نکل پائیں ،  عیش و طرب کے انجمن کی ، محبوباؤں کے دلربا اداؤں کی یا ننگ انسانیت کی اور اس بے گھر و بے سروساماں تن کی جس کی قسمت میں دکھ ہی دکھ ہو ۔ سودی ساہوکار وں کی یا بھوک سے بلبلاتے بچوں کی جو اپنی ماں کی خشک چھاتی سے لپٹا پڑا ہے اور جس کی سانس کی آمدورفت صرف اس کی زندگی کا احساس دلاتی ہے۔ بات کس کی کریں : شیخوں کے حرم کی پسراوں کی یا بازار میں لٹتی ہوئی عصمت کی۔بات نفس کی کریں یا ضمیر کی ۔بات جسم کی کریں یا روح کی ؟ بات منافقت کی کریں یا حق کی ؟ لکھنے پہ قید بھی تو بے انتہا ہے ؟وہ لکھوں جو میں چاہتا ہوں یا وہ لکھوں جو کہا جائے؟   ؎

 خلشِ غم سے مری جاں پہ بنی ہے جیسے  :  ریشمی شال کو  کانٹوں  پہ کوئی  پھیلا  دے

 

          دیکھئے بات کہاں سے چلی اور کہاں پہنچی ۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری باتوں سے آپ نے کیا اخذ کیا لیکن میرا مسئلہ جوں کا توں ہے  کہ میں کیا لکھوں  …؟

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: