Hesham A Syed

January 5, 2009

A few contemporary issues ?

Filed under: Islam,Social Issues — Hesham A Syed @ 12:46 pm
Tags:

Urdu Article : Chand sawaalaat aisey bhi aatey haiN – hesham syed

چند سوالات ایسے بھی آتے ہیں !

«        اسلام میں داڑھی کی حیثیت کیا ہے۔ ایک سوال

٭        اصل میں یہ ایک ایسی بحث ہے جس کی تفصیل ایسے کالموں میں نہیں سما سکے گی ۔ مختصراً یہ سمجھ لیں کہ اللہ کے کوئی نبی ایسے نہیں تھے جن کی داڑھی نہیں تھی ۔ احادیث کے تما م ذخیرے میں ایک یا دو قولی حدیث حضورؐ کی ملتی ہے جس میں انہوں نے مردوں کو داڑھی رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ سنت سے تو خیر ثابت ہے ہی لیکن اسے بھی چہرے کی مناسبت سے اور سنوار کر رکھنے کی تاکید کی ہے۔ محض نال چہرے پہ بڑھا لینا داڑھی نہیں کہلاتی۔ اس بارے میں متشدد رویہ کے علما نے بڑی بحث کی ہے میرا خیال ہے کہ یہ بات بھی اپنی اہمیت سے زیادہ پیٹی گئی ہے اور اس میں علما کی شدت حضورؐ کے ہمہ جہت ہونے کی عکاسی نہیں کرتی۔ عام فہم بات یہ ہے کہ اسلام یا شریعت میں داڑھی ہے داڑھی میں اسلام و شریعت نہیں۔ احترام اس جذبہ کا ہے کہ کوئی سنت کی اتَّباع کرے ، چہرہ پہ بال بڑھا لینے کا نہیں۔حضور  ؐ کی معاشرتی ، اقتصادی ، اخلاقی ہدایات بے شمار ہیں جس کی فکر زیادہ ہونی چاہیے۔ اسلام فقط مخصوص علاقے کی ثقافت کی ظاہری شکل کو ہر جگہ مستحکم کرنے کے لیے نہیں آیا اور نہ ہی حضورؐ  کی آفاقی حیثیت ایسی محدود سوچ کی متحمل ہو سکتی ہے۔ہمیں ایسے معاملات میں افراط و تفریط سے گریز کرنا چاہیے۔ صرف داڑھی کے بڑھا لینے سے نہ کوئی بہت اچھا مسلمان بن جاتا ہے نہ وہ کسی طور پہ کم تر درجہ کے مسلمان ہیںجن کے چہرہ پہ داڑھی نہیں ہے۔ صرف چہرے پہ بال اگانے سے علم و عقل ، ہدایت و تہذیب ، شعور و آگہی نہیں آجاتی اور نہ ہی داڑھی کا رکھنا ان ساری باتوں کی نفی کرتاہے۔یہ ساری بحث صرف ذہنی خلجان ہے اور امت کا وقت ضائع کرنے کی کوشش ہے۔ لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا !

«        کیا منکرِ خدا ، یا گستاخِ رسول ؐ سے تعلق رکھا جا سکتا ہے ؟ ایک سوال

٭        قرآن میں یہ بات بڑی صراحت اور وضاحت سے آئی ہے کہ ایسے افراد کو اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار کریں یا اپنے محسن اعظمؐ  کو نہ پہچانیں یا انؐ  کی تعلیمات قرآن و حدیث و سنت کا مذاق اڑائیں یا اسے ناقابل عمل سمجھیں یا جو حضورؐ  کی ہدایت سے متصادم اپنی سوچ کوبہتر جانیں ۔ایسے سارے لوگوں سے تعلقات یا رسم و راہ صرف اور صرف ان لوگوں کی اصلاح  یا کسی دنیاوی مسائل کے حل کے لیے رکھی جاسکتی ہے۔ انہیں اپنا رفیق یا دوست سمجھنا انتہائی درجہ کی حماقت ہے اور منع ہے تاوقتیکہ وہ اپنی شیطانی فکر سے تائب نہ ہو جائیں۔ یہ ضرور ہے کہ انسان ہونے کے ناتے جیسے اللہ کی ساری مخلوقات پہ صلہ رحمی کرنے کو کہا گیا ہے اس دائرے میں ایسے لوگوں کے دنیاوی تقاضوں کا خیال رکھا جانا چاہیے ۔ان کے ساتھ سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ انہیں ان کی غلطیوں کا احساس دلا دیا جائے تا کہ وہ لوگ بھی اہل ایمان کی صف میں شامل ہوں اور آخرت میں انہیں بھی فلاح نصیب ہو!

«        میلاد شریف کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟  ایک سوال

٭        یہ بھی ایک طویل بحث ہے۔علمائے ظاہر جو صرف قال قال میں لگے رہتے ہیں اور ان علمامیں جو اسلام اور حضورؐ  کے پیغام کی روح کو پہچانتے ہیں ، اس بارے میں اختلاف ہے۔ قرآن نے حضورؐ  کو سارے جہانوں کی رحمت قرار دیا ہے ، اور انؐ  کی بعثت کو عالمِ تمام پہ اپنا احسان کہا ہے۔ انؐ کے بارے میں لوگ زبان کیوں دراز کر کے اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں۔ یہ ساری بات کا تعلق دل کی سختی سے ہے ۔ جن کے دل سخت ہیں وہ اپنی عقل اور ایسے لوگوں کی تقلید کو ہی اسلام سمجھتے ہیں اور جن کے دل نرم ہیں ۔وہ قرآن ، اسلام یا اللہ کے دین کو حضوؐر کے حوالے سے ہی جانتے اور پہچانتے ہیں۔ جن لوگوں کے لیے حضورؐ تھے وہ اپنے اسلام کے ساتھ خوش رہیں ،  جن لوگوں کے لیے حضورؐ ہیں ان سے را  بطۂ رسولؐ اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔انشا اللہ تعالیٰ

          حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے عیدِ میلاد ہر روز ہے ، اس کے لیے کسی خاص دن کو مخصوص کرنا یا کسی خاص طریقے سے اسے منانا ، ہر علاقے اور تبلیغی مصلحت کی بات ہے ۔ لیکن محتاط رویہ کی ضرورت ہے۔ نعت شریف کو فلمی انداز میں گانے سے ، ڈھول پیٹنے سے ، آتش بازی کرنے سے ، اور اسی طرح کی بہت ساری رسومات کے ایجاد کر لینے سے محبت رسول  ؐ کا اظہار نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو بہت ہی عامیانہ درجہ کا ہے۔ یہ سب اور بعض رسومات احترامِ رسولؐ  کی عین ضد ہیں ۔ ان سے پرہیز ہی نہیں بلکہ انہیں فوری طورپہ ختم کر دیناچاہیے۔نعتِ شریف کا سننا خود حضورؐ سے ثابت ہے اور مسلمانوں کے لیے طاعتِ رسولؐ  یا اتباعِ رسول ؐ  سے بڑھ کے کوئی اور نعت نہیں۔ لیکن اتباع رسولؐ میں حضور  ؐ کی عملی جدوجہد میں شریک ہونا سب سے بڑی فضیلت کی بات ہے اور ہماری ذمہ داری ہے۔ دونوں جذبوں کی اپنی الگ حیثیت ہے۔ شریعت وہ ہے جو اللہ کے رسولؐ نے بتایا ، اس پہ عمل کیا ، کسی اور کو کوئی کام کرتے دیکھ کر اس کی ممانعت نہیں کی یا کسی عمل کی ترغیب دی یا کسی عمل کو دیکھ کر خاموشی اختیار کر لی اور اسے لوگوں کے صوابدید پہ چھوڑ دیا۔ اللہ نے رسولؐ کے ذکر کو اپنا ہی ذکر بتایا ہے اور ذکر اللہ کی کثرت کی ہر جگہ تاکید کی ہے ، محب کا ذکر ہو یا محبوب کا بات ایک ہی ہے۔ تو اس سلسلے میں ذہنی خلجان کیسا ؟ وہ کون لوگ ہیں جن کے دل ذکر رسولؐ سے ناخوش ہوتے ہیں؟ایسا ہے تو انہیں تجدیدِ ایمان کی ضرورت ہے۔! سند اور تاریخی اعتبار سے میلاد شریف تبلیغی مصلحتوں میں ایک مصلحت ہے اور یہ ایک اچھا عمل ہے اگر اسے جذبہ کی اسی سرشاری اور احترام ِ رسولؐ  کا خیال رکھتے ہوئے منایا جائے۔!

«        یہ آج کل روایتی مشاعروں  کے منانے کی ریت چل نکلی ہے۔ وضاحت طلب  ہے !

٭        ان سب چیزوں کا تعلق مختلف لوگوں کی اپنی خوشی پر ہے۔ ہر آدمی کے اندر اللہ نے بہت ساری مخفی صلاحیتیں رکھی ہیں۔ اب یہ اس پر ہے کہ وہ اپنی ان صلاحیتوں کو کہاں استعمال کرتا ہے۔ کوئی عمل اگر فسق و فجور کے دائرے میں ہے تو منع ہے۔ اس پہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کل ہی کیا صدیوں سے ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ روحِ اقبال سے معذرت کے ساتھ :

آ  تجھ  کو  بتاؤں  میں  تدبیرِ اُمم  کیا  ہے 

طاؤس  و  رباب  اول  شمشیر  و  ثنا  آخر

          جس تہذیب و ثقافت کے مظاہرے بہ شکل مشاعرہ ، رقص و موسیقی ا ور گائیکی کی محفل سجا کر کیے جارہے ہیں۔ ایسی بے شمار رنگوں سے بھری محفلوں نے ہی تو مسلمانوں کے چہرے پہ سیاہی مل دی ہے ! دور کیوں جائیں مغلیہ سلطنت کے آخری ایام میں اسی مشاعرے کی محفلوں ، سازندوں او ر طوائفوںکی ٹولیوں نے مسلمان بادشاہوں اور نواب زادوں کو شراب میں افیم گھول کر پلا دیا  اور انگریز وں کی بلی بڑے آرام سے آکر سارا دودھ چٹ کر گئی ۔ چشمِ بینا ہی نہیں تو آئینہ دکھا کے بھی کیا ہوگا !

حشام احمد سی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: