Hesham A Syed

January 5, 2009

Beggers Pot !

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 1:53 am
Tags:

Urdu Article : Kashkoaley Gadayee – Hesham Syed

حشام احمد سید                                      کشکولِ گدائی

ہمارے دوست احباب اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ آج کل پاکستان کے حالات پہ میں کچھ لکھ کیوں نہیں رہا ۔ کوئی بات کہنے سننے کی یا لکھنے کی رہ گئی ہو تو کہے یا لکھے آدمی۔ ہر طرف وہی واویلہ ہر کوئی ایک ہی بات کہہ رہا ہے یا لکھ رہا ہے سو اس ہنگامے میں مزید اضافے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ پہلے ہی کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی  اور ویسے بھی نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ قحط الرجال ہے ، کوئی دولت کے انبار  پہ سانپ بنا بیٹھا ہے تو کوئی اپنی فاقہ مستی  کا رونا لیے بیٹھا ہے۔جسے دیکھو وہ  یا تو افراد و قوم کو لوٹنے کا پلان بنا رہا ہے یا خود کشی کے راستے جنت پہنچ رہا ہے۔ کیا کرے آدمی جب دنیا تنگ ہو جائے تو آسمانوں میں ہی بسیرا کرے۔ اور وہاںجانے کا راستہ  صرف ایک ہی ہے ،  یہ سفر بھی آسان ہے اگر یہ پتہ ہو کہ وہاں حوریں منتظر ہیں اور وہ بھی کوئی ایک نہیں، چالیس سے بھی زیادہ۔ واللہ عالم

 یہ  زمیں اب تنگ اتنی ہوچکی  :  آسماں  پہ گھر بنانا چاہیے

عرش پہ بنتی ہوئی روحیں تمہیں  :  اس زمیں پر اب نہ آنا چاہیے

ملک کی تقسیم  اور اس کے مزید ٹکڑے کرنے کا پلان اور اس کا نقشہ اب ویب سائیٹ کا ہی مرہونِ منت نہیں رہا بلکہ اب تو بل بورڈ کی صورت میں شاہ راہوں پہ نظر آنے لگا ہے گویا نوشتہ دیوار ہوچکا ہے اور وہ بھی محاورۃ ً نہیں بلکہ مجازً۔نئی حکومت بھرا ہوا خزانہ  خالی کر چکی ہے اور ساری بدحالی کا ذمہ دار حسب معمول پچھلی حکومت کو بتا رہی ہے۔اپنی بے عقلی بد دیانتی  کے محاسبے سے بچنے کا یہ آسان طریقہ ہے۔ سب کا سب دوسروں کے کندھوں پہ ڈال دو ۔ عوام کو دھوکے میں رکھو ، نئے نئے خواب دکھاتے رہو ،  مسائل اگر آج حل ہوگئے  تو کل کی کون سوچے گا ،

?        ابھی تو کئی سال گذارنے ہیں۔ کشکولِ گدائی زندہ باد  ، اسے لیے لیے ہم بے شرموں کی طرح قیمتی سواریوں پہ زرق برق پوشاک  پہنے چہروں کو مسکراہٹ سے سجائے ایک جم ِغفیر کو بھی ساتھ لیے بھیک مانگتے پھر رہے ہیں اور ہر در سے دھتکارے جا رہے ہیں ، شاید کوئی  اپنی آمدنی کا  اس ملک کے لیے ہی  ۰۱  پرسنٹ دے دے۔  جس کر وفر سے یہ بھیک منگوں کا قافلہ دوسری اقوام کے محلات میں صدقے کا  شاہی کھانا تناول کرتا پھر رہا ہے، اسے دیکھ کر عوام خوش حال ہوئی جاتی ہے،  ہر قافلے کی  ناکام واپسی پر اسے پھولوں کا ہار پہنا رہی ہے اور کیوں نہ پہنائے ؟  ایسے ندیدوں کا انتخاب بھی  تو اسی عوام نے کیا ہے۔ جمہوریت کا بیٹا جمورا کوئی نہ کوئی تماشہ کرکے رہے گا ۔ بس ڈگڈگی  بجاتے رہیے۔ سننے میں تو یہ بھی آرہا ہے کہ جو قافلہ بھی آتا ہے چاہے وہ  فوجیوں کا ہو یا سیاسی کارندوں کا  ہو ، یہ ویسے تو بھیک مانگنے آتے ہیں لیکن ان کی بیگمات یا وہ خود غیر ملکی معروف برانڈیڈ زنانہ چپلوں اور جوتوں کا ڈھیر خرید کر لے جاتے ہیں۔ کیا کریں ملک میں جو بھی جوتے چپل بن رہے ہیں وہ سنا ہے کہ ان ہاروں کے بنانے میں کھپ رہے ہیں جو ان لیڈروں کی پذیرائی کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ تجربہ کار شوہروں کا کہنا ہے کہ بیگمات کے پیروں میں برانڈیڈ یا ڈیزاینر کی چپلیں زیادہ اچھی لگتی ہیں۔ وہ سافٹ ہوتی ہیں اور کبھی سر پہ پڑے تو زیادہ تکلیف نہیں ہوتی۔

بھیک تو خاطر خواہ نہ ملی ،  اب  ملک کے  ماہرینِ اقتصادیات  اور خزانے کے امیر  نے اب  قرضوں کی ٹھانی ہے ۔ وہی  ایم آئی ایف کی ایڈز جو اس  قوم کو پہلے بھی ایڈز کی بیماری کی طرح چاٹ چکی ہے۔ اسکی  اپنی فکر و ثقافت کے جسم کو کھوکھلا اور روح کو بیمار کر چکی ہے ، سو اب  اسی سے بات چیت  ہو رہی ہے کہ اب قوم کو کس دام بیچا جائے۔ جو  رقم  قرضے کی شکل میں ملک میں آئے گی وہ آنے سے پہلے ہی کس کس لیڈروں کے پرسنل اکاؤنٹ میں کہا کہاں منتقل ہو جائے گی۔ کسی نے کہا ہے کہ لیڈروں اور عوام میں بڑی محبت و  قدر مشترک یہ ہے کہ لیڈر قرضوں کی دولت سے عیش کرتے ہیں اور یہ قرض چکاتی عوام ہے۔ اسے کہتے ہیں ہم  پیالہ و ہم نوالہ۔ خادم و مخدوم کی اصطلاح یونہی  تو نہیں ایجاد ہوئی۔!!

 ایک تجویز یہ بھی آئی کہ باہر بیٹھے ہوئے پاکستانی ڈالر بھجوائیں ۔ گویا  قرض چکاؤ ،پاکستان بچاؤ تحریک دوبارہ شروع کی جائے۔ اس سے قبل اسی تحریک کے تحت کئی ملین ڈالر پاکستان کے اسم باسمہ شریف برادران کی جیبوں میں غائب ہوگئے اور ایسے  ہی کئی امدادی تعاون کا حشر بھی بھٹو کے خاندانی و حکومتی ٹولے چٹ کر چکے ہیں جس کا کہ کوئی حساب نہیں لیتا اور صرف یہی نہیں بلکہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں کئی فوجی  افسران بھی شامل ہیں  اور کیوں نہ ہوں، یہ بھی تو پاکستانی ہی ہیں۔ ڈیفنس کالونیاں اور فوجی صنعتی و تجارتی ادارے آباد رہیں ۔ سرحدوں  پہ کون وقت ضائع کرے  ، اسے  تو کانٹریکٹ پہ دیا جا چکا ۔ اب  دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کے ہی پینے کا وقت ہے۔ پاکستان کو لٹیروں اور چوروں سے آزادی ملے تو پاکستانی محب وطن کچھ ہمت بھی کریں اور مالی امداد فراہم کریں۔  جانی امداد  کے لیے اب کسی نیت کی ضرورت نہیں۔ کسی کی بھی کسی وقت اس کے منتشر جسم کے ٹکڑوں کو  اکٹھا کر کے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ اس لیے ہمیشہ  باوضو رہیے۔۔!

 سرحدی حدود کی حفاظت کا یہ حال ہے کہ ہر ہفتہ دو ہفتہ کے بعد کوئی امریکی طیارہ پاکستانیوں اور اس کے سرحد کے اندر رہنے والوں پہ براہ راست میزائیل مار کر چلا جاتا ہے اور ہمارے وزیر اعظم و صدر  اور دیگر وزرأ  صرف بڑک  کی میزائیل مارتے رہتے ہیں۔ خوف ہو ہراس  اور اپنی دوغلی پالیسی کا اثر اتنا ہے کہ سوائے گیڈر  بھپکی کے کچھ بھی نہیں دے پاتے وہ بھی ایک بیچارگی کے عالم میں۔ اپنی سرحدوں پہ حملے کی اجازت اب نہیں دی جائے گی گویا  بین السطور سے یہ  بات واضح ہے کہ اب تک ان کی اجازت سے ہی یہ سب کچھ ہوتا رہا ہے۔۔ اب کے مار کے دیکھو  تو بتاتا ہوں ۔۔۔ کیا بتانا ہے  ؟  ایک اور  تھرتھراتا ہوا  خوف سے کپکپاتا ہوا بیان۔۔امریکی سوٹ  و ٹائی ، فارن اکاؤنٹ ، اور حکومتی و سیاسی گدی سلامت رہے۔۔ پاکستان کا تو پہلے ہی اللہ حافظ کا  نعرہ لگوا کر قوم کو سلایا جا چکا ہے۔  رہے نام اللہ کا ۔!

ملک میں بھوکے عوام کو بہلانے کے لیے البتہ طرح طرح کی تفریحات ایجاد ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ روٹی یا چینی نہیں ہے تو کیا ہوا ، پٹرول اور گیس مہنگا ہو گیا تو کیا ہوا  ، بجلی چند ایک گھنٹے کے لیے ہی آتی ہے  تو کیا ہوا،  روزگار میسر نہیں تو کیا ہوا  ، چوری اور ڈاکے میں اضافہ ہو رہا ہے تو کیا ہوا ؟  صحت وتعلیمی اداروں اور سہولتوں کا فقدان ہے تو کیا ہوا  ؟  عزت و عدل کے محافظ بھی لٹیروں کی صف میں شامل ہیں تو کیا ہوا۔۔ یہ سب  تو ہوتا ہی ہے  ایسا کرنے میں۔ پاکستان کے تشخص کو اب کوئی مولوی ، کوئی سیاسی لیڈر ، کوئی فوجی جنرل نہیں روتا  ،  نیرو چین کی بانسری بجا رہا ہے۔ اگر لوگوں کا پیٹ نہیں بھر رہا تو کیا ہوا بیمار روح کی غذا کا انتظام تو ہو رہا ہے ۔۔ بے ہنگم موسیقی و ناچ گانے سے ہی قوم کو بہلایا جائے۔بھارت کی بے ہودہ فلموں کی بھر مار ہے، پہلے سب اپنے اپنے گھروں میں لطف اٹھاتے تھے اب فلمی گھروں میں یہ فلمیں کھلے عام لگائی جارہی ہیں، بڑی سکرین پہ دیکھنے  کا  مزہ ہی اور ہے، کتنا عرصہ قوم کو پیاسا رکھا گیا۔ ہر عورت ہر مرد کے تصور میں کپور ، خان ، شانتی ، ایشورا رائے،  رانی ، کرینہ  وغیرہ کی اٹکھیلیاں ہیں۔ چلیے بھوکے  اور بیمار  رہ کے بھی  جینے کا  اور خوش رہ کر جینے کا ایک سہارا  تو ہے۔ثقافت ایک ہی تو ہے ، چند مذہبی جنونیوں نے نفرت پھیلا رکھی  تھی  اور اب تو ان کے داڑھی میں بھی تنکا دکھائی دینے لگا ہے۔ دو آتشہ تو یہ ہے کہ پاکستان کے ٹیلی ویژن سکرین پر بھی پاکستانی کردار ، اداکارائیں اور اداکار ہندؤں کا رول ادا کر رہے ہیں  اور ایسی کہانی گڑھی جارہی ہے جس میں ہندو  لڑکی کا مسلمان  لڑکے سے محبت و عشق دکھایا جا رہا ہے، چلیے صاحب قصہ تمام ہوا ۔ ملک  ایک طفل شیر خوار کی طرح  اب  سوسائیٹی گرل  اور  بوائز ،  اور طوائفوں اور طائفوں کے ہاتھوں  میں پلنے لگا۔ ایک نئی تہذیب جنم لے  رہی ہے۔ یا شاید وہی پرانی یادیں تازہ کی جارہی ہیں۔ اگر یہی کچھ ہونا تھا تو یہ سالہا سال کی جد وجہد ،  قربانیاں ، کھوکھلے نعرے ،  دو  قومی نظریہ ،  قلعہ اسلام ،   پاکستان کا مطلب کیا  ؟  نسل در نسل  کی شہادت  کی کیا ضرورت تھی ؟ کھانا پینا ، اوڑھنا بچھونا ، رسم و رواج ،  دین و دھرم  ، شرک و وحدت کی آمیزش تو پہلے بھی تھی اور امن و آشتی کی بانسری تو تقسیم ہندوستان کی تحریک سے قبل زیادہ بج رہی تھی۔۔ پھر  یہ ہنگامہ  اے خدا کیا تھا  ؟

ہمارے ہاتھوں میں کشکولِ گدائی صرف تن کی ہی نہیںہے بلکہ من کی دنیا بھی لُٹ رہی ہے۔ فکرِ عمیق  عنقا ہو چکی ہے۔

میں اسی لیے نہیں لکھتا  ،  دیکھا آپ نے لکھنے بیٹھا تو  دل کے پھپھولے جل اُٹھے۔۔ !!

حدیثِ بادہ  و  مینا  و  جام  آتی نہیں مجھ کو 

نہ کر خارہ شگافوں سے تقاضہ شیشہ سازی کا

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: