Hesham A Syed

January 5, 2009

Disaster Management

Filed under: Social Issues — Hesham A Syed @ 6:39 pm
Tags:

Urdu Article : Disaster Management ; Hesham Syed

ڈساسٹر مینجمنٹ  Disaster Management  ؟

ؒ

٭  لن تنالو البر حتیٰ  تنفقو مما  تحبون ۔ و ما تنفقو من شی ء فان اللہ بہ علیم۔( القران ۳  ۲۹ ۔    3/92)

نیکی ( یا اس کی قبولیت ) کو تم پہنچ ہی نہیں سکتے جب تک کہ ( اللہ کے راستے میں )  وہ نہ خرچ کرو جس چیز یا مال کو تم بہت زیادہ عزیز رکھتے ہو۔ اور جو کچھ کہ تم خرچ ( دان )کرتے ہو ( اور جس نیت سے کرتے ہو) اس کا علم  بے شک اللہ کو ہے۔

قران کی اس آیت پہ نظر گئی تو اندر سے جھنجھوڑ دیا گیا۔مما تحبون میں صرف مال و اجناس ہی نہیں ہر وہ چیز ہے جو سب سے زیادہ عزیز ہو ۔ کیا اس میں ہم خود آپ نہیں ، اپنے اندر جھانک لیں خود آپ کو آپ کا ضمیر نفسانی خواہشات کے رنگین محل کی سیر کرادے گا جس میں وہ سب کچھ نظر آنے لگے گا جس سے آپ کو محبت ہے اور جسے اپنا پسندیدہ سمجھ کر کسی اور کو دینے میں بڑا دکھ ہوتا ہے۔ چیزیں مال و متاع اللہ کو دینے سے مراد اللہ کے بندوں کو دینا ہے۔ ان کے مسائل کو حل کرنا ہے ۔ وہاں تو صرف آپ کے عمل کا ریکارڈ رکھ لیا جاتا ہے اور اس دنیا کے علاوہ دوسری دنیا میں بھی مختلف شکلوں میںبے اندازہ بدل عطا ہوتا ہے۔اللہ تو صرف نیتوں کو دیکھتا ہے ۔دل کی تڑپ کو دیکھتا ہے۔ انسان کی ایک نیکی جو خلوص کے ساتھ کی جائے اس کا اجر دینے کو بہانے تلاش کرتا ہے ۔ اسے کس چیز کی طلب ہو سکتی ہے۔ اسی کی ذات سے تو سب کچھ ہے وہی توسب کا خالق اور پالن ہار ہے۔ کوئی کام جس میں جذبہء خلو ص اور بے لوثی شامل نہ ہو اور صرف اللہ کے لیے نہ کیا جائے وہ بے برکت اور اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔

          آفات سماوی ہو یا بری و بحری ساری صورت میں اگر ایک عام رویہّ دیکھیں تو جو چیزیں گھر میں پرانی ہوگئی ہوں یا کپڑے یا بستر دل سے اتر گیا ہو وہی دان کیا جاتا ہے۔ چلیے یہ بھی غنیمت ہے اور کم سے کم اس کی بھی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے لیکن کیا ایسا کرنے سے ہم قرآن کی مندرجہ بالا شرط پہ پورے اترتے ہیں ؟

 جس معنئ پیچیدہ کی تصدیق کرے  دل  :  قیمت میں بہت بڑھ کے ہے تابندہ گہر سے

          کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے زلزلہ میں جہاں ایک طرف اپنے لوگوں کا اور دوسرے ممالک کا بھر پور تعاون نظر آرہا ہے ، وہیں بعض حضرات کے مشاہدات بھی پڑھنے کو ملے کہ پاکستانی حکومت کے بعض وزرا ٔاور کارندے کبر و بے حسی کا بھی  رویہ رکھتے ہیں ۔ شاید ہی کسی نے اپنی سہولتوں سے دستبرداری کا اعلان کیا ہو۔ آج بھی صدر ،پرائم منسٹر یا وزرا اپنی ۵۱ ملین کی مرسیڈیز پہ گھومتے نظر آتے ہیں۔یہ جہاں جاتے ہیں ان کی سیکیوریٹی کے اخراجات و مسائل ان کے ساتھ چلتے ہیں۔مصیبت زدہ افراد تو کجا عام لوگوں کے لیے بھی راستے کی رکاوٹیں ، اور اوقات کار کا زیاںدرد سری بنے ہوئے ہیں ، اس کا اثر ملک کی معاشیات و اقتصادیات پہ الگ پڑ رہا ہے ۔بے شمار مقامات ایسے ہیں جہاں ابھی تک مدد نہیں پہنچ سکی ۔ لوگ انتظار میں ہی دم توڑتے رہے اور ان کی لاشیں گلتی سڑتی رہیں لیکن ان لوگوں کو اپنی مرسڈیز گاڑیوں اور ایر کنڈیشنڈ دفتروں اور سیکورٹی گارڈ کے حلقہ میں سفر کرنے اور ابلاغ عامہ میں بیان بازی و تقریر کرنے سے فرصت نہیں۔ کچھ واقعات لوٹ مار کے بھی سامنے آئے۔ شیطان کہاں باز آتا ہے ؟ بعض علاقوں میں مدد بھی سیاسی نقطہء نظر سے کی جارہی ہے۔ مدد کو آنے والے ٹرک یا گاڑیوں کو اس علاقے کے وزیر یا سیاسی طور پہ باا ثر لوگ کلاشنکوف کے زور پہ اپنے یہاں لے جاتے ہیں اور عوام بے یارو مدد گار منہ تکتی رہ جاتی ہے۔ بچوں کی گلتی ہوئی لاشوں کو کتے گھسیٹ رہے ہیں اور مائیں چیخ رہی ہیں کہ کوئی بچائے لیکن شنوائی نہیں ہو رہی ۔ منافع خوروں کا ٹولہ بھی نمودار ہو گیا ہے۔ جن چیزوں کی زلزلہ سے متاثرین کو ضرورت ہے ان کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ اللہ رحم فرمائے ایسے حالات پہ ، پتہ نہیں اور کیا دیکھنا رہ گیا ہے۔ لعنت ہے ایسے موقع پرست مادیت پرستوں پر ۔

          اس زلزلہ کی وجوہات کی بھی ہر جگہ فلسفیانہ موشگافیاں ہو رہی ہیں۔ خود کنیڈا میں ایسے مبلغ اور مبلغہ ہیں جو یہ درس دے رہی ہیں کہ جن علاقوں میں زلزلہ آیا وہاں شرک بہت عام ہوگیا تھا۔ یہ بیان نہایت ہی غیر ذمہ دارانہ ہے ، اس موضوع پہ میرا مضمون ’’ زلزلہ اپنے اندر تو نہیں ‘‘ بھی پڑھ لیا جائے ۔ ان جیسے واعظین اور مبلغین کو سن کر آدمی یا تو اپنا سر پھوڑ لے یا ان کی خبر لے ۔ان جیسے عیش میں بسنے والے اور سخت دل لوگوں کا ایک منبرانہ تقدس جو خو مخواہ قائم ہو گیا ہے اسے تو کم سے کم ختم ہو ہی جانا چاہئے ۔ انہیں معصوم بچوں ، عورتوں اور سادہ دل مردوں کی بھی کوئی تمیز نہیں ۔ان کے دکھ درد کا بھی کوئی احساس نہیں ۔ جبکہ یہ مبلغہ صاحبہ ہوں یا مبلغ صاحب ذاتی مفاد میں جھوٹ اور غلط کام کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ اللہ ہی ستارا لعیوب ہے ۔ ایک طرف تو دین و اسلام کی باتیں کرکے خواتین و حضرات میں اپنی ساکھ بٹھائی جارہی ہے تو دوسری طرف اپنی دنیا کے لیے وہ سارے حربے جائز ہیں جن سے منع کیا گیا ہے ۔ تاہم یہ دو رخی نئی بات نہیں۔دین اب ایسے ہی لوگوں کے ہاتھوں میں آگیا ہے ۔ آج کل دین کیا ہے ایک تجارت ہے ، کیسٹ بک رہے ہیں ، کتابیں اور تفسیریں بک رہی ہیں۔ محفلیں سج رہی ہیں ، ٹی وی پہ تقاریر ہورہی ہیں ۔ ان کے چیلے اور چیلیاں اپناگروہ یا  مذہبی مافیا کی تشکیل دے رہے ہیں ۔ اور عقید ت مند وں کا ایک ہجوم ان کے اطراف اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں ۔ ا للہ اللہ خیرسلّا! صرف چہرے اور سر پہ حجاب ڈال لینا ہی دین کو مستحکم نہیں کرتا ۔عقل کے حجاب کو ابھی اٹھانے کی اجازت نہیں ۔ وہ اٹھ گیا تو ان لوگوں کی حقیقت کھل جائے گی ۔   ؎

اتنی نہ  بڑھا  پاکیء  داماں  کی حکایت   :  دامن  کو  ذرا  دیکھ  ذرا  بند  قبا  دیکھ

                    جنہیں زمین پہ ہی خود ساختہ جنت ملی ہوئی ہو تو وہ مصائب کی آگ میں جھلستے  لوگوں کا درد کیا محسوس کریں گے۔ ایسے مبلغ اور ایسی مبلغہ کا لوگوں کو بائیکاٹ کرنا چاہیے ۔جن کے دل سخت ہوں ، بے عقل ہوں ، قول و فعل میں تضاد ہو اور وہ ہر وقت عورتوں اور مرد وںکو صرف جہنم کا خوف اور جنت کی لالچ دلا کر اپنا الو سیدھا کرتے رہیں۔ پتہ نہیں ہماری قوم کب خود سوچنے پہ مجبور ہوگی اور کب تک ایسے مذہبی فنکاروں اور فنکاراؤں کا شکار رہے گی؟ سرکاری عہدہ دار ہوں یا مذہبی فنکار ہوں یا موقع پرست ساہوکار ان لوگوں سے بھی تو پوچھا جائے گا کہ تمہیں اپنا  دعوئ علم و تقدس و ا نا پرستی ،نفس پرستی ،و مادیت پرستی بہت عزیز تھی تو اسے بھی اللہ کی راہ میں قربان کر دیا ہوتا ۔ ۔۔حتیٰ تنفقون مما تحبون !وقت اور حالات تو اسی بات کے متقاضی ہیں ۔شاید کئی برسوں تک جذبۂ ایثار کی ضرورت پڑے گی۔ یہ بات میں پھر دہرا رہا ہوں کہ زندہ قومیں آگے کا اور آئندہ نسلوں کا سوچتی ہیں ۔ فوری طور پہ ایسی تنظیموں کا بننا اورمیدانِ عمل میں آنا ضروری ہے جو اس قسم کی آفات کی نشاندہی قبل از وقت کریں اور ان سے بچنے کی ترکیب نکالنے کے ساتھ ساتھ ان سے ہونے والے نقصانات میں کمی کی کوشش کریں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ  ڈساسٹر مینجمنٹ  کے ادارے کا قیام بہت ہی اہم ہے آئندہ کے لیے بھی اور موجودہ مسائل سے نپٹنے کے لیے بھی!

سنیں گے  میری  صدا  خانزاد گانِ  کبیر ؟

گلیم  پوش  ہوں میں  صاحب  کلاہ  نہیں !

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: