Hesham A Syed

January 5, 2009

Down fall of Muslim nation – An analysis

Filed under: Muslim world,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 1:31 am
Tags:

Urdu Article : Ummat Muslama ke zewaal ke asbaab – hesham syed

 حشام  احمد  سید        

   اُمتِ ّ  مسلمہ  کے  زوال  کے  اسباب  ۔۔  ایک تجزیہ

صدیوں سے امت مسلمہ جس  تنزلی  اور بیچارگی  کا شکار ہے اس  کا سبب جاننے کے لیے ہر مسلمان جو فکری صلاحیت رکھتا ہے بے چین ہے ۔ آئیے  ایک نظر  چند حالیہ  اعداد و شمار  پہ ڈالتے ہیں ، کہ شاید کوئی عقدہ حل ہو جائے۔

«  اسوقت دنیا میں مذہب و دین کے اعتبار سے سب سے بڑی آبادی تو عیسایوں کی ہے  اور  تقریباً  ۵.۱  (1.5)یعنی ڈیڑھ بلین مسلمان ہیں۔ ایک بلین تو ایشیائی مملکتوں میں ، ۰۰۴ 400 ملین افریقی مملکتوں میں  ، ۴۴ (44)  چار سو چالیس ملین یورپی مملکتوں میں  ،  اور تقریباً ۷ سات  ملین  امریکہ اور اس کے گردو نواح کی سلطنت میں۔ یعنی اس زمین کی  کل آبادی میں ہر پانچواں آدمی مسلمان کہلاتا ہے۔ ہر ہندو پہ دو مسلمان ، ہر بدھ مت کے ماننے والے پہ دو مسلمان ،  ہر یہودی پہ  ۰۰۱  (100)سو مسلمان  ہیں۔

«  اسلامی مملکتوں کے مرکزی ادارے  او  آئی  سی   OIC کے ۷۵ (7 ( ممالک  ممبران ہیں،  اور ان سب کو ملا کر کل ۰۰۵  پانچ سو یونیورسٹی  ( جامعات ) ہیں یعنی ہر  ۰۰۳  تین سو  ملین مسلمان پہ ایک جامعہ  ( یونیورسٹی ) ہے ،  جبکہ  امریکہ میں  ۸۵۷،۵ (5757)  جامعات ہیں ،  ہندوستان میں ۷۰۴،۸ (8407)جامعات ہیں ۔ سال  ۴۰۰۲  (2004)میں  شنگھائی  جیاو  تونگ یونیورسٹی   نے دنیا میں  اچھے معیار کی  ۰۰۵  (500)بہترین یونیورسٹی کی  فہرست  (لسٹ )  تیار کی تھی جس میں ایک یونیورسٹی بھی شامل نہیں تھی جو اسلامی مملکتوں میں موجود ہے۔

«  UNDP  یو این ڈی پی  کے اعداد و شمار کے مطابق  عیسائی آبادی  میں تعلیم یافتہ طبقہ  کی تعداد  تقریباً ۰۹ (90) فی صد ہے  ،  اور  ۵۱ (15) بڑی عیسائی مملکتوں میں تعلیم یافتہ طبقہ کی تعداد  ۰۰۱  (100)فی صد ہے  ،  جبکہ  اسلامی مملکتوں کی بڑی ریاستوں میں تعلیم یافتہ طبقہ کی تعداد  ۰۴  (40)فی صد ہے اور ایک بھی اسلامی ملک ایسا نہیں جہاں کہ تعلیم یافتہ طبقہ کی تعداد  ۰۰۱ (100 )سو فی صد ہو  ،  عیسائی آبادی کے تعلیم ٰافتہ طبقہ میں  ۸۹  (98)فی صد  ہیں جنہوں نے  ابتدائی سکول کی تعلیم مکمل کر لی ہے ، جبکہ مسلمانوں  کے تعلیم یافتہ طبقہ کی آبادی میں  ابتدائی سکول کی تعلیم مکمل کرنے والوں کی تعداد  ۰۵  (50)فی صد سے بھی کم کی ہے۔ عیسائی  خواندہ آبادی میں  ۰۴  (40) فی صد سے زیادہ نے یونیورسٹی تک کی تعلیم حاصل کی ہوئی ہے جبکہ  مسلمانوں کے خواندہ طبقہ میں  صرف ۲ (2)فی صد  ایسے ہیں جنہوں نے یونیورسٹی کی شکل دیکھی ہے۔

« منجملہ اسلامی مملکتوں میں  ہر ایک ملین مسلمان پہ ۰۳۲  (230)ساینسداں ہیں ، جبکہ امریکہ میں ہر  ایک ملین کی آبادی پر  ۰۰۰،۴ (4000)ساینسداں ہیں ،  اور جاپان میں  ہر ایک ملین کی آبادی پر  ۰۰۰،۵ (5000)ساینسداں ہیں۔  سارے  عربی مملکتوں کی آبادی  کو ملا کر  دیکھا جائے تو کل ۰۰۰،۵۳  (35000)ساینسداں  ہیں جو  پیشہ ورانہ طور پہ تحقیقی کاموں میں مصروف ہیں،  اور ہر ایک ملین پہ صرف ۰۵ (50)ٹیکنیشین ہیں جبکہ عیسائی مملکتوں  کی آبادی کے حساب سے  ہر ایک ملین پہ  ۰۰۰،۱  (1000)ٹیکنیشین ہیں ۔  اس کے علاوہ  اسلامی مملکتیں اپنے  GDP    جی ڈی پی کا صرف  ۲.۰  (0.2%)یعنی اعشاریہ نصف  فی صد  تحقیقی  کاموں میں خرچ کر تے ہیں جبکہ عیسائی  مملکتیں اپنی جی ڈی پی GDP  کا جو ظاہر ہے کہیں  زیادہ ہے اسکا  تقریباً ۵  (5%)فی صد خرچ کرتی ہیں۔ پاکستان میں کل بجٹ کا صرف ۲  (2%)دو فی صد تعلیم کے لیے مختص ہے۔

« مسلمانوں کے ملک میں  ہر ایک ہزار  پہ  ایک اخبار دستیاب ہے  اور ہر ایک ملین کی آبادی پہ ایک کتاب ملتی ہے  ،  پاکستان میں ۳۲   (23)ا خبار ات ہیں ہر ایک ہزار کی آبادی پہ  ،  جبکہ سنگاپور میں  ۰۶۳   (360)اخبارات  ہیں ہر ایک ہزار کی آبادی پہ ، انگلستان میں  ہر ایک ملین کی آبادی پہ  ۰۰۰۲ (2000) کتابیں  اور مصر میں  ۰۲ (20)کتابیں دستیاب ہیں۔

عشق  کی تیغ ِجگر دار  اڑا لی کس نے   ؛  علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

« پاکستان کی  اعلیٰ درجہ کی تکنیکی  مصنوعات کل بر آمدات میں  صرف  ایک فی صد1%)  ہے ،  سعودی عرب میں ۳. ۰  (3%)یعنی  اعشاریہ تین فی صد ،  جبکہ سنگاپور میں ۸۵  فی صد  ہے۔IC  ممبران  ۷۵  (57)ممالک  کی مجموعی  سالانہ  جی ڈی پی GDP  ۲  (2)دو  ٹریلین  ڈالر سے کم کی ہے ۔ جبکہ امریکہ اکیلے  کی  ۲۱  (12)ٹریلین ڈالر  ،  چین  ۸  (8)ٹریلین ڈالر  ،   جاپان  ۸.۳  (38)ٹریلین  ڈالر  ،  جرمنی  ۴.۲  (24)ٹریلین ڈالر  کی ہے۔ سعودی عرب  ، خلیجی مملکتیں  ،  متحدہ العرب  الا مارات  ،  کویت  ،  قطر  یعنی سارے عرب  مملکتوں میں  تیل اور اس کی مصنوعات کی پیداوار  ۰۰۵  (500)بلین  ڈالر کی ہے۔ جبکہ  اسپین  ( ہسپانیہ )  اکیلے میں  پیداواری  صلاحیت  ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی ہے ،   کیتھولک  پولینڈ  میں  ۹۸۴ (489)بلین ڈالر   ، بدھ مت تھائی لینڈ  میں  ۵۴۵ (545) بلین  ڈالر  کی ہے ۔  مسلمان ملکوں کی  جی ڈی پی GDP   ہر روز گرتی ہی چلی جا رہی ہے۔!

 گُریز کش مکشِ زندگی سے  ،  مَردوں کی    :   اگر شکست نہیں ہے  تو اور کیا ہے شکست  !

مندرجہ بالیٰ  اعداد و شمار کے بعد کچھ کہنے  کو رہ جاتا ہے کہ  اسباب  ِ تذلل کیا ہیں  ؟  یہ حال اس امت کا ہے جس کے لیے پہلی وحی ہی  اقرأ سے شروع ہوتی ہے اور علم کی تحصیل اور فروغ کے لیے بے شمار  اقوال و تحریک اللہ کے رسول  ؐ   سے منسوب ہیں۔ اور جب تک یہی  اُمت قول و عملِ رسول ؐ اور آیات الہی  پہ عمل پیرا رہی  افلاک زمانہ پہ روشن ستارہ بن کر چمکتی رہی اور سب کی رہنما رہی ،لیکن پھر کیا ہوا  ؟ اللہ کی ذات و  صفات میں اور  دینِ الٰہی  میں فلسفیانہ مو شگافیاں ،  علم  و حکمت ،  تدبر  و  تحقیق  ،  صنعت  و  حرفت کی  طرف سے  بے  توجہی ،  اخلاقی قدروں میں  بگاڑ  ،  انفرادی خواہشات  و  لالچ  کو  اجتماعی  مفاد  پہ  ترجیح دینا  ،  نفرتوں  اور اشتعال انگیزی کی روش اختیار کرنا  ،  معاشرے میں  عدل  و  انصاف کا فقدان  ،  بنیادی  حقائق   اور  باتوں سے  صرفِ نظر  اور  فروعی  باتوں میں  دجل  و  انفراق  ،  ہاتھ پہ ہاتھ  دھرے رہنا  ،  انتظارِ  مہدی ؑ  و  عیسیٰ  ؑ ، آسمانی معجزے  اور  افق پہ  ابابیلوں   کے غول کا   انتظار  ۔۔  انتظار  اور  صرف  انتشار  !

برہنہ  سر  ہے  تو  عزمِ  بلند  پیدا  کر 

 یہاں  فقط  سر  شاہیں  کے  واسطے ہے  کُلاہ

  (حشام احمد سید )

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: