Hesham A Syed

January 5, 2009

Earth quake within our ownself

Filed under: Global,Pakistan — Hesham A Syed @ 8:22 am
Tags:

urdu Article : Zilzila  apney andar tto naheeN ? hesham syed

حشام احمد سید

زلزلہ اپنے اندر تو نہیں ؟

سیلاب و زلزلے کی کثرت نے دنیا کا جینا حرام کر دیاہے۔پچھلے سالوں میں ان کی رفتار کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہے۔ جو لوگ زلزلے سے متاثر نہیں ہوئے ہیں ان کے پاس ان ساری آفات سماوی کے آنے کی کوئی سائنسی دلیل تو نہیں کیونکہ اس طرف نگاہ ہی نہیں جاتی ۔ ہاں فلسفیانہ موشگافیاں یا فہم ِ ناقص کا دیوان ضرور موجود ہے ۔ ہر آدمی اپنے مزاج اور اپنی عقل کے مطابق اپنے ڈرائنگ روم اور انجمن میں اس بات کو منوانے پہ تلا ہوا ہے کہ یہ سارا عذاب الہیٰ ہمارے گناہ کا نتیجہ ہے اور بد اعمالیوںکی سزا ہے ۔ سب کو توبہ کرنا چاہیے ، استغفار کرنا چاہیے۔ اللہ سے توبہ اور استغفار تو ہر دم کرتے  ہی رہنا چاہیے اس سے تو کسی کو بحث نہیں لیکن اسے یکلخت صرف گناہ کے سزاسے منسوب کر دینا کون سی عقلمندی ہے۔ نارتھ کیرولاینا امریکہ میں سیلاب آیا تو میں نے ایک مضمون ’ عذابِ الٰہی اور ہماری عقل ‘ لکھا تھا ، اسے دوبارہ دیکھ لیا جائے تو بہت سی باتیں دہرانے سے بچ جاؤں گا۔ ہر حادثے یا سانحے یا آفات ِ سماوی کو ایک طرف لوگ مسلمانوں کے گناہ کی سزا قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف اس میں مرنے والوں کو شہید بھی کہتے ہیں۔یہ ایک عجیب و غریب مسئلہ ہے اور ایک دوسرے کی ضد بھی ہے۔ جو لوگ بچ رہے ہوتے ہیں وہ یہ کہہ کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جو لوگ مر گئے یا تباہ و برباد ہوگئے صرف وہی گناہ گار تھے اور بقیہ سارے لوگ متقی و پرہیز گار و محبان الہی میں سے ہیں ؟ اس قسم کی باتیں مجلسوں میں محفلوں میں ، منبر پہ ، خطبے میں ، شعرو شاعری میں ، مضامین میں اور نہ جانے کہاں کہاں یقین کی حد تک راسخ کرائے جاتی ہیں ، حالانکہ نگاہ دوڑائیں تو صورت حال یہ ہے کہ ’برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر‘ والی کیفیت ہے۔ شہر ، گاؤں و دیہات کے سیدھے سادے لوگ ، معصوم عورتیں اور بچے ایسے حادثات سے زیادہ لقمۂ اجل بنتے ہیں۔ جو لوگ فاسق و کھلے عام گناہ کرتے پھرتے ہیں ، سودی ساہوکار ہیں ، بے ایمان سوداگران  و صنعتکار ہیں ، بددیانت سیاست دان یا فوجی حکمران یا حکومت کے کارندے یا ملازم ہیں وہ مزے سے اپنی پختہ  اور مضبوط عمارتوں میں ، ایرکنڈیشنڈ کمروں میں دادِ عیش دے رہے ہوتے ہیں اور لوگوں کو بہلا پھسلا کر یا  چالاکی و عیاری سے زیادہ سے زیادہ مال ہڑپ کرنے کی ترکیبیں بنا رہے ہوتے ہیں۔ جو لوگ اس آفتِ  ناگہانی کا شکار ہو کر بچ رہے ہوتے ہیں وہ پہلے ہی ادھ موئے ہوتے ہیں۔ اس پر سے ہمارے دانشور اور خطیب نما حضرات ابلاغ عامہ کا سہارا لے کر یا انفرادی طور پہ بجائے اس کے کہ خود خوف کھائیں انہیں اللہ کا خوف دلاتے رہتے ہیں۔ اللہ کی تصویر جویہ حضرات پیش کرتے ہیں وہ کسی طورپہ ایک عفریت سے کم نہیں استغفراللہ۔ مجھے تو ایسے لوگوں کی شقی القلبی پہ حیرت ہوتی ہے کہ بجائے وہ مصیبت زدگان سے ہمدردی کریں جی ہی جی میں  اس طرح خوش ہوتے ہیں جیسے کہ یہ جو کچھ ہوا اس کے یہ لوگ مستحق تھے عیاذاََ باللہ۔

ایسے لوگوں کے بارے میں یہ بھی نہیں کہا جا سکتا :   ؎

کہ اے موج ِحوادث ہلکے سے دو چار تھپیڑے ان کو بھی

کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں

کیونکہ غلط تصور کا بھی علاج بد دعائیںنہیں بلکہ ہمدردانہ اصلاح ہے ۔ اب ذرا کوئی بتائے کہ موجودہ دور میں جہاں ایسی ایجادات ہو چکی ہیں جو آنے والے زمینی یا آفاقی سانحے کی اطلاع وقت سے بہت پہلے فراہم کر دیتی ہیں وہ سہولیتیں پاکستان جیسے ملک میں کیوں نہیں ؟ علم و ہنر کا فقدان جہل و توہم کا فروغ ہی وہ سب سے بڑا سانحہ ہے جو ہمیں تحس نحس کر رہا ہے۔ کہنے کو لوگ یہ بھی کہیں گے کہ جن ممالک میں اس قسم کی سہولتیں ہیں کیا وہاں آفتیں نہیں آتیں ؟ آتیں ہیں ضرور آتیں ہیں لیکن بہت ساری آفتوں کے آنے سے پہلے حفاظتی اقدام بھی اٹھا لیے جاتے ہیں جن سے جانی اور مالی نقصان کم ہوتا ہے ۔ ہمارے یہاں یا ہم جیسے ملکوں کا معاملہ یہ ہے کہ اپنی ساری کوتاہیوں اور بے عملی کو بڑی آسانی سے یہ کہہ کے اللہ کے سر منڈھ دیتے ہیں کہ اللہ کی مرضی بھائی  انسان کیا کر سکتا ہے ؟

یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ملبے کو ہٹانے اور اس سے زندہ یا جانکنی میں مبتلا لوگوں کو نکالنے کا سامان بھی ہمارے پاس وافر نہیں جس کے بنا بھی بہت ساری جانیںضائع ہوئیں ۔ ہماری توجہ اپنی کوتاہیوں اور بے عقلی کی طرف نہیں جاتی ، اگر یہ جاتی ہوتی تو ہم دما دم مست قلندر کیسے کر رہے ہوتے ، پتنگیں اڑانے میں مال و وقت کا زیاں کیسے کرتے ۔ ہر حادثہ ہمیں کچھ نہ کچھ ضرور سکھاتا ہے ۔ اس سانحے کے بعد ہمیں ایسی تنظیمیں بنانی چاہیں جو آفات سماوی یا زمینی سے قبل اور بعد کے معاملات سے نپٹنے کا انتظام کیے رکھیں ۔ زندہ قومیں آگے کا سوچتی ہیں ۔ کچھ جذباتی قسم کے لوگ یہ بھی کہتے نظر آئے کہ تف ہے کہ ہم غیر مسلموں سے امداد حاصل کر رہے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب جہالت ہے جو مخصوص شدت پسند لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ کیا یہ بیمار پڑتے ہیں تو کسی غیر مسلم ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے ، غیر اقوام کی بنائی ہوئی دوا نہیں کھاتے ؟ ہاسپٹل اور شفا خانے میں جو آلات مرض کی تحقیق کے لیے یا جراحت کے لیے ہیںوہ بھی تو باہر ہی سے درآمد کئے ہوئے ہیں ۔ تو یہ اس کا فائدہ کیوں اٹھاتے ہیں؟ انہیں اپنی طرز کی اسلام پسندی یا جہل پسندی کے تحت جان دے دینی چاہیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کچھ مثبت کام نہیںکرنا صرف اور صرف فتنہ پروری کرتے رہنا ہے۔ ایسے لوگوں کا علاج یہ ہے کہ انہیں سرِعام رسوا کیا جائے تاکہ یہ لوگوں میں نفرتوں اور عداوتوں کا پرچار نہ کریں۔ جب اسلامی مملکتیں دوسرے ممالک کو امداد دے سکتیں ہیں تو وقت پڑنے پر ان سے امداد کیوں نہیں حاصل کی جا سکتیں ؟ انسانی مسائل کے حل کرنے میں قبیلہ پرستی والی جہالت کیوں عود کر آتی ہے؟

I                  یہ کون سی شیطانی مخلوق ہے جو اللہ کے دین اور مذہب کو انسانی دشمنی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں جو ہر وقت عذاب و ثواب کے چکر میں پڑے رہتے ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ زلزلہ ایسے لوگوں کے اندر ہے جو انہیں توڑتا پھوڑتا رہتا ہے ۔۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ ایسے موقعہ پر خوف خدا رکھنے والے لوگ بھی موجود ہیں جو بغیر اشتہار بازی کے بے لوث ، اپنا مال و متاع اور وقت متاثرین کی خدمت میں صرف کر رہے ہوتے ہیں ۔ جزاک اللہ خیر! اس وقت پاکستان میں اور پاکستان سے باہر مقیم پاکستانیوں میں جو اتحاد اور جذبہ خدمت دیکھنے میں آیا ہے وہ اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ ہم اب بھی ایک زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں! الحمدللہ۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہمیں دوسری اقوام سے جو وافرمدد مل رہی ہے اس کا بھی شکر گزار و ممنون ہونا چاہیے۔ جو اللہ کے بندوں کا شکر کرنا نہیں جانتے وہ اللہ کا بھی شکر نہیں کر سکتے۔اللہ کا دین تو اللہ کی ساری مخلوق سے محبت کرنا سکھاتا ہے۔ اللہ تو سماوات اورارض کا نور ہے اور اس کایہ نور علم و بصیرت و محبت و ایثار و خدمت خلق کے پردے میں انسان کے اندر جھلکتا ہے۔ آئیے اسی جذبے کے تحت ہم سب سیلاب و زلزلے سے متاثرین کی مدد کرنے کا بیڑا اٹھا لیں اور دن و رات انتھک انسانی خدمت ِ کر کے اپنے اللہ کو راضی کر لیں ۔ اس وقت یہ کام طویل قیام اور سجود سے بھی زیادہ قیمتی ہے !!  وما توفیقی الاّ باللہ !

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: