Hesham A Syed

January 5, 2009

Earth Quake !

Filed under: Pakistan — Hesham A Syed @ 6:55 pm
Tags: ,

Urdu Article : Aah Yeah Zilzilah : Hesham Syed

پاکستان میں حالیہ زلزلہ سے شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو جومتاثر نہ ہوا ہو ، خواہ وہ پاکستانی ہو یا غیر پاکستانی ، انسانی برادری تو ایک ہی ہے۔ وہ جنہیں ہم دشمنوں سے تعبیر کرتے ہیں وہ بھی ایسے وقت میں ہمارے ساتھ ہیں اور ہر طرح سے مدد کرنے پر تیار ہیں ۔میں ہمیشہ اس بات کا پرچار کرتا رہا ہوں کہ انسانی آبادی صرف دو طبقوں میں بٹی ہوئی ہے۔ایک اچھے لوگوں کا گروہ ہے اور دوسرے برے لوگوں کا ۔ یہ دونوں اقسام ہر ملک ، ہر مذہب ، ہر رنگ و نسل و قوم میں پائے جاتے ہیں ۔ آفات سماوی و زمینی و بری و بحری کے مصائب کہیں بھی ہوں ان کے نقصانات پراچھے لوگوں کے دل پوری دنیا میں یکساں دھڑکتے ہیں اور برے لوگ ہر جگہ چاہے اپنی ہی قوم کے کیوں نہ ہوں وہ انسانی مسائل سے بھی ذاتی فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔آفات سونامی کی ہو کہ کٹرینا یا پاکستان کے شمالی علاقوں اور کشمیر میں حالیہ زلزلہ کی ہو چشمِ حساس آبدیدہ ہے۔ انسانی دکھ ا ور درد کس سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن ان حالات میں بھی ایسے شیطانی سوچ والے خود پسند ، لعنتی لوگ موجود ہیں ہر لبادے میں جو لوگوں کو گمراہ بھی کر رہے ہیں اور انسان کی مجبوریوں کا فوری فائدہ بھی اٹھانے کی ترکیب کرتے رہتے ہیں۔قران میں ایسے ہی لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اللہ نے انسان کو بہترین صفات سے مزین پہ احسن التقویم بنایا لیکن وہ ابلیسی یا حیوانی جبلت کے بنا اسفل السافلین کی پستی میں جا پڑا۔

           ایک طرف تو بے شمار لوگوں اور حکومتوں کی بڑھتی ہوئی مدد اور ایثار کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اللہ کو اپنی دنیا سے ابھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ تو دوسری طرف کچھ مچھلیاں پورے تالاب کو گندہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں ۔ طرح طرح کے شبہات و وسوسے پیدا کر رہی ہیں تاکہ اس فلاحی کام میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔ نام و نمود اور سیاسی و مادی خواہشات سے لبریز لوگ حکومت و عوام میں غلط افکار کو رائج کرنے پہ تلی ہوئے ہیں ۔ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ خبروں میں جو کچھ دیکھنے اور سننے میں آرہا ہے اس سے ہی متاثر ہو کر دو  نثری نظمیںاپنے قارئین کی خدمت میں پیش کر نا چاہتا ہوں ۔یہ موجودہ حالات اور مسائل کی ترجمانی کرتی ہیں۔ اللہ ہم سب پہ ، ساری دنیا پہ رحم فرمائے ۔ آمین ۔

 

  اپنی حکمت و رحمت کا ادراک دے

اے  خدا  !  تیرے بندے جنہیں  یہ  دعویٰ ہے 

 کہ تیری عبادت میں  وہ  سر شار  ہیں

مبلغ  و  عابد  شب بیدار ہیں 

ان کے ماتھے  پہ  یو ں  تو سجے  ہیں  نشانِ سجود

مگر  یہ  نشاں سخت دلی کے ہیں کیا   ؟

ساری  آفات  کو  یہ  بتاتے ہیں  تیرا  عذاب۔۔!

اور کہتے ہیں  سب  کہ  سزا  یہ  ملی  ہے  

 جن کے  سر پر گناہوں کے  انبار  تھے

ان سب  مرد  و  زن  کو  جنہوںنے کہ کفرانِ نعمت کیا

ہاں اسی کو کہ جو  گمراہیوں میں  رہا  مبتلا

شرک کرتا رہا  !

دیکھتا ہوں مگر جب میں  ان  کی طرف 

ہے  وہاں صرف آہ  و  بکا  اور چشمِ گریاں طلب

لاکھوں معصوم  چہرے  دبے خاک میں  ہیں

کتنی نوخیز کلیاں ، کتنے خوش رنگ پھول

 سب گل صد رنگ تیرے چمن کے ہی تھے

کتنے نازک بدن ، کتنے سادہ سے لوگ

ڈھونڈ پاتا نہیں کوئی ان کے گناہ

کوئی ایسی خطا کہ وہ معتوب ہوں

ہر طرف ہی تو بکھری ہے مظلومیت !

 المدد  !  المدد  !  المدد  !

کیسے ظالم ہیں  ناصح  مبلغ  و  واعظ

جن کی بینائی بھی ایسے میں چھن گئی !

ایسے موقعہ پہ بھی ،  اپنی سفاک  باتوں سے

 ظلم کیسا ڈھاتے ہیں وہ  

جن کو خود بھی نہیں اپنی کوئی خبر !

خوف تیرا خدایا کیا ذرا بھی نہیں ہے انہیں؟

 ظالموں سے مجھے گھِن سی آنے لگی  ہے ! 

میرے مالک انہیں بھی تو عقل و خرد ہو عطا !

اپنی حکمت و رحمت کا ان کو بھی ادراک دے !

زخم کر مندمل ، ہو سکینت عطا

جو ہیں ٹوٹے ہوئے  ان کی فریاد سن

ان کو پھر سے زمینوں میں آباد کر

ان کے دل شاد کر !

اے  خدا  !  اے  خدا  !

۔۔۔۔۔———————————————————

موت کا صرافہ بازار

 

 دیکھنا چھوڑ دیں

  بولنا چھوڑ دیں

سوچنا چھوڑ دیں 

اور  قلم  توڑ دیں

دیکھ سکتے نہیں لاشیں معصوم کی 

ہاں! وہ ملبے میں  دب کر پسی  لاش کو

جن کے جسموں میں تھی زندگی کی حرارت بھری

 خواب آنکھوں میں اپنے سجائے ہوئے 

مسکراتے ہوئے ،کھلکھلاتے ہوئے

گنگناتے ہوئے !

  زندگی کے سفر میں تھے ایسے شریک

 جیسے ہم آپ ہیں !

دیکھ سکتے نہیں ان شہیدوں کو بھی

جن کی لاشیں تعفن سے یوں ہیں بھری

 کہ مدد کوئی ان تک نہیں آسکی

آج تک !

ان کی آنکھیں  ہیںاب تک کھلی کی کھلی  

جیسے ہوں منتطر

  اور تکے جارہی ہیں

 سب کی  مجبوریاں!!  

بے حسی اور ستم کا  تماشہ یہاں ۔

 ہونٹ ان کے  ابھی  تک  ہیں  ایسے  کُھلے

 جیسے  کہنے  کو  ہوں  المدد  المدد  !

ہائے  یہ  بے حرمتی !

ان شہیدوں کی بے گور و کفن لاش کو  نوچ کر 

چند آوارہ سگ

 بھوک اپنی مٹاتے ہیں  اب

اور  انساں نما بھیڑیے

 موقع پرستوں ،  سیاسی دکانوں کے تجار سب

قیمتیں اپنی اجناس کی بھی  بڑھانے لگے

 زر  اور  منافع کا سودا ہے سر پہ سوار

 سود  در  سود  کا  ان  کو  موقع  ملا 

 پھرنئے  شہر  کی   ہوگی  تعمیریاں

 اس تصور سے   اسٹاک کے  دام اوپر  اٹھے

  شکر یہ  زلزلہ  !

 سب ہیں محوِ  دعا  !

 شکر یہ  زلزلہ  کہ کمائی کا  پھر ہم  کو  موقع  ملا

شکریہ  زلزلہ  !

 شکر یہ  زلزلہ  !

دیکھنا چھوڑ دیں 

 سوچنا چھوڑ دیں

بولنا چھوڑ دیں  اور قلم  توڑ دیں  ؟

 کس طرح چھوڑ دیں  اے صنم

جب کہ  زندہ  ہیں  ہم  !

ہم  نے  اندر کے انساں کو مارا نہیں

ہم کو یہ سب ذرا بھی گوارا نہیں  !

حشام احمد سی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: