Hesham A Syed

January 5, 2009

Explosion vs Thraits ?

Filed under: Muslim world,Pakistan — Hesham A Syed @ 6:45 pm
Tags: ,

Urdu Article : Dhamakey  aur Dhamki – Hesham Syed

دھمکی اوردھماکے..آئیںبیعت کریں! 

لندن میں بھی بالآخر دھماکہ ہو ہی گیا ، کچھ کا کہنا ہے کہ یہ تو ہونا ہی تھا ۔بیان یہ جاری ہوا کہ یہ لندن کی تاریخ کا  بد ترین حادثہ ہے ۔ اس کا تجزیہ کون کرے حادثہ تو حادثہ ہی ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ ایسے واقعات سے جو معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں ان پہ اور ان کے گھر والوں کے ساتھ افسوس و ہمدردی ہونی ہی چاہیے۔ دہشت گردی چاہے عراق میں ہو کہ افغانستان میں ، نیو یارک میں ہو کہ لندن میں ، پاکستان میں ہو کہ لبنان میں یہ ایک نا قابل معافی جرم ہے اور کوئی بھی ذی شعور و باہوش آدمی اسے اچھا نہیں سمجھ سکتا ۔ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اس کا سدِباب کیسے ہو ؟ کیا یہ مکافات عمل ہے ؟ کیا یہ ردِ عمل ہے ؟ اس پہ بھی تو غور کیا جانا چاہیے !انسان کسی بھی خطہ زمین پہ کیوں نہ بسا ہوا ہو ، کسی بھی مذہب و معاشرت کا ہو اس کی جان اس کے خالق کو ایک جیسی عزیز ہے ۔ دھماکہ کروایا جائے یا کوئی سر پھرا چاقو سے ایک شخص کا قتل کرے یا بم سے چند لوگوں کو اڑا دے تو اس کی سزا اس قوم کے دوسرے معصومین کی لاکھوں جانوں کا نذرانہ نہیں اور نہ کسی ملک پہ گھس کے جابرانہ قبضہ ہے ۔نہ ان کی عورتوں کی عصمت دری ہے اور نہ بچوں کا قتل اور نہ بچنے والے کے مستقبل کو تاریک کرنے کا عمل ہے ۔ اس سے بات ختم نہیں ہوتی بلکہ انتقامی کارروائی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ عجیب صورت حال یہ ہے کہ حادثہ ہوتے ہی ثبوت اکٹھا کرنے سے پہلے ہی تان ٹوٹتی ہے اسلام اور مسلمانوں پہ۔ ہرخبرپہ شک و شبہات اتنے کہ ثبوت بھی خود بنا لیا جاتا ہے ، آج تک ۱۱ / ۹ حادثہ کی حقیقت بھی شبہات کے گڑھوں میں دفن ہے کہ آخر کون اس کے پیچھے تھا ؟ کیا القاعدہ تھی ، کہ موسادجیسی شر پسند یہودی جماعت تھی یا یہ خود امریکی حکومت ہی کی چال ہے یا سی آئی اے اس کے پیچھے ہے کہ اس کے بہانے دوسرے ممالک پہ جا کے قبضہ کیا جا سکے ۔

          ابلاغ عامہ میں اس حادثہ کی بے شمار تفصیلیں ، تصویریں اور تفسیریں سامنے آئی ہیں جس سے الجھن میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔ یہی کچھ صورت حال ۷/۷ کی بھی لگتی ہے ۔لندن میں اس حادثے کے بعد بھی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان سب نے نئے سوالات اور شکوک و شبہات کو یقینی سا بنا دیا ہے ۔

(۱ )  CCTV کے کیمرے اس علاقے میں ہمہ وقت کام کرتے رہتے ہیں اور دن میں ۰۰۳ سے زیادہ تصویریں وہ عام لوگوں کی کھینچتے رہتے ہیں پھر جولائی ۷ کو ان کیمروں کا کام کرنا کیسے اور کیوں بند ہو گیا ۔اس کے ذمہ دار کون ہیں ؟

( ۲ )  دھماکے میں استعمال کئے جانے والا مواد وہ ہے جو فوجی استعمال کرتے ہیں اور اس مواد کی فوجیوں یا حکومتی اداروں کے علاوہ درون برطانیہ عام دستیابی ناممکن ہے ۔ اگر یہ باہر سے لایا گیا تو برطانوی کسٹم اور سیکوریٹی کے ادارے کیا کر رہے تھے؟کیا یہ بھی اس کام میں ملوث تھے ؟

( ۳ )  قرآنی حوالہ جات پر مبنی تحریر جو اس حادثے کی ذمہ داری قبول کرنے والی انٹرنیٹ پہ موصول ہوئی وہ غلط ہے ۔ کوئی مسلمان جو قرآن جانتا ہے وہ آیات کو غلط نہیں لکھے گا تو پھر یہ خط کس نے لکھا اور یہ انٹرنیٹ یا ویب سائٹس کس نے بنائی ؟

نقلی اسلامی ویب سائیٹfake Islamic website” DNSواشنگٹن ڈی سی میری لینڈ سے  hostہوئی وہ کس ادارے سے رجسٹرڈ کی گئی۔اسکی تفصیل سامنے کیوں نہیںلائی گئی؟

(۴ ) ایک کنسلٹنسی (consultancy) کے تحت لندن پولیس کی مشقیں ان مقامات سے متعلق جاری تھیں جہاں کہ بم کا دھماکہ ہوا با لکل ایسے ہی جیسے کہ امریکہ میں ۱۱ ستمبر سے قبل ہوائی جہاز کے ہائی جیک کرنے کی مشق ممکنہ حادثے سے متعلق جاری تھی ۔کیا یہ دونوں واقعات اتفاقاً ایسی مماثلت رکھتے ہیں یا یہ کسی اور طرف اشارہ کرتے ہیں ؟

( ۵ ) بنجامین نٹان یا ہو جس نے اس ٹیوب سٹیشن کے قریب تقریر کرنی تھی اسے حادثے سے پانچ منٹ پہلے ہوٹل میں ہی رہنے کو کہا گیا بالکل ایسے ہی جیسے ۱۱ / ۹ کے حادثے سے قبل اسرائیلی کمپنی آن ڈیگو نے  ۰۰۰۴ یہودیوں کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں آنے سے منع کر دیا ۔ یہ وارننگ اسرائیل نے صرف یہودیوں کوکیوں دی ؟دوسری قوموں کو اس کی خبر کیوں نہیں ہوئی ؟

( ۶ )  برطانیہ دوسرے یورپی مملکتوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو زیادہ قبول و برداشت کرتا رہا ہے تو اس دھماکے سے وہاں کے رہنے والے مسلمانوں کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے سوائے نقصان کے کہ وہ اس قسم کی کارروائی کریں ۔

( ۷ )  موبائل فون کے نظام کو فوری بند کیوں نہیں کیا گیا جو کسی بم کے دھماکے میں معاون ہو سکتا ہے

 (۸)  ایک خفیہ یہودی تحریک فری میسن کی فکر یا Moto Ordo Ab Chao  کی حرف بحرف ترجمانی سر آین بلیر کے بیان سے ہوتی ہے جو حادثے کے بعد جاری ہوا۔کیا یہ بھی اتفاق ہے ؟

( ۹ )  حادثے سے چوبیس گھنٹے پہلے ایک سینئر پولیس آفیسر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ لوگ ایک بڑے ٹیرارسٹ حملے کی زد میں ہیں ۔

( ۰۱ )  اس دھماکے سے قبل ٹیرارسٹ وارننگ الرٹ کا معیار کیوں گھٹا دیا گیا تھا کہ ان کو ایسا کرنے والوں کو موقع مل گیا ۔

 ( ۱۱ ) عراق و افغانستان میں معصوم بچوں کو بہیمانہ طور پہ قتل کیا جارہا ہے تا کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں خصوصاً یورپی ، امریکی اور عیسائی لوگوں کے درمیان نفرت روز بروز بڑھتی رہے اور لوگ دو طرفہ انتقامی جذبے کا شکار رہیں ۔ ایسا کیوںہے؟

          بحیثیت مسلمان کے کوئی کسی قسم کا ظلم کسی پر کرے یہ تو ممکن ہی نہیں ۔ حضور ؐ  کی تعلیمات تو یہی ہیں کہ زندگی اللہ کی امانت ہے اور اسے پوری دیانت کے ساتھ گزارنی چاہیے۔ دوسروں کی بھلائی کے بارے میں بھی ویسا ہی سوچو جیسا اپنے بارے میں سوچتے ہو۔سیرت رسول ؐ  کے بے شمار واقعات اور پیرائے ہیں جن میں حضور ؐ نے  جانی دشمنوں کے ساتھ بھی اور غیر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ بھی ہمدردانہ رویہ اختیار کیا بلکہ احسان مندی اور حسن سلوک برتا ، انہیں معاف کردیا اور کبھی بھی اپنی ذات کے لیے کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا۔ یہ بھی کہا کہ آدمی جب کوئی گناہ یا ظلم کرتا ہے تو وہ ایمان کی حالت میں نہیں ہوتا اور اسلام سے نکل جاتا ہے۔ اہل کتاب سے روابط تا دم حیات قائم رکھے سوائے ان کے جنہوں نے سازش کی اور امت مسلمہ کو دشمنوں کے ساتھ مل کر نیست و نابود کرنے کا عمل کیا یا تحریک پیدا کی۔ اتباعِ رسول ؐ ہی میں مسلمانوں کو بھی غیر مسلموں سے بھی انسانی اور اخلاقی روابط کی ضرورت ہے تاکہ عالم انسانیت مل جل کر ایک اچھی دنیا کے قیام میں کوشاں ہوں۔ حضرت محمدؐ  اللہ کے آخری نبی رسول و پیغمبر ہیںاور وہ کسی مخصوص جماعت کے رسول و نبی نہیں بلکہ عالم انسانیت کے رسول ہیں اور عالمین کے لئے رحمت ہیں، اسی عالمین کے جس کے اللہ سبحانہ و تعالیٰ رب ہیں۔ اس لئے ہر شخص ان کی امت میں داخل ہے ۔ اس کاملک ، خاندان او رنام چاہے کچھ بھی ہو ۔ حق کا راستہ ایک ہی ہے۔ اللہ کو وہی قبول ہے جو حضور ؐ کے توسط سے ہم تک پہنچا ہے۔دنیا میں در اصل صرف دو قومیں بستی ہیں ۔ ایک وہ جو طاعتِ الہٰی و رسول میں سرگرمِ عمل ہے اور دوسری وہ جو گم راہ ہے تیسری کوئی اور قوم نظریاتِ الٰہیہ کے طور پہ موجود نہیں۔ مسلمان کا کام تو رہنمائی کا ہے حضوراکرمؐ  کے اخلاقی تصویر کی عکاسی کا ہے تاکہ تکمیل انسانیت و اخلاقیات کے بعد اس کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔بے راہ رو سے بھی ہمدردانہ رویہ اور ان کی اصلاح ، ان کی روحانی اور اخلاقی تربیت کی فکر کی جانی چاہیے۔ یہ بات مشاہدے اور تجربے کی ہے کہ نرم روی اور ہمدردی کے اثرات  غلبۂ انتقام اور اشتعال سے زیادہ زود اثر اور دیرپا ہوتے ہیں ۔ ہمیں ساری اقوام عالم کو اس بات کا احساس اور یقین دلانا چاہیے کہ ہم ان کے خیر خواہ ہیں اور ہر فرد کی عزت ومال و متاع ہمارے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ہم ایک فکری اور نظریاتی قوم و امت ہیں اور ہمارا مقصد و نصب العین واضح ہے۔ ہماری حیثیت ایک معالج کی ہے جو علاج کرتے وقت کسی مریض کے نام و نسل کو نہیں دیکھتا اور تمام تعصبات سے بلند ہو کر بیماری کا علاج کرتا ہے۔ ہمیں لوگوں کے دلوں کو فتح کر کے عالم گیر بننے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ جغرافیایء حدود میں الجھ کر عصبیت کے شرارے سے خود کو اور ساری دنیا کو جلا ڈالنے کا راستہ اختیار کریں ۔ کائنات یا یہ زمین صرف اللہ کی ہے۔ہماری حیثیت فقط ایک امین کی ہے ۔ ہمیں اختیارِتصرف صرف اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت و دولت کی جائز تقسیم کا ہے ۔ معاشی اور معاشرتی عدل و انصاف کا قیام ہی ہمارا فریضٔہ اولین ہے۔اﷲ کے دین یا اسلام کا پیغام پڑوسیوں سے محبت کرنا تو ہے ہی لیکن اس کے علاوہ کائنات کی تسخیر اور اس کا مفید استعمال بھی ہمارے فریضے میں شامل ہے۔ اگر ہمیں مٹانا ہی ہے تو نفرتوں اور عصبیتوں کو مٹانا ہے ۔ اگر ہمیں لٹانا ہے تو محبتوں کو لٹانا ہے۔ ہمیں اپنی قوتوںاور صلاحیتوں کو دوبارہ یکجا کرنا ہے اور سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ سارا عالم ہمیں محا  فظِ علم و اخلاق ، عزت و وقار ، مال و متاع اور سرمائہ فکر و ہنر سمجھے۔

           واقعات کسی بھی فسادی یا شر انگیز جماعت کی طرف سے کہیں بھی ہوں مسلمانوں کو معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ۔ اس لیے کہ اسلام اور انسانیت ہم آہنگ ہیں ۔جو اس ساز کو سمجھ نہیں پاتے ہم انہیں مسلمان ہی کیا انسان بھی تسلیم نہیں کرتے ۔ بے شمار واقعات ایسے بھی ہوئے ہیں کہ اسلام دشمن عناصر نے نام کے مسلمانوں کو اپنی تخریب کاری کے لیے لالچ دے کر یا انہیں گمراہ کر کے یا انہیں ذہنی طور پہ مفلوج کر کے استعمال کیا ہے ۔ جن کے دلوں میں یقین کا چراغ جل رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ سے محبت کا دریا موجزن ہے اس سے تخریب کاری کا کوئی ایسا کام سرزد ہو ہی نہیں سکتا جس سے امت مسلمہ عتاب میں آجائے۔ آج کے دور میں یہ ایک عجیب شر انگیزی ہے کہ فتنہ اور فساد پیدا کرنے کے لیے گروہ یا قبیلے یا قومیں اپنے ہی لوگوں کو قتل کرواتی ہیں اور اس قوم کے افراد سے کرواتی ہیں جس قوم پہ تباہی لانی مقصود ہو تا کہ ان کے خلاف نفرت پھیلے اور دوسرے انتقامی جزبے کے تحت ان لوگوں کا جینا دوبھر کردیں ۔ایسی در پردہ چالوں نے اور اپنے ہی درمیان کی کالی بھیڑوں یا ضمیر فروشوں نے امت مسلمہ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ یہ دور بڑی آزمائش کا دور ہے۔ ایک تو کھلا دشمن ہے لیکن اس سے زیادہ خطرناک منافقوں کی وہ کھیپ ہے جو کبھی دوست اور خیر خواہ بن کر پیٹھ پہ وار کرتا ہے اور کبھی اسلام کے نام پر غیر اسلامی تصور اور طرز حیات کا پرچار کرتا ہے۔ ہمیں بہت سوجھ بوجھ سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ورنہ صورت حال تو یہی ہے کہ :   ؎

کوئی  بھی  حادثہ  برپا کہیں بھی  ہو جائے   :   ہمیشہ  شبہ  کی زد  پہ  خبر  میں  رہتے ہیں

کوئی  تو  اور  ہو  تیر  ِ ستم  کو   سہنے  کو   :   نجانے کیوں ہمی سب کی  نظر میں رہتے ہیں ؟

          اس وقت دنیا میں بساط صرف دھمکی اور دھماکے کی بچھی ہوئی ہے ۔ قومیں اپنی نفسیاتی اور اقتصادی مشکلوں کا حل جنگ و جدل ، قتل و غارت میں ڈھونڈ رہی ہیں ۔ یہ دور دور جہل میں پلٹ چکا ہے اور ان مسائل کا حل صرف اور صرف اس پیغام میں ہے اور اس ذات کی اتباع میں پوشیدہ ہے جسے ہم اللہ کا آخری نبی اور رسول کہتے ہیں ! آئیں ایک  بار پھر ہم سب مل کر حضور  ؐ کے ہاتھ پہ بیعت کریں !

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: