Hesham A Syed

January 5, 2009

From a Trance to Self realization

Filed under: Social Issues,Spiritual,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 12:16 pm
Tags: , ,

Urdu Article : Bey Khudi sey Khudi tak – hesham syed

حشام احمد سید

  بے خودی سے خودی تک

 صدارتی خطاب :  از سید حشام احمد :  بتقریب نثری ادب :  ریاض  سعودی عربیہ ۲۹۹۱ ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  ۔ نحمدہُ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم  : السلام علیکم  سامعین کرام ، خواتین و حضرات  !

آج جبکہ ہم اس ادبی و نثری نشست کے سال پورے ہونے پر گرہ لگا رہے ہیں گویا سالگرہ منا رہے ہیں ۔میں آپ سب کی جانب سے بھائی ابو ظفر صاحب اور ان کے فعال ساتھی بشیر احمد صاحب اور میر احمد علی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔اپنی اور میزبان محفل کی طرف سے آپ سب کا بھی شکریہ کہ آپ  ہی کے ذوق و شوق نے ایسی تقریبات کو جاری رکھا ہے اور رونق بخشی ہے۔ ہر ماہ ایک بار ہمیں یہ موقع ملتا رہتا ہے کہ ہم اپنی روز مرہ کی مصروفیات سے ہٹ کر اپنے وجود کی مخفی صلاحیتوں کو آشکار کریں اور ایسی محفلیں سجا کر اس کا شعوری اظہار بھی کرتے رہیں۔ہمارے منتظمین کی کوشش رنگ لا رہی ہیں اور اس دشت میں بھی بہار نو کا سماں ہو چلا ہے۔ہم سب ان حضرات  کے لیے احساسِ تشکر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

          سخن شناسی یا کمال ِفن کی پذیرائی کے لیے بھی فکر و نظر کی گہرائی چاہیے۔ اصحابِ تخیل کی سند تو سامعین یا قارئین ہوتے ہیں۔ ان دونوں کے ہی تعلق سے فکری تخلیق کی تحریک پیدا ہوتی اور پروان چڑھتی ہے۔ ہم جس ماحول میں جی رہے ہیں اس کا حال یہ ہے کہ مردم شماری کی جائے تو اژدہام کثیر لیکن گنتی کی جائے تو دور تک کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ یہ دور ویسے بھی قحط الرجال کا ہے ۔ بقول جناب مختار مسعود کے ’’قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی۔ مرگ ِانبوہ کا جشن ہو تو قحط۔ حیاتِ بے مصرف کا ماتم ہو تو قحط الرجال۔ ایک عالم موت کی ناحق زحمت کا دوسرا زندگی کی ناحق تہمت کا۔ایک سماں حشر کا دوسرا حشرات الارض کا۔ زندگی کے تعاقب میں رہنے والے قحط سے زیادہ قحط الرجال کا غم کھاتے ہیں ‘‘۔

          دوستو ! سچ تو یہ ہے کہ اب بڑے آدمی زندگی میں کم کتابوں میں زیادہ ملتے ہیں۔بہرحال آج کی تقریب کے حوالے سے چند ایک گزارشات آپ کے غور و فکر کے لئے نذرہیں : اس نثری تقریب میں  ہمارے دوست اپنے مقالات ، افسانے ،خاکے، انشائیے پڑھتے رہے اور میں سنتا رہا لیکن ساتھ ہی میرا ذہن اردو کے نثری ادب کے راستوں اور منزلوں میں الجھا رہا۔ اس سفر کی گردِ مسافرت سے ایک مبہم سا خاکہ یوں بنتا ہے کہ :

۔خواجہ بندہ گیسو نواز سے دکن اور گجرات کے آخری نثر نگاروں کا ادب

۔مصر و یونان کے قصہ گویوں سے لے کر گولکنڈہ و بیجا پور کے داستاں گویوں کا ادب

۔ہندوستان میں ڈیڑھ ہزار سال پرانی داستانوں سے فورٹ ولیم کالج کے قصوں کا ادب

۔مظہر علی خان کی بیتال پچیسی اور مرامن کی باغ و بہار سے حیدر بخش حیدری کی آرائشِ محفل اور طوطا کہانی

۔میر شیر علی افسوس ، مولوی عنایت اللہ شیدا اور خلیل علی خان آتش کے دور کی داستان

۔  غدر ۷۵۸۱ ء سے پہلے اور بعد کے حالات اور اس کے اردو نثر پہ اثرات

۔  اردو کا پہلا سٹیج ڈرامہ ’’سونانا‘‘سے لے کر آغا حشر کے نمائندہ ڈرامہ رستم و سہراب

۔  میر بہادر علی حسین کے عہد سے لے کر اخلاق مہندی کے انتخاب کی داستان

۔  دبستان لکھنٔو کی ثقافت اور اودھ میں علم و ادب کی ابتدا  اور عروج

۔  مرزا غالب کے خطوط اور اس عہد کی داستان

۔  سرسید احمد خان علی گڑھ مسلم کالج کی روداد اور نشاۃ ثانیہ کے جدوجہد کے اثرات

۔  نواب وقار الملک ، مولانا محمد حسین آزاد ، ڈپٹی نذیر احمد اور ان کے دور کا ادب

۔  خواجہ حالی کے حیات سعدی ، حیات جاوید ، اور یادگار غالب کے مضامین

۔  مولانا شرر ، مولانا ہادی رسوا ، مرزا فرحت اللہ بیگ ، آل احمد سرور ، رام بابو سکینہ ، نیاز فتحپوری ، فراق گورکھپوری ، وغیرہ

          حاضرین ! اس باضابطہ یا بے ربط خاکے میں ظاہر ہے کہ بہت سارے اکابر فن ، مصنفین کے نام نہیں آئے۔ لیکن میں نے چندادوار کی بات کی ہے ۔اس نشست میں پورے خاکے کا احاطہ کرنا آسان نہیں جبک۔ رات بھی کافی بیت چکی ہے اورمیرا ارادہ ماحول کو مزید بوجھل کرنے کا نہیںہے۔افسانے کے حوالے سے پریم چند ، عصمت چغتائی ، منٹو میں حقیقت نگاری زیادہ تھی اور خیالی خاکے کم تھے۔ افسانے میں تجسس کا پایا جانا کامیابی کی ضمانت ہے۔ اختتامیہ ایسا ہو کہ قاری اپنے ذوق اور اپنی فکر کے مطابق نتیجہ اخذ کرے اور اپنے آپ کو افسانے کے ماحول میں رچا بسا دیکھے۔ ماضی اور حال کے افسانہ نگاروں کی بھی فہرست بڑی طویل ہے۔ مجھے وقت کی کمی اور آپ کے تکان کا شدت سے احساس ہے ۔ میں اشاروں کناریوں میں بات کہتا ہوا آگے بڑھتا رہونگا اور مجھے امید ہے کہ آپ میں سے ہر شخص اپنے ذوق کے مطابق میری بات اور اس کے زاویے کو سمجھتا رہیگا۔

          ہمارے آج کے شرکا نے جو مضامین اور مقالات و افسانے پڑھے اس سے آپ کی طرح میں بھی کم لطف اندوز ہوا ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ ظاہر ہے یہ سب کام صاحبِ علم و فن کا ہے اور میں تو سامعین میں ہوں۔ سننے میں جو مزہ ہے وہ کہنے میں کہاں   ؎

یہ عقل جو مہ و پرویں کا کھیلتی ہے شکار    :   شریکِ شورش پنہاں نہیں تو کچھ بھی نہیں

          وقت کی تنگی آڑے رہی ہے آج فرداً فرداً ہر کسی کی تخلیق پہ رائے کا اظہار تو ممکن نہیں ۔ ویسے بھی کوئی بات کہی جائے توپکڑ ہوتی ہے۔ صاحبِ قیل و قال کے لیے دیکھیے کتنی قباحتیں ہیں ۔ الفاظ کا چناؤ ، انداز تکلم ،  خیالات کی اٹکھیلیاں ، واقعات کی کڑی ، احساس کی نکہت ، جذبات کا رقص اور سامعین کا صبر و تحمل۔ پھر یہ کہ کیا بات کہی جارہی ہے اور کون کہہ رہا ہے۔۔ گویا کردار کا محاسبہ ، قول و عمل کا پیمانہ اور اس پر حرف آخر کہ شریعت کا لحاظ ، قرآن کی تعزیر کہ  : ’’اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ بات جو کرتے نہیں۔بڑی بیزاری ہے اللہ کے یہاں اس بات میں جو کہتے ہو اور کرتے نہیں ‘‘ ۔(القرآن :  ۱۶  ۲ و ۳ )

 اور اپنی کیفیت یہ ہے کہ   ؎

جب سے بچھڑے وہ مسکرائے نہ ہم      سب  نے  چھیڑا  تو  لب  ہلا  بیٹھے 

کبھی طبیعت بدلتی بھی ہے کہ   ؎

کہیں سرمایہ محفل تھی میری گرم گفتاری    کہیں پریشان کر گئی  میر ی کم  آمیزی

لیکن کیا کیجیے افتاد ِ زمانہ کو کہ ہم میں اکثر یہ کہتے ہوئے پائے گئے    ؎

مروت  جھوٹ  بلواتی  ہے  اکثر      وگرنہ  دوست  ہم  جھوٹے  نہیں  ہیں

          مجھے آج اگر کچھ کہنا ہے تو ان سارے صاحبِ علم و فن و قلم سے کہنا ہے جنہیں اللہ نے سوچنے کی صلاحیت و توفیق بخشی ہے۔

          عزیزانِ گرامی ! آپ اپنی صلاحیتوں کو ایک ایسے مقصد کے لیے وقف کر دیں جو کہ عصرحاضر کی ضرورت ہے اور وہ ہے ’’ اپنے آپ کو فکری غلامی سے آزاد کرانا +عقل ہے بے ربطئ افکار سے مشرق میں غلام‘‘ اور علامہ اقبالؒ نے اس مسئلہ کوبھی خوب سمجھا تھا۔ کہ’ دنیا میں فقط مردانِ حرُ کی آنکھ ہے بینا‘۔ یا یہ کہ    ؎

ممکن  نہیں  محکوم ہو آزاد کا  ہم د وش     وہ  بندۂ  ا فلاک  ہے  یہ  خواجہ  افلاک

موجودہ دور میں ہماری تنزلی اور پستی کا سبب ہماری خود فراموشی ہے    ؎

 اغیار  کے  افکار  و تخیل  کی  گدائی   : کیا تجھ  کو نہیں  اپنی خودی  تک بھی  رسائی

ہماری محکومی اور بیچارگی کا علاج کیا ہے ؟

بے  محنت  ِ پیہم  کوئی  جوہر  نہیں  کھلتا   :  روشن  شرر تیشہ  سے  ہے  خانہ ٔ   فرہاد

          میرے قلم کار بھائیواور بہنو! کوشش کیجیے کہ اپنی تحریر میں تقریر میں ، مے یقین کی آتش ناکی ہو ، ضمیرِ حیات کی پر سوزی ہو ، روشن دماغی ہو ،تیرہ دلی ہو ، سرمایۂ غم فردا ہو ، نگاہ و فکر کی پاکی ہو ، جدت طرازی ہو ، کائنات مستور کی عریانی ہو ، شبستانِ رسولؐ  کی نگہبانی ہو۔

          آپ کچھ بھی کہیں یا لکھیں شعر ہو کہ نثر یا فنونِ لطیفہ کی کوئی بھی صنف ہو اس کا مرکزی خیال یا مطمع نظر سوئے  ہوئے اذہان کو جگانا ہو ، مردہ قلوب کو نئی زندگی بخشنا ہو وگرنہ آپ کی تحریر بھی خشت میری تقریر بھی خشت۔ صورت حال یہ نہ ہو کہ ہم نفسِ لوامہ کے حصار سے ہی نہ نکل پائیں بلکہ کسوٹی یہ ہو کہ ہمارے دلوں کے دریا ہمیشہ متلاطم رہیں ۔

          حاضرینِ محفل ! ہم سبھوں کو صدیوں کے جمود سے نکلنا ہے ۔ مغرب کے تاجرانہ ذہن اور مشرق کے راہبانہ انداز دونوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے ہمیں کمال و صدق و وفا و مروت کی زندگی اپنانی ہے۔ اپنے آپ کو قلندرانہ ادائیں اور سکندرانہ جلال سے مزین کرنا ہے    ؎

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ  قوموں کا  :  کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں

ترا  تن  روح سے  نا آشنا ہے   :  عجب کیا  آہ  تیری  نا رسا  ہے

تن ِ بے  روح سے بیزار ہے حق   :  خدائے  زندہ ، زندوں کا خدا ہے

          انسان مرکب ہے روح و بدن کا ۔ ایک جسم لطیف ہے تو دوسرا جسم کثیف ۔ اس مسٔلہ پہ پانچ طبقۂ خیال ہیں :

۱)  حکمائے متقدمین کا : کہ روح  جوہر مجرد قدیم ہے ،  ۲)  حکمائے متاخرین کا: کہ روح جوہر مجرد حادث بعد البدن ہے  ۳)  صوفیائے مکاشفین کا : کہ روح جوہر مجرد حادث قبل البدن ہے   ۴)  علمائے متکلمین کا :کہ روح جسم غیر عنصری ہے.  ۵)  اطباکا :  کہ روح جسم عنصری ہے.

          یہ موقع اور محل ظاہر ہے اس بحث کا نہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط ۔ اس ساری بحث پہ البتہ نکتہ لولاک حجت ہے۔ روح کا علم اللہ نے انسان کو بس اتنا دیا ہے کہ یہ  من امرِ ربی  ہے۔

          بہر حال بات صرف یہ کہنی ہے کہ آپ کی اصل روح ہے اور اس کی نورانیت ہے ۔ جسکو اپنے اوپر طاری کیجیے   ؎

عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے  :  قبض کی روح تری دے کے تجھے فکرِ معاش

          اور اب آخر میں اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کو ایک گر کی بات نہ بتاوں ؟ فکر و نظر کا مرکز حضور  ؐ کی ذاتِ اقدس کو بنا لیں۔سارے مقامات طے ہو جائیں گے ۔ پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ لطفِ دعائے نیم شبی کیا ہے اور آہِ سحر گاہی کا درد زندگی کو کیا معنی پہناتا ہے ۔

          محبت رسولؐ اوصحبت رسولؐ میں ہی زندگی کا راز پنہاں ہے۔ یہ صحبت آج بھی آپ کو میسر آسکتی ہے اگر جوہر قابل ہوں۔ اور یہ فکر کی درستی سے پیدا ہوتی ہے۔

نگاہ ِعشق و مستی میں وہی اول وہی آخر     وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی یٰسین ، وہی  طٰہٰ

          ہم ملکِ عرب میں یہاں کے اقتصادی خول کو اوڑھے بیٹھے ہیں۔ یہاں کا بلبلہ بھی پانی کا ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ :

نہیں  وجود  حدود  و  ثغور  سے  اس کا    :  محمدؐ   عربی  سے   ہے    عا لمِ   عربی ۔۔

          بس دل و نگاہ کو مسلمان کرنے کی ضرورت ہے۔

          میں ایک بار پھر آپ سب کے صبر و تحمل کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آخری بات آج کی شب یہ ہے کہ ایک قرآنی آیت پیش کرتا ہوں جس پہ غور فرمائیں۔ اس پہ غور کرنے سے بہت سے لوگوں کی زندگی میں انقلاب برپا ہوا ہے۔

 ٭ الم یانِ للذین آمنو ان تخشع قلوبھم لذکراللہ و ما نزل من الحق ۔

کیا ایمان والوں پہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل لرز جائیں اللہ کی یاد سے اور جو ان پہ اترا ہے حق (سچا دین )

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: