Hesham A Syed

January 5, 2009

Gladiator – Dont say any thing

Filed under: Muslim world,Pakistan — Hesham A Syed @ 7:05 pm
Tags:

Urdu Article : Gladiator – Aap inheiN kuch na kaheiN : hesham syed

گلاڈئیٹر ۔ آپ کچھ نہ کہیں !

کبھی یوںبھی ہوتا ہے کہ صبح ہی صبح کسی شعر کا کوئی ایک مصرعہ یا کوئی ایک لفظ یا کوئی جملہ ذہن سے چپک کے رہ جاتا ہے ، اور اس کے حوالے سے نہ جانے کتنے ہی خیالات ا مڈے چلے آتے ہیں۔ کیاخیالات یا احساسات پہ کوئی پابندی آج تک لگا سکا ؟ جو کچھ کہ دائرہ یا احاطۂ نگاہ میں ہے اسے دیکھ دیکھ کر ، پڑھ پڑھ کر یا سوچ سوچ کر ایک حساس دل سوائے دُکھی ہونے کے کچھ نہیں ہوتا۔

٭        کنیڈا میں بھی ادب و صحافت کے کئی رنگ دیکھنے میں آئے ہیں اور اسے کئی نام دئے جا چکے ہیں ، کوئی اسے پاکستانی صحافت کا چربہ کہتا ہے۔ کوئی اسے نارتھ امریکی غلاظت کا چھینٹا کہتا ہے ۔ کوئی اسے ذاتی عداوت کا پلیٹ فارم کہتا ہے۔ کوئی اسے لادینت و ذلالت کا نمونہ کہتا ہے۔ کوئی اسے اندھی ثقافت کا ٹھمکا کہتا ہے ۔ کوئی اسے مذہبی و گروہی منافقت کا بھنگڑا کہتا ہے۔کوئی اسے ابلیسیت کا مرقع کہتا ہے ۔ الغرض ہر قاری و صحافی و شاعر و ادیب اپنے اپنے رنگ میں اپنے اندر کے فاسد مادے کی الٹی کرتا رہتا ہے۔ یہاں ہر شخص اپنی آستین میں خنجر لئے پھرتا ہے۔کوئی ذرا سا بھی چوکا اور وہ خنجر سینے سے آرپار ہوگیا۔ لیکن انہیں آپ کچھ نہ کہیں !

٭        یہی نہیں کہ یہاں زیادہ تر مدیر ِاخبار کا اپنا ایجنڈا ہے اور وہ ایجنڈا زیادہ تر کمرشل بنیادوں پہ ہی مستحکم ہے۔کالم نگاروں کی ایک طویل فہرست ہے جو لکھنے اور چھپنے کے لیے بے قرار بیٹھے ہیں۔ لکھنے والے بغیر سوچے سمجھے لکھ رہے ہیں ۔ تصویریں چھپ رہی ہیں اور وہ چھپ رہے ہیں۔ ایسے میں اخبار کے مالکان اور مدیروں کو بغیر پیسہ خرچ کئے ہوئے کالم نگار میسر آرہے ہیں اور ان کی چاندی ہورہی ہے۔جو جگہ علاقائی کالم نگار سے پُر نہیں ہوپاتی اس کی کمی بیشتر ویب سائیٹ اور دوسرے اخبار و جرائد کے ٹکڑے پورے کر دیتے ہیں۔ بہت سارے کالم نگار و مصنفین و شاعر کو تو پتہ ہی نہیں چل پاتا کہ ان کی تحریریں کہاں کہاں چھپ رہی ہیں۔ نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھا آئے ، جو جتنی سطحی باتیں سطحی انداز میں لکھ رہا ہے یا کہہ رہا ہے وہ اتنا ہی مقبول عام ہے ۔۔ لیکن انہیں آپ کچھ نہ کہیں !

٭        ہمارے پاس موضوعات لے دے کے کیا رہ گئے ہیں ۔مشرف دشمنی ، فوجی جنرلوں کی دشمنی ، سیاسی افراد سے دشمنی خصوصاً نواز شریف خاندان اور بھٹو خاندان سے ۔ قدیر خان سے ہمدردی ۔جدید اسلام اور روشن خیال افراد کی حمایت یا عداوت۔ اسلام پسند عناصر، مولوی ، علامہ وغیرہ کی  دشمنی ۔ امریکہ اور سارے غیر مسلمین سے دشمنی یا دوستی ۔ستارہ شناسوں اور روحانی مجاوروں کا پرچار یا دشمنی ۔ مذہب کے متنازعہ مسائل ۔فلموں کی عریانیت اور سنسی خیز اسکینڈلز ۔ پتنگ بازی ، میلا ٹھیلا، عرس و میلاد و مشاعرہ وغیرہ ۔ اگر کچھ رہ گیا تو پھر وقت ذاتی عداوتوں میں خرچ کیا ۔ہذل سرائی سے تو ہم خوب واقف ہیں، ایک دوسرے کو بازار میں ننگا کر دینے کا فن ہمیں خوب آتا ہے۔لیکن انہیں آپ کچھ نہ کہیں !

          محفلوں میں اور خطوں کے ذریعہ بہت سارے سوالات کئے جاتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے کہ جن کا اپنا اخبار ہو تو وہ دوسروں کے اخبار میں کالم کیوں لکھتے ہے لیکن اس میں بھی اپنے ہی اخبار کی تعریف کرتے ہیں اور دوسروں کی برائی کرتے ہیں ۔اس کا صحیح جواب تو و ہی دے سکتا ہے جو یہ کام کرتے ہیں ، جو بات سمجھ میں آتی ہے کہ ریسٹورانٹ منیجر یا مالک کو کھانا اپنے ہی ریسٹورانٹ میں کھانا چاہیے ورنہ لوگوں کی رائے اس کے اپنے ریسٹورانٹ کے بارے میں کیا ہوگی ؟ کچھ ایسے ہیں جو صرف اپنی تشہیر کو پسند کرتے ہیں ۔ کالم نگاری صرف ہجو اور ہزل گوئی کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ کسی کے بارے میں صحیح یا غلط باتیں صرف اس لیے لکھتے ہیں کہ اس شخص نے کسی طور پہ دھوکہ دیا ہوتا ہے ، جب تک یہ بات دوسروں کے ساتھ ہو رہی ہو تو احساس نہیں ہوتا لیکن جیسے ہی اپنے لٹنے کا پتہ چلتا ہے تو اخبار میں بذریعہ کالم اس کے خلاف ایک تاریخ مرتب کر دی جاتی ہے، اور  بات قانونی چارہ جوئی تک پہنچ جاتی ہے ۔ کچھ ہیں جن کے زندگی کا مقصد صرف اور صرف مشرف دشمنی ہے۔سالہا سال کا کالم اٹھا کر پڑھ لیں سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا ۔ اس کے پیچھے بھی یا لا شعور میں ایسی ہی کچھ تلخ باتیں ہونگی یا معاملات ہونگے جو انہیں ایسا کرنے پہ ہر ہفتہ مجبور کرتے ہیں ۔ یوں تو بڑے ہی فدویانہ انداز ہوتے ہیں لیکن اگر کسی شاعر و خود ساختہ دانشور کو کسی مشاعرے یا تقریب میں نہ بلایا جائے تو پھر ان کے طیش کا عالم  دیکھئے کہ اس تقریب  یا مشاعرے کی اس سے اگلے ہفتے ہی کیسے چتھڑیاں ادھیڑی جاتی ہیں یہاں تک کہ اس مشاعرے یا تقریب کو کوٹھا بنا دیا جاتا ہے ، اس لئے کہ اس تقریب کے دولہا کو ہی جو نہیں مدعو کیا گیا!

 تھارے رہیو او بانکے یار۔۔۔۔۔۔۔! 

٭        کچھ لکھت کار کی ویب سائٹس ہیں اور کچھ انجمنیں ایسی قائم ہو گئی ہیںجن پہ آزادی صحافت و ادب کے حوالے سے بے ادب لوگ اکٹھا ہو گئے ہیں۔ہر قسم کی ملحدانہ ،گستاخانہ اور عریاں باتوں کی توسیع ہو رہی ہے لیکن صاحب یہ سب لوگ مذہب کے ، اسلام کے ، ادب کے شعر و شاعری  کے ، افکارِ روشن کے چیمپئن ہیں ۔ آپ کی اور میری بساط ہی کیا ہے کہ ایسے مفکرین کے بارے میں اپنی رائے دے سکیں۔اپنی اپنی گروہ بندیاں ہیں۔ہر گروہ دوسرے پہ کیچڑ اچھالتا رہتا ہے ۔ لیکن آپ انہیں بھی کچھ نہ کہیں !

٭        اس زمانے میں کوئی اللہ اور رسول کی باتیں کرے تو فوراً اسے مولوی ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے ۔ عجب منافرت کی فضا قائم ہے دین و مذہب سے بھی۔ آدمی بے ہوش ہو تو قابل تعذیر نہیں لیکن مدہوشی تو قابل گرفت ہے نا ۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایک خاص مشن کے تحت قرآن و حدیث کی تدریس کے حوالے سے بھی ایسے افراد پیدا ہوگئے ہیں جو قرآن کے علم و زبان کو سمجھے بغیر درس قرآن دیتے ہیں اور اس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ سوائے گمراہی کے اور کیا نکل سکتا ہے۔ اپنی تشہیر اور شیطانی جذبوں کی تفسیر بہ شکل کتاب بھی چھپوائی جا رہی ہیں ، ان کے معتبر ہونے کی صداقت یہاں کے علاقائی اخبار ان کا تعارف اور ان کے مضامین چھاپ کر کر رہے ہیں ۔ جو لوگ احادیث رسول یا سنت رسول کی ہی پروا نہ کریں وہ بھلا صحابہ کرام ، تابعین ؒ، تبع تابعین ؒ، محدثین ؒ، آئمہؒ ، و اولیا ئے کرام کا احترام کیوں کرنے لگے؟انہیں اس سے کیا غرض کہ یہ سب  عذابِ جاریہ ہے جو یہ سو یا دو سو ڈالر کے عوض جاری کر رہے ہیں۔ گندہ نالہ کیا پر نالہ بہتے رہنا چاہیے !   لیکن  انہیں آپ کچھ نہ کہیں !

٭        کہتے ہیں کہ ادب اور سیاست ساتھ ساتھ چلتی ہے اور صرف ادب ہی پہ کیا موقوف سیاست تو ہر شعبہ میں ہی ساتھ ہوتی ہے۔ کنیڈا ، شمالی امریکہ ہو یا یورپ وغیرہ ہر جگہ دیکھئے تو پاکستانی سیاست اپنے پوری جلوہ آرائی کے ساتھ کارفرما ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنے ملک سے نکلے ہیں تو وہاں کی ساری خرافات اور آپس کی دشمنیاں بھلا کر ہم سب ایک نئی جگہ اپنا وقار قائم کریں اور مل جل کر رہیں لیکن بھلا ہو ان سیاسی گماشتوں کا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ چل کر یہاں آگئے اور وہی نفرت و عناد کی فضا قائم کردی گئی۔یہاں بھی ہم ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ، ملت پارٹی ، تحریک انصاف ، جماعت اسلامی ، جمیعت علما ئے اسلام اور نہ جانے کتنی پارٹیوںمیں بٹ کے رہ گئے ہیں ۔ایک دوسرے کے خلاف اوچھے ہتھیار استعمال کرنے سے ہم نہیں چوکتے۔ غیر ممالک میں رہ کر بھی ہم یہاں کے مسائل اور سیاست سے کم واقف ہیں یا اس میں کم شریک ہوتے ہیں لیکن پاکستان کی فکر ہمہ وقت ہے۔ کیا کریں بات کرنے کو اور کچھ ہے بھی تو نہیں۔ ان سب کو بھی آپ کچھ نہ کہیں !

          یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے ؟ کیا فطرت انسانی میں ہی گلایڈیٹر جیسی یا ہالی ووڈ کی وائلنس  سے بھرپور فلمیں دیکھ کر مزا  اٹھانے کی خو ہے ؟ کیا ہم ایک دوسرے کو چیر پھاڑ کر ہی خوش ہو سکتے ہیں ؟ یاسارے خودساختہ دانشور و صحافی تماشبیںقارئین کے لئے گلاڈیٹربنے ہوئے ہیں۔

          لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ صورت حال صرف کنیڈا یا نارتھ امریکہ میں ہی نہیں ہر ملک اور ہر جگہ ہے ۔ سو کس کس کو آپ کیا کہیں گے  … بس آپ کچھ نہ کہیں !

چل قلم غم کی رقم کوئی  حکایت کیجئے

ہر  سرِ حرف  پہ  فریاد   نہایت   کیجئے

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: