Hesham A Syed

January 5, 2009

Is it Possible ? A road map to Muslim Ummah

Filed under: Islam,Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 1:43 am
Tags:

Urdu Article : Kia yeah Mumkin hai – hesham syed

حشام احمد سید

کیا یہ ممکن ہے ؟

قرطاس ِ ابیض پہ کیا لکھا ہے ؟

i  تباہ حال القا عدہ کی تحریک ، تباہ حال افغان اور افغانیوں کی طالبان کے خلاف اشتعال انگیزی ، پاکستان اورساری مملکت اسلامیہ کا امریکہ اور دوسری اقوامِ عالم کے سامنے سر تسلیمِ خم کردینا ، عراق کی تباہی ، ایران اور شام پہ جنگ کے منڈلاتے ہوئے بادل ، پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پہ نظر اور اس ملک کی نظریاتی و جغرافیائی تقسیم کا پلان ، مسئلہ کشمیر و فلسطین کو حل کر دینے کا ڈھکوسلہ ۔ امریکہ کے ساتھ چند مغربی ممالک کی ہوسِ ملک گیری تاکہ انہیںصرف اپنی بقا اور اقتصادی خوشحالی کے لئے ایک نیا بازار ، پانی اور زرخیز زمینیں ، تیل کے ذخائر اور عسکری ہتھیاروں کی منڈی دستیاب ہو۔

          عالمِ اسلام کے حکمرانوں کے ضمیر کی سودے بازی، بے حسی اور ہر طرح کے ظلم و بربریت سے بے اعتنائی جو ہر اس خطۂ زمین پہ جاری ہے جہاں اسلام نظریاتی طور پہ ذرا بھی سر اٹھاتا ہے یا وہاں کے بسنے والے مسلمان اپنی بہتری کے لئے کوئی بھی قدم اٹھاتے ہیں ۔چاہے فلسطین ہو ، بوسنیا ہو ، کشمیر ہو یا کوئی اور۔ اور ان حالات میں ہمارے جذباتی و کھوکھلے نعرے ، غیر دانشمندانہ رویہ اور گفتگو ، اپنے سجے سجائے گھروں ، محافل ، فون، انٹرنیٹ، ای میل ، رسالوں ، اخباروں میں فضول و فروعی و غیر اہم موضوعات پہ بحث و تکرار بھی ایک المیہ ہی ہے  ۔ قوم جب بے راہ رو اہوجائے اور مقصدیت کھو بیٹھے تو یہ سب کچھ ہوتا ہے جو ہو رہا ہے۔

          یہ بات تلخ ہے لیکن حقیقت سے بعید نہیں کہ آج مسلمان دنیا میں دوسری بڑی آبادی ہونے  کے باوجود ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں ۔ہر چند کہ اللہ کی طرف سے انہیں زمین پہ دولت کا وافر حصہ ملا ہوا ہے ، سب سے بڑے رہنما و جلیل القدر پیغمبرو رسول اور تکمیلِ انسانیت کا پیغام بہ شکلِ قرآن رکھنے کے باوجود گم گشتہ ہے۔موجودہ حالات اصل میں نتیجہ ہے ہماری قبیلہ پرستی ، ذاتی مفاد کو قومی مفاد پہ ترجیح دینے کا ۔ ہوسِ نفس نے ہمارے دلوں سے اسلام کے اخلاقی اور روحانی پہلوؤں کو بے دخل کردیا ہے۔

          ابلاغ کے اکثر ادارے اور سہو لتوںکی بازگشت  وہی ہے جو عسکری قوتوں کی آواز ہے ۔ ہم روز ایک نیا فرقہ ایجاد کرتے ہیں ، آپس میں اختلاف کو ہوا دیتے ہیں ، ہر روز ایک نیا گروہ اسلام کا سچا داعی بن کے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی ذات کے خول میں کانوں آنکھوں اور زبانوں کو بند کر کے کسی معجزے کے انتظار میں بیٹھے ہیں ۔ آسماں کے پھٹنے کا انتظار ہے ۔نزولِ عیسیٰ ؑ کا انتظار ہے۔کچھ ایسے بھی ہیں جو ان ساری باتوں سے قطع نظر اپنی غیر متوازن تعلیم و تربیت ، مایوسیوں ، ذہنی خلجان اور نفسانی خلفشار کے اظہار کے لئے اسلام کو ہی تختۂ مشق بنائے اور بظاہر اسلام کے مدعی بن کر فتنہ و فساد و قتل و غارت گری کا بازار سجائے یا اسکی ترغیب دیتے ملیں گے ۔ فاعتبرو یا اولی البصار !

          کیا ہم اپنے جذباتی اور جنونی رویےاّ سے ہٹ کر عقل و ذہن سے کام نہیں لے سکتے ؟کیا ہم اسلامی مملکتوں کے درمیان دولتِ مشترکہ کا قیام عمل میں نہیں لا سکتے ؟ کیا ہم امتِ مسلمہ کی وحدانیت کے نظریے کا پرچار نہیں کرسکتے ؟ کیا ہم مشترکہ معاشرتی ، ثقافتی ، سیاسی ، تہذیبی روایت اور معیار کو منظم نہیں کرسکتے ؟ کیا ہم ایک مشترکہ حکمرانِ وقت یا نظام ِخلافت کو پھر سے مستحکم نہیں کر سکتے ؟ کیا ہم مرکزیت کی طرف نہیں لوٹ سکتے ؟کیا ہم اپنے مقصد ظہور یا خلافت ارضی کا ادراک نہیں کرسکتے ؟ کیا ہم بحیثیت مسلمان خیر الامۃ بن کر ساری انسانیت یا اقوامِ عالم کی خدمت نہیں کر سکتے ؟ کیا یہ ساری باتیں فقط خواب ہیں ؟کیا یہ ساری باتیں صرف خواہشِ بے چین بن کر ہمارے دلوں میں پلتی رہےں گی؟ 

جو ہو چکا سو ہو چکا  : 

 اسلامی مملکتیں یا حکومتیں ابھی اس قابل ہی کہاں ہیں کہ غیر مسلموں کی کسی تکنیکی اور عسکری اشتعال انگیزی کا جواب دے سکیں. ماضی و حال کے بیشتر تجربات نے ہمیں یہی سبق دیا ہے کہ ہماری جنونی ، بے قاعدہ اور غیر منظم تحریک و رویےّ نے ہمیں شکست سے دوچار کیا ہے۔ ہم اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔ ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی  ضرورت ہے۔ اپنی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے آپ کو روحانی ، ذہنی و عقلی ، جسمانی اور مادی طور پہ صحتمند بنانے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ایک فعال جماعت یا امت بن کے ابھرنا ہے ۔ ہمیں غیر مسلموں سے بھی انسانی اور اخلاقی روابط کی ضرورت ہے تاکہ سب کے ساتھ مل جل کر ایک اچھی دنیا کے قیام میں کوشاں ہوں ۔ ایک دوسرے سے فطرت کی عطا کی ہوئی دولت و علم و ہنر سے بہرہ ور ہونے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں بحیثیت ایک امت  اگر اپنی بر تری تسلیم کرانی ہے تو یہ برتری اخلاص اور اخلاقی رویےّ کی ہونی چاہیے۔ہم جو اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں تو ہمیں دوبارہ دھول جھاڑ کے آئینہ کائنات میں اپنے آپ کو پہچاننے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ حضرت محمدؐ  اللہ کے آخری نبی رسول و پیغمبر ہیںاور وہ کسی مخصوص جماعت کے رسول و نبی نہیں بلکہ عالم انسانیت کے ہیں اور عالمین کے لئے رحمت ہیں، اسی عالمین کے جس کا رب اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہیں۔ سو ہر شخص ان کی امت میں داخل ہے چاہے اس کاملک ،خاندان و نام کچھ بھی ہو ۔ حق کا راستہ ایک ہی ہے اور اللہ کو وہی قبول ہے جو حضور ؐ کے توسط سے ہم تک پہنچا ہے۔ در اصل دنیا میں صرف دو قومیں بستی ہیں ۔ ایک وہ جو اطاعتِ الہٰی و رسول میں سرگرمِ عمل ہے اور دوسری وہ جو گم راہ ہے۔ تیسری کوئی اور قوم نظریاتِ الٰہیہ کے طور پہ موجود نہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارا کام یہ نہیں کہ ہم یہ سوچیں کہ کتنوں کو ہم کافر گردانتے ہیں اور کتنوںکا قتلِ عام ہوا ہے ۔ یہ کام تو متفنیوں اور منافقوں کا ہے جو ہر جگہ فتنہ و فساد بپا کئے اور شیطان کے چیلے بن کر دندناتے پھرتے ہیں۔ مسلمان کا کام تو رہنمائی کا ہے ۔حضوراکرمؐ  کی اخلاقی تصویر کی عکاسی کا ہے تاکہ تکمیل انسانیت و اخلاقیت کے بعد اس کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے. بے راۃ رو وںسے بھی ہمدردانہ رویہ اور ان کی اصلاح ، ان کی روحانی اور اخلاقی تربیت کی فکر کی جانی چاہیے۔ یہ بات مشاہدے اور تجربے کی ہے کہ نرم روی اور ہمدردی کے اثرات  غلبۂ انتقام اور اشتعال سے زیادہ زود اثر اور دیرپا ہوتے ہیں ۔ ہمیں ساری اقوام عالم کو اس بات کا احساس اور یقین دلانا چاہیے کہ ہم ان کے خیر خواہ ہیں اور ہر فرد کی عزت اورمال و متاع ہمارے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ہم ایک فکری اور نظریاتی قوم و امت ہیں اور ہمارا مقصد و نصب العین واضح ہے۔ ہماری حیثیت ایک معالج کی ہے جو علاج کرتے وقت کسی مریض کے نام و نسل کو نہیں دیکھتا اور ان تعصبات سے بلند ہو کر بیماری کا علاج کرتا ہے۔ ہمیں لوگوں کے دلوں کو فتح کر کے عالم گیر بننے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ جغرافیائی حدود میں الجھ کر عصبیت کے شرارے سے خود کو اور ساری دنیا کو جلا ڈالیں۔ کائنات یا یہ زمین صرف اللہ کی ہے ۔ہماری حیثیت فقط ایک امین کی ہے ۔ ہمیں اختیارِتصرف صرف اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت و دولت کی جائزتقسیم کا ہے ۔ معاشی اور معاشرتی عدل و انصاف کا قیام ہی ہمارا فریضہ اولین ہے۔دینِ حق یا اسلام کا پیغام پڑوسیوں سے محبت کرنا تو ہے ہی لیکن اس سے بڑھ کر کائنات کی تسخیر اور اس کا مفید استعمال بہ شکلِ رضائےء الہٰی بھی ہمارے فریضے میں شامل ہے۔ اگر ہمیں مٹانا ہی ہے تو نفرتوں اور عصبیتوں کو مٹانا ہے ۔ اگر ہمیں لٹانا ہے تو محبتوں کو لٹانا ہے۔ ہمیں اپنی قوتوںاور صلاحیتوں کو دوبارہ یکجا کرنا ہے اور سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ سارا عالم ہمیں ِ علم و اخلاق ، عزت و وقار ، مال و متاع اور سرمائہ فکر و ہنر کا محافظ سمجھے ۔

 اور یہ سب کچھ ممکن ہے !!

حشام احمد سی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: