Hesham A Syed

January 5, 2009

Merchants of Hate

Filed under: Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 8:44 am
Tags:

Urdu Article : NafratoaN key Soadaagar – Hesham Syed

حشام احمد سید

نفرتوں کے سوداگر اور انسانی برادری  

وحشت و بربریت کا ایک اور شاہکار ، ایک اور دھماکہ ماہ ربیع الاول میں کراچی کے نشتر پارک میں ٹھیک اس وقت کیا گیا جب کہ مسلمانوں کا ایک بڑا مجمع اپنے آقائے نامدار  ؐ  اور دنیا کے سب سے بڑے انسان کی پیدائش کی یاد منا نے کے دوران نماز ِ مغرب میں مصروف تھا۔ ایسا واقعہ نشتر پارک کراچی کا ہو یا کسی بھی شہر، ممالک عراق و شام و ایران و لبنان وہندوستان وافغانستان و سعودی عرب و خلیجی مملکتوں ، فلسطین ، بوسنیا ، کشمیر کا ہو ، زخم سے بھرے ہوئے معصوم عام انسانوں ، عورتوں ، بچوں کی ان گنت لاشیں ، آہیں ، کراہیں ، زندگی بھر کا  درد ، دکھ ، اذیت ، آزردگی ، بگڑی ہوئی شکلیں،کٹے ہوئے ہاتھ و پیر اور جسم کے دوسرے حصے ، ساری زندگی کے لئے معذور انسان ، یہی کچھ تو حاصل ہوا تھا بنو عباس اور بنو امیہ کی دشمنی کے نتیجہ میں ۔ پوری امت مسلمین تو پہلے ہی اختتام رسالت و خلافت ِ راشدہ ، آغاز ملوکیت ، اور آپس کی دشمنی کا خمیازہ بھگت رہی ہے اور  اب اس کے پاس گریہ و زاری اور ماتم و تعزیے اور دنگل بازی و اکھاڑے ، ایک دوسرے پہ لعن طعن کے کیا رہ گیا ہے ؟ کر بلا ایک افسانہ بن گیا ہے ۔ ہر سانحہ اور ہر ظلم و مظلومیت کی داستان اس سے متعلق ہے۔منبر پہ بیٹھ کر جھوٹی اور مکروہ رواہتیں گڑھی جاتی ہیں ۔محیر العقول داستانوں پہ مبنی کتابوں کی بھر مار ہے۔مرثیہ گوئی اور ماتمی مجالس ایک  باضابطہ فن بن چکا ہے۔ عوام الناس کے اذہان کو دونوں طرف کے مکار اور جھوٹے علما ئے سواور خطیبوں نے زہر آلود کر دیا ہے۔بجائے اسکے کہ یہ اسلام کی اخلاقی قدروں ، محبت و ایثار کے جذبوں ، رحمت و شفقت کے لوازمات کو بیان کریں اور ان کی عملی تفسیر بنیں ، نفرتوں اور سیاسی بھنگڑ بازیوں کے کاروبار نے ہی ان کی جیبوں کو گرم کر رکھا ہے ۔ان کے تن و توش کی سلامتی اسی بات میں ہے کہ گلا پھاڑ پھاڑ کر اپنی چرب زبانی کے جوہر دکھائیں ، لوگوں کے اندر ایک ہیجان بپا کر دیں اور انہیں مسحور کر کے ہر وہ کام کروا لیں جس کا اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ۔ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اے زبان دراز کیا تو وہاں موجود تھا جو معصومین سے بھی ایسی سطحی اور بے عقلی کی باتیں منسوب کر رہا ہے۔اپنی دروغ گوئی اور جملے بازی ، اختراع پردازی کو ان کا نام دے کر تقدس کے جامے پہنا رہا ہے۔بڑی بڑی مجالس سجا کر ، تاریخی حقائق سے درگزر کر کے اور ان میں رنگینی  ڈال کر اپنی فن کاری کی قیمت وصول کر رہا ہے ۔ بے شمار شاعروں اور قلم کاروں نے بھی اپنی ابلیسی صلاحیتوں کا استعمال کر کے حُب رسولؐ اور اہل بیت اطہار ؓ یا صحابہؓ و صحاباتؓ کے حوالے سے ایسی قصیدہ سرائی کی ہے کہ استغفراللہ۔ اشک شوئی ، قنوطیت ، دنیا سے بے زاری ، انتقامی جذبات ، اشتعال انگیزی ، شدت پسندی اور اسی طرح کی نفسانی بیماریوں میں پوری قوم کو مبتلا کر دیا ہے۔یہ ساری بیماریاں ایک وبائی مرض کی طرح ہزاروں سالوں سے امت کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہےں لیکن ان کو کوئی علاج نظر نہیں آتا ۔ فکرِ فردا ، اجتہاد ، کائنات کی تسخیر ، خلافت ِارضی کا تصور ، یکجہتی ، رواداری ، بردباری ،مرکزیت ، امتِ واحدہ کی حکمت ، علم و فن و حرفت کا حصول یہ سب معدوم ہو چکی ہیں۔ دوسری اقوام تو آگے کا سوچ رہی ہیں اور ہم ’دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو‘ کے فارمولے پر عمل کرتے چلے آرہے ہیں یا پھر دوسری قوموں کی نقالی میں اپنی اخلاقی اقدار ، شرم و حیا سے بھی فارغ ہو کر ان کی دوڑ میں شریک ہونا چاہتے ہیں ۔ ہم ہر حادثے کو ہر سانحے کو یہودیوں ، صیہونی قوتوں یا ہنود سے منسوب کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں۔حالانکہ اگر ہم خود ان کے آلۂ کار نہ بنیں تو صورتِ حال بالکل مختلف ہو ۔ یہ سلسلہ اختلافِ خلافتِ رسول ؐ سے چل رہا ہے جو جنگِ جمل اور ایسی ہی نہ جانے کتنی جنگوں اور غیر انسانی  و غیر اسلامی حرکتوں پہ مبنی ہیں، کس کس کا سوگ منائیں گے اور کب تک منائیں گے ؟ افسوس یہ بھی ہے کہ ایسے واقعات سے متاثر ہو کر قلم کار اور شاعر وشاعرات اپنی جذباتی رو میں اسلام کو ہی اس کا قصور وار ٹھہرانے لگتے ہیں اور باور کراتے ہیںکہ یہ سب کچھ اسلام کی تعلیمات کے تحت ہی ہو رہا ہے ، ایسے بے وقوف لوگ بھی پھر بلا واسطہ یا لا شعوری طور پہ دشمنان اسلام کی فکر کو تقویت بخشتے ہیں اور ان میں ہی شامل ہیں جو اپنے جسم سے بم باندھ کر خود کش حملوں سے یا دوسرے ہتھیاروں سے خود اپنے ہی ہم وطن و ہم نام  بھائیوں ، بہنوں، ماؤں اور بچوںوبچیوں کا قتل عام کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ شہادت ہے ۔ایسے لوگوں کے اذہان کو اتنامغلوب کر دیا جاتا ہے کہ وہ کچھ اور سوچنے کے قابل ہی نہیں رہتے وہ ایسے بن جاتے ہیں جیسے کہ شاہ دولے کے چوہے ۔اور ایسا کرنے کے لئے بڑے بڑے استاد ِ فن ہر جگہ موجود ہیں ۔ عبادت گاہوں کی حرمت بھی باقی نہیںرہی  احترامِ انسانیت تو بہت بڑی چیزہے اور اسلام کا ایک بنیادی پیغام ہے۔ اسلام کا آغاز سرورِ کائنات  ؐ  سے تو نہیں ہوا ، یہ پیغام تو حضرت آدم  ؑ سے چلا تو حضور  ؐ پہ ختم ہوا بلکہ اس کی حتمی شکل یا ایک ہی پیغام پہ ختمِ نبوت کی مہر لگ گئی۔ اگر اسلام ہی حجت سب شیطانی کام ہورہا ہے تو پھر تو اس میں سارے ہی ادیان شامل ہیں عیاذاََ باللہ ۔ اصل میں یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ابلیسی و شیطانی کارندے کر رہے ہیں چاہے ان کے نام کے ساتھ کوئی اسلامی شناخت ہی کیوں نہ لگی ہو۔ اسلام تو ایک نظریہ حیات ہے ، اسے نام سے کیا کام یہ تو ادیانِ الٰہیہ پہ عاملوں کا دین ہے۔ حضور  ؐ نبی عالمین ہیں کسی قبیلے یا کسی خاص ثقافت کے سردار و موجد نہیں۔ اسلام کے آفاقی پیغام اور خود حضور  ؐ کی آفاقیت کو ایک محدود رویّے اور علاقے میں محسور سمجھنا اور بغیر کسی حکمت کے صرف اسی علاقے کی شکل و صورت اپنا لینا  ہی اصل میں جہالت کی بد ترین شکل ہے۔ یہ بات کیوں نہیں سمجھ آتی کہ جس طرح عالمین کا رب اللہ ایک ہے ، حضرت آدم ؑ انسانوں کے جد ہیں اسی طرح حضور  ؐ کو اللہ نے پوری انسانیت کا رسول اور عالمین کے لئے رحمت بنایا ہے ۔ انؐ  کی امت میںتو ساری دنیا و سارا عالم ہے ، ان میں جوبھی انؐ  کے راستے پہ چل رہا ہے وہ متقی ہے اور اللہ کے یہاں مقبول ہے اور جوکوئی انؐ کے راستے پر نہیں چل رہا وہ اللہ کے نزدیک مقبول نہیں۔ عالمِ انسانی کی یہ بے حد سادہ اور آسان سی تفریق ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ کے بتائے ہوئے طرزِ حیات کا نہ کوئی اور فلسفہ ہے اور نہ کوئی اور دین و مذہب ہے ۔نہ مخصوص نام کی قید ہے اور نہ جغرافیائی علاقے کی حدود بندی ہے۔زمین تو اللہ کی ہے ، دنیااللہ کی ہے ، کائنات اور اس کی ساری مخلوقات اللہ کی ہیں ۔ وہی خالقِ واحد اور مالک کُل ہے ، وہ معطئ کُل ہے تو اپنے محبوب ؐ  کو قاسم بنا دیا ہے۔ اس حقیقت  کے علاوہ جو تصور بھی اسلام کے متعلق پیش کیا جاتا ہے اور اس سے ہٹ کر جتنے بھی افکار کی ترویج کی جاتی ہے یا کوئی مذہب ایجاد کیا جاتا ہے وہ سب کا سب کچھ اور تو ہو سکتا ہے اسلام نہیں ۔ اپنی اختراعات میں صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کا صرف نام لے لینے سے وہ بات سند نہیں بن جاتی تا وقتیکہ اس کی حقانیت بذریعہ قرآن ا ور سیرت رسولؐ سے ثابت نہ ہوں ۔ دین بہت واضح ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں! اسلام کے علاوہ نہ تو کوئی اور ضابطۂ حیات انسان کے مسائل کو حل کر سکتا ہے اور نہ ہی اب کوئی دوسری کتاب نازل ہوگی یا نبی و رسول بھیجے جائیں گے۔ اس لئے اس کی تمنا فضول ہے۔ اللہ کے دین کو اپنی عقل و سوچ کے اعتبار سے ڈھالنے کی بجائے اپنی عقل اور سوچ کو اللہ کے دین اور اللہ کے رسول ؐ  کی سیرت کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔  ؎

خوب ہے تجھ کو شعارِ صاحبِ  یثرب ؐ  کا  پاس       کہہ  رہی ہے  زندگی تیری کہ  تو مسلم  نہیں

          لیکن ٹھہریئے ! کیا  واقعی کراچی کا یہ سانحہ بھی اہل سنی اور شیعہ حضرات کے متشدد گروہ کی دشمنی کا نتیجہ ہے یا اس کے پسِ پردہ دوسری غیر اسلامی قوتیں کام کر رہی ہیں ؟ اخباری بیانات ، سرکاری اداروں کی خالی خولی باتیں ، صحافیوں کی سنسنی خیز کالم نگاری سے تو کچھ بھی پتہ نہیں چل پاتا ۔ یا کہ یہ ردِ عمل ہے جنرل مشرف کی امریکی نواز حکومت کا ، وزیرستان میں فوجی آپریشن کا ، بلوچستان کی علیحدگی پسند تحریک کا یا کوئی اور مقصد پنہاں ہے جس کا پلان واشنگٹن ، اسرائیل ، دہلی ، کابل یا لندن میں حسبِ معمول بن رہا ہے اور اگر ایسا ہی ہے تو عام انسانوں کو قتل کر کے یا ان کی مملوکہ جائیداد کو تباہ کر کے بالآخر کیا حاصل ہوگا ؟ یہ نفرتوں کی سوداگری انسانی برادری میں کب تک چلتی رہے گی ؟ ہر جگہ اور اسلامی دنیا کی ہر وادی میں ابلیسی قہقہے کی گونج کب تک سنائی دیتی رہے گی ؟ ؎

قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی

ہو صاحبِ  مرکز  تو خودی کیا  ہے ،  خدائی

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: