Hesham A Syed

January 5, 2009

Pains are in thousands but now there are two.

Filed under: Islam,Pakistan — Hesham A Syed @ 6:28 pm

Urdu Article : Dukh tto hazar haiN , iss waqt doa haiN – hesham syed

دُکھ یوں تو ہزاروں ہیں ۔ اس وقت فقط دو ہیں !

قارئین کرام کے خطوط اور تبصرے میرے لئے بہت اہم ہیں ، اس بیانے ان سے رابطہ تو ہے ۔ تبادلہ خیال سے ہی انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ ایک وضاحت یہ بھی کرنی تھی کہ میں مضامین لکھتا تو ایک ہی وقت ہوں لیکن اخبار میں طویل مضمون کی گنجائش نہیں ہوتی اسی لیے اسے قسطوں میں چھاپنا پڑتا ہے ۔ اخبار کے اداریے کے مسائل اپنی جگہ ہیں اور اس کا ہمیں لحاظ کرنا چاہیے۔ بعض مضامین بھی ایسے ہوتے ہیں کہ بہت زیادہ اختصار سے کام نہیں لیا جا سکتا۔ بہر حال مکالمے کی دلچسپی ایک کالم نگار اور قارئین کے درمیان رہنی چاہیے۔ اس سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ کارواں کے ایڈیٹر کا بھی شکریہ کہ وہ اس رابطۂ فکر و شوق کو برقرار رکھنے میں معاون و مصروف رہتے ہیں۔

حالیہ دو واقعات یا سانحے سامنے آئے جس پہ خیال آرائی بہ شکل نظم ہوئی ہے جو قارئین کے نذر ہےں۔

یہ نظمیںقرآن کی بے حرمتی کے حالیہ واقعہ سے متاثر ہو کر کہی گئیں۔

    حُرمت قرآن کی

اُمت تو آخری ہے مگر درمیان کی

جس کو ملی کتاب خدا کے بیان کی

حُبِ رسولؐ پہلے ہی ایماں سے اٹھ گیا

اب لوٹی جا رہی ہے یہ حُرمت قرآن کی

۔۔۔

ہے فکر بے شمار یہاں آن بان کی

پرواکسی کو کیوں ہو اپنے ایمان کی

پیروں تلے زمین نکلتی تو ہے مگر

باتیں بہت ہیں کرنے کو یاں آسمان کی

ہم کو نہیں نصیب ہدایت قرآن کی

نا تو نگاہ میں رہی عظمت قرآن کی

عّمالِ حمام کی  روحانیت میںریل پیل ہے

تعویز و دَم کا زور ، تجارت قرآن کی

۔۔۔

ہدایت کی روشنی ہے جو سارے جہان کی

زینت بنی ہے طاق کی اور جُزوِ دان کی

ہر کوئی اپنے آپ سے پوچھے تو ایک بار

کتنی عزیز ہم کو ہے حکمت قرآن کی؟

۔۔۔

جب زندگی گزرتی ہو محلوں میں شان کی

کانوں میں کیسے آئے صدا پھر اذان کی

مرتے غریب ہی ہیں نامِ رسولؐ پر

امراء کی فکر صرف ہے حفظِ جان کی

۔۔۔

چھوڑی ہے جب کتاب گیان و دھیان کی

ہوتی ہے ہم پہ روز ملامت قرآن کی

اک اژدھام ہر طرف پھیلا ہوا تو ہے

مسلم ہوں جیسے بائس پسیری ہو دھان کی

۔۔۔

گستاخیاں تو دیکھئے اونچی دکان کی

پکڑے کوئی زبان تو اس بدزبان کی

پیروں تلے مسل دے کوئی آخری کتاب

کیسی گھڑی ہے سر پہ پڑی امتحان کی

ہے آزری بھی ہر طرف سنگِ بتان کی

سنتا نہیں ہے کوئی بھی اس بے زبان کی

کس کس کے در پہ جائیے اور روئیے حشامؔ

حالت ہے ایک سی یہاں پیر و جوان کی

—————————————-

سگِ لیلیٰ

ہم کو تو اہلِ غرب نے کتا بنا دیا

لیلیٰ کا سگ بنا کے یہ رتبہ بڑھا دیا

ہمارے عمل کو چند لکیروں میں کھینچ کر

آئینہ خیال میں یہ چہرہ دکھا دیا

ہم لاکھ احتجاج کریں ان کے سامنے

جھوٹ و نفاق سے مگر پردہ اٹھا دیا

کتے میں ہے وفا وہ نجس جانور نہیں

سگ ہونے کا جواز کمینوں نے کیا دیا

وہ ملک جس کو کہتے تھے اسلام کا قلعہ

روشن خیالیوں نے اسے بھی گرا دیا

ابلیسی قہقہے ہیں عجب ہے فضا ہَوا

لیکن سماعتوں پہ ہے پردہ پڑا ہوا

دہشت گروہ کون ہے اس کی نہیں تمیز

جب ہے دل و دماغ پہ پتھر پڑا ہوا

دُم کس طرح ہلائیں نا آقا کے سامنے

ہڈی ہے اور گلے میں ہے پٹہ پڑا ہوا

اللہ اور رسولؐ کی تو باتیں ہزار ہیں

قول و عمل میں آج ہے رخنہ پڑا ہوا

میرے خدا! رسولؐ کی امت پہ رحم ہو

اس کی بصارتوں پہ ہے پردہ پڑا ہوا

پتھر ہی سر پہ آئے ہیں اسکے جواب میں

در پہ کسی کے جا کے کبھی جو گلہ کیا

دیوانگی کا کچھ تو صلہ مل ہی جائے گا

سویا ہوا ضمیر اگر اُٹھ کر کھڑا ہوا

بے حس یہ لوگ کہتے ہیں روز و شب  مجھے

حشامؔ اب اکھیڑو نہ یہ مردہ گڑا ہوا

حشام احمد سید

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: