Hesham A Syed

January 5, 2009

Personality worship and our problems

Filed under: Muslim world,Social Issues — Hesham A Syed @ 1:37 am
Tags:

Urdu Article : Shakhsiat parastee aur hamaarey Masaayel – hesham syed

شخصیت پرستی ا ور ہمارے مسائل !

خدا کی تلاش بھی آدمی کی فطرت کا ہی حصہ ہے وہ جہاں جمادات ، سیارات ، حیوانیات وغیرہ میں ان دیکھے خدا کی شکل ڈھونڈتا ہے وہیں کبھی شعوری اور کبھی لا شعوری طور پہ خوداپنے ہی صنف یعنی آدمی کو ہی خدا بنا  لیتا ہے۔اہلِ علم اسے توَہّم سے تعبیر کرتے ہیں یا پھر گمراہی و جہل کی حالت کہتے ہیں۔ بات صرف ان لوگوں کی نہیں ہے جو اسکول ، کالج ، یونیورسٹی کے سند یافتہ نہ ہوں بلکہ توہمات کے اس دائرے میں ہر آدمی کسی نہ کسی شکل میں چکر لگاتا نظر آتا ہے۔ بڑی حیرت ہوتی ہے جب اچھے خاصے پڑھے لکھے آدمی کو میں آدمی کے عضو تناسل کی شکل و بت کے آگے اسے نسل انسانی کے فروغ کا خدا سمجھ کر یا اسی طرح کسی سرخ زبان والی کالی دیوی، سونڈ والے آدمی گنیش ، ہنومان بندر نما آدمی ، کرشن و رام کے بت  کے آگے ، درخت ، سورج ، چاند ، ستارہ، گائے ، صلیب ، عیسیؑ و مریم ؑ ، گوتم بدھا ، چینی دیوتاؤں ، اوتاروں اور اولیا کی قبور وغیرہ کے آگے سجدہ ریز دیکھتا ہوں ۔کسی نے کہا تھا کہ :  ع

شاد  تھا  ابلیس  بھی  آدم  کا  سجدہ  دیکھ  کر   

لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ثم رددناہ  اسفَل سافلین ۔کوئی ادب و شاعری کا خدا ہے تو کوئی فلسفہ کا ، کوئی سیاست کا خدا ہے تو کوئی نظام مملکت کا ، کوئی سائنس و ایجادات کا خدا ہے تو کوئی علم نظامِ فلکیات و سیارات کا ، کوئی اقتصادیات کا خدا ہے تو کوئی روحانیات کا، الغرض زندگی کے ہر شعبہ میں بیشتر افراد یا تو خود خدا بن گئے ہیں یا پھر ضعیف العقیدہ و بے شعور افراد نے انہیں خدا بنا دیا ہے۔ ’کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار اور کچھ لوگ دیوانہ بنا دیتے ہیں‘۔ صرف  خدا  ہی نہیں خدا کا اوتار اس کی الوہیت کا تصور بھی قدیم ہے۔ اسی راستے پہ چلنے والوں نے شاید اللہ کو اس ضرورت کا احساس دلایا کہ ان کی درستگی کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے جائیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ آدمیوں کی اس قبیل نے خود پیغمبروں کو خدا بنا لیا۔

          اسی عقیدہ اور طرز زندگی کے سبب القابات بھی ایجاد ہوئے ،ہر طبقہ نے اپنے اوتاروں کے لئے یا تو خود القابات ایجاد کئے یا انہی ہستیوں کے خداکو دیئے ہوئے القاب کو تسلیم اور رائج کیا۔کوئی سر بنا تو کوئی نواب ، کوئی قائد اعظم کہلایا تو کوئی قائد عوام کوئی قائد امت بن گیا تو کوئی قائد ملت ، کوئی قائد جمہور بن گیا تو کوئی  قائد اسلام ، کوئی علامہ بنا تو کوئی مولانا ، کوئی پیر بنا تو کسی نے اعلیٰ حضرت کا لبادہ اوڑھ لیا، کوئی برہمن بنا تو کوئی  سید ، کوئی چودھری ہے تو کوئی سائیں کوئی نوابزادہ ہے تو کوئی خان زادہ ، کوئی پنڈت و پروہت بنا تو کوئی مدظلہ ، کوئی مظہر خدا بنا تو کوئی خدا کا بیٹا یا بیٹی ، بات صرف یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ جھوٹے نبی اور رسول ، نائبِ  رسول اور مہدی بھی بنے بلکہ بعض نے تو خود خدائی کا بھی دعویٰ کر دیاکہ اس حجاب و پردے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔خدا ہی کیوں نہ بن جائے آدمی ؟ اپنی انا کی تسکین کے لئے جیتے جی یہ سب القابات تو تھے ہی۔ مرنے کے بعد بھی اپنی اپنی زبان میں ہر کوئی رحمہ اللہ علیہ ہے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ واقعی اپنی زندگی میں کیا گل کھلاتا رہا ہے ۔ سینکڑوں کیا ہزاروں ایسے القابات ہیں نام کے آگے پیچھے جن کی کبریائی اورتقدس کے آگے انسانی ذہن مبہوت ہے سجدہ ریز ہے۔ ایک عام آدمی تو اتنے مزین بتوں کے سامنے منہ کھولنے کی جسارت بھی نہیں کر سکتا۔ اس کی نفسیات پر مختلف النوع اقسام کے خوف کا غلبہ رہتا ہے یا پھر عقل و شعور پہ تاریکی کی دبیز تہہ چھائی رہتی ہے۔ آج کی بے یقینی کل کے خوف میں بدلتی رہتی ہے۔ ایک عالم حیرت ہے کہ اپنے اپنے انداز میں جلوہ گر ہو رہا ہے۔کہیں دولت و ثروت کا رعب ، کہیں زہد و روحانیات کی انانیت ، کہیں علم و دانشوری کے قہقہے ، کہیں رسوم و رواج کے بندھن، کہیں عقل ِکُل کے دعوے ۔عوام الناس کو دیکھیں تو وہ بھیڑ بکری کی طرح اندھا دھند لبیک لبیک کہتے ہوئے اپنے ناخداؤں کا طواف کر رہے ہیں اور نسل در نسل ان کی قربان گاہوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ کیا مجال ہے صاحب جو کسی نے بھی ان ناخداؤں کے بارے میں زبان کھولی یا حقیقت انگیزی سے کام لیا۔ یہ سارے کا سارا گروہ معصومین کا ہے جن سے انسانی کمزوریوں کا ارتکاب نہیں ہوسکتا ۔کوئی اجتہادی غلطی نہیں ہو سکتی ۔ یہ سب اوتار ہیں بھگوان کے ، انسانی شکل میںاللہ کی خاص بھیجی ہوئی روحیں ہیں ۔ایک قدیم تصور یہ بھی تھا بلکہ بعض علاقوں میں یا لوگوں میں ابھی ہے کہ خدا بھی دو ہیں ایک بدی کا خدا جسے اہرمن کہا جاتا تھا تو دوسرا نیکی اور اچھائی کا خدا جسے یزداں کہا جاتا ہے۔ ہماری اردو فارسی شاعری اور ادب اہرمن ویزداں کی تمثیلات سے بھری پڑی ہیں۔ یہ تصور از خود کتنا بھی گمراہ کن کیوں نہ ہو لیکن انسانی شکل کے خداؤں کے بارے میں یہ تصور کہ اس سے کوئی غلطی نہیں ہو سکتی یا اس میں کوئی کمی نہیں ، ان سارے خداؤں یا ناخداؤں نے جو کچھ بھی کیا یا کر رہے ہیں سب ٹھیک ہے ایک بہت ہی بڑی گمراہی اور ذہنی غلامی کے مترادف ہے۔پتہ نہیں کیوں خود انسان یہ بھول جاتا ہے کہ وہ مجموعہ اضداد ہے ، نیکی اور برائی بھی اس کی سرشت میں ہے اور کوئی بھی اس سے مبرا نہیں۔ساری جدوجہد اور کشمکش اسی برائی اور اچھائی ہی کی تو ہے۔ قد تبین الرشد من الغی ( نیکی یا اچھائی کو برائی سے واضح الگ کردیا گیا )۔ افراد یا قومیں جن کو اپنا ہیرو تصور کر لیتی ہیں انہیں ایک مافوق الفطرت ہستی کا مقام دے دیتی ہیں۔ یہ نفسیاتی بیماری بھی ازلی ہے اور اس سے چھٹکارا پانا مشکل ہوتا ہے۔ تاریخی حوالوں میں ، کتابوں میں ، تحریروں میں ، تقریروں میں ہر کسی کا اپنا ایک ہیرو ہے جس سے  وہ اپنی زندگی کی تمام توانائی وصول کر رہا ہے اور خود اس کی اپنی ذات کی بھی پزیرائی  ہو رہی ہے۔چاہے وہ ہیرو امروز فردا کا ہو یا کئی ہزار صدی پہلے مدفون ہو چکا ہو۔ آپ کسی سیمینار میں جائیں ، کسی علمی یا نظریاتی مباحثہ کے پنڈال میں حاضری دیں وہاں ہر مقرر اپنے خود ساختہ ہیرو کو کسی صدی کا مجدد ، نبی ، ولی ، روحانی پیشوا ، قائد ، علم و حکمت کا بحر ذخار ثابت کرنے کے لئے اپنی قوت صوتی کا زور لگا رہا ہوتا ہے۔ دلیلیں اور تاویلات اور مفروضات سے فکر کو مزین کرتا ہے کہ یہی اس کی زندگی کا اثاثہ ہے ۔ اگر ایسے میں کوئی اس ہیرو کی انسانی کمزوریوں کی طرف بھی اشارہ کرے تو شاید اس ہیجانی محفل یا گروہ میں اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑیں۔

          ہمارے بہت سے معاشرتی ، قومی ، ملکی یا غیر ملکی مسائل جنم ہی اسی شخصیت پرستی کے تحت ہوتے ہیں بلکہ بہت سارے مسائل حل بھی یوں نہیں ہو پاتے کہ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی شخصیت پہاڑ بن کر کھڑی ہو جاتی ہے اور عقل و حکمت کے سارے دروازے مقفل کر دیتی ہے۔ اس شخصیت کی اپنی انا پرستی اور اس کے مداحین کا مزاج اس طرح سے پرورش پاتا ہے کہ ثم بکم عمی فہم لا یرجعون ۔ اس شخصیت یا ذات کا حصار اتنا تنگ ہوتا ہے کہ انفرادی ہوس پہ قومی یا ملکی مفادات قربان کر دیئے جاتے ہیں۔ یہ ہوس چاہے دولت کی ہو یا شہرت کی منفی اثرات ہی مرتب کرتی ہے ۔ سچائی کون سننا چاہتا ہے ؟ پچھلے دور یا صدیوں پہلے کی تاریخ کو الٹنے کا ہمیں کیا فائدہ لیکن خود اس صدی میں بھی اگر کوئی یہ تمثیلاً کہے کہ فلسطین یا کشمیر یا کسی بھی اسلامی ملک کا مسئلہ آج تک یوں نہیں حل ہو پایا کہ اس کے نامور لیڈر خود اس کے راستے میں روڑے اٹکا تے رہے تاکہ ان کا بینک بیلنس بھرتا رہے یا ان کی گدی سلامت رہے اور ان کے نام کا شہرہ ہوتا رہے ( اور اپنے تقدس کا اشتہار کر کے اپنی ساکھ برقرار رکھی جا سکتی ہے )۔ اگر کوئی اس حقیقت کا اعتراف کرے کہ مسلم لیگ مسلمانوں نے نہیں بلکہ انگریزوں نے کانگریس میں اختلاف پیدا کرنے کے لئے بنائی تھی اور اس کے سر کردہ عناصر نام کے مسلمان رؤسا اور جاگیر دار تھے جن کو اسلام کے ارکان کی ادائیگی کا بھی پتہ نہیں تھا اور نہ ان کو عوام کی عسرت و تنگی اور آنے والے طوفان کا پتہ تھا بلکہ ان میں سے بعض تو مسلمان تھے بھی نہیں تو لوگ اسے دیوانے کی بڑ سمجھیں گے ۔ پاکستان کے اکثر یا بیشتر لیڈر وں نے پاکستان کو لوٹ کھایا ہے ، اس ملک کو مذہب کا لبادہ اوڑھا کر اسے اپنی اپنی حرم سراؤں میں پسِ پردہ جبر کیا ہے تو ہر سیاسی پارٹی کے افراد ، چاہے وہ فوجی ہوں یا شہری ، مذہبی ہوں یا غیر مذہبی آپ کو پھاڑ کھانے کو دوڑیں گے یا یہ کہ عرب ملکوں کے حکمرانوں کو اسلام نہیں صرف اپنی گدی عزیز ہے ۔ اپنی ہوسناکی کو قائم رکھنے کے لئے ہر منافقانہ طرز عمل وہ بڑی آسانی سے اپنا لیتے ہیں اور اس پہ فتاویٰ کی مہر اس حکومت میں پلنے والے علمأ و مفتیانِ دین ثبت کر دیتے ہیں جوبہ ظاہر بہت بڑے موحد بنے ہوئے ہیں اور ہر وقت بدعت بدعت کی رٹ لگاتے ہوئے دوسرے مسلمانوں یا انسانوں کو تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں،تو لوگ اسے بھی ہذیان گردانیں گے ۔ یا ان پیروں کی تجارت ، ان کے خانقاہ اور پیرزادوں کی عیاشیاں لوگوں کے نذرانوں اور بے جا عقیدت ہی کا نتیجہ ہیں تو آپ لعنت و ملامت کے زد میں آ جائیںگے۔ 

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو  دل کی رفیق     یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

          آئینہ تو کوئی بھی دیکھنا نہیں چاہتا۔خواب ہر کوئی دیکھنا چاہتا ہے اور خواب کھلی آنکھ سے نہیں دیکھا جاتا اس کے لئے سونا ضروری ہے اسی لئے قوم جب سو جاتی ہے تو صرف خواب دیکھتی ہے جبکہ حقائق کی آگ اور تپش اسے جلا کے خاک کر دیتی ہے۔ جب عوام خود اس چتا کا ایندھن بننے کو تیار ہوں تو کون انہیں روک سکتا ہے۔ خود پرست دانشوروں یا علما کایہی طبقہ ہے جو لوگوں کو یہ باور کراتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی شکست و ریخت و ذلت و بربادی کے ذمہ دار عیسائی ، یہودی اور ہنود ہیں ۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ اپنی بربادی کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہمارا اپنا منافقانہ ، تاجرانہ اور فرقہ وارانہ رویہ ہے۔ہمارے ذہنوں کی تاریکی ہے ۔ ہماری بیماری نفسیاتی ہے جو مہدسے  لحد تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے دشمن جو ظاہر ہیں وہ تو ظاہر ہیں لیکن کیا کوئی کچھ کر سکتا تھااگر ہم خود اپنے دروازے ان کے لئے کھول نہ دیتے یا اپنی سرحدوں اور وسائل کو ان کے تابع نہ کر دیتے کہ وہ ان راستوں سے کہیں اور جا کے تباہی و بربادی مچاتے اور ہم اپنی ہی رسوائیوں کاتماشہ دیکھتے رہتے ۔ایسی قومیں کم ہونگی جو اپنے ہی لوگوں کو قتل و رسوا کر کے خوش ہو رہی ہوں ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اللہ نے منافقوں کو مشرکوں سے بھی بد تر قرار دیا ہے ۔انکشافِ حقیقت کون کرے ، اپنے سینے میں دبی ہوئی تعصب و نفرت کی چنگاری اور ہوس کاریوں کے جرم کا اظہار سر عام کر کے یہ سب کچھ کیسے تسلیم کر لیں ؟ ہم شخصیت کے قبرستان میں لوبان جلانے اور شمع روشن کرنے میں مصروف ہیں۔

تھا ضبط بہت مشکل اس سیلِ معانی کا    کہہ ڈالے قلندر نے اَسرارِ کتاب آخ

hesham syed

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: