Hesham A Syed

January 5, 2009

Political upheavel and Test of fire

Filed under: Pakistan,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 8:29 am
Tags:

Urdu Article : Sisy joanK aur agnee parikhsha : Hesham Syed

حشام احمد سید

سیاسی جونک اور اَگنی پرکھشا

انسانی معاشرہ ہمیشہ سے انتشار و تعطل و تبدل کا شکار رہا ہے، لیکن بعض حقائق ایسے ہیں جن میں کبھی بھی کوئی بنیادی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ۔ہر نئے جسم و چہرے کے پیچھے نظامِ ابدان دائماًیکساں کام کر تا ہے! دیگرباتیں بھی ایک جیسی ہیں چاہے وہ کسی دور کا انسان و آدمی ہو۔ پتہ نہیں کیوں ابھی تک ہماری قوم اپنی سمت کا تعین نہ کر سکی ، ہر سیاسی جماعت دینی ہو کہ لا دینی یا فوجی ( فوجی بھی تو سب سے زیادہ مستحکم  سیاسی پارٹی ہے )  ایک دوسرے کو ہی ساری خرابیوں کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں۔ پستول اور کلاشنکوف کلچر ، بوری میں لاشوں کا کلچر ، بھتہ کلچر چاہے جماعتیں مذہبی ہوںیا کوئی اور کیا وہ اللہ کی لعنت اور عذاب کے خوف سے بالکل عاری ہو چکی ہیں ؟ اب صرف لوگوں کو ڈرا دھمکا کر الیکشن کا جیتنا ہی مقصد حیات رہ گیا ہے۔ عدالتیں الگ زیر عتاب ہیں حکومت وقت کی یا پھر بے اثر ہیں اپنی ہی بدکاریوں یا بد اعمالیوں کے سبب ۔ہر آدمی خدا بن کے زمین پہ اکڑتا ہوا دندناتا پھر رہا ہے ۔ پاکستان سے متعلق  ٹیلیویژن پہ کوئی بھی ٹاک شو دیکھیں خصوصاً  ARY   یا  GEO  جس میں ہر شعبہ اور ہر طبقہ کے لوگوں کے درمیان بات چیت ہو رہی ہوتی ہے تو آدمی عجیب سی وحشت و قنوطیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ان کے فورم پہ بیٹھے ہوئے لوگ آپس میں ایسے لڑ رہے ہوتے ہیں جیسے کہ مرغے یا بیلوںکی لڑائی ہو۔سنتے ہیں کہ یہی حال اسمبلی اور سینیٹ میں بھی ہے وہاںجس طرح سیاستداں اور دانشور ایک دوسرے پہ کیچڑ اچھال رہے ہوتے ہیں ، الزامات   غبن سے لیکر قتل و غارت و اغوا و جبر و تشدد کی فہرست سنا رہے ہوتے ہیںتو ہم جیسا انسان یہ سوچتا رہ جاتا ہے کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جو قوم کے لیڈر بنے ہوئے ہیں اور جن پہ اس کے مستقبل کا دارومدار ہے اور عوام یا قوم ان پہ اعتبار کرنے پہ مجبور ہے ؟ کیا ہماری قومی سیاست میں اب نرے جاہل ، لٹیرے ، قاتل ، دہشت گرد ، زانی و شہوت پرست ، بے دین و دیانت ، بے شعور و  بے ضمیر ، سیاسی پیروں کے موروثی گدی نشین ، دادا و باپ کی لوٹی ہوئی دولت کے نشہ سے سرشار لوگ ہی رہ گئے ہیں ؟ کیا حکومت صرف ایک ڈھکوسلہ ہے ۔قوانین تحفظ انسانی صرف  امرا اور ان کے عیش کی بقأ کے لئے ہے جبکہ غربا ء یا عام آدمی کے لئے قانون کا بہیمانہ رویہ ہے ۔خود ساختہ دانشوروں ، شاعروں و ادیبوں کی طویل فہرست میں وہ لوگ ہیںجن کا کام صرف لوگوں کو الجھانا ہو ، روشن خیالی کے بہانے دین و مذہب سے بیزاری پیدا کرنا ہو۔ علما کا طویل دورانیہ جن کا کام لوگوں کو افیم کی گولی دے کر سلا دینا ہو، مذہب کے نام پر صرف اختلاف کو ہوا دینا ہواور ان اختلاف کا فائدہ دشمنانِ دین اٹھائیں ، ان کے ادارے اسلام ہی کے نام پہ مسجدِ ضرار بناتے رہیں ۔ نئے نبی و رسول و مظہرِ خدا کا ظہور ہوتا رہے ۔ کیا ان حالات میں ہم بحیثیت ایک قوم کے جی سکیں گے یا در پردہ غلامی کی ہی فضا سازگار رہے گی ؟

           انتخابی مہم میں وکیلوں اورسیاسی دانشوروں کی طرف سے یہ بات بھی کی جارہی ہے کہ فیئرالیکشن اسی وقت ممکن ہے کہ ہمارے سیاستدان جو ملک کو لوٹ کر باہر بیٹھے ہیں ، تجارت کر رہے ہیں ، انڈسٹری لگا رہے ہیں ،  رئیل اسٹیٹ میں انوسٹ کر رہے ہیں ، اور کچھ کا بھتہ اپنے ہی ملک میں دہشت گردی پھیلا کر جمع کر کے انہیں بھیجا جا رہا ہے یا پھر پاکستان سے باہر چندہ جمع کر کے بھیجا جا رہا ہے ، ان سب کے جرائم کو معاف کر دیا جائے ۔ عوام و قوم انہیں ایک بار پھر اعتبار کر کے پورے ملک کو لوٹنے کا وافر موقع فراہم کرے ۔ باہر وہ آرام کی زندگی تو گزار رہے ہیں لیکن انہیں قوم و ملک کا غم کھائے جا رہا ہے یا وہ خود اس غم کو کھا رہے ہیں۔ اسی غم میں ان لوگوں کا وزن روز بروز بڑھ رہا ہے جو اگرچہ صحت کے لیے مضر ہے ، انہیں ہارٹ اٹیک بھی ہو سکتا ہے ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ وہ ایک بار پھر قوم پہ اٹیک کریں! قوم کا کیا ہے وہ تو بائی پاس کرواتی ہی رہتی ہے۔ سنا یہ ہے کہ پرانے زمانے میں جب کسی آدمی کا خون کا دباؤ بڑھ جاتا تھا تو جسم میں جونک لگوا کر اس کا علاج کیا جاتا تھا ۔ ہماری قوم کے لئے بھی سیاست کے جونکیں کثرت سے دستیاب ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ جونکیں خون چوسنے کی اتنی عادی ہوچکی ہیں کہ ایک بار چپک جائیں تو چھڑائے نہیں چھوٹتیں۔یہ سوال ابھی تک لاینحل ہے کہ کیا پاکستان کی پوری آبادی میں صرف یہی چند خاندان رہ گئے ہیں حکومت کرنے کے لئے ؟ کیاپاکستان ان کی موروثی جاگیر یا جائداد ہے ۔ آزمودہ کو آزمانا کیا ضروری ہے ؟ اگر فریش اسٹارٹ ہی لینا ہے تو فریش اور قابل اعتبار لوگوں سے کیوں نہ لیا جائے ؟ دیکھنے میں تو یہ بھی آرہا ہے باہر بیٹھ کر اب یہی پرانے سیاستداں اپنے گنجے سر پہ بال کی کاشت کروارہے ہیں ، چہرے مہرے سے جوان نظر آنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ لوگ ان کے پرانے چہروں کو بھول کر انہیں ایک تر و تازہ فریش اور قابل اعتبار سیاسی ماڈل ہی سمجھیں ۔اب اداکار وں اور اداکاراؤں تک ہی صورت بدلنے کی ریت نہیں رہی ہے۔ سیاست بھی تو اداکاری ہے، بے شک پٹے ہوئے مہرے ہوں ، سیرت کو کون دیکھتا ہے ؟ صورت بدل کے تو اس اکھاڑے میں عوام کو پھر دھوکہ دیا جا سکتا۔چہرہ بدلے گا تب ہی تو لوگ کہیں گے کِنّا سوہنا منڈا لگدا ہے ، پپو یار تنگ نا کر !

          ایک بحث یہ بھی ہے کہ سیاست اور مذہب میں کشمکش ہے یا یہ ہم آہنگ ہیں ۔ دنیا کی تاریخ کے اعتبار سے تو دین و مذہب کی بنیاد پہلے پڑی سیاست کی اصطلاح بعد میں آئی۔ سیاست کی تعریف یونانی فلسفیوں نے کیا کی وہ ایک الگ بات ہے لیکن عرف ِعام میں چالاکی ، مکاری ، دھوکہ دہی ، بد نیتی ، بے عقلی ، جنوں خیزی ، سازش و قتل و غارت سب سیاست کے اوزار ہیں ۔جس کو ان میں جتنی مہارت حاصل ہے وہ اس زمانے میں اتنا ہی بڑا سیاستداں ہے۔ آدم و نوح و ابراہیم ولوط و اسحاق و اسمٰعیل ، داؤد و سلیمان ، موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام اجمعین و محمد ؐ  تک کیوں جائیں ، پچھلے چند سو سالوں میں ہی اسرائیل کا قیام مذہب کی بنیاد پر ہوا اور اسکے مذہبی تشخص کی بھر پور حمایت ساری اقوام مغرب کر رہی ہیں اب ان میں تو ماشااللہ چند اسلامی مملکتیں بھی پیش پیش ہیں ۔ جتنی بھی صلیبی جنگیں لڑی گئیں وہ مذہب ہی کی بنیاد پر لڑی گئیں، اسلامی دنیا اور غیر اسلامی دنیا کی کشمکش بھی مذہب ہی کی بنیاد پر ہے۔ چاہے کوئی اسے جتنا بھی کوئی اور رنگ دینا چاہے ، آئر لینڈ کی خانہ جنگی بھی مذہب ہی کی بنیاد پر ہے ، پاکستان کے قیام کے لئے بھی مذہب ہی کا سہارا لیا گیا ۔ خود اسلامی مملکتوں میں آپس کی خانہ جنگی کی بنیاد بھی مذہب ہی ہے اس طرح کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جو اس حقیقت کی وضاحت کرتی ہیں کہ مذہب و سیاست کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ جو لا مذہبیت کا نعرہ لگاتے ہیں وہ بھی اصل میں ایک نئے  مذہب کو ایجاد کرتے ہیں اور اس کا پرچار کرتے ہیں، انسانی طرز معاشرت سے مذہب کا خانہ خالی نہیں ہوسکتا۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ اللہ کے دین و مذہب کو بجائے صحیح طور پر استعمال کرنے کے اس کی غلط تعبیر کر کے سیاسی اور مادی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ مذہب و سیاست کا ملاپ ایک اگنی پرکھشا ہے جس میں یا تو آدمی جل کر خاک ہو جاتا ہے یا اگر حق و صداقت پہ ہو تو وہی آگ تشخصِ ابراہیمی کے لئے گل و گلزار بن جاتی ہے ! لیکن یہ پرکھشا تو ان کے لئے ہے جو خود آگ میں کودیں اور سلامت نکل آئیں۔یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ دوسرے کے گھروں کو آگ لگانے والے بے شمار ہیں ۔ اس تماشے میں جو مزہ ہے اس کے کیا کہنے !

          سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ ۷۵ اسلامی ممالک میں کون سا ملک ہے جہاں جمہوریت آجانے کے قریبی امکانات ہیں ، جواب آیا کہ پاکستان۔ قطع نظر اس بحث سے کہ کیا جمہوری طرز حکومت ہی کے ذریعہ ہم معاشرتی عدل و دیانت و صداقت و امانت کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں یا اس کے لئے علم و شعور کا ہونا ضروری ہے ؟ غلط یا صحیح یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ایک خدشہ ضرور ہے کہ :    ؎

وہ  قوم نہیں لائقِ  ہنگامۂ  فردا     جس  قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے

مری نوا سے گریبانِ لالہ چاک ہوا     نسیم ِ  صبح چمن کی تلاش میں ہے ابھ

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: