Hesham A Syed

January 5, 2009

Slavery an attitude !

Filed under: Muslim world,Pakistan — Hesham A Syed @ 8:58 am
Tags:

Urdu Article : Khooey Ghulaami – hesham syed — in ref to Pakistan and Arab world

حشام احمد سید

 خوئے غلامی

(۱)کچھ  پاکستان  کے  حوالے  سے

= ایک بار پھر وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ خالی ہے۔ اب کے جونیجو نہیں جمالی ہے۔ سن تو رہے ہیں کہ چوہدری صاحب اپنی چوہدراہٹ چھوڑ کر شوکت عزیز کے لیے جلد ہی یہ گدی خالی کر دیں گے ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ  صدارتی محل میںطے پا چکی تھی اور اس سلسلے میں بہ ظاہر پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔ شوکت عزیز ویسے تو ماہر بینکاری ، اقتصادیات و مالیات ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ملک کی معروف سیاست ، آپس کی عداوت ، مختلف طرح کی ثقافت ، صاحب ِ دربار سلامت سے کیسے نپٹتے ہیں۔جمالی کے ساتھ جو ہوا وہ تو ہماری تاریخی روایت ، فوجی شجاعت کا ہی حصہ ہے اس لیے حیرت نمی کند۔حزب مخالف میں جو لوگ بیٹھے ہیں وہ کبھی چوہدری شجاعت کے چوہدرانہ عزائم کو اکسا رہے ہیں اور کبھی شوکت عزیز کے سیاسی نا تجربہ کاری کا رونا رو رہے ہیں۔ کچھ نے ایک یہودن کو ان کی دوسری بیوی بنا ڈالا ہے اور انہیں مسلم ذائنسٹ کا لقب دے ڈالا ہے۔بغضِ معاویہ ہو کہ حبِ علی یہ ہمارے مزاج کا حصہ ہے اور اس سے ہم آج تک چھٹکارا نہ پا سکے۔ جب کوئی اور بات سمجھ نہ آئے تو اپنے ہر مسئلے کی ذمہ داری ہم بڑی آسانی سے صیہونی قوتوں سے سر منسوب کر کے مطمٔین ہو جاتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ پاکستان میں اب تک سر چڑھ کے وہی بولا جس کے سر پہ صاحب بہادر یعنی امریکہ کا ہاتھ رہا ۔ جب کسی نے ذرا اِدھر اُدھر دیکھا یا سوچا تو یہ دستِ شفقت ہٹا لیا گیا اور پھر یا تو وہ گولی کا نشانہ بنا دیا گیا ، سولی پہ چڑھا دیا گیا ، یا جہاز پہ آم کے کریٹ کے ساتھ بٹھا دیا گیا اور دیکھئے ابھی کیا کیا مناظر سامنے آ تے ہیں۔ یہ نائین الیون کا واقعہ کیا ہوا کہ پاکستان میں ایوانِ حکومت میں بیٹھے ہوئے فوجیوں کی بھی قسمت بدل گئی ور نہ اب تک تو نہ جانے کتنے چہرے بدلے جا چکے ہوتے اگر ہم ہمکتے ہوئے صاحب بہادر کی گود میں بیٹھ کر ان کا  انگوٹھا نہ چوس رہے ہوتے اور سچ تو یہ ہے کہ   ؎ 

ہے  سیاست  میں  ہر کوئی  بیگن   :   ہر جماعت ہی  جیسے  تھالی ہے

جب تلک ہو  نہ  کوئی  امریکی   :   اس  کا  ہونا بھی  گو شمالی  ہے

جن سے ہمیں محبت تھی وہ قابلِ نفرت قرار پائے ۔جو باتیں وجہ نفرت تھیں وہ محبت کا سبب بن گئیں۔    ؎

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام  :  وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں  ہوتا

 مرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے کا جھنڈا لے کر طائفوں کا ٹولہ ہر جگہ لہرا تو رہا ہے۔ انسانی برادری کو تو اک نہ اک دن ایک ہونا ہی ہے۔ جب عالمی سیاست کی باگ ڈور صرف ایک ہی ملک کے ہاتھ ہو تو اسی کے رنگ میں کیوں نہ رنگ جائیں۔ سنگِ آستاں پہ سر پھوڑنے کا عمل کب تک جاری رہے گا؟ ہو رہے گاکچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟پڑوسی ملک سے اب بھائی چارہ، دوستی و رواداری کی فضا بھی قائم کی جارہی ہے اور ہر معاملے میں انکی اتباع بھی کی جا رہی ہے۔ وہاں اگر ایک ماہرِ مالیات کو وزیرِ اعظم کی گدی پہ بٹھایا جا سکتا ہے تو یہ کام پاکستان میں کیوں نہیں ہو سکتا؟ سو یہی کچھ تو ہو رہا ہے۔ آخر ہم بھی فقط وعدۂ حور پہ کب تک جیتے اور مرتے رہیں گے ـ کچھ فکرِ معاش و اقتصادیات بھی ہو !!   ؎

یہ آزادی کا شور مبارک  :  یہ تقلیدی  ہے  دور مبارک۔

          ہمارے گھروں میں ، محفلوں میں اور حواس پہ جب ایشوریا رائے ، مادھوری ڈکشٹ ، رتیک روشن ، خانوں اور کپوروں کے خاندان چھائے ہوئے ہیں ۔ ہم بھی اب ہر تقریب کا رنگ ان جیسا ہی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جب ہم خود اپنی تہذیب و ثقافت ، رہن سہن کے ڈانڈے گنگا جمنی تہذیب سے ملا رہے ہیں۔موسیقی ، گانے اور رقص کو روح کی لطافت قرار دیتے ہیں ۔پتنگ بازی ، کبوتر بازی اور میلے ٹھیلے کو اپنی ثقافت کا حصہ سمجھتے ہیں تو سیاست میں ان کی شاگردی اختیار کرنے میں کیا رہ جاتا ہے ؟ یہ تو عالمی سطح پہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ وہ اس وقت سب سے بڑی جمہوری حکومت ہے اس لئے یہ وقت زانوئے ادب تہہ کرنے کا ہے۔ ؟ کیا ایسا ہی ہے ؟ بہر حال۔ ع

پیوستہ رہ شجر سے ا  میدِ بہار رکھ 

پاکستان کے عوام تو ہر آنے والے کو امید کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور جانے والے کو غم و غصے ، افسردگی ، حیرت اور حسرت سے۔

          پاکستانی ہجرت کر کے امریکہ ، کنیڈا ، یورپ کیا آئے کہ لگتا ہے ناچنے گانے والوں کا ایک ٹولہ آگیا ہے ۔ وہی بھنگڑا اور دھمال ، وہی قوالیاں اور بے سُری محفلیں ، مشاعرے کی رنگ آمیزیاں ، وہی گروہ بندیاں ، وہی خود ستائش اور ذاتی پزیرائی کی تقریبات ، وہی مسجدوں میں تنازعات کی قطار ، وہی سیاسی شاطروں اور چندہ مانگنے والوں کی یلغار ، وہی ملحدانہ و اشتراکی رویہ ، بے مقصد تحریر و تقریر ،صرف ہنگامہ آرائی اور شور شرابے میںتضیعِ اوقات ۔ بزم آرائی ہونی چاہیے چاہے کوئی کچھ بھی کہے یا سنے ۔ تصورِ حیات بس یوں ہے کہ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست  اور ایسے میں اگر کچھ کہیے تو    ؎

حریفوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں

کہ  اکبرؔ  نام  لیتا ہے  خدا  کا  اس  زمانے میں

(۲)کچھ عربستان کے حوالے سے

حال ہی میں لندن میں مقیم کنیڈین صحافی گان ڈیر کی رپورٹ پڑھی، جس کا مفہوم آ پ کی توجہ کا طالب ہے :

مغربی مملکتوں اور حکومتوں نے عربوںپہ پچھلے ایک صدی سے کم عرصے سے ان پہ ظالم حکمرانوں کومسلط کر کے انہیں غربت و افلاس اور جہالت میں مبتلا کر دیا ہے جہاں کسی زمانے میں علم پنپتا تھا۔ پورے عالمِ عرب میں پچھلے سال صرف  ۰۰۳ کتابیں ترجمہ کی گئیں گویا ایک ملین عربوں کے حصہ میں صرف ایک موضوع کی کتاب  آئی جبکہ یونان میں ۰۵۱ موضوعات پہ کتابوں کی شرح ایک ملین یونانی ہے۔

          گان ڈیرنے نومبر ۳۰۰۲ میں صدربش کی اس تقریر پہ تبصرہ کیا ہے کہ عرب ملکوں میں جو انتہا پسندی اور علم و ہنر سے دوری کی فضا قائم ہے اسے صحیح کرنے کی ذمہ داری امریکہ کی ہے۔ لیکن جہالت کی اس فضا کو بنانے اور استوار کرنے کی بھی تو ذمہ داری امریکہ اور اس کے ساتھ ساری مغربی ملکوں کی حکومتوں کی ہے۔ تمام عرب مملکتوں پہ ظالم حکمرانوں یا اپنے گماشتوں کو مسلط کر کے خوب فائدہ اٹھایا اور انھیں لوٹاگیا۔

 ٭اُردن جو کہ ملک شام کا صوبہ تھا اس میں عثمانی حکومت کو ہٹا کر ہاشمی بادشاہت کا قیام پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کے ہاتھوں ہوا۔

٭ فرانسیسیوں نے لبنان کو شام سے علیحدہ کر کے الگ مملکت قائم کی۔

٭ برطانیہ نے عراق میں ہاشمی حکومت اور سنی حکومت کو قوت بخشی۔جب ۸۵۹۱ ء میں باتھ پارٹی کا قیام ہوا تو  سی آئی اے نے اس کے ساتھ بھر پور تعاون کیا اور مخبری کر کے سارے شیعہ لیڈروں کو تہ تیغ کر وایا۔

٭برطانیہ نے خلیج میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنا کرہر جگہ قبیلہ نما سرداروں کو بادشاہ بنا کر اناپرستی کی آگ لگا دی۔

٭ کویت کو عراق سے الگ کر کے ایک نئی مملکت بنائی۔

٭سعودی حکومت بھی برطانیہ اور امریکہ کی ملی جلی کوشش کا نتیجہ ہے ۔

٭مصر میں برطانیہ نے فاروق کی حکومت کا تختہ الٹنے میں جمال عبدالناصر کا ساتھ دیااورپھر فرانس کے ساتھ مل کر ناصر کے خلاف سوئز کنال کے سلسلے میں سازش کی اور جب ناصر کا انتقال ہو گیا تو انوار سادت اور پھر حسنی مبارک کو امریکہ نے اپنا پٹھو بنائے رکھا ہے۔

٭ لیبیا کی بغاوت میں بھی برطانیہ ہی قدافی کو سامنے لایا تاکہ وہ ہمیشہ انس کے گُن گاتا رہے۔ہر چند کہ برطانیہ کو اس سلسلے میں کچھ مایوسی ہوئی لیکن لیبیا اب امریکہ کے سامنے سرنگوں ہے۔

٭امریکہ اور فرانس نے ڈکٹیٹر حبیب بورقیبہ کا تیونیسیا میں ہمیشہ ساتھ دیا اور اب بو علی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اسی طرح مراکش کی بادشاہت کے بھی معاون رہے اور الجیریا کے اس ڈکٹیٹر کا بھی ساتھ دیا جس نے ۱۹۹۱ ء میں الیکشن کو رکوایا اور پچھلے دس سالوں میں ۰۰۰،۰۲۱ لوگوں کا بہیمانہ قتل کروایا۔

٭فلسطین اور اسرائیل کا مسئلہ زباں زدِ عام ہے اس میں امریکہ اور یورپی ممالک کے کردار کے بارے میںمزید کچھ لکھنا بیکار ہے.

 ٭ پاکستان ، ایران ، انڈونیشیا ، ملایشیا ، کشمیر ، بوسنیا، افغانستان وغیرہ کے ساتھ یہ جو کچھ کر تے رہے ہیں اس کا ذکر یہاں اس لئے نہیں ہے کہ یہ غیر عرب قومیت ہیں۔

          مندرجہ بالا تاریخی حقیقتیں اس بات کی تو سند ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں انتشار و بد حالی کی باعث وہ خوشحال اور بظاہر ترقی یافتہ مملکتیں ہیں جنہوں نے اپنے گماشتوں کے ذریعہ مشرقِ وسطیٰ میں پائی جانے والی خدا داد دولت اور سرمائے کو لوٹا اور اسی دولت سے بنائی ہوئی اپنی عسکری قوتوںکی بنیاد پر وہ بیرونی قوتیں بھی اس علاقے کے حاکم بنی بیٹھی ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ عرب مملکتوں کے سارے ہی حکمراں بے حد گمراہ اور بے ضمیر لوگ ہیں جنہیں عوام کی فلاح سے زیادہ اپنی کرسی عزیز ہے۔ مغربی ممالک کی حکومتوں کی دوغلی پالیسی نے سارے جہاں سے اس کا  سکون چھین رکھا ہے لیکن یہ خود چین کی بنسری بجا رہے ہیں ۔ ایک مغربی صحافی تو یہ باتیں کھُل کر لکھ سکتا ہے لیکن ہم سچائی کو کہتے اور لکھتے ہوئے ڈرتے ہیں ۔ غلامانہ ذہن یہی سوچتا رہ جاتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے ۔ حجاب ہماری عقل پہ ہے لیکن ہم ساری دنیا میں عورتوں کے سر کے حجاب کے لیے واویلا کرتے پھر رہے ہیں۔ جب خودی ہی باقی نہیں رہی ، جب ہمیں اپنی شکل ہی بُری لگنے لگی ، جب مقصدِ حیات ہی معدوم ہوگیا تو اور کیا کہا جائے؟

مسلمانوں کی جانب سے خلافت کی جدوجہد، یکجہتی اور اسلامی ملکوں کی دولتِ مشترکہ کے تصوراور اس کے عملی قیام کوروکنے اور ختم کر دینے ہی میں مغربی استعمار یا اسلام دشمن قوتوں کی کامیابی کا راز ہے۔

خواجگی میں  کوئی  مشکل  نہیں  رہتی  باقی  

پختہ ہوجاتے ہیں جب خو ئے  غلامی میں  غلام

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: