Hesham A Syed

January 5, 2009

Stranded Pakistani – since 16 Dec 1971

Filed under: Pakistan,Urdu Poems — Hesham A Syed @ 1:12 am
Tags:

Urdu Poem / Nazm : Mahsooreen Pakistan – hesham syed

محصورین  پاکستانی

مشرقی پاکستان  یا  بنگلہ دییش )

کے  حالات  و  فریاد

 

سر ُاٹھا کے چلے سر کٹاتے رہے

ہر قدم پہ یہاں زخم کھاتے رہے

جس وطن نے ہمیں بے وطن ہے کیا

اُس وطن کے لیے جاں لُٹاتے رہے

ہم نے چھوڑی زمیں کارواں لٹ گیا

اپنے ہاتھوں سے خود کو مٹاتے رہے

ہم نے ہجرت کیا کہ عبادت کیا

پاک سر زمین پر سر جھکاتے رہے

جن کو اپنا سمجھتے رہے ہم سدا

غیریت سے ہم اُن کی نبھاتے رہے

شکوہ کس سے کریں اے سماں تو بتا

اپنے ہی غم میں دل کو رُلاتے رہے

جھیلتے ہی رہے بے رُخی کے ستم

ہر زمانے کو یاں آزماتے رہے

رہگذر بن گئے بے نشان و گماں

ہر کے قدموں میں خود کو گراتے رہے

جسم چھلنی ہوا دل لہو ہو گیا

چاند تارے کو لیکن سجاتے رہے

 

 

گرچہ طوفان تھا حوصلے تھے جواں

بادباں اور عَلَم کو اُٹھاتے رہے

تیرگی ہر طرف جتنی بڑھتی رہی

اپنے خوں سے دیے ہم جلاتے رہے

ہم وطن نے ہمیں بے وطن جب کیا

اُن کے جور و ستم کو بھلاتے رہے

اپنے اندر کی سچائی مٹ نہ سکی

لوگ سرِ دار ہم کو چڑھاتے رہے

خواب کیسا سنہرا دکھایا گیا

قتل گاہوں میں بھی مسکراتے رہے

نفرتوں کی لہر روز بڑھتی رہی

پسِ ساحل گھروندے بناتے رہے

عصبیت کے سمندر کے پھیلاؤ میں

ہم محبت کی کشتی کھواتے رہے

اپنے ہاتھوں کو پتوار کر بھی لیا

یہ سفینے مگر ڈگمگاتے رہے

اپنی بستی اجڑتی رہی بارہا

بارہا اپنی بستی بساتے رہے

لیڈروں فوجیوں نے کیا استعمال

اُلٹا احسان ہم پر جتاتے رہے

توڑ کر خود وطن کو سب خوش ہیں وہاں

کرب ایسا کہ ہوش ہم گنواتے رہے

 

بے حسی کا تماشہ بھی دیکھا کی

اپنی آنکھوں میں اشک آتے جاتے رہے

سبز پرچم کے ہم تو محافظ بنے

ہم وطن سبز جھنڈی دکھاتے رہے

روزناموں کی بھی سرکولیشن بڑھی

صرف باتوں سے دِل کو لبھاتے رہے

وہ جو دشمن تھے دیں کے اور ننگِ وطن

ملک پر اپنا قبضہ جماتے رہے

کیا ستم تھا جو ہم پہ نہ توڑا گیا

بے خودی میں مگر گنگناتے رہے

ذکر جب پارلیمنٹ میں ہمارا ہوا

سارے لیڈر ہی دامن بچاتے رہے

ہم نے دعویٰ کیا ہم ہیں اہلِ وطن

لیکن سارے ہی نظریں چراتے رہے

یہ اَلَم ہے کہ تاریخ کا سانحہ

بے ضمیری کے رُخ بھی ستاتے رہے

گندے نالوں کے کیڑوں کی ہے زندگی

اپنے بچے یہاں بلبلاتے رہے

بھیک پہ ہی گذرتی ہے اب زندگی

این جی او کچھ دلاسہ دلاتے رہے

ہاتھ پھیلائے اپنے دعا کے لیے

شب کو سجدوں میں بھی گڑ گڑاتے رہے

 

 

دور تک ہے خلاؤں میں تاریکیاں

جگنو آنکھوں میں ہی ٹمٹماتے رہے

نہ رہائیش نہ تعلیم و صحت کا نظام

اپنے بچوں سے نظریں چراتے رہے

باقی عزت نہ حرمت نہ عصمت رہی

اپنی نظروں میں خود کو گراتے رہے

آج تو آج ہے نا ہے کل کی خبر

وسوسے ، خوف ہم کو ڈراتے رہے

اک قیامت ہی ہے انتظارِ سَحَر

درد شعروں میں ڈھل کے بھی آتے رہے

آج بھی دھڑکنوں میں ہے یادِ وطن

پاک پرچم گھروں میں لگاتے رہے

اپنی نسلیں تباہ ہو گئی ہیں تو ہوں

پھر بھی قومی ترانہ ہم گاتے رہے

ہاں یہ تحفہ وفاؤں کا ہم کو ملا

چھ دہائی سے دھوکہ ہی کھاتے رہے

دل ربائی نہیں اب حشر ہو بپا

کیوں ستم آسماں کے اٹھاتے رہے

کوئی سنتا بھی ہے یہ صدا اے حشامؔ

قوم کو تم ہمیشہ جگاتے رہے

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: