Hesham A Syed

January 5, 2009

Terrorism in the World !

Filed under: Global Politics,Islam,Muslim world — Hesham A Syed @ 9:13 am
Tags:

Urdu Article : Dahshat Gardy – israeli , Russian , American , or Intellectual / Spiritual — hesham syed

حشام احمد سید

 دہشت گردی

( اسرائیلی ، روسی ، امریکی یا فکری و روحانی ؟ )

 

روس میں ۰۲ ملین سے زیادہ مسلمان آبادی ہے جو زیادہ تر کاوکاسس اور روس کے مرکزی علاقے میں مقیم ہیں۔

خبروں کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ :

(۱ )  روس کے آٹھ ۸ فوجی جو مسلمان ہیں وہ اپنے ساتھیوں کے ہاتھ سے زدکوب ہوکر اپنے فوجی حلقے سے بھاگ نکلے۔ ان پہ ان کے ساتھیوں نے ظلم صرف اس تعصب کی بنا پر کیا کہ وہ مسلمان ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے رشتہ داروں کے یہاں پناہ لی لیکن ان کے رشتہ داروں نے روسی فوج کی زیادتیوں اور ظلم کے خوف سے انہیں واپس کر دیا ، ان کا حشرکیا ہوا اللہ کو معلوم ہے۔ 

(۲)  مسلمان عورتوں کی آبروریزی کے بعد قتل کے متعدد واقعات ہو رہے ہیں ، ان کے برہنہ جسم پہ خون سے یہ بھی لکھ دیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کے لیے موت ہے۔

 (۳)  مسجدوں پہ حملہ اور ان کو تہس نہس کرنے کے واقعات بھی متعدد ہیںاور دیواروں پہ متعصبانہ اقوال کندہ کردیے جاتے ہیںجس کی وجہ سے دسیوں مساجد بند کر دی گئی ہیں۔نئی مساجد کی تعمیر بھی روک دی گئی ہے۔ (۴)  ۰۰۰،۰۴ (چالیس ہزار)سے زیادہ روسی مسلمانوں نے اس ظلم کے خلاف جلوس بھی نکالا لیکن نتیجہ صفر ہے۔

 (۵ )  ۲۲۳  افراد جس میں ۵۵۱ بچے شامل ہیں روسی افواج   کے حملہ سے مر گئے ، ۰۰۷ افراد زخمی ہیں۔ روسی فوج نے حملہ شمالی اوسیٹیا کے سکول سے بچوں کو یرغمالیوں کے ہاتھ سے چھڑانے کے لیے کیا تھا۔

 (۶)  اسلام سے نفرت اور نسلی فسادات کا پرچار کیا جارہا ہے۔

          مندرجہ بالا سارے واقعات و حادثات اس سے کچھ مختلف نہیں جو کشمیر ، افغانستان ، عراق ، فلسطین ، سعودی عرب، پاکستان ، ہندوستان ، انڈونیشیا ، امریکہ اور دوسرے ایشیائی و خلیجی و افریقی و یورپی ممالک میں کیا جا رہا ہے۔

          تمام دنیا کی آبادی تو پہلے ہی دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی ۔ ایک غیر متحداسلامی اور دوسری متحد غیر اسلامی ۔ تیسری کوئی آبادی سطح زمین پر نہیں تھی لیکن اب اسلامی گروہ میں واضح طور پر تین طبقے ہیں ۔ایک وہ جو کہیں بھی اپنے حق کے لیے ہتھیار اٹھا نے سے گریز نہیں کر تا انہیں اسلامی دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے ۔دوسرا وہ گروہ جو اپنے حق کے حصول کے لیے یا تو کوشش نہیں کر رہا کہ اسے صرف حلوے مانڈے سے غرض ہے اور جو اپنے سجے سجائے کمروں میں عقلی تاویلیں کرتا ہے یا دانشور بن کر تقریر و تحریر کے جوہر دکھاتا ہے کبھی ان دہشت گردوں کے خلاف تو کبھی ان کے حق میں ، یہ اس بات پہ منحصر ہے کہ محفل میں افراد کس قسم کے ہیں یا اس کے سامعین و قارئین کیا سننا یا پڑھنا چاہ رہے ہیں ۔ یہ وہ گروہ ہے جو اپنے روشن خیال ہونے کے مدعی ہیں جس کے لیے منافقانہ رویے کی ہی ضرورت ہے۔ منافقت کا درخت بھی تو بے جامصلحت انگیزی ، بزدلی ، خوف اور بے یقینی کی ہی مٹی اور فضا میں ثمر آور ہوتا ہے۔ تیسرا گروہ وہ ہے جسے صرف اپنی گدی پیاری ہے اور جو متحدہر اسلامی گروہ کے ساتھ شامل ہو کر ریاستی دہشت گردی کا پرچار کر رہا ہے اور اسلامی تشخص کی نئی تاویلیں کر کے اپنی غلامی کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر رہا ہے ، اقوامِ عالم کے بڑے ملکوں کے ساتھ ہی اسے اپنی بقا نظر آتی ہے۔ ہر وقت ٹیکنالوجی اور اقتصادی طور پہ بر تر اقوام کا بھوت ان کے سر پر سوار ہے۔ سو انہیںہر سر جو ان کے ظلم کے خلاف اٹھتا ہے دہشت گرد ہی نظر آتا ہے اور وہ اسے قلم کر دینا چاہتے ہیں۔ اس طبقے میں حکومت کرنے والے بھی ہیں اور ضمیر فروش علما اور فقہا کا گروہ بھی ہے۔

          یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ دونوں گروہوں کو کسی نہ کسی طور پہ کسی بڑے ملک اور اس کی نظریاتی و اقتصادی مدد مل رہی ہے۔ ہر عمل کا ایک ردِ عمل ہے اور پسِ پردہ محرکات ہیں جس کے تانے بانے معاشرے میں اقتصادی اور معاشرتی نا انصافیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ رہ گئے وہ لوگ جو دن رات اپنی زندگی گزارنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ وہ حیران و ششدر تصویر  ِحیرت بنے اطراف میں اور ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھ رہے ہیں۔ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ؟ یہ بحث اتنی الجھ گئی ہے کہ اس کی ڈور کو سلجھانا کارِ دارد۔ آج جو جد و جہد جہاد کی قبیل میں شمار ہوتی ہے کل وہی قبیلہ پرستی ، دہشت گردی اور فتنہ انگیزی کہلاتی ہے۔ یہ فرق اور اصطلاح یا فتوں کا تغیر صرف اس بات پہ ہے کہ کیا آپ موجودہ مدعیان ِ قوت کے ساتھ ہیں یا اس کے خلاف ہیں۔ دونوں اندازِ فکر کے حمایت میں یا مخالفت میں مفتیانِ دین ، لمبے ریش و دستار و جبہ والے اپنے پلے پلائے تن و توش اور صوتِ بلندسے فتوؤں اور دلیلوں کی ریل پیل لگا رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں یا ماحول میں محفلوں میں یا تو اس بات پہ لوگ مشتعل ہوجاتے ہیں یا پھر اسلام کے بارے میں نہایت معذرت خواہانہ رویہ رکھتے ہیں۔

           اس بات کا انسانی یا اسلامی جواز نہیں کہ کسی بھی چھوٹے یا بڑے مقصد کے حصول کے لیے کسی معصوم انسان کی جان لی جائے یا اسے قربانی کا بکرہ بنایا جائے وہیں یہ بات بھی نا قابل قبول ہے کہ بڑی طاقتیں کسی بھی غیر اہم واردات یا واقعہ کا بہانہ بنا کے کسی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں اور کروڑوں لوگوں کو مہک بم  یا زہریلے ہتھیاروں سے بھون دیں بلکہ ان کی نسلوں کو تباہ کر دیں۔ اگر ایک یا چند انسان کی جان لینا چاہے وہ کسی ظلم کا ردِ عمل ہی کیوں نہ ہو اگر خود ظلم ہے تو بڑی قوتوں کا یہ رویہ بہیمانہ ، سفاکانہ اور ظالمانہ ہی ہے۔ اسے انصاف نہیں کہا جائے گا بلکہ یہ بھی درندگی کی انتہائی شکل ہی قرار پائے گی۔

:                   جو حضرات امریکہ یا کنیڈا یا یورپی ممالک میں ہجرت کر آئے ہیں ان میں سب تو نہیں لیکن متعدد افراد ایسے بھی ہیں جو اپنے نام میں احمد اور محمد کو حذف کر رہے ہیں ۔اپنے آپ کو جون ، بوب ، پیٹر ، کان ، سِڈ وغیرہ کہلوانا پسند کرتے ہیں کیوںکہ اس سے انہیں روزگار کی سہولت ہو جاتی ہے۔ نماز یا کسی قسم کی اسلامی رسوم کو ایک ذاتی مسئلہ سمجھتے ہیں ، وہ ہر مذہب کی رسوم میں شامل ہوتے ہیںاور سمجھتے ہیں کہ اس سے انسانیت کو تقویت ملتی ہے ۔چاہے ان اقوامِ غیر کے عقائدکتنے ہی مشرکانہ یا ملحدانہ یا بے حجابانہ کیوں نہ ہوں ۔یہ نام نہاد مسلمان ایسی ہی فکر کے لوگ ہیں جو دین کے معاملے میںکسی قسم کی  جدوجہد کو جائز قرار نہیں دیتے سوائے ڈالر ، اور پاونڈ کی زیادہ سے زیادہ حصول کی کوشش کے۔ ایسے روشن خیال مسلمان سطح عام پہ ابھرتے جا رہے ہیں ، ان کا دھمال ہراس جگہ دیکھنے کو ملتا ہے جہاں تقریبات میں انسانیت کے حوالے سے گفتگو ہوتی ہے اور اللہ کے دین یا اس کے رسول ؐ کی توہین یا انؐ کے قول و فعل کا تمسخرہی اڑایا جاتا ہے۔ لوگوں کی طرح طرح کی پذیرائی کر کے انہیں اپنا ہمنوا بنایا جاتا ہے ۔ یعنی ابلیسیت کا ننگا ناچ ہر جگہ ہورہا ہے اور سید جو سڈ بن گئے ہیں جان جو جون بن چکے ہیں ، شیخ جو شیک ہو گئے ہیں ، چودھری جو ہیری بن گئے ہیں ، پرویز جو پیٹر بن گئے ہیں وغیرہ اندھادھند ابلیسیت کے اس ناچ میں شریک ہیں۔   ؎

تھا جو  نا خوب ،  بتدریج وہی،  خوب ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے  قوموں کا ضمیر

          یہ لوگ اگر یہ بھی سوچیں کہ چند ممالک میں لوگ یا قومیں ایسی ہیں جہاں مسلمان صرف اس لیے قتل و تباہ و برباد کیے جا رہے ہیں کہ ان کے نام کے ساتھ احمد ، محمد یا علی لگا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود وہ لوگ اپنے نام کو بدل کر جان نہیں بچاتے جبکہ ایسا کرنا اضطراری حالت میں جائز بھی ہے تو ان کے ایمان کا کیا کہنا کہ ہم صرف پیسوں کی لوٹ کھسوٹ کے لیے اپنا نام اور اپنا تشخص بھی دام پہ لگا رہے ہیں ؟

          میں سوچتا ہوں کہ یہ اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح کس نے ایجاد کی اور کیوں ؟ یہ دہشت گردی اسلامی ہے یا امریکی ،روسی ، یورپی ،اسرائیلی ہے کہ یہ فکری اور روحانی ہے ؟ ہم کس طرف جا رہے ہیں ؟   ؎

 یہ مال و  دولتِ دنیا یہ  رشتہ  و  پیوند   :  بتانِ  وہم   و  گماں  لا الہٰ الااللہ

خرد ہوئی ہے زمان و  مکاں کی زنّاری   :  نہ ہے  زماں  نہ مکاں  لا الہٰ الا اللہ

حشام احمد سید

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: