Hesham A Syed

January 5, 2009

The Cat is out of the bag – !

Filed under: Western world — Hesham A Syed @ 12:35 pm
Tags:

Urdu Article – Billi thailey sey baahar aa-gayee – hesham syed

حشام احمد سید

 بلی تھیلے سے باہر آگئی

%

بلا ٓخر بلی تھیلے سے باہر آگئی ۔ دنیا کو دھوکہ ہزار دیں لیکن اقوام مغرب کی ترجمانی صاحب بہادر کر رہے ہیں اور انہیں اس بات کا دعویٰ بھی ہے۔اب صرف پاکستا ن اور ایران ہی پر کیا موقوف ہے کہ جن کا اسلامی دنیا میں نیوکلیئر پاور ہونا سب کو کھٹک رہا ہے۔ بات تو جب بنے گی کہ مکہ مدینہ اور حرم شریف پر بھی بمباری کی جائے ۔ یہ بیان چاہے سیاسی ہو یا ووٹ لینے کے لئے ہو ، ’چھپے ہوئے ارادے‘ کسی نہ کسی صورت میں تو باہر آہی گئے۔اس حالیہ بیان کو سن کر وہ نہیں جن کے پیٹ میں داڑھی ہے بلکہ وہ جن کے چہرے سنت نبوی سے آراستہ ہیں اوراقِ بشارت نبوی پلٹنے لگے ۔ ہاں وہی بشارتیں جو قربِ قیامت سے متعلق ہیں یا وہ بشارتیں جو ظہور مہدی اور نزول عیسیٰؑ سے وابستہ ہیں کہ’ ایک وقت آئے گا جب دشمنانِ دین حرمین شریفین کو نشانہ بنائیں گے اور اطرافِ مدینہ و مکہ میں آکر بیٹھ جائیں گے‘ یعنی اس کا محاصرہ کر لیں گے۔ اب ان باریش حضرات کو کون سمجھائے کہ موجودہ دور میں اسلام دشمن اقوام کو اُٹھ کر اس صحرا میں آنے کی کیا ضرورت ہے ۔ جتنے بھی شعار اللہ ہیں وہ ان کے میزائل کے زد پر ہیں ، بس اک بٹن دبانے کی دیر ہے۔ گویا محاصرہ تو ہو ہی چکا ہے۔ ابرہہ کے ہاتھی تو کب سے تیار بیٹھے ہیں اور اقوام ِمسلمین اب بھی ابابیلوں کے انتظار میں ہیں۔امت مسلمہ اس لئے کریہ آس ہے کہ اس دنیا کی ڈیڑھ بلین مسلمانوں کی آبادی اپنے مغرب زدہ یا اس سے خوف زدہ لیڈروں کی بے حسی یا مادیت پرستی کا شکار ہے۔ تقریباََہر مسلمان ایک گریز کی کیفیت کا شکار ہے۔ جو ہورہا ہے وہ سب اللہ کی طرف سے ہورہا ہے ، جو ہوگا وہ اللہ کی طرف سے ہو گا ، ہمیں کچھ سوچنے اور کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ بات حرم کی ہو یا امت مسلمہ کی عقلی محرومیت کی !حل تو ہم نے ڈھونڈ ہی نکالا ہے کہ بس اپنا اپنا دنیاوی سرمایہ لپیٹ کر بے حسی کے غار میں پناہ لے لی جائے۔ جب پوری امت خود کشی کر چکی ہو تو یہ خود کش حملہ آور اپنی جانوں کو اور عام آدمیوں کو ہلاک کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔

          کامیابی کا راستہ بہت طویل ہے اور یہ سفر خود کش حملوں سے طے نہیں ہونے کا، یہ راستہ حکمت و تدبر و علم کے صحرا سے گزرتا ہے جہاں بیشتر سراب بھی انتظار کر رہے ہیں اور عطش عطش کی صدائیں بھی بلند ہوتی ہیں۔   یا خدایا یہ کیسا دور ہے کہ تیری خدائی کے منکرین اوررسولؐ کے گستاخوںکی پذیرائی ہوتی ہے۔ امت کے سفینے کا ناخداؤں نے بیڑہ غرق کر دیاہے ۔تہذیب و ثقافت کے بہانے گھر گھر میں وہ سب کچھ ہورہا ہے جوکفار و منکرین میں ہے ، پیشہ و تعلیم اگر رستہ ہے تو منزل ہوس انگیزی ہے۔ سینکڑوں سال سے امام مہدی کے ظہور پہ جھگڑا ، امام مہدی کو کسی غار میں چھپا کر قوم مطمئن ہے ۔جب تک امت مسلمہ یا انسان مجموعی طور پر وحشت و نفرت ، بربریت کا شکار جب تک نہیں ہوگی ظہور ِ  مہدی بھی تو بے سبب ہوگا ۔ کوئی سوچے تو سہی کہ ہر مسلمان کے اندر ہی مہدیت کی روح چھپی بیٹھی ہے کم سے کم اسے تو باہر آنا ہی چاہیے ۔ آسمانِ فکر و عقل و تدبر سے جس دن مسیح کا نزول ہوگا تو بات سب کی سمجھ میں آجائے گی کہ قدرت کو ہم سے توقعات کیا ہیں ؟

  بات  بڑی پرانی ہے ، عام فہم ہے ، سادہ سی ہے ، لیکن تا قیامت ہر دور کے لئے ہے ۔  ع

اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے   :  پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: