Hesham A Syed

January 5, 2009

Wrath of God and our wisdom

Filed under: Global,Muslim world — Hesham A Syed @ 6:50 pm
Tags: ,

Urdu Article : Azaab e Elaahee aur Hamari  Aql – Hesham Syed

عذابِ الہٰی اور ہماری عقل

نیو اورلین امریکہ میں سیلاب کی آفت کیا آئی کہ اس کے اسباب کے متعلق جذباتی تحریروں کا بھی سیلاب ا مڈ پڑا۔ خود ساختہ  دانشوروں اور لکھاریوں کا ایک مخصوص ٹولہ اسے  عذابِ الہی سے تعبیر کر رہا ہے ۔ یہ سیلاب اس لیے آیا کہ یہ اللہ کی طرف سے عراق  و افغانستان و دیگر مسلم ممالک پہ امریکہ کی بڑھتی ہوئی دست درازیوں کا جواب ہے ۔عبادت خانوں میں ، اخباروں میں ، خطبات میں درسِ عبرت دیا جا رہاہے۔ ایک طرف تو اسے اللہ کا عمل  قرار دیا جارہا ہے کہ اللہ عادل اور قہارہے ۔ وہ حدسے زیادہ گناہ کرنے والی قوم کو نہیں بخشتا ، اس کی پکڑ یا گرفت بڑی مضبوط ہے ۔ وہ اچانک مجرموں کو آپکڑتا ہے پھر اس عذاب سے چھٹکارا دینے والا کوئی نہیں ہوتا  تو دوسری طرف ان لوگوں کی مدد کے لیے انسانی ہمدردی کے تحت چندے کی بھی اپیل وہی خطیب و لکھاری کرتا ہے۔ اگر یہ عدل ِالہٰی ہے تو پھر ان کی مدد کیسی ؟ کیا یوم آخرت کے فیصلوں کے بعد جہنم میں بھی جنتیوں کی طرف سے امداد ( ایڈز ) آیا کرے گی؟ اور اگر ایسا ہوگا تو جہنمیوں کے لیے یہ بہت بڑی خوش خبری یا بشارت ہے ۔ یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد کسی طور پہ  اس تکلیف و مصیبت میں مبتلا لوگوں کی مدد سے انکار نہیں اور نہ مدد کرنے والوں کے جذبات کی نفی ہے بلکہ ہر قسم کی امداد کرنی ہی چاہیے۔ بات تو صرف اس اندازِ فکر کی ہے کہ ہم کسی بھی واقعہ یا حادثے کو اپنے ایک مخصوص انداز میں کیوں دیکھتے ہیں ؟ اور بھی تو بہت سارے پہلو ہیں جن پہ نظر ڈالنی چاہیے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جو ظلم بھی عراق یا افغانستان یا فلسطین یا دیگر مسلم ممالک میں ہو رہا ہے اس کے ذمہ دارکیا نیو آرلین کے لوگ ہی تھے؟ اگر اللہ کا عذاب ہی آنا تھا تو اس کے سرخیل تو کہیں اور چین سے بیٹھے بین یا بغلیں بجا رہے ہیں اوردن رات ظالمانہ و تکبرانہ احکام نافذ کر رہے ہیں ۔ پھر عذاب الہٰی کے لیے کیا ضروری ہے کہ وہ سیلاب کی ہی شکل میں آئے ؟ شیطانوں کے سرداران جہاں متمکن ہیں کیاوہاں سے دریا یا سمندر قریب نہیں ؟پھر یہ عذاب بہ شکل زلزلہ و بہت ساری دوسری صورتوں میں بھی تو آسکتا تھا ۔کیاقدرت کا نشانہ خطا گیا ؟ نیو آرلین میں جہاں امریکہ کے دوسرے شہروں کے مقابلے میں زیادہ تر غربابستے ہیں وہ قدرت کے میزائل کی غلط ٹریجکٹری کا نشانہ بن گئے ؟ برق گرتی ہے تو بیچارے ….! یہ تو کرے کوئی اور بھرے کوئی والی بات ہو گئی ۔ تاریخ میں اور آسمانی کتابوں میں طوفانِ نوح کے علاوہ قارون اور اس کے مال و دولت کے لشکر کا زمیں میں دھنسنا بھی تو رقم ہے۔ شداد و نمرود کی ہزیمت کا بھی ذکر ہے ، فرعون کی قوم پہ حضرت موسیؑ کی بد دعاؤں کا بھی تو تذکرہ ہے اور اس کا اپنے لشکر کے ساتھ دریا میں غرق ہونا بھی تو درج ہے ۔ یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ  تاریخ میں بے شمار ایسی مصدقہ مثالیںموجود ہیں ۔مصدقہ اس لیے کہ آسمانی کتاب بھی اس کی تصدیق کرتی ہے  مثلاً قومِ لوط ہم جنس پرستی کے سبب ، قوم ِعاد و ثمود دیگر اخلاقی زیادتیوں اور ظالمانہ رویوّں کے سبب لٹا دی گئیں۔            افراد و قوم جب اللہ کے احکام کی کھلی خلاف ورزی کرنے لگیں اور اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں و اولیا کرام کے ساتھ استہزا بلکہ ظلم کرنے لگیں تو حجت تمام ہوجاتی ہے اور اللہ کی ناراضگی ایک عذاب کی صورت مسلط ہوجاتی ہے یہاں تک کہ بہت ساری قوموں کی شکلیں تک بگاڑ ڈالی گئی ہیں ۔بہت ساری قوموں کو صفحہ ہستی سے اکھاڑ دیا گیا ہے۔ بہت ساری قوموں کو دی گئی نعمت ان سے واپس لے لی گئی اور انہیں گمراہ و پریشان چھوڑ دیا گیا ۔ کسی ایک قوم کا کسی دوسری قوم پہ ظالمانہ طور پہ مسلط ہوجانا بھی تو ایک عذاب ہے۔ سو اس کا شکار موجودہ دور میں کونسی  قوم ہے ؟ اور اس کے اسباب کیا ہیں کیا یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے ؟ اگر ہم ہر قدرتی سانحے کو گناہ کا نتیجہ اور عذاب الٰہی بتانے پر تلے رہیں گے تو پھر حالیہ سونامی سیلاب اورپاکستان میںزلزلہ اس سے بھی زیادہ سابق مشرقی پاکستان یا موجودہ بنگلہ دیش میں ہولناک سیلابوں کی کڑی ۔ ایران و افغانستان و پاکستان میں متواتر زلزلے ، اور اسی طرح کے بہت سارے قدرتی مصائب جن کا شکار نیو آرلین کے مقابلے میں کئی لاکھ گنا زیادہ مرد ، عورتیں اور بچے ہوئے ، ان سب کا جواز کیسے اور کہاں ڈھونڈیں گے ؟ صرف قدرتی مصائب زلزلہ ، سیلاب ، شق الارض ، طوفان و بارش ، آتش فشاں پہاڑوں کے ابلنے اور لا علاج نت نئی بیماریوں کو ہی ہم اللہ کے عذاب سے کیوں موسوم کرتے ہیں ؟

           انسانی وحشت و دہشت گردی بھی توعذاب کی ایک صورت ہے ۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی ہولناکیاں ، ہیرو شیما و ناگاساکی پہ گرائے گئے ایٹم بم سے سالہا سال کی نسل کشی ۔ بوسنیا ، کشمیر ، چیچنیا ، ویت نام  میں انسانوں کی ہلاکتیں۔صدیوں کیا ہزاروں سالوں کی انسانوں کے درمیان کی قبیلہ پرستی کی ریت و تعصب گری کا کیا جواز ہے ؟ کیا یہ عذاب نہیں ؟ اگر تخمینہ لگایا جائے تو قدرتی عذاب سے زیادہ تباہ کاری انسان نے نسل انسانی پر خود اپنے ہاتھوں لائی ہے۔ لہو گرم رکھنے کے لیے پتہ نہیں کیوں اسے لہو بہانا پڑتا ہے!  انسان خود انسان کا دشمن ہے ۔

          دوستو۔ بہر حال ایک طرز فکر یہ بھی ہے کہ آج سے چند سال پہلے ہالینڈ میں سیلاب ایک عذاب گردانا جا تا تھا  جب تک کہ دریاوں اور سمندروں پہ بند نہ باندھ دیا گیا ۔ بہت ساری مہلک بیماریاں عذاب الہٰی سمجھی جاتی تھیں جب تک کہ ایسی دوا ایجاد نہ کر لی گئیں کہ اب ان کا علاج بہت آسانی سے ہو جاتا ہے۔ زلزلے کے بہت سارے جھٹکے اب بے معنی ہوگئے کہ آدمی نے فن تعمیرکے ذریعہ عمارتوں کی بنیادوں کو مضبوط کر دیا ۔ مصائب و عذاب کی کوئی بھی شکل ہو ، واقعہ یہ ہے کہ اس کا سبب طبعی و مادّی ہے اور روحانی و اخلاقی بھی اور ان سب کا سرا انسان کی عقل سے جڑا ہوا ہے۔ بے عقلی و بد عقلی  جسے جہل و گمراہی بھی کہا جا سکتا ہے ہر مصیبت و عذاب کو دعوت دیتی ہے بلکہ  یہ خود سب سے بڑا عذاب ہے۔

ـ         کوئی بیماری کا علاج ڈھونڈ لے توبیماری کا عذاب ختم ہوجاتا ہے۔

ـ         کوئی اپنی اخلاقی اور روحانی قدروں کو مستحکم کر لے توروح کا عذاب ختم ہو جاتا ہے۔

ـ         کوئی ظلم کو برداشت کرنا چھوڑ دے تو ظالم کاعذاب ختم ہو جاتا ہے۔

ـ         کوئی اپنی طبیعت سے غصہ و تکبر و بغض و کینہ و عداوت کو نکال دے تو اپنی ذات کاعذاب ختم ہو جاتا ہے۔

ـ         کوئی دنیا میں رہ کے صرف جنت کا انتظار نہ کرے بلکہ دنیا کو جنت بنانے کی کوشش کرے تو انتظار کا عذاب ختم ہو جاتا ہے۔

ـ         کوئی ہر بلند ایوان کے آگے سجدہ ریز ہونا چھوڑ دے تو پستی کاعذاب ختم ہو جاتا ہے۔

ـ         کوئی اپنے آپ کو خدا سمجھنا چھوڑ دے تو خود سری کاعذاب ختم ہوجاتا ہے۔

ـ         کوئی خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھے اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالے تو تفرقہ کاعذاب ختم ہو جاتا ہے۔

ـ         کوئی ایثار و اخوت کا رویہ اپنا لے تو دوسروں کو ایذا پہنچانے کاعذاب ختم ہو جاتا ہے۔

ـ         کوئی اپنے ماحول میں دشمن و دوست کی صحیح تمیز کر سکے تو تنہائی کاعذاب ختم ہو جاتا ہے۔

ـ         کوئی علم کی روشنی کو اپنالے توجہالت و گمراہی کا عذاب ختم ہوجاتا ہے۔

ـ         کوئی معاشرے میں عدل و انصاف کی کوشش کرتا رہے تو نا انصافی کاعذاب ختم ہو جاتا ہے۔

ـ         کوئی قدرت کی پھیلی ہوئی بے شمار نعمتوں کو فلاحی مقصد کے لیے تسخیر کرتا رہے تو محرومیوں دکھوں کاعذاب ختم ہو جاتا ہے۔ اور لوگ صرف وجہ عذاب کی تاویل کرنے کے بجائے آفت زدہ اور افسردہ دلوں کی امداد کریں تو عذاب کا ہر احساس ختم ہو جاتا ہے۔

حشام احمد سی

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: