Hesham A Syed

January 6, 2009

Epidamic – a new one

Filed under: Pakistan — Hesham A Syed @ 7:58 am
Tags:

Urdu Article : Eik nayee wabaah : Hesham Syed : based on a TV program conducted by Shahid Masood.

ایک نئی وبا

مختلف ویب سائٹ، ٹی وی ٹاک شو کے ساتھ ساتھ   اے آر وائی  کے ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب حالیہ پروگرام ویوز آن نیوز کے پروگرام کی صرف دو قسط دیکھنے کا موقع ملا اور پتہ چلا کہ ایک نئی وبا ابھر کر سامنے آئی ہے یا یہ کہیے کہ آج کل پاکستانیوں کے پاس ایک نیا موضوع  ہاتھ آگیا ہے جس کا زوردار پرچار ہو رہا ہے چاہے پاکستانی اخبار ہوں یا ٹی وی چینلز یا دوبئی و شمالی امریکہ و کنیڈا کے ذرائع ابلاغ ۔زور اس پر ہے کہ محمد علی جناح و علامہ اقبال کی مہ خوار شراب نوشی اور ان کے سیکولر عقائد کی تشہیر کی جائے۔کہا یہ جارہا ہے کہ علی جناح آغا خانی تھے ۔ بعد میں شیعہ اثنا عشری مذہب قبول کر لیا تھا۔ وہ مذہب کو ایک ذاتی چیز سمجھتے تھے اس لیے اس پہ تشدد سے قائم نہیں تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے کبھی اپنے عقیدہ کی تشہیر نہیں کی اور ایک برادرانہ رویہ  ہر طبقہ کے ساتھ رکھا۔ علامہ اقبال قادیانی ہو گئے تھے اور اس جماعت کے بانی کے بارے میں تعریفی کلمات کہتے رہے لیکن ۸۰۹۱ ء میں تائب ہوگئے مگر قادیانی روایت کے مطابق وہ ۱۳۹۱ ء میں تائب ہوئے بلکہ قادیانیت کے مرتد ہوئے ۔ جبکہ علامہ کے بڑے بھائی اور دوسرے رشتہ دار قادیانی ہی رہے ۔ ان دونوں حضرات یعنی قائد اعظم و علامہ کی عائلی زندگی میں بھی توازن کے بجائے انتشار رہا ۔ ایک کی اکلوتی بیٹی کو پارسی ننیال نے پالا اور وہی کیاان کی پوری نسل اسلام سے خارج ہو گئی اور دوسرے کے معاشقوں،کثرتِ ازداج اور اولاد کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ او ر حالات نے پہلی بیوی ، فرزند اور بیٹی کو مبتلائے آلام رکھا ۔ ساری عمر مالی اعتبار سے علامہ اپنے بڑے قادیانی بھائی اور نواب آف بھوپال کے مرہون منت رہے۔نہ علامہ اقبال نے پاکستان کو  ایک اسلامی ریاست کی حیثیت سے خواب میں دیکھا کیونکہ پاکستان کا تصور توچوہدری رحمت الہٰی نے دیا جنہیں سازش کے تحت پاکستان آنے ہی نہیں دیا گیا ، مسلمانوں کے اندر اٹھتی ہوئی خاکسار تحریک بھی محلاتی سازش کا شکار ہوگئی اور علامہ مشرقی جیسا ذہین آدمی صرف اپنے قدموں کے نشان چھوڑ کے چل بسا ۔ نہ قائد اعظم نے اسلامی ریاست کی تشکیل کی ، ہاں مسلمانوں کی ایک علیحدہ ریاست کی ہندوستان سے تقسیم ضرورکرالی اور ایسا کرنے میں اسلام کا نام جیسے دوسرے استعمال کرتے رہے ویسے ہی مسلم لیگی لیڈروں نے بھی استعمال کیا ۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد تہہ تیغ ہوئے ۔ قائد اعظم کو بھی ایک سازش کے تحت زیارت میں نظر بند کر دیا گیا۔ ان کی  بیماری کے ساتھ یہ حبسِ بے جا کا تحفہ بھی ان کی موت کا سبب بن گیا ـ’ منزل انہیں ملی جو شریک ِسفر نہ تھے ‘ـنہ ان کے عقائد صحیح تھے اور نہ ہی ان کی زندگی اسلامی شریعت کی پابند تھی ۔پاکستان کو شخصی جاگیر سمجھا گیا کیونکہ یہی  حکومت کے اہل کاروں کا مزاج تھا اور ہے جس کے اثرات یوں ظاہر ہوئے کہ جغرافیائی اعتبار سے ایک ٹوٹا ہوا پاکستان رہ گیا ۔نظریاتی طور پہ تو وہ پاکستان کب کا ختم ہو چکا جس کو بنیاد بنا کر یا جس کی تشہیر کر کے پاکستان حاصل کیا گیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کی چھ دہائی بعد یہ قوم نیند سے بیدار ہوئی ہے اور اب ایک نئے سرے سے ہندوستان سے تعلقات استوار کئے جا رہے ہیں ۔وہی ہندوستان کے سیاسی افراد جو مسلمانوں کو ہندوستان سے بے دخل کرنے اور ختم کرنے کی تنظیمیں بنا تے رہے ہیں اب بڑی سرکار کی چھتری کے نیچے پاکستانی سرکار سے مصافحہ و معانقہ و معاشقہ فرما رہے ہیں۔

          فلمی فنکار و ں اور طوائفوں کے ٹولے اب دونوں ملکوں میں بحیثیت سفرا انہیں قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ یہاں کی عورت وہاں جاکے برہنگی اور بے حیائی ، بوس وکنار کا کھلے عام مظاہرہ کر رہی ہے اور وہاں کی تہذیب یہاں آکر گھر گھر میں رنگ رلیاں منا رہی ہے ۔ ۷۵۸۱ سے اب تک جو دفن ہو گئے وہ دفن ہوگئے ، لوگ بھی تفکرات بھی اور حالات بھی ۔ مسلمان عمومی طور پہ جذباتی قوم ہے اور پاکستان بھی اسی جذباتیت کی پیداوار تھی ۔

           کیا اس ملک کے بنانے کو بھی ایک اجتہادی غلطی سے تعبیر کیا جائے یا اسے بھی غیر مسلمین کی سازش قرار دیا جائے ۔ اپنی تاریخ کی خون آشامیوں کو  تقدس کا جامہ پہنانے کے لیے یا پھر اپنی بے عقلی کو چھپانے کے لئے ہم سب نے تو یہی ساری توجیہات ڈھونڈ رکھی ہیں۔ علامہ کی مقبولیت کی وجہ ان کے جذباتی اشعار ہیں جن میں بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کا ذکر ہے یا لہو گرم رکھنے کا بہانہ ہے ۔ان ہی اشعار نے علامہ کو مسلمانوں میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ بحیثیت ایک فلسفی کے ان کی شناخت غیر مسلمین نے کی ہے۔ اس کا کھلے عام اعلان کیا جارہا ہے کہ اسلام کو اب تک مفسرین اور علما نے غلط سمجھا ۔ اسلام اب اتنی بیچارگی کے عالم میں ہے کہ اس کو اب صرف علامہ اقبال کے حوالے سے سمجھنا چاہیے ۔

          پاکستان میں محمد علی جناح یا علامہ اقبال کے اقوال و اشعار ایسے ہیں جیسے قرآنی آیات یا قول رسولؐ ہوں۔ بلکہ بزرگ صورت ایک دینی رہنمانے یہ کہا کہ علامہ اقبال کو جناح پہ فوقیت یوں حاصل ہے کہ جناح نے وہ کیا جو اقبال نے خواب کی صورت میں دیکھا ۔ لیکن چند خود ساختہ یا عرف عام میں روشن خیال دانشوروں نے اقبال کو قومی شاعر ماننے سے بھی انکار کر دیا کہ وہ تو وطن کے تصور سے ہی نالاں تھے اور بے شمار جگہ ان کے اشعار میں تضاد ہے۔ یہ تو پاکستان بننے کے بعد مولویوں اور ملاؤں نے اقبال کو بھی قراقلی ٹوپی اور جبہ پہنا دیا ، (البتہ مونچھ کا مونڈانا اور داڑھی کا لگانا ان کے بس میں نہیں تھا ) ورنہ اقبال بھی اسلام میں جدیدیت کے خواہاں تھے ۔ وہ مُلّا ازم و خانقاہیت و نظم مدارس کے خلاف تھے ۔ شراب نوشی اور جتنی بھی حدود آرڈیننس دفعات ہیں انہیں جدید اسلام کی روشنی میں ختم کر دینا چاہیے کہ یہ سب سزائیںقرآن اورحضور ؐ سے نہیں بلکہ صحابہ کرام سے ثابت ہیں ۔ جنہیں بعد کے اماموں اور مفسرین اور بادشاہوں نے اسلام کا حصہ بنادیا۔

          حیرت ہے کہ وہیں بیٹھے ہوئے عالمِ دین کو حضور ؐ کے زمانے کا حدود کا ایک واقعہ بھی یاد نہیں آیا اور وہ صرف سر ہلاتے رہ گئے ۔جہاں  لوگوں کے لیے اب حدیثِ رسولؐ  کی کوئی اہمیت نہ ہو وہ اصحاب و تابعین و تبع تابعین کو کب خاطر میں لائیں گے ؟ جہاد کو بمعنی قتال کے نہیں استعمال کرنا چاہیے۔ ٹی وی پروگرام میں کہا جا رہا ہے کہ اسلام کی تاریخ یا مسلمانوں کی تاریخ خون آشامیوں سے بھری پڑی ہے۔ لطف یہ ہے کہ ان ساری باتوں میں ان دانشوروں کے ساتھ علامہ کے ریٹائرڈ جسٹس فرزند جاوید اقبال بھی شریک ہیں اور کیوں نہیں ان جیسے افراد کو اپنی مے خواری اور اجتہادی ہونے کا جوازبھی تو نکالنا ہے۔ اگر قوم چودہ سو سال تک سوتی رہی تو کیا اب بھی نہ جاگے ۔یہ ساری باتیں ابلاغ عامہ میں ایسے لوگوں کی موجودگی میں ہو رہی ہیں جو خلافتِ راشدہ کے بڑے داعی بن کر ابھرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ بھی سوائے سر جھکا ئے یا حیرت و استعجاب کے عالم میں یا معذرتانہ رویہ کے ساتھ ہاں میں ہاں ملا کر بات کرنے کے کچھ بھی نہیں کہہ پاتے اور کہتے ہیں تو صرف الجھن ہی پیدا کرتے ہیں ۔ ہر جواب نئے سوالات کو جنم دیتا ہے ، بلکہ انہوں نے تو ایک قدم اور آگے بڑھ کے اپنے تصور جہاد کی سند کے لئے تاریخی حوالہ دے کر یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ غیر اسلامی حکومت کے خلاف چاہے مسلمان کہیں بھی بسے ہوں اللہ کے دین کو نافذ کرنے کے لیے خروج عین جہاد ہے بلکہ غزوات کا آغاز ہی حضورؐ اور ان کے صحابہ کی چھیڑ خانی سے ہوا اورپہلا قتل مسلمانوں نے قریش کا کیا جبکہ اہل قریش مجبور کئے گئے کہ وہ باہر نکل کر مسلمانوں کی جماعت سے جنگ کریں ورنہ ان کے تجارتی قافلے پر شب خون مارنے کی رسم و مہم جاری رہتی ۔ یہ ایک جارحانہ رویہ تھا مسلمانوں کا اہل قریش یا کافرین کے خلاف۔اب ان فاضلانہ و عالمانہ یا جاہلانہ و گستاخانہ توجیہات کے بعد یہ کہنا کہ اسلام تلوار کی مدد سے نہیں پھیلا کس حد تک درست قرار دیا جا سکتا ہے ؟ ہمارے دانشوروں کے نزدیک افغان کا جہاد ،روس کے خلاف جہاد نہیں بلکہ خانہ جنگی تھی کیونکہ روس بھی وہاں افغانیوں ہی کی دعوت پہ آیا تھا جیسے حکومت وقت  کے خلاف خروج کرنے والوں کے ایما پر پاکستان اور امریکہ وہاں موجود تھے ۔سو یہ کروڑوں لوگوں کا قتل اور بے گھری کس کھاتے میں جائے گا ۔ کون شہید ہے اور کون غازی اس کا فیصلہ کون کرے گا ، ان لوگوں نے تو اللہ کے لئے بھی بڑی الجھن پیدا کر دی ہے ۔

                   جہاد ہی کے حوالے سے ان جیسے عالموں کے نزدیک خروج تو صحیح ہے لیکن کشمیر  کے فریڈم فائٹر (Freedom Fighter)اوران کی آزادی کی جنگ میں ہندوستان کے خلاف پاکستان یا  پاکستانیوں کا شریک ہونا جائز نہیں ۔ معروف عالم دین نے ایک تجویز یہ بھی پیش کی کہ اگر امریکہ کی سر کار صرف یہ فیصلہ کر لے کہ حکومت کا بنیادی دین اللہ کا نظام ہو گا تو خلافت راشدہ قائم ہو جائے گی کیونکہ ان لوگوں کے نظام حکومت میں کوئی چیز مختلف نہیں جو صحابہ کے دور کی نہ ہو صرف اعلان شرط ہے ( پھر تو حضرتِ بش خلیفہ المسلمین قرار پائیں گے اور ویسے بھی اکثر مسلم سر براہوں اور ضمیر فروش علما کے نزدیک تو ایسا ہی ہے) ، اب ذرا امریکہ ان سے پوچھے کہ وہ کون سا اللہ کا دین ہے جس کا نفاذ کیا جانا چاہیے تو ان جیسے عالموں کے پاس کیا جواب ہوگا ؟  اس سطح زمین پر کوئی اسلامی ملک ہے جسے خالصتاً اسلامی کہا جا سکتا ہے یا جو خلافتِ راشدہ کا عکس ہو؟ خلافتِ راشدہ کا سب سے بڑا کمال ہی معاشرتی نظام ِعدل تھا جس کا تصور کسی شکل میں اگر کچھ ہے تو امریکہ یا یورپ میں ہے جب یہ موجود ہے تو کیا ضروری ہے کہ یہ لوگ عربی زبان میں ہی اس کی تمہید باندھیں ۔ افسوس صد افسوس کہ زعمِ علم سے بھرے ہوئے ایسے سارے خود ساختہ عالمان دین و دانشوروں کو ابلیس کیسے اور کہاں استعمال کرتا ہے کہ انہیں خود اس کی خبر نہیں ہوتی ؟ ان جیسوں کو ان کی اناپرستی ، القابات ، ٹوپی ، جبہ و دستار ، اور  ٹی وی کے پروگرام اور اس پہ ٹاک شو مبارک ہو ں!

 صم’‘ بکم’‘ عمی   فھم  لا یرجعون!سنا تو یہی تھا کہ اللہ کی شیروں کو آتی نہیں روباہی ! اللہ خیرکرے اور رحم فرمائے ہمارے سوچ کے دھارے پر!    ؎

مرے حلقہ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں  :  وہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسم کجکلاہی

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: