Hesham A Syed

January 6, 2009

Is Allah greater than Me ?

Filed under: Social Issues,Spiritual — Hesham A Syed @ 11:29 am
Tags:

Urdu Article : Ham barrhey key Allah barrha ? Hesham Syed

ہم بڑے کہ اللہ؟

یہ حقیقت ہے کہ بزرگ حضرات ا ور اللہ کے ولی چھوٹے چھوٹے واقعات اور چھوٹی چھوٹی حکایات سے زندگی اور ہمارے انداز فکر کو ایسا پیغام دے جاتے ہیں جو بڑے سے بڑا فلسفی یا دانشور بھی نہیں دے سکتا۔ ایسے ہی چند واقعات یاد آئے تو سوچا کیوں نہ انھیں احاطہ و تحریر میں لایا جائے ۔

          یہ کسی مولوی صاحب کا واقعہ ہے کہ وہ فارغ التحصیل ہو کے ایک صوفی منش بزرگ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ حضرت میں یہاں آیا ہوں کہ آپ سے کوئی سبق لوں سو مجھے کچھ دن اپنی صحبت میں گزارنے کا موقع عطا کریں۔ حضرت نے کہا کہ بھائی میں تو آپ جیسا سند یافتہ نہیں کہ آپ جیسے عالموں کو سبق دے سکوں سو اپنا وقت کیوں ضائع کرتے ہیں۔ مولوی صاحب بضد تھے اور کہنے لگے نہیں حضرت میں نے آپ کے بارے میں بہت سنا ہے سو چند دن ہی مجھے اپنی خانقاہ یا سرائے میں رکنے دیں اگر کچھ حاصل نہ ہوا تو چلا جاؤں گا۔

          حضرت نے کہا کہ بھئ میرے پاس کچھ نہیں حاصل ہوگا سوائے اس کے کہ میں یہی بتاتا ہوں کہ اپنے آپ کو اللہ سے بہتر یا بڑا نہ سمجھو صرف یہی ایک سبق ہے میرے پاس ۔

           مولوی صاحب نے سن کر پہلے تو استغفار کیا کہ حضرت یہ تو کلمۂ کفر ہے کہ کوئی اپنے کو اللہ سے بہتر یا بڑا سمجھے بھلا ایسا کون ہو سکتا ہے۔

           حضرت نے کہا کہ دیکھا میں نے کہا نہ تھا کہ یہ بات سمجھ نہیں آئے گی اور تم نے تو مجھے ایسا کہنے پر کافر ہی بنا دیا۔

          مولوی صاحب  نے معذرت کی اور حضرت کو بہرحال منوا لیا کہ وہ کچھ دن ان کے مہمان خانے میں قیام کریں گے اور ان سے تعلیم و تربیت حاصل کریں گے۔

           حضرت کا معمول یہ تھا کہ صبح کی نمازباجماعت ادا کر نے کے بعد اپنے سارے شاگردوں یا مریدوں کو دن بھر کا کام تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ مولوی صاحب نئے تھے تو انہیں بھی اور دو مریدوں کے ساتھ کیا اور انہیں کسی دور افتادہ گاوں میں تبلیغ دین کے لیے اور لوگوں کی دیکھ بھال کے لیے بھیج دیا۔مولوی صاحب دن بھر کے رتیلے اور پہاڑی علاقے کے سفر سے گرمی میں تھک کے چور ہو چکے تھے ۔شام ڈھلے خانقاہ لوٹے تو بھوک کے مارے بھی برا حال تھا ۔ اپنے کمرے میں نہا دھو کر کھانے کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے کہ خدمت گاروں میں سے کسی نے ایک تھالی جس میں دو روٹیاں تھیں اور دو پیالے جس میں سالن تھے اور کچھ شیرینی مولوی صاحب کے پاس پہنچا گئے ۔ مولوی صاحب نے ہاتھ دھو کر بسم اللہ کہا ہی تھا کہ باہر اندھیرے میں کسی نے آواز لگائی ، اللہ کے نام پہ کھلا دے بابا ، اللہ کے نام پہ کھلا دے بابا ۔ مولوی صاحب ایسے بھی نہیں تھے کہ سائل سے صرف نظر لیتے۔ انہوں نے ایک روٹی اور ایک سالن کا پیالہ اس فقیر کے حوالے کیا اور بقیہ کھانا خود کھا کر سو رہے۔ فجر کی نماز کے بعد حضرت پیر صاحب کے پاس حلقہ بندھا تو پیر صاحب نے اور مریدوں سے فارغ ہو کر مولوی صاحب کی طرف توجہ کی اور کہنے لگے کہ مولوی صاحب لگتا ہے آپ کا سبق ہمارے یہاں آج ہی مکمل ہو جائے گا۔ مولوی صاحب نے پوچھا وہ کیسے ؟ پیر صاحب نے کہا کہ کل رات کسی سائل نے آواز لگائی تھی کہ اللہ کے نام پہ کھلا دے بابا سو آپ نے یقیناّ یہ نیک کام کیا کہ اسے آپ نے اپنے کھانے سے کھلایا لیکن دو روٹی میں اور دوسالن میں جو باسی روٹی اور باسی سالن تھا وہ آپ نے اس سائل کو دے دیا جب کہ تازہ آپ نے خود کھا لیا حالانکہ سائل کی صدا اللہ کے نام کی تھی اور آپ نے اللہ کے نام پہ ہی دیا تھا مگر اللہ کو آپ نے اپنے سے کمتر سمجھا تب ہی تو اسے باسی کھانا دیا جو یہ رکھا ہے میرے سامنے ( پیر صاحب ہی سائل بن کر گئے تھے ) اور اپنے آپ کو فروتر سمجھا تو تازہ کھانا اپنے لیے رکھ لیا ۔ اگر اللہ کو اپنے سے بڑا سمجھتے تو معاملہ الٹا ہوتا۔ مولوی صاحب شرمندہ ہوئے اور پیر صاحب کے ہاتھ پہ بیعت کر کے باطنی علم و تربیت کے حصول کے لیے ان کے اراد ت مند وں میں شامل ہوئے۔    ؎

جس معنئ پیچیدہ کی تصدیق کرے  دل      قیمت میں بہت بڑھ کے ہے تابندہ گہر سے

اس حکایت کے ساتھ ہی قرآن کی اس آیت کا خیال آیا ۔لن تنالو البر حتیٰ تنفقو مما تحبون۔ و ما تن فقو من شی فان اللہ بہ علیم یعنی ہر گز نہیں پہنچو گے نیکی کی حد کو تا وقتیکہ تم اللہ کی راہ میں وہ نہ خرچ کرو جسے تم عزیز یا محبوب رکھتے ہو اور تم جو کچھ خرچ کروگے اس کا علم اللہ کو ہے۔

                    اب ذرا غور کیجئے اور اپنے گریباں میں جھانک کے دیکھئے کہ کیا واقعی ہم سب اللہ کے راہ میں اپنی محبوب شے کو ہی خرچ کرتے ہیں اور اگر نہیں کرتے تو پھر نیکی کی قبولیت کی توقع کیوں ؟ قرآن کی آیت تو بڑی واضح ہے۔ غربا ، مساکین کو ہم میں اکثراپنے جسم کا اترا ہوا کپڑایا جوتا ہی دیتے ہیں۔ کھانے میں جو جی سے اتری ہوئی چیز ہو وہی دیتے ہیں اور اسی طرح کی بے شمار نیکیاں ہم کماتے رہتے ہیں اور اپنے ’دیالو ‘ہونے کا یا تو ڈھنڈورا پیٹتے ہیں یا کم سے کم اپنے دل میں تو بہت خوش ہوتے ہیں جیسے کہ اللہ ہی پہ احسان کیا ہو۔ یہ ساری چیزیں تو اللہ ہی نے ہمیں دی ہیں لیکن ہم اسے اپنا جان کر اللہ کو اس طرح لوٹاتے ہیں کہ سود در سود وصول کرنے کی نیت ہوتی ہے۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے اس کی راہ میں کچھ دے کرجنت کی تمنا رکھنا بھی تو ایک تاجرانہ رویہ ہے یہ تو ساہوکاری سے بھی بد تر ہے۔ بات تو ساری اللہ سے محبت کی ہے ۔جو کچھ اللہ نے دیا اس کا ہدیہ شکر ادا کیا اور جو کچھ اس کی راہ میں ہم نے دیا اس توفیق کا بھی شکر ادا کرنا چاہیے ۔بخل اور لالچ کا نہ ہونا بھی اللہ کا انعام ہے۔ محبوب چیزوں میں تو اپنی جان بھی ہے ہم اپنی زندگی کا کتنا وقت خلوص نیت سے اللہ کے لیے وقف کر تے ہیں جبکہ یہ بھی اللہ ہی کی دی ہوئی ہے اور اسی کی امانت ہے۔’ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا ‘۔ ہمارا معاملہ اللہ سے تجارت کا نہیں بلکہ بندگی کا ہے۔محبت کا ہے عشق کا ہے۔ سوائے اس کی ذات کے اور کیا ہے جسے ہم اپنا کہہ سکیں۔

          اس موضوع سے متعلق ایک اور واقعہ یاد آگیا کہ دو صوفی منش بزرگ ملے تو صاحب سلامت کے بعد دنیاوی رزق سے متعلق شکر اور صبر کے موضوع پہ گفتگو ہونے لگی۔ ایک نے کہا کہ شکر یہ ہے کہ جو اللہ نے دنیاوی رزق دیا ہے اس کا شکر ادا کریں اور جو نہیں دیا اس پہ صبر کریں تو دوسرے نے کہا کہ یہ تو ایک جانور بھی کرتا ہے انسان کا معاملہ تو یہ ہونا چاہیے کہ جو اللہ نے دیا اسے تقسیم کیا اور صبر کیا ، جو نہیں دیا اس کا شکر کیا۔   ؎

گر  خدا  داری  زغم  آزاد  شو        از  خیال  بیش  و  کم  آزاد  شو

&       بات سے بات نکلتی ہے تو نکلتی ہی چلی جاتی ہے ۔ ایک اور واقعہ امام شافعی  ؒ کا یاد آگیا ۔ ایک بار امام شافعیؒ کے شاگردوں یا مریدوں نے یہ پوچھا کہ حضرت یہ کیا بات ہے کہ ہم سارے دن او ر رات قال اللہ و قال رسول کرتے رہتے ہیں اور دین کا علم سیکھنے ، درس و تدریس میں صرف کرتے ہیں لیکن ہمیں رزق کی اتنی تنگی ہے کہ کوئی کچھ کھانے کو دے جائے تو کھا لیتے ہیں ورنہ فاقہ کرنا پڑتا ہے یا روزہ رکھنا پڑتا ہے جبکہ دوسرے لوگ جو دنیا کے لالچ میںپھنسے ہیں ان کے پاس رزق کی فراوانی ہے اور وہ خوش باش ہیں۔ اللہ کی رزق کی یہ تقسیم سمجھ میں نہیں آتی ۔

          اللہ امام شافعیؒکی قبر کو روشنیوں سے بھر دے کہنے لگے حیرت ہے کہ یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئی ، میں تو اللہ کی رزق کی اس تقسیم سے بہت خوش ہوں کہ ہمیں جو رزق مل رہا ہے وہ شعارِ انبیا ہے۔ ہدایت ، فراست ، علم و حکمت ، شعور ، بیداری قلب و ذہن یہ سب وہ رزق ہے جسے اللہ نے صرف اپنے انبیا کو دیا ہے جو اللہ کے محبوبین ہیں۔ بقیہ جو نفس سے متعلق ہے وہ تو ہر جانور کو بھی فراوانی سے میسر ہے۔ سو اس تقسیم پہ تو ہمیں ہر لمحہ شکر ادا کرنا چاہیے نہ کہ شکایت !

          کسی ارادت مند نے کسی بزرگ سے پوچھا کہ اللہ کتنا بڑا ہے ؟ بزرگ نے جواب دیا بیٹا جتنا تو سوچ اور سمجھ سکے ! 

           ہم سب بھی سوچیں اور خود سے سوال کریں کہ زندگی کے کسی بھی معاملے میں اٹھتے بیٹھتے کیا ہم اپنے نفس کو ترجیح دیتے ہیں یا ہمارے پیشِ نظر اللہ کی محبت اور اس کی مرضی اور اس کے احکامات ہوتے ہیں۔ اس کا  بہت آسان جواب صرف آپ کے اور ہم سب کے پاس اپنے سینے میں محفوظ ہے ۔ اس کے بعد ہی ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ہماری نظر میں اللہ بڑا ہے کہ اس کے مقابلے میں ہم خود بڑے ہیں ! ( عیاذاََ باللہ )۔

چوں  میگویم  مسلمانم  بلرزم   :  کہ  دانم  مشکلات  لا  الٰہ

زبان نے کہہ بھی  دیا  لا الٰہ  تو کیا حاصل   :  دل و  نگاہ مسلماں نہیں  تو کچھ بھی  نہیں

سمجھ میں نقطۂ  توحید  آ  تو سکتا ہے    :  ترے دماغ میں  بت خانہ  ہو  تو کیا کہیے

نقطہ  پرکار حق  مر د  خدا  کا  یقیں    :  اور یہ  عالم  تمام  وہم  و  طلسم  و  مجاز

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: