Hesham A Syed

January 6, 2009

Kinetic Energy – ? based on a Geo TV program

Filed under: Global,Religion,Social Issues,Spiritual — Hesham A Syed @ 6:25 am
Tags:

Urdu Article : Kinetic Energy : Hesham Syed : based on a Shahid Masood program on Geo TV.

کائنا ٹک انرجی Kinetic  Energy  

بات پھر وہی ٹی وی ٹاک شو اور ابلاغ عامہ کے سیلاب کی ہے ۔مذہب ، سیاست ، تاریخ ، سائنس ، ادب یا انسانی زندگی اور کائنات سے متعلق کوئی موضوع ہو ہمارے دانشور اور عالم حضرات ان سب کا ایک ملغوبہ بنانے پہ تلے ہوئے ہیں ۔ ان کے ذہنوں میںاگرچہ سوالات بھی نئے نہیں ہیں سب کے سب وہی ہیں جن کے جوابات بذریعہ وحی الہٰی دئے جا چکے ہیں لیکن کوئی بات دل میں اترے تو بات ہے ، کبھی کبھی ان لوگوں کی سطحی اور اوچھی باتیں سن کر اور پڑھ کر خیال آتا ہے کہ یہ لوگ دانشور اور علامہ کیوں کہلائے جاتے ہیں ؟ کیا معاملات اور خیالات کو الجھا دینا ہی دانشوری ہے ؟ زندگی کے رموز اور مسائل سے متعلق موشگافیاں تو بہت ہیں  ابلاغ عامہ کا سہارا لے کر اب ہر دانشور بھانت بھانت کی بولی بول رہا ہے ۔

 جسکو  دیکھو  بول  رہا  ہے   :  زہر  ہلا ہل  گھول  رہا  ہے

          کوئی خدا کو کھلے عام کائناٹک انرجی ثابت کرنے پہ تلا ہوا ہے۔ تو کوئی خدا کے نور و تجسیم کی تاویلیں کر رہا ہے ۔ کوئی آدم ثانی اور حوا ثانی کی بھی اصطلاح ایجاد کئے بیٹھا ہے یعنی دو آدم و حوا بنائے گئے ، کوئی ڈارون کی تھیوری کو قران و اللہ کے دئے ہوئے علوم کی روشنی میں حق ثا بت کرنے کے لئے انسان کی پیدائش کی تاریخ دس لاکھ سال قبل بتاتا ہے تو کوئی چھ لاکھ سال قبل کی اور ان کی پیدائش دس ہزار سال قبل کی ثابت کرتا ہے۔کوئی آدمی اور انسان میں یوں تفریق کرتا ہے کہ انسان آدمی یعنی آدم سے کئی لاکھ سال قبل کی مخلوق ہے اور اسی انسان میں سے آدم و حوا کا انتخاب ہو گیا جس سے دس ہزار قبل سے ان کی نسلوں میں اضافہ ہوا، اب کوئی ان سے یہ پوچھے کہ پھر وہ دس لاکھ سال سے بنے ہوئے انسان یعنی دس ہزار قبل سے پہلے کے لوگ کیا ہوئے ؟کیا ہوا میں تحلیل ہوگئے ؟ اور اگر ایسا ہوا تو بہت برا ہوا کہ انسان یعنی انسانیت ختم ہوگئی اور آدمیت باقی رہ گئی، اس سے زمیں پہ جو انتشار و فساد و دہشت و وحشت گردی ہے اس کا سبب تو پتہ چل جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسانیت اور چیز ہے آدمیت اور ہے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ انسان ذہنی ارتقا کے مراحل نہیں طے کر رہا بلکہ انسانیت سے ہٹ کر آدمیت کے جامے میں تنزلی کی طرف گامزن ہے ۔

R       کوئی روح کو جان سے الگ چیز سمجھتا ہے ، کوئی روح کی اصطلاح ہی کو بے معنی قرار دیتا ہے۔جو ہے وہ جسم ہی ہے بقیہ سب خیال و خواب ہے۔ کوئی جنت و جہنم کو کوئی مقام مستقل دینے پر تیار نہیں بلکہ اسے آدمی کے اندر کی کیفیت بتاتا ہے اورہر اک اپنی سوچ کو قرآنی آیات سے ثابت کرنے کے لیے ادھر ادھر سے ٹکڑے بغیر سیاق و سباق کے جمع کر لاتا ہے ۔قران ویسے بھی ایک عام آدمی کے لئے تھوڑا ہی آیا ہے ، یہ تو  بڑے بڑے طرم خان چغادری لوگوں کے لئے آیا ہے جو اسے پڑھ کے اپنی شاعری فرماتے رہیں ۔ آیات کے تانے بانے کر کے اپنی علمیت کی بڑہانکتے رہیں۔ایسے ایسے مفہوم نکالیں جس کی خبر خود صاحب ِ قرآن یعنی اللہ اور اس کے رسولؐ  کو نہ ہو۔متشابہات کی کوئی کمی تو نہیں سنسنی خیز تاویلات انہی کا تو کرشمہ ہے ۔حضورؐ جن پہ قرآن نازل ہوا ان کی ہدایت ، تعلیم و تزکیہ کو آوٹ آف ڈیٹ نہ سمجھا جائے تو قرآن موجودہ دور میں کیسے سمجھ میں آئے گا ؟ قرآن ہی کو سمجھنے کی تو یہ کوشش ہے کہ اس کتاب سے اور اللہ کے دین سے روحِ محمدی کو نکال دو کی مہم جاری ہے۔وہ تو صرف ایک بشر تھے جن کا کام ایک ڈاکیہ کی شکل میں قرآن کو ڈیلیور کر دینا تھا ، اب اس سے زیادہ کچھ بھی سمجھنا  شرک ِ خداوندی ہے ہم جیسے مَوَحدوں کے نزدیک نعوذ با للہ۔اب ہم جانیں اور قران جانے ۔اللہ سے ملاقات ہوگی ؟ اگر ہوئی تو دیکھا جائے گا ۔ بہت سارے اشعار ہم نے یاد کر رکھے ہیں جسے سن کر اللہ بھی دم بخود رہ جائیں گے اورہم سے کچھ نہ پوچھا جائے گا !!ویسے بھی چار دن کی فرصت ِگناہ کا کیا حساب دینا ! بس نظریں چرا کر ہمیں جنت ہی عطا کرنے پہ مجبور ہوں گے ، اور یوں بھی سب کیا دھرا تو اللہ میاں کا ہی ہے ، ہم کو عبث بدنام کیا ۔

          کوئی جنت و جہنم کی تفصیلات کو علاقائی نشانیاں بتاتا ہے۔کسی کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ قرآن میں صرف عرب تہذیب و تمدن کی علامات ہی کیوں ہیں دوسری کیوں نہیں جبکہ قرآن کو اللہ کی الہامی کتاب سمجھا جاتا ہے اور اسے ایک آفاقی اور کائناتی صحیفہ بتایا جاتا ہے ؟ کوئی سزا اور جزا پہ اپنی تاویلیں کرتا ہے ۔کوئی ابلیس کو بھی بخشوانے کے چکر میں ہے ۔ سوال یہ بھی اٹھا کہ جب اللہ میاں کو پتہ تھا کہ ابلیس کیا کرنے والا ہے تو اسے بنانے یا مستقل زندہ رکھنے کا جواز کیا ہے ۔آزادی اظہار کا زمانہ ہے ، تکریم و تحریم کو ہٹا کر ہی کھل کر بات کی جاسکتی ہے اس لئے کچھ فلسفیوں اور شاعروں نے تو ابلیس کی بحث بھی اللہ میاں سے کروادی کہ سب کچھ تو مشیت الہٰی کے تحت ہے تو پھر میں بیچارہ معتوب و لعین کیوں ٹھہرا ؟

          ایک حدیث ہے کہ آخرت میں ہر کسی کی صحابیت اس کے ساتھ ہوگی جسے وہ عزیز رکھتا ہے تو ظاہر یہ دانشور و فلسفی و شاعر اگر ابلیس کی وکالت نہ کریں تو وہاں بھی اس کی مصاحبت کے بغیر کتنے اکیلے ہوجائیں گے۔ کوئی جہنم کو دائمی محل نہیں مانتا تاہم قرآن میں جواس سے متعلق ’ ابَدا ‘کی متواتر آیات ہیں ان کو یہ کیسے حذف کریں گے ؟ سوچنے والی بات ہے ۔ کسی کو وقت کی سمجھ نہیں آتی کہ ماضی و حال و مستقبل کیا ہے ؟  اور اگر یہ صرف اصطلاح ہے تو کوئی چیز عارضی اور مستقل یعنی دائمی کیسے ہو سکتی ہے ؟ کوئی حضور ؐ  کی معراج کو صرف اس لئے ماننے کو تیار ہے کہ آئین سٹائین نے یہ کہہ دیا ہے کہ وقت کی ایک اور سمت بھی ہوتی ہے اور وقت ایک خاص کیفیت میں ٹھہر تا بھی ہے ، حرکت بھی متحرک نہیں رہتی ۔پھر بھی وہ اس حد تک مانتے ہیں کہ یہ کوئی خواب کا سفر ہے یا کوئی روحانی تجربہ… اب ان عقل سے عاری لوگوں کو کون سمجھائے کہ اگر یہ بات صرف خواب و روحانی سفر کی تھی جسمانی نہیں تھی تو اس کی تفصیلات جان کر اس دور میں بے ایمان یا ناقص الایمان یا یقین نہ کرنے والوں کا جو ردِ عمل سامنے آیا وہ تو یہی تھا کہ یہ جسمانی معراج ہو ہی نہیں سکتی۔ قرآن میں یہ ردِ عمل ظاہر ہے ۔ خواب اور دوسرے ماورائی تجربات کا پتہ تو سب کو ہے اور یہ کسی پنڈت ، پروہت ، راہب یا عام آدمی  کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور ہوتا رہا ہے تو پھر اس واقعہ پر جھگڑا یا استہزا کیوں کیا گیا ؟ کیا صدیقیت کا خطاب بھی صرف اس لئے ملا کہ انہوں نے حضورؐ کے خواب کی تصدیق کی ؟

          کچھ دانشور مسئلہِ تقدیر میں الجھے ہوئے ہیں کہ اگر مسئلہِ تقدیر کو مان لیا جائے تو اعمال بد اور اعمال نیک کیا ہیں ؟ کامیابی یا ناکامیابی کیا ہے ؟ محنت و مشقت و جدوجہد کیا ہے ؟ پھر شیطان و ابلیس کیا ہے ( کہیں یہی دانشور و فلسفی و صحافی تو نہیں ) ؟ ملائکہ و جن کیا ہیں ؟ عقل و قلب و و جدان کیا ہیں ؟ سوچئے کہ سوچنے پہ تو کوئی پابندی نہیں اور نہ بولنے پہ ہے ۔ کم سے کم آج کل تو نہیں ہے ۔ اگر بولنے پہ پابندی ہے تو ان کے لئے ہے جو اللہ اور رسول کی بات ویسے ہی کرتے ہیں جیسے کہ بتائی گئی ہیں۔ اللہ اور رسول ؐ  کی واضح آیات اور سادہ زبان میں وہ چاشنی اور رنگینی کہاں ہے جو ابن رشد ، ابن تیمیہ، ابن عربی  اور بے شمار مسلم یا غیرمسلم فلسفیوں و علماکے فکری الجھاؤ اور ماورائی باتوں میں ہے ۔آدمی ایسی دلچسپ و حیرت انگیز باتوں اور کتابوں کو چھوڑ کر کیا ایک زاہد خشک کی طرح صرف ایک اللہ کی کتاب اور نبی آخر الزماں کی بات کا اعتبار کر لے…زندگی میں پھر دلچسپی کیا باقی رہ جائے گی ؟ ذہنی عیاشی کا سامان کہاں سے فراہم ہوگا ؟ یہ سادہ دل مسلمانوں یا انسانوں کے پاس عقل جو نہیں ہے ، یہ دقیانوسی لوگ تو نہ جانے کتنے آدمی کو سال پیچھے لے جانا چاہتے ہیں ؟کیا پتہ کہ یہ آدمی کو پھر سے انسان بنانے پر تلے ہوں اور ایسے لوگ اسی انسان کی فکری ذریت میں ہوں جو دس لاکھ سال قبل وجود میں آئے تھے ۔ ان لوگوں سے محتاط رہ کر آدمی کو اس زمین پہ ہر جگہ  وہی ہنگامہ آرائی کرتے رہنا چاہیے جو کر رہا ہے اور دیکھئے نا قرآن بھی تو یہ کہہ رہا ہے ’’ ہم نے انسان کو بہترین صفات پہ پیدا کیا یعنی احسن الخا لقین بنایا اور پھر ( اپنی بد اعمالیوں کے سبب ، پتہ نہیں یہ بھی کہنا صحیح ہے یا نہیں یا  اسے بھی کائناٹک انرجی کا ہی فیصلہ قرار دیا جائے ) ثم ٰرددنا ہ اسفل السافلین یعنی بد ترین یا نچلی ترین گہرایوں یا درجہ میں جا گرایا۔ اب اس کی تاویل کون کرے کہ کیا انسان احسن الخالقین ہے اور آدمی اسفل السافلین ؟ آپ بھی ذراسوچیں اور کچھ کہیں ـ آپ پہ بھی کوئی پابندی نہیں ! شاید یہ کائناٹک انرجی آپ کو بھی کچھ سُجھادے۔!اگر کچھ نہ سجھائی دے تو یہی سوچئے کہ علم و حکمت و شعور و جہالت کیا ہے ؟

کسے  خبر کہ  سفینے  ڈبو  چکی  کتنے  ؟   :    فقیہ  و  صوفی و  شاعر کی ناخوش  اندیشی

 اس شعر میں اب دانشور ، فلسفی ، علمأ سو و صحافی کا اضافہ آپ اپنے تئیں کر لیں !

مجھے اجازت دیجئے ! اور مجھ سے کچھ نہ پوچھئے کہ نہ میں فلسفی، نہ میں مُلا، نہ فقیہہ، نہ علامہ و مولانا ،نہ  دانشور،نہ محقق ،نہ آسمان کی بلندیوںپہ بیٹھنے والا روحانی بادشاہ ،نہ پیر و فقیر ،نہ مجد د و مجتہد،نہ معبر ،نہ مخبر، نہ مرشد، نہ شیخ ، نہ اعلحضرت ،نہ ستارہ شناس ،نہ قیافہ شناس ۔ میرے پاؤں تو زمین پر ہی رہتے ہیں اور اسی کی گرمی و سردی اور اس کے ارتعاش و سکون کو محسوس کرتے ہیں ۔ صرف ایک اللہ کا شاکر و صابر بندہ اور کچھ نہیں ، میرے پاس تو سارا سرمایہ علم و شعور صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول  ؐ کی محبت پہ مبنی ہے ! میرے لئے کائناٹک انرجی  اور پوٹینشیل  انرجی  کا مفہوم  الگ ہے !

اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن  :   اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے  جیحوں

حشام احمد سی

 

 

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: