Hesham A Syed

January 6, 2009

Missiyar or Legal Prostitution

Filed under: Muslim world,Religion — Hesham A Syed @ 3:20 pm
Tags:

Urdu Article : Missiyar ya Mutta ya Legal Prostitution : Hesham Syed

           or            زواجِ  المسیار ، متعہ   Legal Prostitution

پچھلے کئی صدیوں سے امت مسلمین عجیب خلفشار کا شکار ہے ۔ بہت سے معاشرتی مسائل کو سلجھانے کی بجائے یہ الجھانے پہ تلی ہوئی ہے۔ اب تک تو جماعت اہل سنت نے  فقہ جعفریہ کے فتوے متعہ ( عارضی شادی )  کی خلاف ایک محاذ آرائی کر رکھی تھی ، نہ جانے کتنی کتابیں اس موضوع پہ لکھی گئیں اور علمأ کے کتنے شب و روز  اسی مناظرے میں صرف ہوئے ، قرآن کی کتنی آیتوں کو کھنگالا گیا ، کتنی حدیثیں اس کے رد میں سنائی گئیں ، کتنی روایتوں سے اسے حرام قرار دیا گیا لیکن یہ کیا ہوا کہ مکہ مکرمہ میں اسلامی فقہ اکیڈمی نے اپنے ۸۱ ویں اجلاس میں مختلف النوع شادی کے بارے میں فتوے جاری کئے جس میں خاص طور پہ طلاق کے ساتھ مشروط شادی ، عارضی شادی ، خفیہ شادی ، روایتی شادی ، فرینڈ شپ شادی ، سول میرج اور تجرباتی شادی شامل ہیں۔ اس اکیڈمی نے زواج المسیار یا اس جیسی دیگر شادیوں کی اجازت دی جس میں شادی کے جملہ شرائط و ضوابط پورے کئے گئے ہوں۔ اسلامی فقہ اکیڈمی رابطہ عالم اسلامی کے تحت ہے لیکن یہ ایک آزاد خود مختار اسلامی و علمی ادارہ ہے، جو امت مسلمہ کے منتخب علما و فقہا پر مشتمل ہے ۔ اس اجلاس میں ۰۶ علما و فقہا شریک تھے ۔ شادی کی شرائط جو الازہر یونیورسٹی کے علما سے ثابت ہیں وہ یہ ہیں کہ : 

۱۔ شادی کے لیے ولی امر اور گواہوں کی موجودگی  ۲ ۔ مہر  ۳۔کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو یعنی مسلم عورت کا نکاح غیر مسلم مرد سے نہیں ہوسکتا اسی طرح مشرکہ سے نکاح نہیں ہو سکتا  ۴ ۔شادی کا اعلان ضروری ہے اسے خفیہ نہیں رکھا جا سکتا  ۵ ۔اگر عورت رہائش کے حق سے دستبردار ہو جائے تو بھی ایسی شادی جائز ہے۔

           زواج المسیار ایسی شادی ہے کہ جس کے تحت بیوی مکان ، نان نفقہ اور دولت کی تقسیم سے مکمل یا جزوی طور پر دستبردار ہو جاتی ہے اور اس بات پہ راضی ہوتی ہے کہ شوہر دن رات میں جب چاہے اس کے یہاں آئے جائے۔

           اسلامی فقہ اکیڈمی کے اس فتوے سے زبردست اور متضاد رد عمل سامنے آیا ہے۔ کچھ مرد وزن نے فوری طور پہ اس سے استفادہ کیا اور کہنے لگے کہ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے، یہ شادی عارضی بھی ہو سکتی ہے اور خفیہ بھی اور مرد کو شادی کی مروجہ ذمہ داریوں سے بھی مبرہ کر دیتی ہے سو بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے کا جواز فراہم کر تی ہے۔جو علما اس کے حق میں ہیں ان کا خیال یہ ہے کہ نوجوان مرد و عورت کو حرام کاری کی بجائے اس شادی کا فائدہ اٹھانا چاہیے ( یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ بسم اللہ پڑھ کر وہسکی پی جا سکتی ہے ) ، موافقت میں جو لوگ ہیں ان کی وضاحت یہ بھی ہے کہ المسیار سے معمر کنوارپن کا مسئلہ اور سیٹلائٹ چینل و دیگر فواحشات و شہوانی محرکات کی فتنہ انگیزیوں سے پیدا ہونے والی اخلاقی انحراف کا خاتمہ ہوگا۔ (   ؎رات بھر خوب پی صبح ہوئی توبہ کر لی     رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی )، یعنی بجائے اس کے کہ لوگوں کی تربیت ان معنوں میں کریں کہ اخلاق باختہ پروگرام نہ دیکھیں ور نہ پروڈیوس کریں اور غصِ بصر اور باطنی طہارت کی اہمیت کا احساس دلائیں یا معاشرے میں ایسے قوانین نافذ کریں جس سے طلاق کم سے کم ہو اور اعلانیہ و حلال شادیوں کی آسانی ہو، اس میں پیدا کی ہوئی انفرادی اور معاشرتی یا ثقافتی رکاوٹ دور ہو ۔ ان علما کو یہی نظر آیا کہ عورت و مرد کے لئے کوئی ایسی ترکیب نکال لی جائے کہ عارضی اور خفیہ طور پہ آگ کو پی جائیں یہ پانی کر کے اور اسے حلال سمجھ کے ضمیر کی ہر خلش سے بھی آزاد ہوجائیں۔ شہوانی محرکات کا جہاں تک تعلق ہے تو صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے ۔

          ہیجانی کیفیت طاری ہو تو فرینڈشپ ، عارضی و خفیہ شادی کر کے کسر پوری کر لیں۔ کھلے عام نہ سہی چھپا کے ہی سہی شہوانیات تو عام ہو ہی گئی نا ؟ عورتوں کو پابند کروچادر اور سر سے پیر تک نقاب میں ڈھانکے رہو لیکن انہیں اپنی نفسانی خواہشات کا ایک ذریعہ بنائے رہو ۔ چونکہ یہ جواز عورت و مرد کے لیے یکساں ہے سو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ عورت پہ ظاہراً کوئی ظلم ہو رہا ہے لیکن دیکھنے والی آنکھ یہ صاف دیکھتی ہے کہ اس کا زیادہ نقصان بھی عموماً عورتوں کو ہی ہوگا سوائے ان چند کے جن کے لئے کوئی اقتصادی یا مالی مسئلہ نہیں یا وہ جو پہلے ہی اپنی فطری شرم و حیا سے گریز کئے بیٹھی ہیں۔ ایک نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ اس سے عورتوں کے وقار و عزت میں مزید کمی آئے گی ۔پہلے ہی ہر معاشرے میں چاہے وہ شرق ہو کہ غرب مختلف حیلے بہانے سے مردوں نے عورتوں کو استعمال کیا ہوا ہے اور اسے اپنی حیوانیت کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ایک طرف چادر و نقاب پہنا کے لیکن اپنی پوشیدہ حرم سراؤں کو آباد کر کے تو دوسری طرف اسے آزادی اور برابری کا دلاسہ دے کر سرِعام برہنہ کر دیا ہے۔

          ساری دنیا میں لے دے کے اسلام ہی وہ فکری اثاثہ ہے یا طرزِ حیات ہے جو عورتوں کی حرمت ، محافظت، عزت اور وراثت کا داعی ہے اور فطری توازن کے ساتھ مرد و عورت کے حقوق و ذمہ داریوں کی تفصیل فراہم کرتا ہے اور برابری کا ہی درجہ نہیں بلکہ بعض تعلقات و معاملات میں عورتوں کو زیادہ پر وقار بناتا ہے اور انہیں فوقیت بخشتا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ داعیانِ اسلام نے ایک علاقائی تہذیب ، کسی قبیلے کی مخصوص ثقافت کو اسلام بنا کر اس کی روح کو پامال کیا ہوا ہے۔

           اگر یہ معاملہ اور فتویٰ صرف ایک مخصوص معاشرت و علاقے اور ملک کے شہریوں کے لئے ہے تو اسے اسلام کی ٹوپی کیوں پہنا دی گئی ہے ؟ اسے اسلام کا عمامہ کیوں باندھ دیا گیا ہے ؟ آپ کا جو جی چاہے کرتے رہیں ۔کس نے روکا ہے دورِ جاہلیہ کا رویہ اپنا لیں ؟ کچھ کا کہنا ہے کہ قرونِ اولیٰ میں بھی لوگ تجارت کے لئے کسی اور شہر جاتے تھے تو وہاں شادیاں کر لیتے تھے سو اسے اسلامی قراردیا جا سکتا ہے۔ قرون اولیٰ میں کوئی ضروری تو نہیں کہ سارے لوگ اسلام کی روح کو سمجھ پائے ہوں۔ انسانی فکر مخصوص دور میں منجمد نہیںہو ئی، یہ سیل رواں ہے اور زمانے کے تغیرات کے ساتھ منسلک ہے اور پھر ایک زمانے سے جو رسم رچی بسی ہووہ فوری طور پہ ختم بھی نہیں کی جا سکتی ، لوگ دور جاہلیہ میں لوٹنے کا کوئی نہ کوئی جواز نکال لیتے ہیں۔اگر لوگ پچاس پچاس بیویاں رکھتے تھے، یا ایک عورت کئی مردوں سے شادی کر لیا کرتی تھی ، یا لوگ قوم لوط جیسی حرکات میں مبتلا تھے یا لونڈیوں کے رکھنے کا عام رواج تھا تو ان ساری باتوں سے کیا اب ایسا کرنے کا جواز نکلتا ہے ؟ اسلام نے زیادہ سے زیادہ چار اعلانیہ شادیوں کی اجازت پورے انصاف اور ذمہ داریوں کے ساتھ دی ہے لیکن کوئی اس اجازت کو صرف دولت و ثروت کا سہارا لے کر اپنی شہوت رانی اور کثرت ازواج کا ذریعہ اس طر ح بنا لے کہ ایک وقت میں چار رکھے لیکن سیکڑوں سے ہم بستری کر کے انہیں طلاق دیتا رہے توکیایہ عمل جائز ہوگا اور اسے اسلامی قرار دیا جا سکتا ہے ؟ انسانیت سے گری ہوئی بات او رعمل کبھی اسلامی نہیں ہو سکتی۔

          کچھ خواتین اور مرد یہ بھی کہتے ہیں کہ جب علمانے اس کا فتویٰ دے دیا تو ہم اس پہ اعتراض کر نے والے کون ہوتے ہیں ؟ چند علما کیا خدائی فوجدار ہیں ؟ اسلام کیا چند علما کی بے عقلی کا مرہونِ منت ہے یا کسی خاص علاقے کے لوگوں کے طرز ِ فکر کا پابند ہے۔ یہ ایک عالمی و آفاقی دین ہے۔ پورے عالم اسلام میںلوگ صرف ۰۶ علما کے پیروکار تو نہیں ؟ کیا قرآن ہر ایک کو مخاطب کر کے نہیں کہتا کہ افلا تعقلون ، افلا تدبرون ؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ، کیا تم تدبر و غور و فکر سے کام نہیں لیتے ؟

~                  جو لوگ یا علماصرف دور سے تماشہ دیکھتے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ فرینڈشپ یا عارضی یا خفیہ شادی کی اجازت کم سے کم ہم اپنی بیٹیوں کو تو نہیں دے سکتے۔ آپ کا کہا سر آنکھوں پر لیکن اس کے پیچھے کوئی خیال اور تو نہیں ؟کیوں صاحب کیابیٹے ہی ہر جگہ منہ مارتے پھریں ، کیا کسی اور کی بیٹیوں ، ماؤں ، بہنوں کی کوئی عزت نہیں ؟ کیا دوسروں کے لئے آپ کی حمیت و شرافت و وقار کاپیمانہ دوسراہے ؟ کچھ کا کہنا ہے کہ اگر مردوں کو ہر قسم کی معاشرتی ذمہ داری سے آزادی مل گئی تو یہ ایک اور فتنہ کا دروازہ کھول دے گا۔ المسیار کی موجودگی میں کون اعلانیہ شادی کی مصیبت اٹھائے گا ۔یہ سارے کا سارا نظام  ایک  قانونی طوائف گیری کا  نظر آتا ہے۔ یہ معاملہ لگتا ہے ہمیں بھی رفتہ رفتہ مغرب زدہ بنا دے گا جہاں اب اکثر مرد اور عورت میاں بیوی کی طرح بغیر نکاح و شادی کے ساتھ رہتے ہیںاور بچے بھی ہوتے رہتے ہیں ۔ بیویاں بھی بدلتی رہتی ہیں خفیہ طور پہ اور شوہر بھی بدلتے رہتے ہیں خفیہ طور پہ ۔ وہاں کی حکومت اور معاشرت نے ان ساری باتوں کو قبول کیا ہوا ہے۔ اس کے خلاف اٹھنے والی آواز کو انسانی حقوقِ آزادی کے خلاف سمجھتے ہیں اور اس پہ گرفت کرتے ہیں ۔یہ صرف اصطلاح کا فرق ہے اگر وہ اسے انسانی حقوقِ آزادی کی بجائے حیوانی اور شیطانی حقوقِ آزادی کہا کریں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ ویسے بھی بعض فلسفیوں اور محققین  کے نزدیک انسان حیوانِ ناطق ہی تو ہے۔

          انسانی معاشرے میں مرد و زن سے متعلق جو مسائل درپیش ہو تے ہیں، ان کا حل درجہ ذیل ہیں :

۱۔       خواتین یامرد کنوارے ہوں۔ عمر بڑھ رہی ہو ، کوئی بر نہیں مل رہا ہو تو فرد و معاشرے کے غیر ضروری  اصراف، رسوم و پابندیوں کی اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ شادیوں میں کوئی دشواری نہ پیدا ہو۔

۲۔       معاشرے میں بیوگان کی تعداد بڑھ رہی ہو تو ان کے لئے بھی وہی کچھ کیا جانا چاہیے جو اوپر بیان ہوا ہے تاکہ انہیں بھی تحفظ فراہم ہو۔ نکاحِ بیوگانکی ترغیب دی جائے،

۳۔          معاشرے میں طلاق شدہ خواتین کی تعداد بڑھ رہی ہو تو ان کے لئے بھی وہی کیا جانا چاہیے جو اوپر بیان ہوا ہے ۔ اور ساتھ ہی ساتھ طلاق کی کثرت کو ختم کرنے کی تدبیر کرنی چاہیے۔شادی میں کفو کا خیال رکھا جائے اور مردوں و عورتوں کی باطنی اصلاح کی جائے تاکہ دونوں شادی کی حرمت ، ایک دوسرے کی عزت و احترام کا خیال محبت کے ساتھ ساتھ رکھیں۔ ایسے ماحول اور طریقۂ زندگی سے بھی گریز کرنا چاہیے جس میں شوہر اور بیوی میں ایک دوسرے سے بے زاری پیدا ہو۔ اس کے علاوہ ایسے رئیسوںاور بگڑے ہوئے لوگوں کی تربیت اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے جو عورتوں کو اپنی دولت کا سہارا لے کے یا ان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر یا کسی اور مقصد کے لئے اپنی ہوس کی تسکین کے لئے شادی کرتے ہیں اور اسے تنگ کرتے ہیں یا طلاق دے ڈالتے ہیں۔

۴۔       عورتوں کی آبادی کی کثرت ہو تو اس کا علاج کثرتِ ازواج ہے لیکن اعلانیہ حلال شادی ہوخفیہ نہیں۔ یہ بھی قدرت کا عجیب انتظام ہے ،  اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ عورتوں کی آبادی زیادہ ہوتی ہے ، مردوں کی عمر عورتوں کے مقابلے میں عموماً کم ہوتی ہے ، فرض کیجیے کہ کہیں مردوں کی آبادی زیادہ ہو بھی تو وہ کسی اور ملک یا علاقے کی کسی عورت سے اعلانیہ شادی کر سکتا ہے۔ اسلام میں اس کی بڑی گنجائش رکھی گئی ہے۔عورتیں بھی اگر دوسری یا تیسری بیوی نہیں بننا چاہتیں تو کسی بھی مسلمان مرد سے شادی کر سکتی ہیں چاہے وہ ان کے خاندان کا یا ملک کا ہو یا نہ ہو۔ اسلام مذہبِ کائنات ہے اس میں رنگ و نسل کی پیچیدگیاں نہیں ۔

           بہت ساری دشواریاں گروہی ، رنگ و نسل کی متعصبانہ رویہ سے پیدا ہوتی ہیں۔کسی بیماری یا سببِ دیگر کے تحت اگر مرد یا عورت حقوق زوجیت ادا کرنے سے قاصر ہوں تو عورت اگر چاہے تو اپنی فطری شرم و حیا کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اپنے وکیلوں کے زریعے یا قانونی طور پہ خلع لے سکتی ہے اور دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ ایک وقت میں اس کے دو شوہر نہیں ہو سکتے لیکن مرد کے لئے پہلی یا کسی بیوی کو طلاق دینا ضروری نہیں۔ وہ انسانی تعلقات کا لحاظ کرتے ہوئے ایسی بیوی سے مشفقانہ رویہ رکھ سکتا ہے اور اعلانیہ دوسری شادی کر سکتا ہے۔

(                  مسائل چاہے جو بھی ہوں ، خفیہ ، عارضی ، فرینڈٖ شپ ، ویک اینڈ یا طلاق کے ساتھ مشروط شادیاں کبھی بھی اسلامی نہیں کہلائی جا سکتیں۔ ان ساری تجاویز میں بے وفائی ، نفاق ، سخت دلی ، ہوس پروری ، نفس پرستی اور  حیوانیت کا عنصر نمایاں ہے جو اسلام کے روح کے خلاف ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ کسی غیر اخلاقی عمل کی اصلاح کسی دوسرے غیر اخلاقی عمل سے نہیں ہوتی۔ انسانی ارتقا کو اب اس حد تک تو پہنچ جانا چاہیے کہ مردو    زن ایک دوسرے کو انسان ہی سمجھیں اور اس ناطے ایک دوسرے کا احترام ایسے ہی کریں جیسے وہ خود اپنا کرتے ہیں ۔ عورتوں کو کال کوٹھری میں بند کر کے اور اسے سر سے پیر تک مبحھوس کر کے انسانی معاشرت ترقی کر سکتی ہے نہ اسے برہنہ کر کے اورمحافل کی زینت بنا کے اسے آزادی اور برابری کا خواب دکھا کر ۔ احترامِ آدمیت یا انسانیت کے تقاضے اور ہیں ۔ اصل کام اپنے اندر کے جانور اور حیوانیت کو لگام دینے کا ہے۔ اس کی تربیت کر کے انسان بنانے کی اشد ضرورت ہے خصوصاََ مردوں کو اس لئے کہ عورتوں میں ایک فطری حیا عموماً پائی جاتی ہے۔ افسوس کہ ہم اپنی وحشت و بے عقلی میں اللہ کے پیغام کو سمجھ نہیں پائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رسی ، اور دامنِ رسول  ؐ کو تھامے رہیے اور عقل کے دریچے کھولئے ، حکمتِ پیغامِ الٰہی کو سمجھئے، صرف رسوم کی آبیاری ، بے عقلی کے فتاویٰ اور اندھی تقلید سے کام نہیں چلے گا۔

 کہہ جاتا ہوں میں زورِ جنوں میں ترے اَسرار     مجھ کو بھی  صِلہ دے  مری آشفتہ  سری کا

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: