Hesham A Syed

January 6, 2009

Spiritual Stooges !

Filed under: Muslim world,Pakistan,Social Issues — Hesham A Syed @ 3:41 pm
Tags: ,

Urdu Article : Roohani Gumashtey : Hesham Syed

روحانی گماشتے یا پرُ اَسرار بندے ؟

پاکستان ، ہندوستان ، امریکہ، جرمنی ، انگلینڈیا کنیڈا ہوآپ کو ہر جگہ ایسے افراد مل جائیں گے جو اپنے آپ کو  غازی کہلوانا پسند کرتے ہیں لیکن اصل میں وہ پُر اَسرار بندے ہیں جو ہمدردِ زمانہ تو نہ کہیے ہمدردِ اسلام اور عاشقِ پیغمبرِ اسلام بن کر کسی دیمک کی طرح اس کی جڑوں اور شاخوں پہ رینگتے اورچاٹتے پھرتے ہیںتاکہ جہاں سے بھی ہو اس شجر کو کھوکھلا کیا جاسکے۔ ان فن کاروں کا اپنا رنگ ہے اور ان کے فن کے رسیا بھی بے شمار مل جاتے ہیں جو جگہ جگہ انہیں لیے پھرتے ہیں جو ان کو مہمان خصوصی بنا کر بغیر کسی تحقیق کے دینی مجالس منعقد کرواتے پھرتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ اپنی تصویر کھنچوا کر اخباروں میں اپنے معتبر ہونے کا ثبوت دیتے ہیں اور کچھ ایسے مدیر ِ اخبار ہیں جو ایسے ہی لوگوں کے ٹولے کی تشہیر کر کے اپنے تجارتی ایجنڈے کو تقویت بخشتے ہیں۔ ایسے مبلغین اور خود ساختہ عالم دین ، مولانا یا علامہ یا مجتہد یا مدعیان نبوت و رسول ، روحانی عامل سب کے سب حضورؐ کی محبت ،  قرآن و حدیث کے حوالے سے ہی وار کرتے ہیں تاکہ بھولے بھالے عوام کو شک بھی نہ گزرے اور وہ ایسے ہی  پُر اسرار لوگوں کے جال میں پھنستے چلے جائیں۔ 

D          روایتوں میں یہ روایت ملتی ہے کہ ایک بار کسی صحابی نے کسی مریض کی بیماری میں سورہ الحمدشریف کا دم کیا  تو اسے شفا نصیب ہوئی اور اس کی اطلاع حضورؐ  کو دی تو حضورؐ نے بیماری کے علاج کے لیے قرآنی آیات کے پڑھنے اور دم کرنے کی ہمت افزائی کی ۔یہ ایک واضح سی بات ہے کہ قرآن کی آیات میں روحانی اور جسمانی شفا ہے ۔خود حضورؐ سے ایسے کئی واقعہ کا پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے لوگوں پہ بھی اور اپنے آپؐ پہ بھی قرآنی آیات کا دم کیا لیکن اسے تجارت بنا لینے کی تو روایت کہیں نہیں ملتی بلکہ خود قرآن میں قرآنی آیات کے عوض کوئی معاوضہ لینے پہ ممانعت آئی ہے۔

           لیکن صاحب کچھ نہ پوچھئے! ہر اخبار میں ، ٹی وی پر ، ریڈیو پر ، رسالوں میں اور ویب سایٹ پر آپ کو پیر سید صاحب اور اجمیری بابا ، بابا سائیں جیسی شخصیات مل جائینگی۔لگتا ہے کہ روحانی عاملوں کی یہ کھیپ اپنے موسم کا انتظار کرتی رہی تھی اور اب ساون آیاہے جس میں اس کے تنے پر بے شمار شاخیں اور کونپلیں پھوٹیں ہیں۔  لطف یہ ہے کہ ایک طرف روحانی معالج ہونے کا دعویٰ تو دوسری طرف یہی لوگ ٹی وی پر ایسے بے ہودہ فلموں اور ناچ گانوں کا پروگرام اسپانسر کرتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے ، پنڈتوں ، ساحروں اور دوسرے شعبدہ باز عاملوں سے تو یہ متوقع ہے کہ وہ اسلام سے نابلد ہیں سو ان کے نزدیک نفس کی حرمت کا مفہوم الگ ہے لیکن یہ کام ایک مسلمان کرے اور وہ بھی  پیر ، سید اور اجمیری بن کر یہ ہضم نہیں ہو پاتا۔ ان حالات کو دیکھ کر اندازہ تو یہ ہوتا ہے کہ با باؤں کی اس فہرست کو خود ہی نفسیاتی یا روحانی علاج کی ضرورت ہے۔ ذرا سوچیں کہ آپ ایک ہیجانی اور شہوانی فلم دیکھ رہے ہیں کہ اسے اجمیری بابا یا پیر سید صاحب نے سپانسر کیا ہے اور پھر اس کے درمیان آپ فون کریں اور بابا سے اپنے اندر اٹھنے والی اعصابی بیماری کے علاج کا مشورہ طلب کریں ، بڑی محبت سے اور کبھی نخوت سے آپ سے مخاطب ہو اجائے گا ،  بچہ جمورا جو مانگ رہا ہے وہ تو مانگ ہی رہا ہے لیکن یہ نہیں پتہ کہ اس مانگنے کی قیمت اسے ٹیلیفون کے ذریعہ کیا ادا کرنی پڑ رہی ہے ، اگر پیر صاحب یا بابا کی تجویز یا باتوں سے  ان کا شہوانی بخار اتر بھی گیا تو یہ فون کے طویل گفتگو کے بعد مفلوک الحالی کی بیماری میں مبتلا ہوجائے گا ، اب اس کے علاج کے لیے مزید فون کھڑکائیے۔ یہ تو ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے ، پہلے اس قسم کے شعبدہ بازوں کے مرید کھینچ کھینچ کے لوگوں کو پیر صاحب کے پاس لاتے تھے اب یہ کام میڈیا کے لوگ کرتے ہیں جس سے خواہ مخواہ ان کو بھی آمدنی میسر آتی ہے۔ اخبار ،رسالے یا ویب سائٹ ہو ں سب کے سب انسانی فلاح و بہبود میں جُٹ گئے ہیں۔ کسی اخبار کو دیکھ لیں یہ ہفتہ کیسا رہیگا ، علم جعفر ، عددوں کا علم ، علم ِنجوم ، علمِ دست شناسی ، روحانی علاج و معالجے کے وظائف ، چارٹ اور کامیابی کی داستان سے بھرا پڑا ہوگا۔ اور جب اس علم کی اس قدر بہتات ہو تو  زاھد خشک بھی نظریں چرا کر اپنے ہفتہ پہ تو ایک اچٹتی نظر ڈال ہی لیتے ہیں کہ شاید کچھ بہتر ہو ، کیا کیا جائے تجسس کا مادہ بھی تو انسانی فطرت کا تقاضہ ہے۔ خط و کتابت اور ای میل تو اپنی جگہ ٹیلی ویژن پہ اب باقاعدہ پروگرام بھی آنے لگا ہے جس میں بھانت بھانت کے دست شناس ، علم نجوم کے ماہر ، عددوں کے ماہر ، پلے کارڈ کے ماہر ، قرآنی آیات کے وظائف کے ماہر صرف باریش ہی نہیں بلکہ ماڈرن اپ ٹوڈیٹ بھی آپ کے مستقبل کی تعبیر کرتے ہیں اور مشورہ دیتے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے ، ( ٹی وی پر طوطا البتہ نظر نہیں آتا ، شاید اس کی جگہ فٹ پاتھ ہی ہے یا کسی خیمہ میں کسی عامل کے کندھے پر یا ٹیبل پر بیٹھا ہوگا اور کارڈ نکال کر اپنے سامنے والے الو کی قسمت کا حال بتا رہا ہوگا ، سننے میں تو یہ بھی آتا ہے کہ طوطے میں انسانی روح برزخی دور میں مقید رہتی ہے  شاید یہی وجہ ہے کہ پرندوں میں وہ پیروں فقیروں کا مقام حاصل کر لیتا ہے ) ۔ مٹی سے سونا کیسے بنایا جاتا ہے ، کس کی خاتون کو طلاق دلوا کر خود شادی کی جا سکتی ہے (کسی خوبصورت عورت کا شوہر تو ویسے بھی ہر آدمی کی چڑ ہوتی ہے ) ، محبت کامیاب کیسے ہو سکتی ہے ، خانگی مسائل کیسے دور کیے جا سکتے ہیں ، لاٹری کے ٹکٹ پہ انعام کیسے نکالا جا سکتا ہے ، راتوں رات دولت مند کیسے بنا جاسکتا ہے ، الیکشن میں کامیابی کے لیے کیا کرنا چاہیے ، اولادِ  نرینہ کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے ، بانجھ عورت ہو یا مرد اولاد پھر بھی پیدا کی جا سکتی ہے شرط خاتوں کا اس عامل کے پاس آنا ہے ( موجودہ اصطلاح میں اسے سیروگیٹ مدر کہا جاتا ہے اور ایسے بچے کو منت کا بچہ کہا جاتا ہے)  الغرض آپ کے اندر شیطانی وسوسے اور خواہشات کی فہرست جتنی بھی طویل کیوں نہ ہو یہ عامل حضرات وخواتین (جی ہاں چند ایک عاملہ خواتین بھی اس منافع بخش کاروبار میں شریک ہوگئی ہیں اور کیوں نہ ہوں عورت ہونا کوئی جرم تھوڑا ہی ہے ، مقابلے کا زمانہ ہے ، ہر پیشے میں خواتین پیش پیش ہیں تو یہ کیوں ان کی دسترس میں نہ ہوں) ۔سو ان کے پاس ہر خواہش کے حل کا نسخہ ہے ۔ وہ زمانہ اور تھا جب لوگ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے گنگناتے ہوئے دار فانی سے کوچ کرجاتے تھے اور یہی نہیں بلکہ وہاں جا کر بھی  اللہ سے جھگڑا مول لیتے تھے اور کہتے تھے کہ     ؎

ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد  :  یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

خیر یہ تو بہت ہی شریفانہ طریقہ ہے اللہ سے مخاطب کا اور اس میں عبدیت کی بھی جھلک ہے ، بے تکلفی ہو تو گستاخی بھی جائز ہے ، کم سے کم ہماے شاعروں نے یہی کچھ سکھایا ہے کہ آدمی یہ کیوں نہ کہے کہ :   ؎

 اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن  :  دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

یا پھر یہ کہ :    ؎

             سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم   :   بخیلی ہے یہ  رزاقی نہیں ہے

اچھا ہوا صاحب کہ روحانی عاملوں ، ہاں عالموں نہیں بلکہ عاملوں کی آبادی میں اتنا اضافہ ہو چکا ہے کہ اپنے سارے مسائل یہیں اسی دنیا میں حل کروا کے آدمی ا للہ تبارک تعالیٰ سے گستاخی کرنے سے تو بچ جاتا ہے۔ کیا یہ خیر کم ہے ؟ جزاک اللہ خیر ! ان عاملوں کی داستانیں پورے صفحے پہ چھپتی ہیں ، ظاہر ہے کہ اخبار کو اس کا معاوضہ ملتا ہے اور ان ہی کی برکتوں سے اخبار چل رہا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ اتنے سارے عاملوں کی موجودگی میں انسان بھوکا کیوں سوتا ہے ؟ لوگ قتل و غارت کرکے دندناتے کیوں پھرتے ہیں ؟ ان عاملوں کے کفیل بھی ایسے ہی لوگ کیوں ہوتے ہیں جن کی ہوس ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی ؟ 

{        ۱)  پاکستان پوسٹ سے قبل، پاکستان اسٹار ہی میں تقریباً دو سال پہلے نیا یا جدید اسلام کے مصنف اور اس کے خیالات کو منظر عام پہ لایا گیا تھا اور اس ہفتہ ایک اور کتاب اور اس کے مصنف کا تعارف نظر آیا۔ ایسے گمراہ کن لوگوں کو دانشور اور ان کی احمقانہ تصنیف کا تعارف بھی معرکتہ الآرا کہہ کے کرایا جاتا ہے تاکہ قارئین پہ لا شعوری طور پہ ان لوگوں کا ایک اعتبار قائم ہو جائے ، پھر تو کام آسان ہو جاتا ہے۔ اختر شیرازی کو صرف ایک بار مجھے سننے کا موقع ملا جب یہ مسی ساگا لائبریری میں درس قرآن دیتا تھا ، وہ درس کیا تھا اسکی اپنی جہالت کا اظہار تھا۔ ایک آدھ گھنٹے ہی میں یہ اندازہ ہو گیا کہ نہ تو اس شخص کو عربی آتی ہے(کیونکہ یہ قرآن کی سہل الفاظ کا بھی غلط  ترجمہ کر رہا تھا ) اور نہ ہی اسے دین کا فہم ہے سوائے اِدھر اُدھر کی اختلافی باتوں کے جس کا ہدف احادیث رسول ؐ  و صحابہ کرام و محدثین و اَئمہ کرام و اولیا کرام و صوفیا کرام تھے۔ اس کی باتوں میں وہی سب کچھ تھا جس کی ترویج منکرانِ حدیث و سنت کرتے ہیں۔ میں تو خیر اُٹھ کے آگیا تھا اور اس کمرے سے نکلتے ہوئے میں نے سامعین کو مخاطب کر کے یہ کہہ دیا تھا کہ یہ شخص گمراہ ہے اور اس کی باتیں بھی گمراہ کن ہیں سو احتیاط کی ضرورت ہے!  اب یہ بات پتہ چلی کہ ایک کتاب بھی مرتب کر ڈالی ہے اس نے ۔ اب دیکھئے کہ اخبار کی اس اشتہار بازی سے کتنے روشن خیال اس کی گرفت میں آتے ہیں !

۲)  ہمارے اسی شہر میں ایک ایسے معروف صاحب بھی ہیں جو شکل و صورت سے روایتی عالمِ دین تو نہیں لگتے لیکن ان کی پذیرائی عالمِ دین جیسی ہی ان کے مشتہرین یا معتقدین کرتے ہیں ۔ میرا خیال یہ ہے کہ ان  معتقدین یا مشتہرین کو اس بات کا پتہ نہیں ہے کہ یہ صاحب کربلہ کے واقعات کو جھٹلاتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں ، مزید یہ کہ یہ یزید کو جنتی سمجھتے ہیں ، صحابیت کے درجہ پر سر افراز سمجھتے ہیں اور  اسے رضی اللہ عنہ یا رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ ان کی پرانی تحریریں یا تقریریں کسی کے پاس ہوں تو عقدہ کھلے۔ پتہ نہیں اس موضوع پہ ان صاحب کا نقطہ نظر اب کیا ہے ؟ یہ تائب ہو گئے یا ابھی تک اسی خلجان میں مبتلاہیں۔ اگر یہ خود ہی وضاحت کر دیں تو بہتر ہے۔ تاکہ لوگوں کو اصلیت کا پتہ تو چلے !

٭ کئی لوگوں نے مجھے ای میل کی اور سوال کیا ہے کہ کیا گستاخ رسولؐ یا فتنہ پروروں سے تعلقات قائم رکھے جا سکتے ہیں اور اس سلسلے میں لوگوں نے مولویوں کو برا بھلا کہا ہے کہ یہ لوگ ایسے لوگوں کا منہ کیوں نہیں بند کرتے  اور یہ مولوی سب صرف چندہ خور ہیں !

           معاشرے میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، اگر کوئی گستاخِ رسول ؐ زبان دراز کرتا ہے تو یہ سارے مسلمانوں پہ فرض بنتا ہے کہ اس کی خبر لیں ، اس بات کی ذمہ داری صرف مولوی ہی پہ کیوں ہو ۔ کیا کسی کے والد کو یا والدہ کو کوئی گالی دے یا برا بھلا کہے تو وہ کسی مولوی کو پکڑ کے لاتا ہے یا انتظار کرتا ہے کہ وہ مولوی یا کوئی دوسرا بھائی اس گستاخ کی خبر لے یا خود ہی اس سے نپٹتا ہے ؟ تو کیا حضورؐ  اور ان کے متعلقات سے محبت ہمیں اپنے والدین سے کم ہے ؟  اگر ایسا ہے تو ہمیں تجدید ایمان کی ضرورت ہے ۔

          یہ ہماری بے حسی نہیں کہ ہم سب کسی گستاخ کا منہ بڑھ کے اس لیے بند نہیں کرتے کہ یہ کام تو کسی اور کا ہے۔ ؟  افسوس تو ہمیں پھر اپنے حال پہ ہونا چاہیے ! نہ کہ ہم دوسروں کی تحقیر کریں ؟ ہم میں سے کچھ سر پھرے  ایسے بھی لبرل یا روشن خیال افراد ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی اللہ کے دین یا رسولؐ کی استہزا کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی فکر ہے اور اپنا فعل ہے ، ویسے تو میں اس ملحد و گستاخ کو جانتا ہوں وہ بہت شریف اور ملنسار آدمی ہے اور میرا دوست ہے ۔ ذرا غور فرمائیں کہ ایک شخص کی شرافت اور دوستی کی قسم کھائی جا رہی ہے جبکہ وہ اللہ اور رسولؐ سے عناد رکھتا ہے یا ان کی شریعت کا مذاق اڑاتا ہے۔ یہ روشن خیالی ہے یا تاریک دلی ؟ کیا ان لوگوں نے قرآن کی تعلیمات پہ غور نہیں کیا کہ جو لوگ اللہ کے دین اور رسولؐ کا استہزا کریں ان سے دوستی تو کجا ان کے ساتھ بیٹھنا  بھی منع ہے تا وقتیکہ یہ تائب نہ ہوجائیںورنہ ان کا شمار بھی انہی میں ہوگا۔عجیب معیار ہے انسانی رشتوں اور تعلقات کا کہ اپنے خالق اور اپنے محسن اعظم ؐ  سے در گزر ہم شیطان صفت آدمیوں سے رسم و راہ بڑھائیں اور وہ بھی اِن کی اصلاح کے لیے نہیں بلکہ اچھا وقت گزارنے کے لیے ۔ چہ بو العجبی است ! ان لوگوں سے مراسم صرف ان کے اصلاح کی غرض سے ہونا چاہیے ۔ انسانی رشتوں کے لحاظ سے اگر ہمدردی کی جائے تو اس سے بڑا ان پر احسان اور کوئی نہیں ہوگا کہ انہیں اپنی گمراہی اور غلطیوں کا احساس دلایا جائے تاکہ یہ بھی تائب ہو کر صحیح العقیدہ مسلمان بنیں اور فلاح پائیں۔

٭اب رہ گیا معاملہ مولویوں کے چندہ مانگنے کا تو ایک مسئلہ تو ہے کہ اگر چندہ نہ مانگیں تو مسجدیں کیسے بنیں اور اس کے انتظام پر جو خرچ ہوتا ہے وہ کون اٹھائے ؟ طنز و اسہزا تو ہم سب اس بات کا کرتے ہیں لیکن کیا ہم سب نے مل کر کوئی ایسی تنظیم بنائی جس کی وجہ سے بے چارے مولویوں کو سب کے سامنے ہاتھ پھیلانا نہ پڑے اور نہ ہی وہ اس طرح رسوا ہوں ؟ قصور صرف ان کا تو نہیں ہم سب ہی قصور وار ہیں ۔ ایک طرف تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ مخصوص لوگ مسجدوں کی ذمہ داری سنبھالیں اور ہم دن رات اپنی دنیا بنانے یا کمانے میں مگن رہیں ۔ جمعہ کے جمعہ نماز با جماعت میں شریک ہو کر اللہ پہ احسان کر آئیں اور اگر چندہ کا بکس سامنے آگیا تو اس کو آگے سرکا دیں  یا بے دلی سے اور شک و شبہات کے عالم میں چند سکے یا نوٹ اس میں ڈال کر اللہ سے کئی گنا بدلہ کا انتظار کریں ، تو دوسری طرف مسجد کے انتظامی امور کو چلانے کا ہمارے پاس اور کوئی وسیلہ نہیں ہے سوائے چندہ کے تو پھر اعتراض کیوں ہو ؟ اگر کوئی واقعہ ایسا ہوا ہے کہ کسی مولوی یا مسجد کے منتظم نے چندہ کی رقم اپنے ذاتی خرچ کے لیے لی ہے اورغبن کیا ہے تو اس کا بھی علاج ہے قانونی چارہ جوئی کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ لیکن کسی ایک کی غلطی پر ہر مولوی کو چندہ خور کہنا بڑی زیادتی کی بات ہے بلکہ انتہائی درجہ کی غیر اخلاقی بات ہے۔ جو کام یہ مولوی  حضرات کر رہے ہیں وہ بھی اپنی جگہ اہم ہے ، ہمیں مل کر ایسے ادارے کی تشکیل کرنی چاہیے جس سے چندہ مانگنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔! یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ جب کسی ہسپتال کے لیے اور کسی اور کار خیر کے لیے جب فلمی ستاروں کی یا طوائفوں کی ٹولیوں کی محفل منعقد کرتا ہے تو ہم بڑی بڑی رقم وہاں اپنی آنکھوں کی سکائی یا نفسانی خواہشات کی سیر آبی کے لیے یا پھر اپنی تشہیر کے لیے دے آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں لیکن کوئی مولوی چندہ مانگ لے تو ہمیں ناگوار خاطر ہوتا ہے ۔

 برق گرتی ہے  تو بیچارے مولویوں پر

 کبھی ہم نے اپنے اندر بھی جھانک کے دیکھا ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: