Hesham A Syed

January 6, 2009

Two important questions : Religious and Political

Filed under: Global Politics,Islam — Hesham A Syed @ 6:06 am
Tags: ,

Urdu Article : Doa aham Sawaalaat : Hesham Syed

حشام احمد سید

دو اہم سوالات

۱) کیا اللہ کے آخری نبی محمد  ؐ  اُمّی یعنی  پڑھے لکھے نہیں تھے ؟

یہ بات خود جہالت کی ہے ( عیاذََا باللہ ) ۔ یہ ضرور ہے کہ اس بات کو نہایت گستاخانہ انداز میں ثابت کرنے میں علمائے سوبھی آگے آگے رہے ہیں۔ صرف جبہ و دستار یا داڑھی و قراقلی ٹوپی پہن کر تو عقل و ہدایت کی روشنی نصیب نہیں ہوتی ۔ اس موضوع پہ میں ایک رسالہ ترتیب دے رہا ہوں انشااللہ اس میں حضور کے عالم و علیم ہونے کی بہت ساری تفصیل مل جائے گی ، مختصراً یہ سمجھ لیں کہ جس کا استاد اللہ سبحانہ تعالیٰ عالم ِ کُل اور سمیع و بصیر ہواس کے بارے میں یہ گمان کرنا بھی نری جہالت ہے۔حضورؐ دنیا کے مروجہ نظامِ تعلیم سے نہیں گزرے اور نہ کسی مخلوق کو یہ مقام حاصل ہے کہ وہ ان کا استاد بنے ، یہ کیسے ممکن تھا کہ جس سے ساری کائنات کو درس دلانا مقصودتھا اس کا مدرس سوائے اللہ کے کوئی اور ہوتا۔وہ جن کے تقدس اور حکمت و علم کا معترف ہر زمانہ رہے ان کا موازنہ کسی بھی شخص سے کرنا بھی تو گستاخی ہی ہے۔ کوئی کتنا ہی بڑا عالم ہونے کا مدعی کیوں نہ ہو اس کے ا حاطۂ علم کی حیثیت ہی کیا ہے اللہ اور اس کے رسولؐ کے سامنے ؟ کیا لوگوں کو آفتابِ علم اپنے سروں پہ چمکتا نظر نہیں آتا ۔ کیا حضور ؐ  کے ا قوال ان کے باطن کو متحرک نہیں کرتے:

٭   میں علم کا شہرہوں اور اس کے باب علی ہیں 

٭ دنیا تا قیامت مجھے ایسے دکھادی گئی جیسے کہ میں اپنی ہتھیلی کو دیکھتا ہوں

 ٭ میں تم سب میں زیادہ فصیح السان ہوں

           کیا اس بارے میں بحث کرنے والوں کی سماعتیں بھی سننے سے محروم ہیں ؟ دل سخت ہوجائے تو نہ حبِ رسول ؐ  حاصل ہوتا ہے اور نہ حقیقتِ محمدی کا ادراک ہو سکتا ہے اور آدمی اسی قسم کی گستاخی ، شیطانی وسوسوں اور الجھنوں کا شکار رہتا ہے ۔ اپنی جہالت کا علم ہی اصل میں علم کے حصول کی پہلی سیڑھی ہے، سو ایسے زبان درازوں کو تو یہ بھی نصیب نہیں ۔ ان کا بس چلے تو خدا کے بارے میں بھی یہ کہنے لگیں کہ وہ یونیورسٹی گریجویٹ نہیں ۔ استغفرا للہ !

۲)   اب کیا ہوگا ؟ امریکہ کے حالیہ الیکشن کے نتائج پہ مسلمانوں کی تشویش !

وہی ہوگا جو منظورِ خدا ہوگا ، اگر امتِ مسلمہ ساری ذلت و پسپائی کے باوجود اب بھی یہ نہیں سمجھ رہی کہ ان کا مقدر بش یا کیری کے ہاتھ میں نہ تھا نہ ہے بلکہ اللہ کے دستِ قدرت میں اور اپنی درست فکر اور کردار و عمل پہ ہے ، تو امت یا ملت کے ایسے افرد کو جو اس سے منحرف ہیں قانونِ فطرت مٹا کر ہی دم لے گا۔ اگر اس امت کو اپنی بقا اسی میں نظر آتی ہے کہ خدا کا دامن چھوڑ کر کسی ناخدا کے دامن کو پکڑ لے اور اس کی گود میں بیٹھ جائے تو پھر وہی ہونا ہے جو ہو رہا ہے۔ سب کچھ تو اپنا ہی کیا دھرا ہے ۔ کتاب اللہ پوری وضاحت سے ہمیں اپنے  باطنی و ظاہری دشمنوں سے ہشیار کرتی ہے لیکن ہم کیوں مانیں کہ ہم خود اپنے آپ کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ پھر اقوام ِغیر ہم پہ کیوں نہ مسلط ہوں ؟ یہ تسلط فکری بھی ہے اور طبعی و جسمانی بھی۔ کاش عرب کے عیش پرست شیوخ یہ سمجھ سکتے کہ :   ؎

نہیں وجود حدود و تغور سے اس کا   :  محمدؐ  ِ عربی  سے  ہے  عالمِ عربی

          کاش عرب و عجم کے حکمراں یہ سمجھ سکتے کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔ لیکن ہم کیا کریں دنیا پرستی سے زیادہ عیش پرستی نے ہمیں مار رکھا ہے۔قبیلہ پرستی ، تعصب ہماری زندگی کا شعار بن چکا ہے۔ ضمیر فروشی تو گُل کہلائے گی ۔یہ کونسی نئی بات ہے؟ دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی جو ایک بلین سے زیادہ ہے ان ایک بلین مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ۵ ملین یہودی آبادی کی صیہونی قوتوں نے دنیا کی ہر بڑی قوت کو ان کے خلاف لگا دیا ہے اور مسلمانوں کے ہی ایما پر اور ایک ذرا سی ہڈی کے بدولت خود ان کے ہی گھروں میں گھس کر ان کا قتل عام کر رہے ہیں ، ملک بدر کر رہے ہیں ، عورتوں کی عصمت دری کر رہے ہیں ، جمہوریت نافذ کرنے کے بہانے ملک میں اپنے کارندے حکومت میں بٹھا رہے ہیں ، تہذیب و ثقافت پہ حملہ آور ہو رہے ہیں، تعلیمی نصاب بدل رہے ہیں لیکن ہمارے بے حس حکمراں اور ان کے گماشتے اپنی حرم سراؤں میں اپنی ہوسناکیوں میں مصروف ہیں۔ عوام یا تو بے بس ہیںیا خاموشی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔

          مجھے رومی حکمرانوں کا دور یاد آتا ہے جب اکھاڑے میں وحشی جانوروں سے غلام انسانوں کا مقابلہ کروا کے انہیں چیر پھاڑ کر ان جانوروں کا لقمہ تر بنتے دیکھنے کے لیے لاکھوں تماشائی جمع ہوجاتے تھے ۔ جتنازیادہ خون بہتا تھا یا جتنی زیادہ بربریت کا منظر سامنے آتا تھا اتنا ہی زیادہ لوگ خوش اور سرشاری کا شکار ہوتے تھے۔ رومی حکمرانوں کے کارندے مقرر تھے جو ان کے حکم پر یہ تماشے کرواتے تھے ،۔یہ کارندے اکثر انہیں غلاموں میں سے ہوتے تھے جو اپنے بھائی بندوں کو کسی بہانے یا لالچ کے تحت اکھاڑے میں اتار دیتے تھے۔ ایسا کرنے کی انہیں وافر رقم ملتی تھی جو ان کی اپنی ہوس پرستی پہ خرچ ہوتی تھی۔ تماشے یا خون آشامیوں کی شکل اب بدل گئی ہے لیکن اصل نہیں بدلی ۔ ہتھیاروں کی نت نئی ایجادات نے اس بر بریت میں مزید اضافہ ہی کیا ہے۔بندوق ، میزائل ، بمباری، ٹینک کے ذریعہ جمہوریت کا قیام و استحکام زندہ باد ۔ ہمارے روشن خیال دانشوروں اور حکمرانوں کے ٹولے کو مبارکباد۔ کاش عرب و عجم کے عوام یہ سمجھ سکیں کہ :    ؎

عرب  کے سوز میں سازِ عجم  ہے   :  حَرم   کا   راز   توحیدِِ امم   ہے

تہی وحدت سے ہے اندیشۂ غرب  :  کہ  تہذیبِ  فرنگی  بے حَرَم  ہے

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: