Hesham A Syed

January 6, 2009

Who are We ?

Filed under: Muslim world — Hesham A Syed @ 8:14 am
Tags:

Urdu Article : Ham Kaun haiN : Hesham Syed

ہم کون ہیں ؟

 

نام سے کیا فرق پڑتا ہے بات تو ساری کام کی ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو پدرم سلطان بود کا پرچار کرتے رہتے ہیں۔ کبھی اپنی نسل کا تفاخر تو کبھی اپنے معروف علمی ، سیاسی، پیشہ ور ، فوجی لوگوں سے تعلقات کا ذکر بہانے بہانے اور پھر سند کے طور پر ان کے ساتھ کھنچوائی ہوئی تصویر ہو تو کیا کہنے ۔ یہ تو سونے پہ سہاگہ ہے ۔ کچھ وہ بھی ہیں جو اپنی کسر نفسی کو بھی یوں بیان کرتے ہیں کہ اس میں بھی ان کے صفات عالیہ کا ظہور ہو۔ اجی قبلہ جیسے بھی ہو لوگوں تک یہ بات پہنچ جانی چاہیے کہ :  ’ لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں ‘۔ کیا کرے انسان کہ یہ اپنی طبیعت سے عاجز۔ حضرت امیر مینائی کا  بڑا معروف شعر ہے کہ :   ؎

بقدر پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا : اگر نہ ہو یہ فریبِ پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا

            کار آمد بات تو حمد و ستائش ہی ہے۔ خوشامدانہ رویہ اور شاطرانہ چالیں نہ ہو ںتو دنیا میں کامیابی کسے نصیب ہوتی ہے اور ایسا بھی کیا جینا کہ نہ نام ہو نہ نمود ۔ہر چند کہ ایسے لوگ اپنے دل میں یہ جانتے ہیں کہ   ؎

 بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا      وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا تھی 

            تفاخر نسل کیسا کہ سارے انسان حضرت آدم و حوا کی اولاد ۔ قبیلوں میں تو یہ اس لئے بانٹے گئے کہ آبادی میں اضافہ ہو تو انبوہ کثیر میں یہ ٹکڑوں میں پہچانے جائیں اور دنیا کی انجمن ایسے ہی حسین نظر آئے جیسے کہ گلہائے رنگ سے زینت چمن کی ہے ، پھر یہ کہ چھوٹے ٹکڑوں میں معاشرتی مسائل سے نپٹنا آسان ہوتا ہے نہ کہ یہ اپنے گرد نفرت و عداوت کی دیوار کھڑی کر لیںاور ہر دوسرے کو کم تر جانیں۔یہی تو ہماری طرز معاشرت کا المیہ ہے۔  لطف یہ ہے کہ قبیلہ پرستی کے جذبات سے مغلوب ہوئے تو اپنے اپنے قائدین ، محترمین ، پیر و مرشد ، نبی اور رسول بانٹ لئے یہاں تک کہ اللہ یا خدا کی بھی تقسیم کر ڈالی اور ہر ایک نے اس کے ہیولے میں حلول کرنے کی  ٹھانی اور ظاہر و باطن میں سجدہ گاہ بنا لی۔چاہے وہ اپنی ہی ذات کی کیوں نہ ہو۔    ؎

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا   :  تو پھراے سنگ دل تیرا  ہی سنگِ آستاں کیوں ہو

            ہاں وہ نبی و رسولِ آخر جو صرف اور صرف انسان اور ساری انسانیت کے لیے مبعوث ہوا اسے بھی لوگوں نے اور اہلِ عرب نے صرف ایک قبیلہ کا سردار بنا دیا۔ صورت حال یہ ہے کہ     ؎

کسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لو   :   ملتِ احمدؐ مرسل کو مقامی کر لو

             اس ذاتِ اقدس کی ظاہری یا دنیاوی زندگی میں کہیں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی اور آ بھی کیسے سکتی تھی جہاں وسعت ِ نظری کی کوئی حد ہو۔ وسعتِ قلبی میں کوئی تنگی ہو۔ وہی خدا جس نے اپنے آپ کو عالمین کا رب کہہ کے متعارف کروایا تو اپنے محبوب کو اسی عالمین کی رحمت بنایا۔ بات سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ربوبیت بغیر رحمت کے تو جاری و ساری نہیں ہوتی۔ یہی وہ ذات اقدس ؐ تھی یعنی رسولِ الیَ الناس نے اسلام کا  مفہوم اپنے ساتھیوں یا اہل محبت کو یوں سمجھایا کہ جب حضرت سلمان فارسی ؓ سے کسی نے ان کے نسل کے بارے میں پوچھا تو ان کا جواب تھا سلمان بن اسلام بن اسلام بن اسلام ۔ یعنی شناخت صرف اور صرف ایک ہے یا تو گروہ ِ باطلہ میں ہیں یا گروہِ صادقین و مومنین میں ہیں۔    ؎

ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا    :  اس کے آئینہ ہستی میں عمل جوہر تھا

            کسی کا نام رسالتِ محمدی ؐ پہ ایمان لانے کے بعد نہیں بدلا سوائے چند ایک کہ جن کے نام سے شرک کی بو آتی تھی ، جیسے عبد العزیٰ عبد المنات وغیرہ یا پھر ایسا نام رکھنے سے منع فرمایا جس سے توہمات کو یا کسی برائی کو تقویت ملے ۔ اچھا اور خوبصورت نام رکھنے کی تلقین کی ۔ بقیہ سب کے سب قبل از ایمانِ رسالت محمدی ؐ اپنے نام کے ساتھ جوں کہ توں رہے۔ یہ جہالت یا بدعت تو بعد کے دور کی ہے جو ہم میں سرائت کر گئی ہے کہ نام اگر عربی نہ لگے تو اسلام و ایمان مشکوک ۔ اہل عرب میں کتنے غیر مسلم ہیں جن کا نام ایسا ہے جسے سن کر ان کے مسلم ہونے کا یقین ہوتا ہے ۔ بلکہ مغربی ممالک میں ایسے افراد بہُتیرے مل جاتے ہیں جن کے اچھے کردار کو دیکھ کر یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ اگر اپنا نام بدل لیں تو مسلمان ہی کہلائیں جبکہ مملکت اسلامیہ اور بہ ظاہر مسلمان جیسے نام کے لوگوں کا عمل  وہ ہے جس سے شیطان بھی شرمائے ۔ یہ ساری بات علاقے کی زبان ، تہذیب و ثقافت پہ منحصر ہے نہ کی اللہ کے دین سے اس کا کوئی تعلق ہے ۔   ؎

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو   :  تم سبھی کچھ ہو بتائو  تو مسلمان بھی ہو

            اس ضمن میں اتنا دور جانے کی بھی کیا ضرورت ہے یا قائدین کی نسل در نسل سے غیر مسلمین کا تعلق جوڑنے کی بھی حاجت کیا ہے ؟ خود علامہ اقبال جن کے بغیر پاکستان مملکت اسلامیہ کا کوئی خواب مکمل نہیں ہوتا یا ہمارے مسلم واعظین کا کلام مستند نہیں ہوتا اور قلم کاروں کا کوئی لکھا معتبر قرار نہیں پاتا برہمن زادے تھے اور ان کی صرف ایک نسل پہلے ہی کے جد مشرف بہ اسلام ہوئے تھے ۔ ان کے چچا اور ان کے رشتہ دار وغیرہ بیشتر برہمن ہندو ہی رہے۔ ان کے اپنے بڑے بھائی اور ان کے خاندان والوں نے قادیانیت اختیار کر لی لیکن اس سے خود علامہ اقبال اور ان کے والد محترم کی ذات پہ کیا حرف آیا جو صحیح العقیدہ مسلمان رہے۔ کتنے سردار سکھ مذہب کے لوگ ہیں جن کا نام اقبال ہے سو اس نام سے بھی کیا فرق پڑا۔ بات توساری کام کی ہے۔ان باتوں کے پیچھے ہماری اپنی تنگ نظری ہے جو ہمیں فرقہ بندی پہ اکساتی ہے۔

            وجہ تفاخر ہے تو اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے ، تقویٰ ہے لیکن اس بات سے کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ تمام انسان ایک جیسے ہی ہیں اور ان میں کوئی امتیاز نہیں ۔ عالم انسانیت میں وہ بھی ہیں جسے خالق نے محبوب بنا لیا ،    ا نہیں نور اور بہترین مخلوق کہا اور وہ بھی ہیں جنہیں چلتی پھرتی لاشیں کہا ، تاریکی کہا اور بد ترین مخلوق کہا ۔ اور یہ بھی وضاحت کی کہ رات اور دن ایک جیسے نہیں ہوتے ۔ یہ ساری تفریق صرف اور صرف  ومن یکفر باطاغوت و یومنو باللہ  فقد استمسک بالعروۃِ وسقیٰ سے حاصل ہوتی ہے یعنی ابلیسیت اور بدی کا انکار ہی نہیں بلکہ اس کے خلاف جہاد اور اللہ پہ ایمان و مکمل اعتماد کی کیفیت۔ لیکن یہ سب کچھ کیوں ؟ وہ اس لیے کہ  لیبلو و کم ایکم احسن عملا۔یعنی  ’ ہم دیکھیں کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے ‘۔ دنیا صرف بازیچہ اطفال نہیں بلکہ رزم گاہ ہے آزمائش ہے۔ خالق کل نے کوئی چیز بے مقصد نہیں بنائی نہ وقت نہ زندگی ۔بات صرف شعور کو اجاگر کرنے کی ہے۔

            سستی اور اوچھی باتوں سے ہٹ کر ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم صدیوں سے عالم خواب میں جی رہے ہیں ۔ ہم سب اپنے اپنے انداز میں مست ِ مے ذوقِ تن آسانی ہیں ۔ تمدن یہود کا اور وضع قطع نصاریٰ کی ۔ یہی ہے نہ وہ ماحول جو ہمیں خوب بھا رہا ہے۔ ہمارے روشن خیال طبقہ کا حال یہ ہے کہ سلف سے بیزار ، مصلحتِ وقت کے شکار اور پابندشعارِ اغیار ، عمل کا معیار کیاہے بس تارکِ آئینِ رسوؐلِ مختار ۔ اب ایسے عالم میں قلب میں سوز کہاں سے آئے اور روح میں احساس کیسے جنم لے ؟ کم سے کم زندگی میںایک بار ہی ہم سوچیں تو سہی کہ ہم کون ہیں؟

شاید یہ بات ہماری سمجھ میں بھی آجائے کہ :   ؎

چشمِ اقوام  سے مخفی  ہے حقیقت  تیری  :  ہے ابھی محفل ہستی  کو  ضرورت تیری

وقت ِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے   :  نورِ  توحید  کا  اتمام  ابھی  باقی  ہے

حشام احمد سی

Hesham Syed.

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: