Hesham A Syed

January 7, 2009

Anger Mnagement !

Filed under: Social Issues — Hesham A Syed @ 11:45 am
Tags:

Urdu Article : Anger Management : Hesham Syed

حشام احمد سید

اینگر مینجمنٹ  (Anger Management)

عیش میں یاد خدا اور طیش میں خوف خدا کا رہنا محال ہی ہے ۔اکثر و بیشتر غصہ کا ریلا جب آکر گزر جاتا ہے تو خیال آتا ہے کہ آخر ہمیں اپنے غصے پہ قابو کیوں نہیں ؟ آج کے معاشرے میں اشتعال انگیزی اتنی زیادہ کیوں ہے ، کسی شخص سے ملیں ،کسی موضوع پہ بات کریں یا صرف سوال بھی کریں تو رائے یا جواب بھی غصہ کی صورت میں یا رعونت کی کیفیت میں دیا جاتا ہے کہ سوال کرنے والا شرمندہ ہوجائے یا وہ خود بھی مشتعل ہوجائے۔ کسی بھی بزم میں چلے جائیں، مشاعرہ ہو ، ادبی محفل ہو ، سیاسی اجتماع ہو ، دینی مجلس ہو ، خطبہ جمعہ ہو ، مناظرہ ہو ،  کہیں بھی اختلافِ رائے ہمیں برداشت نہیں۔ ہماری گفتگو میں ، تقریر و تحریر میں غصہ نمایاں ہوتا ہے۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم عمومی طور پہ احساس کمتری کا شکار ہیں ؟ 

          ایک کالم نگار کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ پرچون کی دکان پہ گئے اور اس ہفتہ وار اخبار کی تلاش کی جس میں وہ لکھتے ہیں ، دکان کے کاونٹر پہ کھڑے بچے سے پوچھا تو بچے نے لا علمی کا اظہار کیا ۔وہ صاحب صرف اس بات پہ چراغ پا ہو گئے کہ بچے نے انہیں پہچانا نہیں کہ وہ کتنے بڑے کالم نگار ہیں ۔ وہ یہ بات اس بچے کو جتاتے ہوئے، پھنپھناتے ہوئے دکان سے باہر نکل آئے۔ وہ بچہ سوچ رہا ہوگا کہ یہ صاحب تو ہم سے بھی زیادہ بچے نکلے۔ کیا کریں یہ بیچارے مفت کے پڑھنے والوں کے کالم نگار و ادیب و شاعر ، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اتنا تو انعام ملنا چاہیے کہ بڑے نہیں تو کم از کم بچے انہیں پہچانیں۔ لیکن اس میں لوگوں کا بھی کیا قصور ہے کہ وہ نہیں پہچانتے کیونکہ کالم نگار و شاعر کی تصویر بھی کم سے کم دس سال پرانی چھپتی ہے۔

          یہاں ادیب و شاعر، قلم کاروں یا لکھاریوں اور دینی حوالے سے بھی کئی ایک ویب سائیٹ فورم بن گئے ہیں جس پہ دنیا جہاں سے ہر قسم کے لوگ جمع ہوگئے ہیں اور آزادیِ اظہار کا سہارا لے کر ایسی ایسی خرافات لکھتے رہتے ہیں اور ایسے ایسے رکیک جملے ایک دوسرے کی ذات پہ چسپاں کرتے ہیں کہ اللہ ہی بھلی۔ ان سب ویب سائیٹس کا حوالہ تو ادب کا ہے لیکن اکثر نہایت بے ادب ہیں اور سفلی و سطحی جذبات کی تشہیر و تبلیغ میں بلا واسطہ و بالواسطہ لگے ہوئے ہیں۔

          ایک بات جو آکر یہاں پتہ چلی کہ اگر کوئی اللہ اور اس کے رسولوں پہ یا ان کے صحابہ و تابعین پہ زبان درازی کرتا رہے توگستاخ رشدی کی طرح اسے آزادی رائے یا آزادی خیال پہ محمول کیا جائے گا اور کہا جائے گاکہ یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن اگر کوئی ان لوگوں کی بیہودہ باتوں کا جواب دے اور دینی معاملات میں باطل کا دفاع حق سے کرے تو وہ  معتوبوں میں گردانا جائے گا کہ وہ آزادی رائے کے خلاف باتیں کرتا ہے جبکہ دوسرے شخص کو بھی اپنے خیال کے اظہار کا اتنا ہی حق ہے ۔ لیکن ابلیسیت یہ کیسے برداشت کر سکتی ہے ؟ جو لوگ ہم جنسیت کا ساتھ دیں فکری یا عملی طور پہ ، منکرین خدا ہوں ، کافرانہ ، ملحدانہ فاسقانہ ، منافقانہ فکر و گفتگو میں ید طولیٰ جنہیں حاصل ہو وہ ترقی پسند ادیب و شاعر و دانشور ہیں اور جو ان فحش باتوں کے خلاف ہیں وہ قنوطیت پسند ہیں اور طرز کہن پہ اڑے ہوئے ہیں، یہی تعریف ہے آج کے دور کی۔ لطف یہ ہے کہ ایسی باتوں یا اس کے خمار میں یا ایسی انجمنوں میں شریک وہ لوگ بھی ہیں جو  اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ،  پنجگانہ نماز کے پابند نہیں تو جمعہ کی نماز میں تو نظر آہی جاتے ہیں۔ اس میکدے میں وہ لوگ بھی ہیں جو رسول ؐاور اہل بیت اطہار ؓ کی محبت کے مدعی ہیں۔رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی ۔ انسانی آبادی کے ساتھ ساتھ چلنے کی ترکیب یہی ہے کہ انسان کی غلطیوں کی نشاندہی نہ کی جائے بلکہ اس کا ساتھ دیا جائے کہ انسان کو اگر کوئی  خدا ہے تو اس نے آزاد پیدا کیا ہے اور جن کا کہ کوئی خدا نہیں وہ تو ہیں ہی مادر پدر آزاد ان سے کیا کہنا ۔ وہ خود اپنی ذات میں ایک خدا ہیں۔ رہ گیا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ تو یہ پرانے وقتوں کے لوگ تھے جو ان باتوں پہ اصرار کیا کرتے تھے۔ نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے۔غصہ کا اظہار صرف دوستوں کی بزم ہی تک محدود نہیں بلکہ اس کا اکثر شکار بیچاری بیوی بنتی ہے۔ اپنی مردانگی جتانے کے لیے اس سے بہتر صورت اور کہاں دستیاب ہو سکتی ہے ؟ دفتر میں باس کی ڈانٹ پٹی ہو ، باہر کسی سے بحث ہوگئی ہو ، نوکری ، تجارت یا کسی اور وجہ سے ذہن الجھا ہوا ہو گھر میں داخل ہوتے ہی بیوی کو آپ کی ذہنی کیفیت کا اندازہ خود بخود کر لینا چاہیے اور اسے آپ کی دلجوئی پہ معمور ہونا چاہیے۔ ذرا سا اس نے کوئی اپنی بات کی اور آپ وجہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں اپنے لاوے کو باہر انڈیلنے کا ۔اس لیے غصہ کے اظہار کا حق بھی صرف مردوں کو دیا گیا ہے۔عورتیں تو پیدا ہی ان کی خدمت کے لیے کی گہی ہیں۔

          آج کل اکثر محفلوں میں کسی مولوی یا امام یا جمعہ کے خطبہ کا  مذاق اڑانا ایک فیشن بن گیا ہے۔ اگر یہ نہ کیا جائے  توآپ کا شمار روشن خیال لوگوں میں نہیں ہوتا ۔ اپنے اشعار میں ، کالم میں ، ویب سائیٹ پہ ، کتابوں میں انسانی معاشرے میں اس مخلوق کو ایک عجیب انداز میں پیش کیا جارہا ہوتا ہے حالانکہ بوقت ضرورت خصوصاََشادی بیاہ ، اموات و دیگر بہت سارے فقہی و دینی مسائل وغیرہ میں انہی کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ وگرنہ سب یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ زندگی کے مسائل کو یہ دو وقت کا امام کیا جانے؟ سوال یہ ہے کہ اگر آپ اس قدر فہم رکھتے ہیں اور اتنے ہی با شعور ہیں تو جو کام وہ کر رہے ہیں اور جن کے پیچھے آپ مودب کھڑے رہتے ہیں کہ سلام پھیرتے ہی ان کا مذاق اڑا سکیں تو وہ کام آپ خود کیوں نہیں کر لیتے ؟ یہ کیسی منافقانہ روش ہے ؟ کبھی اپنی زندگی کے اوقات میں سے کچھ وقت آپ نے خود نکالا ہوتا کہ اللہ کی کتاب کو ترجمہ سے نہیں ، صرف سنی سنائی باتوں سے نہیں بلکہ اس کی اپنی زبان میں سمجھ سکتے تو بہت سارے مسائل حل ہوجاتے اور آپ اپنے غصہ کا اظہار محفلوں میں ایسے نہ کیا کرتے ۔ آپ کا کیا یہ غصہ اپنے آپ پہ ہے یا کسی اور پہ ؟ غور کیجیے گا کہ اس کا ہدف کسے بننا چاہیے ؟ 

          غصہ بھی مفید ہے صرف ان کے لیے جو اس کو بر محل استعمال کرنا جانتے ہوں۔ فقط چڑ چڑا پن غصہ کا منفی اظہار ہے۔ کہتے ہیں کہ حضو ر  ؐکو اپنی ذات پہ کیے گئے حملے پر غصہ نہیں آتا تھا اور کبھی بھی انہوں نے انتقامی کارروائی نہیں کی، البتہ کوئی بات حق کے خلاف ہوتی اور اللہ کے تقدس کے خلاف ہوتی تو ان کا چہرہ مبارک غصہ سے سرخ ہو جایا کر تا تھا۔ غصہ کا بالکل ہی نہ آنا بھی بے غیرتی اور بے حسی کی علامت ہے ۔

0        بے جا اور بے محل اور تواتر و حد سے زیادہ غصہ کو روکنے کی تاکید کی گئی ہے ظاہر ہے یہ ایک نفسیاتی کمزوری ہے جس کا علاج ہونا ہی چاہیے۔ حضور  ؐنے اس کی ترکیب یہ بتائی ہے کہ اگر کوئی کھڑا ہو تو بیٹھ جائے ، بیٹھا ہو تو لیٹ جائے ، یا اس جگہ یا ماحول سے ہٹ جائے۔ ملک عرب میں اکثر یہ بات دیکھنے میں آئی خصوصاً مصر میں کہ جب دو شخص الجھ پڑے ہوں تو لوگ انہیں درود اور حضور ؐ پہ سلام پڑھنے کو کہتے ہیں ، اس سے غصہ رفع ہوجاتا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ؐ  کے ذکرِ کی کثرت بھی انسان کو غصہ سے دور رکھتی ہے ۔ یہ آزمودہ ہے۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب ۔

          جو لوگ کہ درود و سلام کے معاملے میں الرجک ہیں اور ان باتوں پہ یقین رکھنے والوں کو دقیانوسی سمجھتے ہیں ۔ان کے لیے بھی مغربی انداز کے تعلیم یافتہ نفسیات کے ماہروں نے اپنی اپنی دکان کھول رکھی ہے  اینگرمینجمنٹ کی وہاں جاکر وہ اپنا علاج کرا سکتے ہیں۔ نیت صحیح ہو تو شفا اللہ دیتا ہے چاہے کوئی اس کی ذات کو تسلیم کرے یا نہیں ۔ اس کی رحمانیت تو سب کے لیے ہے اور اپنی ساری مخلوق کا اسے خیال ہے۔

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشہ کرے کوئی  :   ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئ

hesham syed

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: