Hesham A Syed

January 7, 2009

Baajoarrh or Gatth Joarrh ( Secret Pack ) ?

Filed under: Pakistan — Hesham A Syed @ 5:28 pm
Tags:

Urdu Article : Baajoarrh ya Gatth Joarrh : Hesham Syed

حشام احمد سید                                              باجوڑ   یا  گٹھ جوڑ

سنتے ہیں کہ یہ تیسری بار ایسا ہوا کہ امریکہ نے براہِ راست باجوڑ جو کہ پاکستانی سرحد کے اندر ہے اس پہ میزائیل سے  حملہ کیا اور بیشتر معصوم لوگوںکی جان لے لی ۔ پہلا  حملہ جب باجوڑ میں ایک  مدرسہ پر کیا گیا جس میں  سینکڑوں طالب علم شہید ہوئے  تو اسوقت پاکستانی حکومت اور جنرل پرویز مشرف صاحب  نے یہ بہانہ بنا دیا کہ یہ حملہ پاکستانی فوجیوں نے کیا ہے  اور  امریکہ نے نہیں کیا  تاکہ پاکستانی عوام اس بات سے مشتعل نہ ہو کہ یہ ہماری خود مختاری پہ براہِ راست ضرب ہے۔ سب سے پہلی بات  تو یہ کہ اگر یہ حملہ پاکستانی فوجی بھی کریں  ،  تو  یہ کاروائ ہوتی تو امریکہ کے ہی ایما اور کہنے پہ  ہے۔  گویا پاکستانی فوجی کرائے کے  امریکی گوریلے بن گئے ہیں جن میں خود  سوچنے سمجھنے کی تمیز باقی نہ  رہی اور صرف چند پیسوں کے لیے اپنے ہی  قوم کے افراد پہ گولیاں برسانا شروع کر دیں اور ان کی  لاشوں پہ رقص کرتے رہیں ؟پاکستانی قوم کا  بین لاقوامی سطح پر کیا  اب دو ہی تعارف رہ گیا  ہے  ؟ یا  تو دہشت گرد ہے  یا  وحشت گرد  ؟

محبت کا جنوں باقی نہیں ہے  :   مسلمانوں میں خوں باقی نہیں ہے

صفیں کج دل پریشاں سجدۂ بے ذوق  :  کہ جذبِ اندروں باقی نہیں ہے

 اور اب جب کہ کہنے کو  ایک جمہوری اور عوامی حکومت بن چکی ہے ، اس  نئے براہِ راست حملے پہ کسی قسم کا ردِ عمل  ظاہر نہ کرنا کیا معنی  ؟  کیا ہماری حکومت اتنی ہی  کمزور  یا غلام ہو چکی ہے کہ  قومی  حمیت بھی باقی نہیں رہی۔ یہ حکومتی کارندے کیا  حسبِ معمول  صرف اپنے ہی لوٹ مار میں پھنسے ہوئے ہیں  ،  ایک دوسرے کے مونہہ سے چھیچھڑے چھین  رہے ہیں  یا  یہ سرحدوں کے محافظ  صرف اس لیے ہیں کہ اپنے ہی ملک پہ قبضہ کر لیں اور جب آزمائیش کا وقت آئے یا کسی دوسری قوم سے مقابلہ ہو  تو  اپنی ٹانگوں کے درمیان دُم دبا کر میمیانے لگیں ،  ہتھیار پھینک کر  اپنے ٹوٹے ہوئے  مُلک کو بچانے کا احسان جتائیں ۔؟  پاکستان کا امریکہ کی گود میں جا کے بیٹھ جانا کوئ نئی بات نہیں ، یہ  پالیسی تو شروع سے ہی اپنا لی گئ تھی لیکن بات اب اس درجہ تک پہنچ جائے گی کہ امریکی جب چاہیں پاکستان کے کسی علاقے کو اپنا نشانہ بنا سکتے ہیں اور پاکستانی شرفا مغربی  قوتوں کے غلامانِ غلام  فاسق  و  منافق لوگ  صرف خاموش تماشہ  دیکھیں  یا  ٹیلیویژن پہ خبریں  دیکھ سُن کر  کافی یا چائے کی چُسکی لگاتے رہیں  تو پھر بے غیرتی کس چڑیا کانام ہے ؟  لیکن سوچا جائے  تو اس میں تعجب کی بھی کیا بات ہے ، جب  پاکستان کا ہر فیصلہ  لندن  کے نچلی گلی میں  یا  امریکی سفید محل میں لیا جارہا ہو ، حکومتی  سیاسی اداروں اور ان کے کارندوں کا  انتخاب بھی  یہی لوگ کر رہے ہوں  تو پاکستان میں  ہر طرف  سفید محل کے بھوت اور نچلی گلی کی چڑیلیں ہی پھرتی نظر آئیں گی۔  یا  شاید  پاکستانی قوم صرف اسوقت جاگے گی جب یہ حملہ  اس کے نیوکلر پلانٹ پہ ہوگا  یا کسی بڑے شہر میں ہوگا  ، ایسا ہونے میں  تو دیر نظر نہیں آتی لیکن اسوقت تک بہت دیر ہوچکے گی ۔!

ترا تن روح سے نا آشنا ہے  :  عجب کیا ! آہ تیری نارسا ہے

تنِ بے روح سے بیزار ہے حق   :  خدائے زندہ ، زندوں کا خدا ہے

حشام احمد سید

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: