Hesham A Syed

January 7, 2009

Discuss : Speak & Listen

Filed under: Canada,Global,Pakistan — Hesham A Syed @ 8:38 am
Tags: ,

Urdu Article ; Guft o Shuneed : Hesham syed

گفت  و  شنید 

میرے پاس قارئین کے کچھ سوال بذریعہ خطوط اور ای میل براہ راست آتے ہیں ۔ان مہربانوں کو جواب دینا اگرچہ میرا معمول ہے تاہم عام قارئین کی دلچسپی کے لیے ان میں سے چند اس مضمون میں شامل کئے جا رہے ہیں :

س )    کنیڈا میں شرعی قوانین کے نفاذ کی حالیہ کوششیں کیوں رنگ نہیں لائیں ؟ کیا حکومت مسلمانوں کی ہمدرد نہیں؟

ج)      جب میرے آپ کے جیسے نام کے لوگ اسلام کے پردے میں شیطانی کاروبار پھیلائے رکھیں اور تحریک کی مخالفت کریں ،طرح طرح کی روایات گڑھ کے اس کو بدنام کرنے کے لیے لائیں تو حکومت اور یہاں کے ادارے کیا کریں ۔ سنا ہے کہ یہ شیاطین اس تحریک کو کالعدم قرار دیئے جانے کی خوشی میں گھروں پہ پارٹیاں دے رہے ہیں اور ان کے چیلے چپاٹے دھمال ڈال رہے ہیں۔ روشن خیالی کے پسِ پردہ بے راہ روی پل رہی ہے ۔ ویسے بھی یہاں کے خود ساختہ عالموںکو مسجدوں کے چندہ اکٹھا کرنے سے فرصت ملے ، لوگوں کو خدا سے ڈرا دھمکا کر یا جنت کا لالچ دلا کر مسجدیں آباد کرنے اور دوسری تنظیموں کا نعت کے گویوں ، عرس ، قوالیوں سے انہماک ختم ہو تو یہ متحد ہو کر ان شیاطین کے ٹولے سے نپٹیں۔ وہ اپنے دھمال میں اور حال قال میں مصروف ہیں۔ ہر گروہ کا اپنا ابلیس ہے جسے خدا سمجھ کے پوجا جا رہا ہے۔ وقت کے تقاضوں کو یہاں کون سمجھتا ہے ۔ اب یہاں کی مسلم کمیونٹی کو اس بات کا انتظار کرنا چاہیے کہ یہودی کمیونٹی اپنے حق کے لیے کب کھڑی ہوتی ہے شاید اس بہانے مسلمانوں کا بھی کام نکل آئے۔ع

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

 

س)     کیا جنرل مشرف یہودیوں سے روابط پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور کیا اس کا نتیجہ سود مند ہوگا؟ اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے گا ؟

ج)      جنرل مشرف کے یہودیوں سے ملنے پر جو مخالفت کی جارہی ہے ، وہ بے عقلی کی دلیل ہے ، اس دنیا میں کوئی قوم بھی نفرت کی بنیاد پر پنپ نہیں سکتی چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ، سارے معاشرتی و اقتصادی مسائل کی جڑ ہی انسانی برادری کا نظر سے اوجھل ہوجانا ہے اور تعصب و قبیلہ پرستی ہے ۔ یہ سمجھنا کہ اسرائیل کو مسلمان تسلیم نہیں کریں گے تو یہ ملک نہیں وجود میں آئے گا دوہری حماقت ہے ۔ اس حماقت میں پاکستان کے مسلمان زیادہ ہی مبتلا ہیں ۔ عرب اقوام چاہے زبانی مخالفت کرتی رہیںلیکن پسِ پردہ اسرائیل کو تسلیم کر چکی ہیں اور تسلیم  ہی کرنا کیا معنی اس کے غیر منصفانہ استحکام میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پہ ملوث ہیںتا کہ سردارانِ عرب کی گدی سلامت رکھی جائے ۔ عرب ویسے بھی غیر عرب مسلمانوں کو کم تر مسلمان کا درجہ دیتے ہیں اور ان سے ناروا سلوک اختیار کیے رکھتے ہیں ۔جن لوگوں کو عرب مملکتوں میں رہنے اور وہاں کام کرنے کا موقع نصیب ہوا ہے وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے ۔ امت مسلمہ اور اس کی وحدت کا تصور اب ایک افسانہ بن گیا ہے۔ یکجہتی ، اخوت ، وحدت یہ سب تقریروں اور تحریروں کی حد تک ہی رہ گئے ہیں ، عملی اعتبار سے سوائے انتشار کے کچھ بھی نہیں ۔ یہ ہندوستانی اور پاکستانی مسلمان ایک عجیب افسانوی دنیا میں رہتے ہیں اور آنکھیں کھول کر آئینہ ایام میں اپنا چہرہ دیکھنا نہیں چاہتے ۔ یہ ابھی تک دورِ صحابہ کی عینک لگا کر عربی مملکتوں اور وہاں کے افراد کو دیکھتے ہیں۔ یہ وہی عجمی مسلمان ہیں جو عرب ممالک میں چاہے ۰۲  یا ۰۳ سال ہی کیوں نہ گزار دیں انہیں وہاں کی شہریت کوئی نہیں دیتا اور نہ ہی ان سے کوئی اچھا یا برابری کا سلوک کرتا ہے ، ہر آدمی کے سر پہ روز ایک تلوار لٹکی ہوتی ہے کہ اچانک  اس کے کفیل کا موڈ خراب ہو یا نیت میں فتور پیدا ہو اور وہ دودھ کی مکھی کی طرح نکال کے پھینک دیا جائے ۔ عجمی مسلمانوں کے بچے اگر وہاں بڑے ہوجائیں تو نہ تو کوئی تعلیمی ادارہ موجود ہے جہاں وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اور نہ ہی ان کے مستقبل کی کوئی ضمانت ہے۔ یہ ساری پالیسیاں ایسی ہی بنائی گئی ہیں کہ کوئی آدمی بھی وہاں مستقل رہنے کا نہ سوچ سکے ۔ خدا کی اہمیت کا احساس اور اس سے متعلق رہنے کا  خیال بھی وہاں زیادہ اس لئے ہوتا ہے کہ سوائے اس کے کوئی کسی مصیبت سے بچانے والا نہیں ۔کسی عربی یا علاقائی آدمی کا کسی عجمی سے جھگڑا ہوجائے تو معاشرتی انصاف کا ترازو عرب کی طرف ہی جھول جاتا ہے ۔ لوگوں کے سا تھ نا انصافی کے ایک دونہیں بے شمار قصے اور مشاہدات و تجربات موجود ہیں ۔ اسی طرح کے بعض ایسے عرب جو اپنی حکومت کی بے رحمانہ پالیسیوں کے خلاف سوچتے ہیں انہیں کسی مغربی ملک میں پناہ ملتی ہے ، جہاں آکر یہ اسی ملک کو برا بھلا کہنے لگتے ہیں جس نے انہیں یا ان کے خاندان کو پناہ دی ہے۔ساری جدو جہد یا جذبہ جہاد مغربی اقوام کی درستی میں صرف ہونے لگتا ہے۔یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ انہیں یہاں آکر آزادئ گفتار نصیب ہوتی ہے ۔ مسلمانوں کا مسئلہ ان کا اپنا پیدا کردہ ہے ۔ اسلامی دنیا کے کسی بھی مسئلے کو اگر یہ اسلامی دنیا کا مسئلہ سمجھ کے حل کرنے کی کوشش کرتے تو آج کوئی مسئلہ ہوتا ہی نہیں لیکن اپنے ہی گھروں کے دروازے اگر اقوام غیر پہ وا کر دیئے جائیں کہ وہ مسلمان برادری کو آکر تہہ تیغ کر سکیں تو اس کا نتیجہ توسامنے آکر ہی رہتا ہے۔ پڑوس میں آگ لگا کر اپنے گھر کو محفوظ سمجھنے یا اس آگ میں ہاتھ تاپنے سے بدن کی سردی کب تک  زائل ہو سکے گی ؟ صرف شور ہنگامے ، اپنے ہی ملک میں توڑ پھوڑ ، آپس کی سر پھٹویل سے حاصل کیا ہوگا ؟

                    غیر اقوام کی ناانصافیوں کا شکوہ تو اس وقت جائز ہے جب ہم آپس میں شیر و شکر ہوں اور اپنی مملکتوں میں ہر کسی کو معاشرتی و اقتصادی انصاف فراہم کر رہے ہوں۔ مسلمانوں کو سب سے پہلے اپنا جائزہ لینا چاہیے ، اپنے گھر کو درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ عجمی و عربی کی تفریق ختم کرنی ہوگی اور یہ صرف زبانی نہیں بلکہ عملی طور پہ ہونا چاہیے ۔ امت مسلمہ کی دولت پہ ایک یا چند خاندانوں کے قبضہ کو ختم کرنا ہوگا تاکہ دولت کی صحیح تقسیم ہو سکے اور یہ امت اجتماعی طور پہ مقروض ہونے کی بجائے فلاحی معاشرے کی جانب قدم بڑھا سکے ۔ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ساری انسانیت اللہ کی مخلوق ہے اور سب کو ایک با عزت زندگی گزارنے کا حق ہے چاہے وہ یہودی ہوں ، نصرانی ہوں ، ہندو ہوں ، سکھ ہوں یا کوئی اور ہوں ۔ مذہب کے نام پہ نفرتوں کا پھیلاؤ اللہ کے دین کا حصہ نہیں۔ یہ تصور کہ اللہ کے آخری نبی محمد  ؐ  رسول الی الناس ہیں رحمت الالعالمین ہیں اور اللہ تعالیٰ رب للعالمین ہیں ، سارے ادیان اور پیغمبرانِ دین آپس میں جڑے ہوئے ہیں ٹھیک ایسے ہی جیسے ہر انسان ایک ہی آدم و حوا کی اولاد  ہے۔ روابط ہر قوم سے انسانی برادری کے حوالے سے ہونا چاہیے ، اس میں ہچکچانے کی کیا ضرورت ہے ؟ رویہ محتاط ضرور ہو گفت و شنید تو ہونی ہی چاہیے ! اس کے بغیر تو کوئی حل ممکن ہی نہیں !

حشام احمد سی

An old article – the content will reveal.

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: