Hesham A Syed

January 7, 2009

God is running our country

Filed under: Pakistan,Social Issues — Hesham A Syed @ 5:13 am
Tags:

Urdu Article : Mulk tto Alah chala raha hai : Hesham Syed

حشام احمد سید                              مُلک کو اللہ چلا رہا ہے ؟

ہمارے ملنے  والوں میں یوں تو اکثر پاکستانی وہ ہیں جو باہر رہ کر بھی پاکستان کی محبت میں کھانے کی پارٹیوں  کے دوران اس کے غم میں مبتلا رہتے ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن کا غم دیکھا نہیں جاتا۔ یہ صاحب ہر روز  ڈان اور پاکستانی اخباروں کے سلسلے انٹرنیٹ پر اپنے دفتر ہی میں پڑھ ڈالتے ہیں اور بقیہ جو وقت بچتا ہے اس میں اس ڈیپریشن سے نکلنے کے لیے دوستوں کو فون کر کے اپنے ملک میں ہونے والے واقعات کا رونا روتے رہتے ہیں۔ ارے بھئی حشام صاحب کیا آپ نے آج کا ڈان نہیںدیکھا  ۔ تو کیا امیتابھ بچن اور شاہ رُخ خان کے علاوہ یہ کوئی تیسری فلم بھی بن گئی ؟ نہیں نہیں بھئی میں ڈان اخبار کراچی کی بات کر رہا ہوں۔ دیکھئے کہ  تقریباّ ڈھائ سو فوجیوں نے فرنٹیر میں مجاہدوں یا آج کل عرفِ عام میں دہشت گردوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیا ، ارے بھئی ابھی تو سانحہ مشرقی پاکستان تازہ ہی ہے ، کوئی تیس سال کا عرصہ بھی عرصہ ہوتا ہے ا ور بعض زخم تو  ساری عمر مندمل نہیں ہوتے۔ اپنے ہی ملک پہ قابض فوجیوں کا جو انداز ہے وہ تو ہے ہی لیکن فوجیوںکی طرف سے اس کی تاویل یہ آئی ہے کہ صرف رابطہ منقطع ہوا ہے۔ کچھ خبریں یہ بھی آئی ہیں کہ کچھ فوجی جوانوں نے امریکہ یا طاغوتی طاقتوں کے کہنے پر مسلمانوں کے قتل عام سے انکار کر دیا ہے۔ کیا پتہ کہ یہ کانوائے اسی سلسلے کی کوئی کڑی ہو کہ یہ لوگ نکلے تو قتل عام پہ تھے لیکن ضمیر نے گوارہ نہ کیا ہو اور انہوں نے طالبان کے ہاتھوں خود کو ہی سونپ دیا ہو ۔ جو حالات ہیں اس میں فوج کے اندر بھی بغاوت کا امکان ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔۔ ؟ لگتا ہے کہ آندھیوں کے جھکڑ کے بعد بہت بڑا طوفان ابھی آنے والا ہے۔ ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرنے والے  لوگ ہیں ہم۔ نہ کشتی کا  انتظام  نہ آنے والے کل کا التزام۔

          حال ہی میں پاکستان  کے تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کی داستان پڑھی۔ تعلیمی اداروں کے وائس چا نسلر بھی وہ فوجی جنرل بن رہے ہوں جن کی تعلیمی قابلیت جنگی ہنر مندیوں یا اپنے ملک پہ قابض ہونے کی ہو تو اپنا سر نہ پیٹیے تو کیا کیجیے ؟ جس ملک کے بجٹ میں سب سے کم کیا انتہائی قلیل رقم تعلیم کے لیے مختص کی گئی ہو اس ملک کے مستقبل کا کیا کہنا ؟ صرف اقبال کے اشعار پڑھ کے اور قائد اعظم کے فرمودات کو بیان کر کے ، مشاعروں اور جلسے جلوس میں یا دیگر محافل منعقد کر کے مرثیہ گوئی کر کے یا پٹاخے چھوڑ کے کہ ہم آزاد ہیں ملک کا بنے گا توکچھ بھی نہیں معاملات روز بروز بگڑتے ہی جائیںگے۔ لے دے کے آج ایک نیوکلر پاور ہونے پر ہماری عزت کا دارومدار ہے۔ اگر یہ بھی نہ ہوتا تو شاید جو ملک نظریاتی طور پہ روز اپنی موت مرتا جارہا ہے اسے جغرافیائی طور پہ بھی لوگ ختم کر چکے ہوتے۔ ہم میںسے اکثر ایسی ڈیپریشن سے نکلنے کے لیے جذباتی طور پہ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اللہ نے بنایا ہے اور وہی اسے چلا رہا ہے اور اس کی حفاظت فرما رہا ہے۔ مجھے کوئی بتائے کہ اپنی ساری غلطیوں اور گناہ کو بھی اللہ کے حوالے کر دینا اللہ کے ساتھ بھی بے انصافی ہے کہ نہیں ۔ اللہ نے تو انسان کو بھی بنایا ہے پھر وہ تڑاک بھڑاک کیوں آپس میں لڑنے لگا اور احسن الخالقین ہونے کے بعد بھی اسفل السافلین میں کیوں جا پڑا۔ ملک کو توڑیں آپ ، ملک کو لوٹیں آپ، ملک پہ قابض آپ ، ملک سے باہر لوٹی ہوئی دولت سے عیاشی کریں آپ ، ملک آپ کی میراث ، ملک کے عوام کو جاہل رکھیں آپ اور انہیں دھوکہ دیں  آپ، ملک میں عصبیت اور قبیلہ پرستی کو فروغ آپ دیں اور پھر افیم کی گولی کھا کر سو رہیں کہ اس ملک کو اللہ چلا رہا ہے۔ اچھی ڈیوٹی لگا دی ہے ہم نے  اپنے خالقِ برتر و عظیم کی ۔ مداریوں کا ٹولہ ڈگڈگی بجا رہا ہے عوام ناچ رہی ہے ۔ ہم  ترقی جو کر رہے ہیں !  بلو کے گھر جارہے ہیں سب لوگ ۔۔ چلو  چلو بلو دے گھر !!

 کیجیے  ہائے  ہائے  کیا   :  روئیے  زار  زار  کیوں

hesham syed

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: