Hesham A Syed

January 7, 2009

How long Reality can be avoided ?

Filed under: Middle East,Muslim world — Hesham A Syed @ 8:29 am
Tags:

Urdu Article : haqeeqat sey Gureyz kab tak : Hesham Syed ;

حقیقت سے گریزکب تک ؟

           میرے کالم’ گفت و شنید‘ پہ احباب کے فون آتے ہیں۔وہ اس دکھ کا اظہارکرتے ہیںکہ میں نے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کے بارے میں مثبت رائے دی اور جنرل مشرف کی حمایت کی ۔حالانکہ یہ مفروضہ ہی غلط ہے اور نا سمجھی کی علامت ہے ۔ پتہ نہیں میرے کالم نے دوسرے احباب پہ کیا تاثر قائم کیا کیونکہ یہاں بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ کچھ پڑھ کے اپنی رائے کا اظہار کریں ۔ کسی نے کبھی کچھ کہہ دیا تو اسے ہم غنیمت سمجھتے ہیں کہ کالم یا مضمون پڑھا تو گیا ۔ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ معاشرے میں ہر آدمی ایک ہی فکر کا ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ آدمی کی فکر میں کوئی تبدیلی بھی واقع نہ ہو۔لکھنے اور پڑھنے والے کے درمیان ایک رشتہ ہوتا ہے اس لئے موخرالزکر کو اپنی رائے دینے میں تساہل پسندی سے کام نہیں لینا چاہیے ۔ دو طرفہ رائے کے اظہار سے ایک مثبت فضا قائم ہوتی ہے۔ کوئی کچھ بھی لکھ رہا ہو وہ قرانی آیت تو نہیں ہوتی کہ اس پر دوسری رائے دی ہی نہیں جا سکتی۔ بہرحال  میرے جن کرم فرما ؤں نے میرے مضمون  پہ اپنے خیالات مجھ تک پہنچائے میںان کا مشکور ہوں اور اسی حوالے سے مزید وضاحت کی ضرورت محسوس کر رہا ہوں ۔جو بات میں نے لکھنے کی کوشش کی تھی وہ یہ تھی کہ پاکستانی اور ہندوستانی مسلمانوں کی پس و پیش سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے پہ کوئی فرق نہیں پڑتا ، کیونکہ اسی علاقے کی عرب اقوام نے عملی طور پہ اسے کب کا تسلیم کیا ہوا ہے بلکہ اس کے باقاعدہ استحکام میں معاون ہیں۔ کھانے کے دانت اور ہیں دکھانے کے اور ۔

          میرے مضمون کو پھر ایک بار غور سے پڑھا جائے تو اس کے اندر بھی صیہونی طاقتوں کے ظلم کے خلاف ہی میرے جذبات پوشیدہ ہیں لیکن ساتھ ساتھ اقوامِ عرب کی بے ضمیری ، نفاق ، اسلام کی آفاقی اور عالمی فکر کے بر خلاف قبیلہ پرستی کے رویہ کا بھی رونا ہے۔اہلِ عرب کی جونخوت و تکبر عجمیوں کے خلاف ہے وہ ہے۔صدیوں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں رہنے کے بعد بہت کم لوگ اس بیماری سے نکلے ہیں۔میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ صرف میرا ذاتی تجربہ نہیں بلکہ تقریباً ہر شخص جو وہاں رہ آیا ہے یا رہ رہا ہے اس کے اندر اس بات کا بخار ہے کہ اس کے ساتھ سلوک کیسا ہوا ۔پنجرہ تو پھر پنجرہ ہوتا ہے چاہے وہ سونے یا چاندی کا ہی کیوں نہ ہو۔ سامنے ریال و ڈالرکی ہڈی نہ لٹک رہی ہوتی تو کاہے کو کوئی گدھے کی طرح ہلکان ہوتا اور عزت نفس پہ چابک برداشت کرتا۔ فلسطین کے ساتھ جو اسرائیل اور اس کی معاون حکومتوں نے کیا ہے وہ کس سے پوشیدہ ہے ؟ ہم اس بات کا تو رونا روتے ہیں کہ لاکھوں فلسطینی تہہ تیغ  اور بے گھر کر دئے گئے لیکن کیا اس کے ذمہ دار صرف یہودی قوم کے وہ افراد ہیں؟ان لوگوں کے ساتھ دوسری غیر مسلم قوتیں بھی شامل ہیں اور ان ہی قوتوں کے بل بوتے پر تو عرب اقوام نے اپنی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی بنیاد رکھی ہوئی ہے ۔وہی انگریز جنہوں نے اسرائیل کا جابرانہ تسلط فلسطین پہ کروایا ، انہوں نے تو خلافت کا تہس نہس کر کے سعودی حکومت کی بھی بنیاد ڈالی جہاں شب خون مار کر اور چور دروازے سے آئے ہوئے لوگ اپنے آپ کو اسلامی دنیا کا لیڈر کہہ کے قوم کو مزید دھوکے میں رکھے ہوئے ہیں۔انگریزوں نے تو خلیجی حکومتوں کو تخلیق کیا ، انہوں نے پاکستان بنانے والی مسلم لیگ کی بھی بنیاد ڈالی تھی۔انہوںہی نے تو ساری زمین اللہ کی ہے کے تصور سے ہٹا کر مسلمانوں کو وطن پرستی کے تارِ عنکبوت میںایسا الجھا دیا کہ مذہب کا نام بھی ملک اور قومیت توڑنے کے لئے لیا جانے لگا ۔تمام مغربی استعماری قوتوںنے اسلامی مملکتوں سے ان کی مرکزیت کو قبیلہ پرستی دبا کر اور قوم کے غداروں کو اپنے ساتھ شامل کر کے ختم کردیا کہ خلافت کے اب دوبارہ قائم کرنے کا تصور بھی ایک احمقانہ و بچکانہ خیال نظر آنے لگا ہے۔

          یہی وہ مغربی اقوام ہیں جہاں آج بھی ہمارے سیاسی لیڈران پناہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں ۔ یہی وہ اقوام ہیں جہاں کی سکونت کے لیے بے شمار مسلمان اور اسلامی مملکتوں کے افراد خواہ عرب ہوں کہ عجم بولائے پھرتے ہیں۔ یہی وہ اقوام ہیں جہاں سے ہر اسلامی حکومت کی لیڈر شپ امپورٹ ہوتی ہے یا جہاں سے ان کی تربیت ہوتی ہے ۔یہی تو وہ اقوام ہیں جہاں اسلامی مملکتوں سے لوٹی ہوئی دولت محفوظ سمجھی جاتی ہے چاہے یہ دولت سیاسی لیڈر نے لوٹی ہو یا فوجی جنرل نے یا تاجروں نے یا حکومت کے ملازمین نےـ اسی چوری اور ڈکیتی کے مال سے ایک عمرہ اور حج کرنے کی دیر ہے یہ سب کالا دھن باہر آکر حلال ہوجاتا ہے اورسارے گناہ معاف !

0

           کوئی یہ بتلائے کہ افغان میں روس کے ریچھ کو نکالنے کے لئے تو سارے جہادیوں نے جان پہ بازی لگا دی اور پچھلی صف میں بیٹھے ہوئے فوجی اور سیاسی لیڈر اپنے سیاسی تانے بانے بنتے رہے اور اپنا فارن اکاوئنٹ بھرتے رہے لیکن وہی جہادی جب اس سے زیادہ خطرناک عفریت کے خلاف کھڑے ہوگئے تو وہ دہشت گرد بن گئے ، پھر اسی ملک کو جتنا تباہ ہم سب نے خود مل کر کیا اس سے پہلے شاید کبھی نہ ہوا ہو۔یہی حشر ایران کا ہوا ، عراق کا ہوا ۔ کشمیر یا کسی بھی جگہ جو کچھ ہو رہا ہے کیا اس لئے نہیں ہورہا کہ ہماری آستینوں میں خنجر ہیں ؟ یہ بات میں نے کیا غلط لکھی کہ اسلامی مملکتوں کے مسائل اپنے پیدا کردہ ہیں ،ہم اپنے ملک کی حفاظت کر نہیں پائے اور پاکستان کو د و لخت کر کے بیٹھے ہیں۔ پچھلے پچیس سالوں سے زیادہ سے لاکھوں محب وطن پاکستانیوں کی نسل در نسل کو زندہ درگور کر دیا ہے بلکہ اس سے بھی بد تر حالت میں جینے یا مرنے کو چھوڑ دیا ہے۔ انہیں پاکستانی تسلیم کرنے اور پاکستان لانے میں رکاوٹ ڈالی ہوئی ہے صرف اس قصور کے بنا پر کہ انہوں نے پاکستان کا جھنڈا لہرا یا ہوا ہے اور وہ پاکستان کے شکست خوردہ فوجیوں کے مشرقی پاکستان میں دست راست تھے ۔ہر بار ایک نئی وبا اپنے اندر سے ہی اٹھتی ہے کہ پاکستان کے مزید حصے بخرے کئے جائیں، ہمارے ہی درمیان وہ لوگ بھی ہیں جو اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان کا مذہبی تصور ۴۱  اگست تک تھا  ۵۱  اگست کی صبح کو یہ خواب ٹوٹ چکا تھا کیونکہ اکثر افراد اس لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہوچکے تھے جس کے لئے پاکستان بنایا گیا تھا ۔ وہ جو بانئ پاکستان تھے انہیں زیارت میںریسٹ ہاؤس میں نظر بند کر دیا گیا تھا اور عالمِ نزع میں کراچی واپسی کے وقت بے کسی کی حالت میں فاطمہ جناح ایک بند وین میں سڑک کے کنارے قائد محترم کے جسم پر سے مکھیاں اڑاتی رہ گئیں تھیں۔ ایمبولینس یا طبی مدد اتنی تاخیر سے آئی یا بھجوائی گئی کہ قائد بغیر کسی کا احسان لئے اپنے بنائے ہوئے پاکستان کو چھوڑ کے جا چکے تھے    ؎

 یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران  :  اے قائد اعظم ترا احسان ہے احسان

 دوسرے محسنوں کو یا تو گولی سے اڑا دیا گیا ، زہر دے دیا گیا ، یا کرسی سے کھینچ کے اتار دیا گیا اور اس کے بعد سوائے سازش کے اور عوام کو دھوکہ دینے کے کچھ بھی سامنے نہیں آیا ۔غربت بڑھتی جارہی ہے ، لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں لیکن دعوت ِشیراز سے کسے فرصت ہے ، ہزاروں روپے کا ایک وقت کا کھانا کھا کر ہم جم اور کلب میں اپنا وزن کم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اپنی تہذیب و ثقافت کا جنازہ برہنہ رقص و موسیقی کے راستے نکالتے رہتے ہیں ۔اپنے گھروں کے دروازے دشمنوں کے لیے کھول دئے گئے ہیں۔ جہاںغیر آکر مسلمان مردوں کے سروں کی فصل کاٹتی رہے اورماؤں بہنوں کی عصمت دری کر رہے ہیں۔ لیکن روشن خیالی اور بھیک میں ملے ہوئے چند سکوں کے ہاتھوں ہم مجبور ہیں ۔

z        میں نے یہ لکھا کہ اگر مسلمانوں کے مسائل کو کبھی بھی اسلامی نقطہ نگاہ سے دیکھا جا تا اور اسے متحد ہو کر حل کیا جاتا تو یہ سارے مسائل پیدا ہی نہ ہوتے تو کیا غلط لکھا ۔؟ میں ذاتی طور پہ اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ اپنی صفیں پریشاں ہوں ، ہم آپس میں ہی ایک دوسرے کا گلا کاٹتے رہیں ، اقوام غیرسے ساز باز کرتے رہیں ، چند ہاتھوں میں سمٹی ہوئی دولت اقتدار و قوت کے سبب معاشرتی اور اقتصادی بدحالی ساری امت میں پھیلی ہوئی ہو لیکن ہم گالی کسی اور کو دیں ۔ اپنے مسائل اندرونِ خانہ حل کرنے کے بجائے سب ٹھیک ہے کا نعرہ لگائیں اور بسنت منائیں،پریڈ کروائیں ۔ حرمین کے رکھوالے اپنی حرم سراؤں کو یہودی ، عیسائی ، ہنود اور ہمہ اقسام عورتوں سے آباد کرتے رہیں ، ہر قسم کی بد فعلیوں میں مصروف رہیں ۔اپنے ملک کا دفاع خود کرنے کی بجائے اقوام غیر کے ہاتھوں گروی رکھ دیں ، اسرائیل اور اس کی معاون حکومتوں سے بھی چھپ چھپا کر جنگی ہتھیار اور دوسرے سازو سامان در آمد کریں لیکن بات بیت المقدس کے حصول کی کریں ، فلسطین  پہ کئے گئے ظلم کی کریں ، عالم اسلام پہ کئے گئے ظلم کی کریں ۔ جو قوم خون نہیں بہا سکتی وہ آنسو بہا کر کیا کر سکتی ہے۔ خون بہانے اور خون کے بہہ جانے میں فرق ہے ! ہمارے پاس سوائے خالی خولی بیان بازی کے ، ریڈیو ، ٹی وی ٹاک شو کے ، اخبار و جریدے میں سنسنی خیز خبروں کے ، جذباتی طرز فکر کے اور کیا رکھا ہے ؟  اقوام غیر کو ظالم کہنے سے پہلے ان کے جوتے چاٹنا چھوڑ دیں ۔ ان کے ہی سامنے کشکول گدائی لے کر سر جھکا کے نہ بیٹھے رہیں ۔ پوری قوم کو گروی نہ رکھدیں ۔ ہاں ہمیں ظالم کو ظالم کہنا چاہیے ، اس کے خلاف جدوجہد کرنی ہی چاہیے،چاہے وہ اسرائیل ہو یا کوئی اور لیکن سب سے بڑا ظلم تو نفاق کا ہے اور ایسے لوگ ہمارے اپنے ہی درمیان ہیں ، ہم جیسے ہی نام کے لوگ ! سب سے پہلے ان لوگوں کا قلع قمع کریں ۔ حقیقت سے گریز کب تک؟

حشام احمد سی

This is an old article – the content itself will speak.

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: