Hesham A Syed

January 7, 2009

Independence of Court or Political pursuit ?

Filed under: Pakistan — Hesham A Syed @ 11:35 am
Tags: ,

Urdu Article : Adlia ki azaadi yaa siasat nawaazy – Hesham Syed

عدلیہ کی آزادی یاسیاست نوازی 

پاکستان کا سیاسی منظر پچھلے چند ماہ سے بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ یہ تبدیلی مارچ ۷۰۰۲ ء میں چیف جسٹس کے خلاف سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس داخل کرنے کے بعد زیادہ واضح ہو تی چلی جا رہی ہے۔ اس صدارتی ریفرنس کے داخل کروانے میں جو حضرات پیش پیش تھے وہ تو اب بھی اپنی حماقتوں کی معصومیت سجائے اسٹیج پر اور ٹی وی کے ٹاک شو میں یا پوڈیم پر ملک کے بارے میں عوام کو ایک خوشگوار تاثر دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور پاکستان میں سب کچھ ٹھیک ہے اور ہم سب ایک روشن مستقبل کی طرف ایک روشن خیال اسلام کی راہ پر گامزن ہیں لیکن ان لوگوں کے اس صدارتی مشورے کا خمیازہ اگر کوئی بھگت رہا ہے تو وہ خود صدر اور جنرل پرویز مشرف ہیں۔ ایسے ہی مشیر اور وزیرِ باتدبیر ہوتے ہیں جو صاحبِ وقت کو عوام کے سامنے ننگا کر کے اس کے گرد ایسا ڈھول بجاتے رہتے ہیں جس سے سچائی کی کوئی بات صاحب وقت کے کانوں تک نہیں پہنچ پاتی اور وہ بھی ان وزیروں اور مشیروں کے ساتھ اس بے ہنگم تال پر دھمال کرتا رہتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ قافلہ اس اندھے کنویں کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے جہاں یہ سب امیرِ وقت کو دھکا دے کر کسی اور بکرے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ تو ہوتا ہی رہا ہے ، یہ تو ہوتا ہی رہتا ہے ، یہ تو ہوتا ہی رہے گا۔

          ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ریفرنس کے داخل کرنے اور اس کے بعد کی سیاسی تحریک اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کم سے کم  عدلیہ کی کارگردگی اور ان کے کارکنان کی بد انتظامی ، نا اہلی ، تساہل پسندی اور رشوت خوری کے بارے میں جتنے بھی واقعات و شکوک و شبہات تھے وہ سب دھُل گئے اور یہ سب کارکنان نوسو چوہے کھا کر بھی حاجیوں کی طرح پاک و صاف ستھرے نظر آنے لگے۔ پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ کورٹ کیس میں جائز اور ناجائز طریقے سے پھنسے ہوئے ہیں اور سالہا سال سے کسی فیصلے کے منتظر ہیں ، ان میں اکثر افراد اور خواتین ایسے ہیں جو وکلاکی فیس اور عدلیہ کے کارکنان کو رشوت دینے کے متحمل نہیں۔تاریخ بدلتی رہتی ہے ، لیکن جیلوں میں مبحوس خواتین یا مظلوم مرد وقت اور حالات کی اذیت کا شکار رہتے ہیں۔ جو صاحب ِ ثروت ہیں ان کے لئے تو کوئی بھی ان کے مرضی کے مطابق ان کے گھر پرہی فیصلہ لے کر آجاتا ہے اس لئے ان کا ذکر کیا ؟ بہر حال یہاں بات عدلیہ کے موجودہ رویہ کے بارے میں ہے جو پچھلے ماہ میں چیف جسٹس کی دوبارہ بحالی کے بعد سامنے آرہا ہے۔ اب عدلیہ جس تیزی سے موجودہ سیاسی حالات سے متعلق اپنے فیصلے کسی نہ کسی بہانے حکومت کے خلاف کر رہی ہے وہ حیرتناک ضرور ہیں۔ ہر سیاسی لیڈر جو کبھی معتوب ٹھہرا ، قوم نے اس کی بد اعمالیوں اور ملکی خزانے کے لوٹنے کے جرم میں اسے ملک بدر کئے جانے پر منوں مٹھایاں بانٹی تھیں ان ہی لوگوں کو ملک میں دوبارہ آنے اور انتشار پھیلانے کے لئے عدلیہ نے جواز فراہم کردیا۔ وہ سب کچھ جو ان لوگوں نے قوم کے ساتھ کیا وہ اب کس کھاتے میں جائے گا۔ یہ جمہوریت کی کیسی  جیت ہے ؟ کیا قوم اتنی بے حس ہو چکی ہے کہ قومی دولت کو لوٹنے والے اور عوام کی دولت پر عیش کرنے والوں کے پھر خالی خولی وعدوں اور جمہوریت کی خوشگوار کہانیوں کے سحر میں آکر انہیں پھر اپنے آپ کو لٹوانے کے لئے اپنے گھر کا دروازہ کھول دے گی ؟ سنتے ہیں کہ اب پھر منوں مٹھائی بٹ رہی ہے گھر لوٹنے والوں کی طرف سے۔ مداریوں کا گروہ ڈگڈگی بجا رہا ہے اور قوم ناچ رہی ہے۔ دما دم مست قلندر ۔ میڈیا حسب معمول اپنا رنگ بدل رہا ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر اپنا نقارہ بجارہا ہے ۔ اس بات کو مشتہر کررہا ہے کہ عدلیہ آزاد ہو گئی ہے، اسٹیبلشمنٹ کے خلاف فیصلہ دینا اس بات کی علامت ہے کہ اب عدلیہ حکومت کے اثر میں نہیں۔ اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ عدلیہ نے اب پینترا بدلا ہے اور وہ موجودہ حکومت کے مخالفوں کے زیر اثر ہے۔ اُسی نواز شریف کی حکومت میں جس میں عدلیہ کے گیٹ پر ہنگامے اور پتھراؤ ہو چکا ہے ، ان کے لئے عدلیہ شریف نواز ہوگئی ہے ، عوام اور وہ ذہن جو کچھ بھی سوچ سکتا ہے یہ تماشہ بھی ٹُک دیکھنے پر مجبور ہے۔گویا عدلیہ آزاد نہیں بلکہ سیاسی ہوگئی ہے اور پاکستان میں ایک نئے سیاسی ادارے کا قیام عمل میں آیا ہے۔

          کہا یہی جاتا ہے کہ قانون سے کوئی بھی بالا تر نہیں تو کیا عدلیہ قانون سے بلند ہے ؟ اگر ان کے فیصلے پر کوئی اعتراض کرے تو وہ توہینِ عدالت کا مرتکب ہو جائے اور عدلیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ معترض کو مقدمات میں پھنسا کر اس کی زندگی کو اجیرن بنا دے۔کیا پاکستان میں وہ ادارہ جو لوگوں کو انصاف فراہم کرنے پہ مامور ہے وہ بھی اپنی اتھارٹی کا ناجائز استعمال کر کے ایک نئی مافیا کو جنم دے رہی ہے جس سے کوئی سوال نہیں کیا جا سکتا جس پہ کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا ۔ جمہوریت اور آئین کی بالا دستی کا سُن سُن کر کان پک چکے ہیں۔ گہری نظر سے دیکھیں تو جتنی بھی بات ہورہی ہے وہ  پاور  اسٹرگل  ہی کی ہے۔ ایک گروہ  دوسرے گروہ کے ساتھ ہے ۔ عوام کے مسائل کی کوئی بات نہیں کرتا ۔ ماضی میں کیا خود اُن سیاسی لیڈران نے بھی عدلیہ کو وہ آزادی بخشی تھی جس کا فیصلہ سُن کر اب یہ صرف اس لئے اپنی بغلیں بجا رہے ہیں کہ اس وقت عدلیہ کا فیصلہ ان کے حق میں ہے اس لئے کہ دونوں کا دشمن ایک ہے ۔ معاملہ بغض معاویہ یا حُبِ علی جیساہی لگتا  ہے۔ لوگوں کا سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہی بھگوڑے لیڈران اور ان کے کارندے جب ملک واپس آکر حکومت کو حاصل کر بھی لیںگے تو کیا وہ اسی آزادعدلیہ کا اپنے خلاف فیصلہ کبھی برداشت کر سکیں گے؟

          پاکستان کے سیاسی  ایزل پرگھوم پھر کر ان ہی لیڈران کی تصویر ابھر کے سامنے آجاتی ہے جو آزمودہ ہیں اور جو خاندان در خاندان پاکستان کو اپنی میراث سمجھتے ہیں۔یہ وہی جاگیرداروں ، وڈیروں ، انڈسٹریلسٹ و  تجاروں کا طبقہ ہے ۔سیاست میں ایک عام آدمی جسے روز مرہ کے معاشی معاملات نے دن رات الجھا رکھا ہو کیسے شریک ہوسکتا ہے۔ ساٹھ سال سے یہ ملک کسی نئے چہرے اور حالات کا منتظر ہے۔ہم سب ایک ہی دائرے میں چکر لگا تے رہتے ہیں۔۔ عوام کب تک سنہرے خواب دیکھتے رہیں گے ۔  نیا سورج کب طلوع  ہوگا۔ آنے والا وقت عوام کو بہت سے سوالوں کا جواب دیتا چلا جائے گا کہ امریکہ اب کس حد تک پاکستان کی سیاست میں داخل رہے گا ؟ اس کا رُخ مشرف نوازی سے بے نظیر یا شریف نوازی کی طرف  بدلے گا تو کس طرف جائے گا ؟ وار آف ٹیرر War of Terror) (کیا رُخ اختیار کرتی ہے ؟ پاکستان کا نیوکلیئرپاور ہونا پہلے ہی دشمنوں کی نگاہوں میں کھٹک رہا ہے ۔ خود وہ سیاسی پارٹیاں اور کارکن جو مشرف نواز کہلاتی ہیں ان کا رنگ بدلتا نظر آرہا ہے اور ان کے کارکن بھی اب شریف نواز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ لوٹا کریسی یا چڑھتے سورج کی پوجا کرنا کوئی نئی بات تو نہیں۔ نواز شریف برادران سنتے ہیں کہ سعودی حکومت سے کئے گئے معاہدے سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں اگر وہ پاکستان آ بھی گئے تو کیا وہ فرد جرم جو ان پر عائد ہے اس کی موجودگی میں سیاست میں حصہ لے سکیں گے یا انہیں مقدمات بھگتنے پڑیں گے ؟ قید و سلاسل کو دیکھنا ہوگا یا عدلیہ انہیں ہر جرم سے بری الذمہ قرار دے دے گی ؟ کیا ایک بارپھرمارشل لا لگ سکتا ہے ؟ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

۴۱ ،اگست ۷۴۹۱ ء سے آج تک اگلے دو ہفتے یا تین ہفتے پاکستان کے لئے بڑے نازک ہی رہے ہیں۔اللہ رحم فرمائے !!

اگست ـ۷۰۰۲ء

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: