Hesham A Syed

January 7, 2009

Live but pay a price for it !

Filed under: Pakistan — Hesham A Syed @ 9:03 am
Tags: ,

Urdu Article : Jio tto Jiney ki qeemat bhi dou : Hesham Syed   – based on Geo TV program

جیو تو جینے کی قیمت بھی دو!

پاکستان و ہندوستان کی آزادی کی سالگرہ پہ جیو ٹی وی پرپاکستانی صحافی شاہد مسعوداور ہندوستان کی صحافی برکھا نے پاک و ہند کے دانشوروں ، سیاستدانوں اور ریٹائرڈ فوجی جنرلوں کو اکٹھا کر لیا تھا اورسارا زور ان دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر سے بہتر کرنے پر صرف کیا جا رہا تھا۔جب دو ایسے لوگ ملتے ہیں جن کی ساٹھ سال کی تاریخ بلکہ دونوں ملکوں کی آزادی ہی نفرت کی بنیاد پر بٹتی ہوئی ہو تو ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے ؟ بے شمار گلے شکوے ، ہم اور تم کی تکرار ، ہونے والی جنگوں کی روداد ، دہشت گردی اور حادثات زمانہ کا رونا ، ہم تقسیم ہی کیوں ہوئے پر سوالنامے ، ایک ہی گنگا جمنی تہذیب کی رنگ آمیزی ، زبان و ثقافت کی یک رنگی ، دونوں ملکوں کے نیوکلیئر پاور ہو جانے پر اطمینان یا عدمِ اطمینان ، ہر قسم کے مسائل کے حل کرنے پر اصرار، سوائے کشمیر کے ۔ کشمیر پر صرف گفتگو اور اس بات کی وضاحت کہ اس مسئلہ پر بات اس وقت تک ہوسکتی ہے جب تک کہ اس کی جغرافیائی تقسیم کی کوئی بات نہ کرے ، ورنہ ہم ادھر تم اُدھر ۔اب اس موضوع پہ ایک مصالحت آمیز رویہ اختیار کیا جا رہا ہے ، اصولی موقف سے انحراف کہ کشمیر پاکستان کا ہی حصہ تھا جو تقسیم کے وقت نہرو اور ماؤنٹ بیٹن کی سازش کا شکار ہوگیا ۔ اس کی حیثیت فلسطین جیسی ہی ہے کہ یہودیوں نے فلسطینیوں کو خود ان کے اپنے ہی ملک اور گھروں سے بے دخل کردیا اور اب فلسطینیوں کی جدوجہد کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ ٹھیک ایسے ہی کشمیر میں ہندوؤں کی آبادکاری اورمسلمانوں کا قتل عام کر کے آبادی کی کثرت کی بنیاد پر تقسیم کے اصولی موقف کو سچ پوچھیں تو تسلیم کیا جارہا ہے ۔لیکن ایسا ہونے نہیں دیا جارہا۔اس ظلم کے خلاف اگر کوئی جہاد کر رہا ہے تو وہ بھی موجودہ دور کی اصطلاح میں دہشت گرد ہی قرار دیا جا رہا ہے۔ اب تاریخ کے صفحات بھی بدلے جارہے ہیں ۔ ایک نئی بات پاکستان میں اور خود کشمیر میں یہ کی جارہی ہے کہ کشمیر کو آزاد رہنے دیا جائے۔نہ ہندوستان کا نہ پاکستان کا تو پھر اس سے قبل کی جنگ کس کھاتے میں جائے گی ؟ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جس طرح ہندوستان میں سیکولر حکومت ہے ویسی ہی حکومت پاکستان میں بھی ہونی چاہیے ۔جب سب کچھ یہی ہونا تھا تو اس تقسیم کی واقعی ضرورت ہی کیا تھی ؟ سیکولر حکومت میں تو ہم ایک ہی ہندوستان میں رہ سکتے تھے۔ پھرپاکستان کا مطلب کیا  لا الہ ال اللہ ہر چند کہ نام نہاد اسلامی جماعت نے پاکستان بننے کے بعد پھیلایا۔ پاکستان بنانے کے دوران   ’’لڑ کے لیں گے پاکستان ،بٹ کے رہے گا ہندوستان ،‘‘کے دل ہلا دینے والے نعروں کا زور تھا۔ نعروںکے ردِ عمل میں لاکھوں مسلمانوںکے قتل و تباہی کا حساب کون دے گا ؟ ابھی چند سال قبل ہی ضیا الحق کے زمانے میں آزاد کشمیر میں ایک موقع پر خطاب کرتے ہوئے میں نے خود ضیا الحق کو یہ نعرہ لگاتے ہوئے سنا کہ’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ ۔ لیکن یہ نعرہ بھی کھوکھلا ہی نکلا ، خصوصاََمشرقی پاکستان کے الگ ہو جانے کے بعد تو پاکستان نے اپنے ہی نظریات کی نفی کر دی تھی ۔خود اپنی ہی گھر کے ایک بڑے حصہ کو گنوا کردوسروں کے قبضے میں کشمیر نام کی اینٹ کو حا صل کرنے کی کوشش کس حد تک کامیاب ہو سکتی ہے۔ پہلے مقبوضہ کشمیر کے لوگ اپنی آزادی کے لئے پاکستان کی طرف پُر امید نگاہوں سے دیکھتے تھے لیکن نسل در نسل کی ناامیدی نے انہیں بھی ہندوستانی مسلمانوں کی طرح اب یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اپنا بچاؤ اب خود کرو کیونکہ پاکستان ساٹھ سال گزرنے کے بعد اب تک خود اپنی بقأکی جنگ لڑ رہا ہے۔سابق پاکستانی جنرل اسلم بیگ صاحب نے ہندوستان اور امریکہ اور اس کے معاونین مملکتوں کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر اپنے اندیشے کا اظہار کیا اور اسے پاکستان اور اسلامی قوتوں کے خلاف ایک مشترکہ سازش قرار دیا ہے لیکن اتنی ساری رنگینیوں اور موسیقی کے شور کے درمیان طوطی کی آواز کون سنتا ہے ؟ کل ہو گا تو دیکھا جائے گا ۔ ویسے بھی غلامی میں جینے کی توعادت سی ہوگئی ہے …آج تو میڈیا کی آزادی میں جی لیں!

8        یہ دور وہ ہے کہ جس میں کسی ملک کو فتح کرنے کے لئے فوج کا اس ملک میں داخل ہونا ضروری نہیں بلکہ دور ہی سے بیٹھ کر اس ملک کی اپنی زبان و تہذیب کو مٹا دیا جائے تا کہ اس کا اپنا وقار اور تشخص ختم ہوجائے تو وہ ملک خود بخود گود میں پکے ہوئے آم کی طرح آگرتا ہے۔ ایسا ہی کچھ پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہر پاکستانی کے گھر میںبھارت ٹیلی ویژن ، فلم و ڈرامے اور موسیقی کے راستے گھُسا بیٹھا ہے۔ ہر کی سوچ کا محور اب وہی رسوم و فیشن و اداکار و اداکارائیں و رقاص ہیں۔ ٹاک شو ہے تو ان میں بھی صرف مادیت پرستی کا رجحان پیدا کرنے کی کوشش ہے۔کسی بھی سیاستداں کو سنیں ادھر کے ہوں یا ادھر کے بلا امتیاز سبھی منافقت کے رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں۔ وہی چرب زبانی ، وہی الفاظ کی گنجلک ، ان حالات میں کیا کشمیر و فلسطین یا عمومی طور پر مسلمانوں پہ بڑھتے ہوئے مظالم کو بھول ہی جانا چاہیے ؟ اگر ایسا نہ کرپائیں گے تو ٹھمکے کیسے لگیں گے ،  اشعار پہ واہ واہ کیسے ہوگا ؟ پاپ میوزک اور پاپ قوالی کا فن کیسے عروج پائے گا ؟ فن کار مرد عورتوں کی شکل میں اور عورتیں مردوں کی شکل میں لوگوں کے دلوں کو کیسے لبھائیں گے۔ اس ٹاک شو کے اخیر میں ایک جیو کا گانا بھی سنایا گیا جو کہ اصل میں جیو چینل کی برسی کے موقع  کے لئے بنایا گیا تھا لیکن تڑکا لگا کر باسی گانا نئی پلیٹ میں سجا کر پیش کیا گیا ۔بہر حال اس میں سے وہ حصے جو ہمارے پڑوسی ملک کے لیے قابل اعتراض ہو سکتے تھے ہذف کر دیئے گئے تھے ، اور اسکی جگہ پاکستانی اور ہندوستانی جھنڈا دکھایا گیا ، کیا کرتے ہمیں اپنی اصلی شکل بھی تو چھپانی تھی۔ گانے کے مرکزی  بول تھے جیو اور جینے دو ، ہمیں سانس لینے دو ! نہ جانے اس ٹاک شو کے بعد اور اس  گانے کو سُن کر میں نے گنگنانے کی کوشش کی تو میری زباں پہ جو مکھڑا آیا وہ ذرا مختلف سنائی دیا اور وہ یہ تھا کہ:  ع 

جیو  تو  جینے  کی  قیمت  بھی  دو  !

          ہمیں تو پڑوسیوں سے ، اور ساری غیر اسلامی مملکتوں سے( جو در پردہ اسلام یا مسلمانوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں) اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں،چاہے اس کی قیمت ہمارا اپنا وطن ہو! ہماری اپنی عزت ہو!ہمارا  تشخص و وقار ہو !ہمارے دین و مذہب کی سوداگری ہو ! یا پھر جنس کے بازار میں ہم خود نیلام ہو رہے ہوں! ہمیں تو جینا ہے اور سب کو جینے دینا ہے ! جیو چینل سے ہی اس بات کا پرچار ہو رہا ہے کہ میڈیا نے پاکستان کو آزاد کر دیا ہے ، پاکستانی پاپ میوزک نے پاکستان کا وقار بلند کیا ہے

           بھول جائیے اپنے آپ کو ۔ لگے دم نہ رہے غم ، تارا را را رم ، تا دھم تا دھم ،/ تارا را رم، تا دھم تادھم/تارا را را رم  رم پم رم پم !

 ۸۱  اگست  ۷۰۰۲

حشام احمد سید

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: