Hesham A Syed

January 7, 2009

Now every thing makes me cry !

Filed under: Pakistan — Hesham A Syed @ 11:28 am
Tags: ,

Urdu Article : Ab tto har baat pey roanaa aaiey : Hesham Syed

اب تو ہر بات پہ رونا آئے

[ایک مخصوص اندازِ فکر کا میڈیا چاہے وہ اندرون پاکستان ہو یا بیرون پاکستان ہو کم سے کم یہی تاثر دے رہا ہے کہ پاکستان تباہی کی جانب رواں دواں ہے۔ حکومت اور اس کے اداروں کے مخالف سیاسی ادارے تو اپنا نقارہ بجا ہی رہے ہیں ، عدلیہ و قانون داں ، جسٹس و جج و وکلا حضرات نے بھی اپنی سیاسی پارٹی بنا لی ہے۔ سفید وگ ہو یا کالا کوٹ سبھی ذہنی انتشار اور معاشرتی خلفشار کا شکار ہو رہے ہیں۔رنگ بدل رہا ہے اور چہرے لال پیلے ہو رہے ہیں۔ سیاسی پس منظر پہ جو لیڈران پھر ابھر رہے ہیں یا جلاوطنی سے لوٹ رہے یا رہی ہیں وہ وہی ہیں جنہیں قوم کئی بار آزما چکی ہے۔پرانا معقولہ ہے ’آزمودہ کو پھر آزمانا کیا ‘؟ لیکن کیا کیا جائے جس ملک کے عوام کی ایک بھاری جمیعت تقریباّ ۰۸ فیصد جہالت و غربت و افلاس کا شکار ہو۔بیروزگاری اور فاقہ کشی میں ان کی اپنی سوچ اور فکرکے کیا معنی ؟ ان کے ہاتھوں میں چند سکے پکڑا کر جو جتنی دیرچاہے ڈھول بجوا سکتا ہے۔ انہیں اپنے سُر اور تال پہ نچوا سکتا ہے۔ اب اس سارے ہنگامے میں ان کی جانیں ضائع ہوں ان کے جسم کے پرخچے اُڑیں کیا فرق پڑتا ہے ؟ وہی چند سکے ، وہی لفاظیاں، سب کو دوبارہ ایک عالم ِ  مدہوشی میں مبتلا کئے رکھتی ہیں۔ آوے ای آوے  ۔ آوے ای آوے ، جاوے ای جاوے ، جاوے ای جاوے۔ ہائے یہی دو نعرے انہیں سرمست کئے دیتے ہیں انہیں کیا خبر کے ان کو سنہرے خواب دکھا نے والے، ان کی ہی دولت اور سرمائے کو لوٹ کر اپنے ذاتی بینک اکاونٹ میں منتقل کر چکے ہیں اور ہوس ِکثرت مال و شہرت سے مجبور ہوکر عوام کو غربت و افلاس و جہالت سے چھٹکارا دلانے کا نعرہ لگا کر ایک بار پھر یہ لوگ ملک و قوم پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے اپنے اپنے مولاؤں کے اشارے پر رنگین داستانیں ، ہوشربا اسٹیج ڈراموں کا  نیاکاروبار سجا نے آنے لگے ہیں ۔ڈھول بجنے لگا ، ساز سجنے لگا ، کوئی لوٹ کے آیا ہےـکوئی لوٹ کے آیا ہے !

          سیاسی دشمنیاں صرف پنپنی چاہیے۔طاقت و فرعونیت کو سہارے کی ضرورت ہو تو وہ لوگ جو کل تک دشمنانِ قوم و دیں کہلاتے تھے ان سے بھی رسم و راہ و ربط استوار کئے جا سکتے ہیں۔ ان کے سارے جرم و گناہ مفاہمت کے بہانے یک لخت معاف کئے جا سکتے ہیں ۔ راتوں رات وہ بھی ہم نوالہ و ہم پیالہ بن سکتے ہیں۔ قوم کی دولت کے ڈکیتوں اور چوروں کو معاف کر کے انہیں اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے والے کیوں قومی ڈکیت یا چور نہیں کہلائے جاتے ؟ وہ بھی تو اپنے آپ کو اس جرم میں شریک کر رہے ہیں۔کہتے ہیں کہ عذر ِگناہ ، گناہ سے بدتر ہوتا ہے۔ اپنی ذات کی بقا مفاد پرستی اور اپنی کرسی کے لئے جو چاہے نعرہ لگے ، جو چاہے ترکیبیں کی جائیں ۔عصبیت ، قبیلہ پروری ، منافقانہ رویہ ، پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا عمل سب جائزہے ۔

          سنتے یہی تھے کہ محبت میںہر عمل جائز ہے ، لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر اس میں صرف اضافہ کر لیا جائے کہ سیاست و نفرت میں بھی ہر عمل جائز ہے۔ جو لوگ ملک و قوم کا درد دل میں لئے ایک تماشبین کی طرح زمین پہ بیٹھے کٹھ پتلیوں کا ناچ دیکھنے پر مجبور ہیں انہیں کون پوچھنے والا ہے؟ ان کا کام تو اس تماشے کے پیسے دینے ، ٹکٹ لینا ہے ۔سو اب نئے تماشے کا ٹکٹ کٹ چکا ہے ۔پردہ اٹھنے لگا ہے۔ سنتے ہیں کہ اس تماشے میں کچھ غیر ملکی کردار بھی حصہ لے رہے ہیں بلکہ ہدایت کار بھی امریکی ہی ہے۔ آئیے ہم سب تالیاں ، سیٹی بجائیں، قہقہے لگائیں ، کہ اپنے ملک و قوم کی ترقی کے اظہار کا طریقہ یہی ہے ! کبھی کبھی منظر بدلے تو سسکیاں بھی لیں ، دل بھر کے رونے کی باری پتہ نہیں آئے کہ نہ آئے ۔یہ نوبت تو اس وقت آتی ہے جب اپنے حالات اور اپنی حرکتوں پہ رونا آئے۔بات نکلی تو ہر بات پہ رونا آئے ۔

نومبر ۷۱ ۔ ۷۰۰۲

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: