Hesham A Syed

January 7, 2009

Prayer on the tomb of Consciousness

Filed under: Pakistan — Hesham A Syed @ 5:34 pm
Tags:

Urdu Article : Shauoor ki qabar pey Fatiha – Hesham Syed

حشام احمد سید                                     شعور  کی  قبر  پر  فاتحہ

ہمارے حالیہ جاننے والوں میں ایک انجنیر ڈاکٹر  محمود قاضی صاحب ہیں جو امریکہ میں مقیم ہیں  اور اپنے  شعبۂ معاش کے ساتھ ساتھ اسلام کی بھی خدمت کر رہے ہیں اور پاکستان کے بارے میں بھی بہت سارے سنجیدہ مزاج لوگوں کی طرح فکر مند رہتے ہیں ۔ہمارے آپس کے ای میل کے تبادلے پر ایک طویل رپورٹ  انہوں نے امریکہ کے جیلوں میں اپنے تبلیغی کاوشوں اور اس کے خاطر خواہ نتائج پہ بھی بھیجی ہے جو کے قابل تحسین ہے۔ ان کوششوں کے سبب بہت سارے غیر مسلم مجرموں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ جزاک اللہ خیر فی الدارئین۔

محمود قاضی صاحب اور ان جیسے بہت سارے اسلام پسند ہی نہیں بلکہ داعی حضرات  ایسے بھی ہونگے جو پاکستان کے جیلوں میں بھی اصلاحِ مجرمین کا کام کر رہے ہونگے۔مجھے ان کی تفصیلات کا علم نہیں لیکن گمان یہ ہے کہ وہاں بھی خلوص سے کی گئی کوششیں اپنا اثر دکھا رہی ہونگی۔ یہ ساری محنت اپنی جگہ امر بالمعروف و نہی المنکر  کے اعتبار سے سراہے جانے کے قابل ہیں کہ جیلوں میں بند مجرموں کی اصلاح ہو رہی ہے۔

لیکن پاکستان کے پسِ منظر میں بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ اس لیے کہ پاکستان کے جیلوں میں ایسے بھی بہت سارے لوگ سالہا سال سے بند ہیں جنہیں کسی نہ کسی غلط مقدمہ میں پھنسا کر ان کی زندگی وبال کر دی گئی ہے اور ایسا کرنے والے دراصل مجرم ہیں نہ کہ وہ جو اس اذئیت سے گذر رہے ہیں۔ ان کا اب ویسے بھی رکھوالا کوئ نہیں اس لیے کہ وکیل و عدلیہ اپنی آزادی کا جلوس نکال رہے ہیں اور انہیں ان لوگوں کے مصائب سے کیا غرض۔ اور سچ پوچھیں  تو ملک ِ  پاکستان کے اصل مجرمین  بڑی بڑی سیٹوں پر حکومتی  اداروں میں پوری رعونت کے ساتھ جلوہ فگن ہیں۔ ایسے مجرمین آپ کو  ہر شعبہ ہائے زندگی میں نظر آتے ہیں، چاہے وہ  سیاست ہو ، تجارت ہو ، صنعت و حرفت ہو ،  عدلیہ ہو ،  وڈیرے ہوں ، جاگیر دار ہوں ، فوجی ہوں ، بیو روکریٹ ہوں یا کوئی اور ۔ اخلاقی  و  روحانی انحطاط ہر جگہ نمایاں ہے۔ بے حسی  ہر در و دیوار پر اپنی تاریک چادر پھیلائے  ہوئے ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے قوم کو یر غمال بنایا ہوا ہے یا انہیں نت نئے خواب دکھا کر ایک تصوراتی دنیا میں مقید کر رکھا ہے۔ اگر خواب نہ دکھلائیں تو قوم کی دولت کیسے لوٹی جائے۔ کسی کو ٹھگنے کے لیے بھی تو مہارت چاہیے۔ہر ہنگامہ آرائ ہر انتشار ہر بد انتظامی یا ہلڑ بازی کے پیچھے ایک سنہرے خواب کا جال تیار ہے۔ ایک نیا فلسفہ ہے اقتصادی و معاشی خوشحالی کا۔ کسی سے پوچھیں تو وہ یہی کہتا نظر آتا ہے کہ ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ۔ہم اپنی توڑ پھوڑ ، لوٹ مار بھنگڑ بازی ، تعصب پرستی  ، معاشی اور معاشرتی  نا انصافیاں  جاری رکھتے ہیں بقیہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ، پاکستان اسی کا تحفہ ہے اور اب اس دولخت ملک کی بقا بھی اسی کے ہاتھ میں ہے ،  سو فکر کی کیا ضرورت ہے۔ چلیے صاحب سارے مسائل کا حل ہر آدمی کی جیبِ عقیدت  و  تقلید میں موجود ہے۔  دمادم مست قلندر  ! قوم کو مغربی طرز کی جمہوریت چاہیے ، اس کا فیصلہ بھی  سفید محل کے بھوت کر رہے ہیں اور ہر اک کو یہی بتایا جارہا ہے کہ وہ اس ملک کا مالک ہے اور عوام کے نمائیندے کاتبِ تقدیر ہیں ، بھوک اور  بنیادی ضروریات زندگی کی کمیابی کا مرغولہ ہر اک کے آنگن میں ناچ رہا ہے جس سے ان کی بینائی سلب ہو چکی ہے کہ انہیں اپنے منتخب نمائیندوں کے ہاتھ گھی میں اور سر کڑاہی میں نظر نہیں آتے۔ہر وہ شخص جس کے پاس پیسے ، سفارش ، رشوت ، لالچ اور ظلم کرنے کی قوت و صلاحیت موجود ہے وہ ہمارا  قومی ہیرو بن کے ابھر رہا ہے۔ ایک طرف قوم ملازمت کی تگ و دو  اور  غربت و افلاس  سے پریشاں ہے تو دوسری طرف ہر رنگ و روپ کے قائد سامنے آرہے ہیں۔ روز ایک نیا مسیحِ دجال آتا ہے لیکن وہ بھی دجال ہی کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔

سو مبلغین اور داعی حضرات اور عوام کو اپنا رُخ کسی اور طرف بھی موڑنا چاہیے ، چھوٹے درجے کے مجرمین  تو  اپنے  نفسیاتی  و اقتصادی مسائل کی  وجہ کر وہ جرم کر بیٹھتے ہیں جو حکمرانِ وقت کے لیے ناقبل معافی اور قابل تعذیر ہوتے ہےں لیکن ان بڑے مجرموں پہ کون ہاتھ ڈالے جو پوری قوم  یا ملک کے مجرم ہیں ۔ قانون ، مصلحت ، ذاتی مفاد ، بین الاقوامی مفاد یا ان کا دباؤ ایسے مجرموں کو گنگا میں نہلا کر پوتر کر دیتا ہے ،  یا زم زم سے دھو ڈالتا ہے یا نئے سرے سے  باپٹا ئیز کر دیتا ہے۔ چلیے صاحب رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئ۔ ایک تو چوری اور اس پر سے سینہ زوری کی ریت جاری ہے ،  اور یہ یاد رہے کہ چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں جاتا۔ ایک آدمی کے قاتل اور پوری قوم  و قبیلہ کے قاتل میں تو تمیز کرنی چاہیے۔ ہماری کوئ سرحد یں چاہے  وہ  مذہبی ہوں ، نظریاتی ہوں ، اخلاقی ہوں ، ثقافتی ہوں ، تہذیبی ہوں ، اقتصادی ہوں  یا جغرافیائ  ہوں کوئ بھی تو محفوظ نہیں۔ڈاکے ہر جگہ پڑ رہے ہیں  ، بم اور میزائیل ہر جگہ پھینکے جارہے ہیں ۔ اورہم  اپنے شعور کی  قبر پہ روز ایک نئی چادر چڑھا کر اس پہ فاتحہ پڑھ دیتے ہیں۔

حشام احمد سید

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: