Hesham A Syed

January 7, 2009

Sparrows

Filed under: Muslim world,Pakistan,USA — Hesham A Syed @ 5:21 am
Tags: ,

Urdu Article : AbaabiyleiN ; Hesham Syed

ا با بیلیں !!!

درد پھر دل میں سوا ہوتاہے، رمز و ایما اس زمانے کے لیے موزوں نہیں ۔مجھ کو سخن سازی کا فن آتا بھی نہیں ۔۔ کون ذی حس انسان ہے جو حالیہ واقعات سے متاثر نہیں ۔ کتنی آنکھیں ہیںجوظلم و بربریت کا تماشہ دیکھ کر حیرت زدہ نہیں اور ان آنسوؤں کے سوتے خشک نہ ہو چکے ہیں۔کتنی چیخیں ہیں جو گھٹ کے نہ رہ گئیں ہیں۔ کتنے دل ہیں جو دھڑکنا بھول گئے ہیں۔منافقت و عیاری کے کتنے دوراہے ہیں جہاں عقل ششدر کھڑی ہے۔کتنی چلتی پھرتی لاشیں ہیں جو ممبر و ایوانوں میںسجا دی گئی ہیں۔ آہ !! عراق پھر جل رہا ہے اور سربراہان مملکت اسلامیہ اپنی اپنی محلاتی سازشوں میں گرفتار ہیں یا نیرو کی طرح پھر اپنی چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔

 جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاست۔ محکوم و مجبور ، بے سوز و ساز ، بے نیازی ِ دل کیا  جانیں کہ   ؎

 ہو اگر قوت ِ  فرعون  کی  در پردہ  مریدی   :   قوم کے  حق میں  ہے  لعنت  وہ  کلیم اللہی.

          عرب لیگ کے اجلاس میں اس جنگ کی متفقہ مذمت کی گئی صرف کویت ایک واحد ملک تھا جس نے اپنی ایک الگ شناخت کروائی ۔اپنی بے غیرتی اور بے حیائی کا ثبوت یوں دیا کہ اپنے خداؤں کے آگے سر بہ سجود رہا ۔ لیکن یہ مذمت بھی کس کام کی جب کہ ساری سہولتیں مہیا کی جارہی ہیں بلاواسطہ یا بالواسطہ ۔ ویسے بھی ان کی آواز کی اب قدرو قیمت ہی کیا ہے ؟

 عمل کچھ بھی نہیں تقریریں بہت ہیں  :کہ اپنے نفس کی زنجیریں بہت ہیں

ہمارے پاس ہیں اسلاف کے کارنامے  : اور ان کی بھی تو تفسیریں بہت ہیں

کئی صدیوں سے خوابیدہ ہے امت  : اور ان خوابوں کی تعبیریں بہت ہیں

کسی نے کہا کہ مملکت اسلامیہ کی شنوائی کا حال یہ ہے کہ صفر  +صفر +صفر =صفر۔

           تیل کی دولت جس پہ قابض ہونے کے لئے یہ سارا کھیل رچایا گیا ہے اس کے مالکان ظاہر ہے اسے اپنے تعیش کے علاوہ اس خطہ کی سا  لمیت اور امت مسلمین کے دفاع کے لئے استعمال نہیں کر سکتے ؟ یہ لوگ صرف اور صرف تیل کی فراہمی بند کر دیں تو چند دن بھی یہ جنگ جاری نہیں رہ سکتی۔واقعات کا تاریخی تسلسل اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اس زمین پہ پچھلی کئی صدیوں سے انگریزوںکی اور امریکی حکومت نے ہی فتنے کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ اپنی اقتصادیات اور اپنی معاشیات کے فروغ و استحکام کے لئے ہتھیاروں کی منڈی اپنے ملک سے بہت دور بنا ئی ہوئی ہے۔ اپنی سیاسی چالوں کا استعمال کر کے وہاں قوموں کو قبیلوں میں تقسیم کر رکھا ہے اور نا اتفاقیوں کو کسی نہ کسی بہانے ہوا دے کر جنگ کا بازار سجا رکھا ہے ۔لیکن حیرت ہے کہ ہم خاموش ہیں !!  مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید کے ساری مملکتوں میں اپنے بہی خواہوں کو حکومت کی کرسیوں پہ بٹھا رکھا ہے ۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے ان کے اندر لذات نفسانی کی سفلی خواہشات کی تکمیل کا ہرسامان فراہم کر رکھا ہے ۔ پھر دشواری کیا ہے ؟ اس ہاتھ لے اس ہاتھ دے۔ لیکن ہم خاموش ہیں۔

           ہم خود اپنے گھر کے دروازے ان پہ نہ کھولتے تو کیا یہ جنگ چھڑ سکتی تھی ؟ اگر ہم اپنے ہی بھائیوں ، بہنوں ، ماؤں ، بیٹیوں کی عزت و حرمت ، خون و مال و متاع کو بیچنے پہ رضامند نہ ہوتے تو کیا یہ جنگ شروع ہو سکتی تھی ؟ کیا ہمیں اس کا شعور نہیں کہ باہر سے آکر کوئی کسی کے ملک پہ حملہ کرتا ہے تو وہ غاصب اور دہشت گرد کہلاتا ہے نہ کہ وہ جو اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھائے اور شہید ہو جائے ؟ کیا ہمیں یہ علم نہیں کہ دنیا میں آٹھ ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں جن میں سبھی غیر مسلمین ہیں سوائے ایک کے ؟ خود امریکہ کے پاس دس ہزار سے زیادہ جوہری میزائل ہیں ، اسرائیل کے پاس چار سو سے زیادہ ، کبھی کسی اور ملک کے جوہری ہتھیاروں کے بنانے پہ کسی نے ہنگامہ کھڑا کیا ؟ امریکہ واحد ملک ہے جس نے جوہری ہتھیاروں کا استعمال بے دھڑک کیا– پہلی جنگ عظیم میں بھی اور اسکے بعد بھی ۔یہ ضمیر انسانیت کہاں اور کس دیوار پہ بال کھولے سو رہی ہے ؟ 

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام   :   وہ قتل  بھی کرتے ہیں  تو  چرچا  نہیں ہوتا

`        مذہب انسانیت کا ڈھونگ رچانے والی مغربی اقوام جن میں سرِ فہرست برطانیہ اور امریکہ ہی ہیںکیا اس تاریخی حقیقت کو مٹا دیں گے کہ آج سے تقریباً پانچ سو سال پہلے تک وہ جاہل وحشی لوگ تھے اور تہذیب و تمدن کے عروج پہ اسلامی مملکتیں ہی تھیں ۔ ان صدیوں کو یہ آج بھی  ڈارک  ایجیزکہتے ہیں۔زمانہ بدلا اورمادیت کی دوڑ میں یہ قومیںاپنی چالاکی ، مکاری اور عیاری لے سبب بہت دور نکل آئیں اور اسلامی حکومتیں ترقی کی دوڑ میں ان کا ساتھ دینے کے بجائے دوراہے پر مبہوت کھڑی رہ گئیں ۔ سوائے بے ضمیر ، بکے ہوئے سربراہان مملکت کے یا ذہنی غلامی کے ملت اسلامیہ کے ہاتھ کچھ بھی نہ آیا۔

 نہ خدا ہی  ملا نہ  وصال ِ صنم  :  نہ ادھر کے رہے  نہ ادھر کے رہے

          کیا یہ تاریخی حقیقتیں نہیں کہ : دنیا میں جہاں بھی شر انگیزیاں ہو رہی ہیں وہاں آگ ان ہی کی لگائی  ہوئی ہے ۔ جنگل کا قانون آج بھی رائج ہے۔ مائیٹ از رائیٹ آج بھی جاری ہے اور پہلے سے زیادہ شدت سے ہے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد جس طرح لیگ آف نیشن ایک تماشہ بن گئی تھی ویسے ہی آج  یو این او دو طرفہ تماشہ ہی ہے۔کسی نے سچ ہی کہا کہ یو  سے مراد ہے  یو  ایس  اے   باقی سب ہیں   نو  ۔

          یہی برطانوی حکومت ہے جو بے شمار اقوام کو اپنی کالونی اور تجارتی منڈی بنا کر صدیوں تک ان کی دولت لوٹتی رہی اور تہذیبی و ثقافتی روایات میں طرح طرح کی آمیزش کر کے اپنے ساختہ اور تربیت یافتہ لوگوں سے ان علاقوں پہ حکومت کرواتی رہی۔اسی نے کشمیر کا ، فلسطین کا ، اسرائیل کا مسئلہ کھڑا کیا اور ہر غیر منصفانہ رویہ اور لوٹ کھسوٹ میں آج بھی متحرک اور امریکہ کی شریک ہے ۔ حکومت اسلامیہ کی قبائے خلافت کو چاک کرنے والے بھی یہی اور خود فراموش مسلمانوں کو  سر بنا کر عوام الناس کو دھوکہ دینے والے بھی یہی ہیں۔

          یہی امریکی حکومت ہے جس نے سرزمین امریکہ میںبسے ہوئے پرانے اصلی باشندوں  ریڈ انڈین کی آبادی کوجو ۵۱ ویںصدی میں ۵.۲۱ ملین تھی ۹۱ویں صدی تک  ۰۰۰،۰۵۲ کر دیا ۔ ۸۹ فی صد آبادی کو قتل و غارت گری کے ذریعہ ختم کر دیا ۵ئ۷۹ فی صد زمینوں پہ خود قابض ہو گئے اور قبائل کی تہذیب و ثقافت کو نیست و نابود کردیا۔ ازل سے آج تک نسل انسانی کا جتنا بہیمانہ قتل ہوا ہے اس کا تخمینہ نکالا جائے تو یہ بات مصدقہ ہے کہ اس میں سب سے زیادہ کی گنتی میں کوئی قوم اور حکومت امریکہ کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتی۔انسانیت کے اس ڈھونگ کے فرد عمل کو کون نہیں جانتا کہ ۵۴۹۱ ء سے آج تک ۰۲ ممالک پہ یہ بم باری کرچکا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔یہ واحد ملک ہے جس نے لاکھوں ، کروڑوں معصوم وبے گناہ لوگوں کی جان جوہری ہتھیاروں سے لی ۔ جس کی تابکاری کے اثرات آج بھی ان اقوام کی نسلوں میں نفوذ ہیں۔

 دہشت گردی :۵۸۹۱ ء میں بیروت میں بم کا دھماکہ۰۸ لوگوں کا قتل۔

۶۸۹۱ء میں لیبیا میں بمباری جسے یو این او نے بد ترین فعل اور غیر قانونی قرار دیا ۔

 ۶۸۹۱ء میں نکا راگوا پہ بین الاقوامی عدلیہ کے فیصلہ اور یو این او کے خلاف کاروائی ۔

 ۰۸۹۱ ء میں مایان انڈین اور گاوٹے مالا کے عمومی اور غیر منصفانہ قتل کے سلسلے میںیو این کمیشن نے غارت گر اور قاتل قرار دیا ۔

یہ واحد ملک ہے جس نے ۱۰۰۲ء میں  اینٹی بالاسٹک میزائیل ٹریٹی   سے گریز کیا۔ یہ واحد ملک ہے جس نے بچوں کی سزائے موت کی ترویج کی ۔

یہ واحد ملک ہے جس نے ۷۹۹۱ء میں  مائین بین ٹریٹی   میں شریک ہونے سے انکار کیا ۔

یہ واحد ملک ہے جس نے۸۹۹۱م میں  انٹرنیشنل کریمینل کورٹ  کے قیام سے انکار کیا ۔ یہ واحد ملک ہے جو یو این یو کے مرضی کے خلاف اقدامات کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے۔یہی وہ ملک ہے جس کے پس پردہ صیہونی قوتیں پروان چڑھ رہی ہیں جنہوں نے ساری دنیا میں تو انتشار پھیلایا ہی ہوا ہے خود امریکی شہریوں کو بھی ہر جگہ ایسارسوا کیا ہو ا ہے کہ ان کے لیے نفرت کی فضا قائم ہو رہی ہے  ؎

دامن  پہ کوئی چھینٹ  نہ خنجر  پہ کوئی  داغ  :  تم  قتل کرو  ہو کہ کرامات کرو  ہو

          اک ذرا انسانیت اور امن کا پرچار کرنے والے اس امریکی حکومت کی چھپی ہوئی مادیت پرستانہ ذہنیت پہ بھی ایک نظر ڈالتے چلیں ۔ 

[

          پچھلی خلیجی جنگ میں امریکہ کو فائدہ ہوا : حکومت کو ۱۱ بلین ڈالر تیل کے ذریعہ + ۹۴ بلین ڈالر دفاعی ہتھیاروں کے مد میں +امریکی تیل کی کمپنیوں کو فائدہ ۹ بلین ڈالر کل مجموعہ ۹۶ بلین ڈالر ۔غور کریں کہ یہ فائدہ ۰۱ بلین ڈالر کے اخراجات نکالنے کے بعد کا ہے۔( کل اخراجات ۰۴ بلین ڈالرتھے جن میں ۰۳ بلین سعودی اور کویتی حکومت نے دیا …ہتھیاروں کی خریداری کے علاوہ )۔ موجودہ  افغانستان میں جنگ کا مقصد اس ۵ئ۵ کلو میٹر تیل کی پائپ لائن کے کنٹریکٹ پہ قبضہ کا ہے جو امریکہ کی ایک کٹھ پتلی حکومت ہی یہ موقع فراہم کر سکتی ہے۔ یہی معاملہ عراق کے ساتھ ہے جو تیل کے ذخیرہ کے لحاظ سے سعودی کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے ۔ سعودی حکومت اور دوسری خلیجی ریاستوں کو توپہلے ہی لوٹا  جا چکا ہے ۔اب عراق کی موجودہ کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر کیوں نہ ان کے تیل کے ذخائر پہ قابض ہوا جائے ۔ ایک تیر سے دو شکار ۔ افغانستان اور عراق میں مستحکم ہو نے کا مطلب سارے مشرق وسطیٰ پہ حکومت ہی حکومت ہے۔ بے تاج بادشاہت۔ جو چاہیں گے وہ منوائیں گے ۔ اللہ سلامت رکھے جعفر از بنگال یا صادق از دکن کے مغوی فرزندوں کو ۔ بے ضمیروں کو ، دین و وطن فروشوں کی کھیپ کو ۔ غلامانہ ذہنیتوں کو ۔ وینی زویلا جو امریکہ کو سب سے زیادہ تیل فراہم کرتا ہے وہاں کے سیاسی انتشار اور انقلاب کی وجہ سے امریکہ کو کہیں اورتو قدم جمانا ہی تھے۔کہیں متبادل اقتصادی اور معاشی سہولتوں کا انتظام تو کرنا ہی تھا۔ مندرجہ بالا باتوں پہ غور کرنے کے بعد یہ عقدہ کھلتا ہے کہ انسانیت کے بارے میں یہ کتنے مخلص ہیں   ؎

اتنی  نہ  بڑھا  پاکئی  داماں  کی  حکایت  :  دامن  کو  ذرا   دیکھ ،  ذرا  بند  قبا   دیکھ

          یہ جس کو چاہیں دہشت گرد قرار دیں ۔ جس حکومت و قوم کو چاہیں اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دیں ۔ ہماری حکومتیں خاموش تماشائی ہیں ۔ نفسا نفسی کا عالم ہے عوام اگر چیخ رہیں ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے،عوام کی کون سنتا ہے ؟ جمہوریت بھی ایک ڈھکوسلہ ہے ۔عورتیں ، بچے ، عام شہری سینکڑوں کی تعداد میں روز قتل کئے جارہے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں سے بے دخل کئے جا رہے ہیں ۔ان کی نسل در نسل غربت و افلاس سے نپٹ رہی ہے ۔ نہ تعلیم نہ مستقبل ۔ زندگی بے معنی ۔ ہمیں عیسیٰ ؑ کے نزول کا انتظار ہے ۔ ہمیں مہدئ برحق کا انتظار ہے ۔ کچھ ہیں جو موقع پرست ہیں ۔ دوسروں کی حرمت و عزت کو اپنے فائدہ کے لئے غیروں کے ہاتھ نیلام کر رہے ہیں۔ بقیہ سب خوابیدہ ہیں۔

ہمارے سامنے احکامات ِ رسول  ؐکے مفہومات کھلے ہیں: 

٭ امت مسلمہ جسد واحد ہے جب ایک عضو کو تکلیف ہو تو دوسرے کو تکلیف لازم ہونی چاہیے ۔

٭ جو مسلمانوں کی تکلیف کو محسوس نہ کرے اور اس کو رفع کرنے کی کوشش نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ 

٭ ایک وقت آئے گا جب تمہا ری کثرت آبادی کے باوجود تمہیں دوسری قومیں آپس میں ایسے بانٹیں گی جیسے کہ تم کھانا بانٹتے ہو اور وہ اس لئے کہ تم میں مسلمان کم رہ جائیں گے اور دنیا کی محبت تم پہ حاوی ہو جائے گی۔ تم زندگی سے پیار کروگے اور موت سے ڈرو گے  !!!!

          سنتے ہیں کہ شر میں بھی خیر کا پہلو ہوتا ہے ۔ کاش ابھی بھی اسلامی مملکتیں متحد ہوجائیں اور اپنے ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر دشمنوں سے نبرد آزما ہو جائیں۔

جہاں  اگرچہ دگرگوں  ہے قم باذن اللہ  :  وہی زمیں  وہی گردوں ہے  قم باذن اللہ

کیا نوائے  انا الحق کو آتشیں جس نے  :  تری رگوں میں وہی خوں ہے قم با ذن اللہ

 غمیں نہ ہو کہ پراگندہ  ہے شعور  ترا  :  فرنگیوں  کا  یہ  افسوں ہے قم باذن اللہ

          ابھی تلک ہماری نگاہیں اپنے دفاع میں آسمان پہ ابابیلوں کو تلاش کرتی ہیں …. کاش اب کنکروںکے بجائے عقل کی بارش ہو۔ اے کاش ایسا ہو !!

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: