Hesham A Syed

January 8, 2009

Double standards

Filed under: Spiritual,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 2:10 pm
Tags:

Urdu Article : Haaiey yeah dou rangiaN : Hesham Syed

حشام احمد سید                                      ہائے  یہ  دو  رنگیاں۔۔۔۔

;         گلہائے رنگا رنگ سے زینت چمن کی ہے ۔۔۔ یہ  حضرت ذوق  ؔکے  معروف شعر کا ایک مصرعہ ہے  تو پھر کسی چہرے کے دورنگ ہونے  پہ  اعتراض کیوں  ؟ ہمارا معاشرہ تو ایسے ہی چہروں سے بھرا پڑا ہے۔ کہو کچھ  تو کرو کچھ  ! قول و فعل میں تضاد کوئ نئی بات نہیں۔ اسے اگر نفسیاتی بیماری سے تعبیر کیا جاسکتا ہے  تو معاشرے کی اکثر آبادی کو  نفسیاتی  ہسپتال میں داخل کرنا ہوگا، لیکن یہ کیا ضروری ہے کہ اس ہسپتال کے معالج اور ان کے معاونین خود اس بیماری میں مبتلا نہ ہوں۔ دورنگی کو جھوٹ یا منافقت کی بھی کہا جاسکتا ہے۔ قرآن بار بار یہ کہتا ہے کہ  اے لوگو  تم وہ کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ اس آیت کی لپیٹ میں سبھی آتے ہیں چاہے وہ  ایک عام آدمی ہو یا بڑے بڑے فلسفی یا مبلغین و داعی و شاعر و مصنفین  و عالم و دانشور ہوں۔ اس آیت کے دائرے میں زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی داخل ہے اور بڑی سے بڑی فکری باتیں و نظریات یا فیصلے کا بھی شمار ہے۔ دیگراں نصیحت و خود را فصیحت کا  مشاہدہ شب و روز ہوتا ہے۔ اور پھر یہ بیماری ایسی ہے کہ  اس سے شعوری طور پہ ہمہ وقت خبردار نہ  رہے آدمی تو اس کا احساس بھی باقی نہیں رہتا کہ ہم کوئ ایسی بات کر رہے ہیں جس سے معاشرے کی بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے یہاں تک کہ یہ فساد کا سبب بن جاتا ہے۔ اپنی ذات کو اور اپنے معاملات کو  اچھا بنا کر پیش کرنے کی خواہش تو سب کی ہوتی ہے  ،

 بقدر پیمانہ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا  :  اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا

yلیکن اگر ایسا کرنے کے لیے اچھے عمل کے بجائے صرف جھوٹی اور چکنی چپڑی باتوں کا سہارا لیا جائے تو ایسا آدمی ٹھگ ہی کہلائے جانے کے مستحق ہے چاہے اس نے اپنے چہرے پہ کتنی ہی بڑی چھال نہ اُگا رکھی ہو چاہے اس کی پیشانی پر کتنا ہی بڑاسجدے کا داغ کیوں نہ ہو، چاہے وہ کسی شعبے میں معروف و مشہور کیوں نہ ہو۔ سیاست کو  تو چھوڑیے کہ جھوٹ  اس شعبہ کا  طرہ امتیاز بن گیا ہے  ، اطراف میںدیکھیے  تو زندگی کے ہر شعبے میں یہاں تک کہ عدلیہ اور عبادت گاہوں میں بھی آپ کو ایسے افراد بہتیرے مل جائیں گے جنہوں نے منافقانہ روش اختیار کی ہوئ ہے۔  ایسے لوگوں کو سن کر  یہی کہنے کو دل چاہتا ہے کہ :

اتنی نہ بڑھا پاکئی داماں کی حکایت   :   دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندِ قبا دیکھ

دھوکہ دہی کے بے شمار واقعات سے ہمارا معاشرہ بھرا پڑا ہے ۔صرف سیاستداں ، مبلغ  و  مقرر  ، مصنف و شاعر  و فلسفی و  ناصح  اژدھامِِ  انسانی میں کھلے عام وہ بات کہہ گذرتے ہیں  یا ایسے ایسے  خواب دکھاتے ہیں جو سراسر ان کے ذہن کی تخلیق ہوتی ہے اور جسکا مقصد ان کی اپنی تشہیر  ، نام و نمود  اور  دنیاوی منفعت  کا حصول ہی ہوتا ہے  یا  ایسی ایسی نصیحتوں کی بھرمار کرتے ہیں جس کی ایک شق پہ خود کبھی بھی عامل نہیں ہوتے۔  ویسے  تو کوئ ادارہ بھی اس سے بچا ہوا نہیں ہے۔ یہ دورنگی یا قول و فعل مین تضاد   اداروں میں ، گھروں میں تو کجا آدمی کے سانس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔  روشن روح  اور  تاریک نفس  کی جنگ ہمہ وقت جاری رہنی چاہیے کیونکہ یہ احساس بھی مٹ جائے تو پھر آدمی لا علاج ہو جاتا ہے اور ایک ایسی چلتی پھرتی لاش ہوتا ہے جس کی بدبو سے وہ لوگ جن کی روحانی قوت شامہ باقی ہے بے قرار رہتے ہیں۔ جبھی تو نفس سے جہاد کو جہادِ اکبر کہا گیا ہے۔ ساری محنت اپنے ضمیر کو صاف و شفاف رکھنے کی ہے۔ اپنے قلب کو ملمع کرنے کی ہے، جس کا علاج ذکر الہی تو ہے لیکن اس سے مراد  صرف یہ نہیں کہ قلب پہ اللہ ھو کی ضرب لگائے ( یہ بھی  یقیناایک ذریعہ ہے)  بلکہ اپنے شعور کو بیدار کرنے کی کوشش اور اس کے صحیح  راستوں کا انتخاب ہے ، ایسی صحبتوں کی ضرورت ہے جن کی سنگت میں ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلے۔ ایسے معیارِ اخلاق کا علم و ادراک ہے جس کو بنیاد بنا کر آدمی اپنا محاسبہ خود کر سکے۔ خوش قسمتی یہ ہے کہ  ایسے چراغ سے یہ دنیا کبھی خالی نہیں ہوگی اور یہ روشن لوگ سوائے محبانِ الہی و  رسول  ؐ   کے کون ہو سکتے ہیں جن کی ساری زندگی اپنے آپ کو  رسول  ؐ  کی سیرت میں ڈھالنے میں صرف ہوتی ہے۔ ایسے ہی  محبان رسول  ؐ میں سے کسی کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کی شکایت لے کر آئ کہ وہ اسے میٹھا کھانے  سے منع کریں۔ تو حضرت نے اسے دوسرے دن آنے کو کہا اور جب وہ دوسرے دن آئے تو انہوں نے اس بچے کو منع کیا ، عورت نے پوچھا کہ یہ بات آپ گذشتہ کل بھی کہہ سکتے تھے تو بذرگ نے فرمایا کل میں نے خود میٹھا کھا رکھا تھا  سو میری بات کا کوئ اثر نہ ہوتا اور چونکہ اس بچے کو مجھے نصیحت کرنی تھی سو میں نے بھی میٹھا چھوڑ دیا اور اب  میری بات کا اس پہ اثر ہوگا۔ یہ واقعہ محض ایک چھوٹا سا واقعہ نہیں بلکہ یہ وہ اندازِ فکر ہے جسے اپنا کر ہی ہمارے آباوا جداد نے دنیا میں صداقتوں کا بول بالیٰ کیا تھا ۔ سوچیے کہ اگر ہم میں سے ہر کوئ اسی اندازِ فکر کو اپنا لے اور صرف اپنا محاسبہ خود کر لیا کرے،  اپنے گریباں میں  دن میں ایک بار بھی جھانک  لیا کرے  تو کیا کوئ انسان دوسرے  سے ناجائز فائدہ اٹھا سکتا ہے۔آج  کے دور میں جہاں ذریعہ ابلاغ یا میڈیا اتنا فعال ہے ، طرح طرح کی ٹیکنولوجی نے یہ کام اور بھی آسان کردیا ہے ، ساری دنیا کتابوں ، مجلات ، اخباروں ، ویب سائیٹ اور ای میل سے بھری پڑی ہے کیا بات ہے کسی کا کہا ہوا کسی پہ اثر انداز نہیںہوتا  اور اگر اثر ہوتا بھی ہے تو صرف  بری باتوں کا کہ اسے نفس فوری طور پہ قبول کر لیتا ہے۔ اللہ کے رسول  ؐ  نے فرمایا  کہ  انسانی جسم میں قلب ایک ایسا ٹکڑہ ہے کہ وہ سیاہ  ہو جائے تو سارا جسم یا  سارے معاملات خراب ہو جاتے ہیں  ،  قلب پہ بد اعمالیوں کی  وجہ سے زنگ لگ جاتا ہے  اور اس کی صفائ  ذکر الہی سے ہی ہوسکتی ہے۔اگر ہمہ وقت یہ احساس طاری رہے کہ اللہ سن  رہا ہے دیکھ رہا ہے ، وہ ہمارے سینوں میں اٹھتے ہوئے  وسوسوں سے بھی واقف ہے ۔ اور آج نہیں تو کل ہمیں اپنے کیے کا حساب چکانا ہے  چاہے وہ اس دنیا میں ہو یا آخرت میں  تو پھر  وہی ہوگا جس کی  نصیحت اللہ کے رسول  ؐ نے کی کہ  اللہ سے حیا کیا کرو ۔آدمی تنہا ہو یا محفل میں اللہ سے تو چھپ نہیں سکتا۔ کسی نے کہا ہے کہ رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئ نہ ہو  ،  لیکن ایسی جگہ تو کوئی نہیں جہاں کہ خدا نہ ہو۔

ناپید  ہے  بندۂ  عمل  مست  :  باقی  ہے  فقط  نَفَس  درازی

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی  :  یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: