Hesham A Syed

January 8, 2009

God is lost in Self / Ego :

Filed under: Social Issues — Hesham A Syed @ 9:34 am
Tags: ,

Urdu Article : Khudi meiN gum hai Khudayee – Hesham Syed

حشام احمد سید                              خودی میں گم ہے خدائ  ،   تلاش کر غافل  !           

کسی صاحب نے مجھے ای میل پہ ایک معروف  اردو کالم نویس کی تحریر بھیجی جس میں ایک صاحب کے حج پہ جانے  کے دوران اپنے  غربت کے مارے ہوئے پڑوسی کی ضرورتوں کا خیال اور حج کی رقم کو  اسکی ضروریات پہ ہی خرچ کرنے کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ پہلے بھی نظر سے گذر چکا ہے،  قدیم ہے اور کسی معروف بذرگ سے منسوب ہے اور اس واقعہ کا تسلسل یہ ہے کہ جس شخص  نے یہ  ایثار کیا تو اس  بذرگ نے خواب میں یہ دیکھا کہ اُس سال  اس شخص کی نیکی اللہ کے یہاں سب سے زیادہ مقبول ہوئ اور اسے اللہ نے حج کا ثواب بھی بخشا۔ حقوق العباد کی اہمیت جو خود  اللہ کے نذدیک ہے  اس کا ادراک اس قسم کی کی گئی نیکیوں سے ہی ہوتا ہے۔ یہ البتہ  اور بات ہے کہ ہم ان ساری باتوں کو سر سری

 نظر وںسے پڑھتے ہوئے یا سنتے ہوئے گذر جاتے ہیں اور دل کے اندر خود  ایسا عمل کرنے کی کوئی تحریک پیدا نہیں ہوتی اور ہوتی بھی ہے تو ایک  لمحہ کے بعد دنیا کی تگ و دو  میں اس کیفیت کو  بھلا بیٹھتے ہیں۔ آج کل یہ بات صرف حج و عمرے  کے ہی اخراجات پہ ہی کیوں موقوف ہو جہاں اژدھامِ کثیر  ایسے لوگوں کا بھی ہے جن کے رزق  اور حصول رزق میں حرام کی آمیزش ہے۔ اللھم لبیک اللھم لبیک کی صدا ئیں  صرف صدائے بازگشت بن کر رہ جاتی ہیں۔ جہاں دعائیں بھی صرف دنیا کے حصول کی مانگی جاتی ہیں ، جن کا مال ، جن کا پیسہ کہیں پھنسا ہوا ہو ،  جن کا  سودی کاروبار کہیں ڈوب رہا ہو انکی دعاؤںکی رقت انگیزی کے کیا کہنے۔آنسوؤں کا ایک سیلاب ہے کہ امڈا جاتا ہے۔ نمازوں میں خشوع و خضوع کی کیفیت بھی طاری رہتی ہے۔ظاہر ہے کہ اپنے  سٹیج ڈرامے ، فلم ،  سودی کاروبار ،  سمگلنگ  وغیرہ  میں کامیابی اور روزانہ عروج و ترقی کی دعائیں اللہ سے نہ کی جائیں تو کس سے کی جائیں۔؟ وہی مسبب الاسباب ہے۔ برسبیل تذکرہ ایک اور وقعہ بھی یاد آگیا کہ ایک شخص کچھ اسی قسم کی دعائیں پوری گریہ و زاری سے مانگ رہا تھا کہ اللہ مجھے اچھی گاڑی دے  ، خوبصورت بیوی دے ،  پیسہ دے  ، دولت دے کہ قریب ایک مولوی صاحب نے گذرتے ہوئے اسے ٹوکا کہ بیوقوف کیا  اللہ سے ایسی دعائیں مانگتے ہیں ؟  بلکہ یہ مانگ کہ اللہ مجھے ہدائیت دے ، علم دے ، حکمت دے ، ایمان میں استقامت دے  وغیرہ ۔ تو اس شخص نے پلٹ کے کہا کہ مولوی صاحب جو آپ کے پاس نہیں وہ آپ مانگیں مجھے وہ مانگنے دیں جو میرے پاس نہیں۔سو دعاؤں کا انتخاب اپنا اپنا۔ زندگی کی روش اپنی اپنی۔۔!!

جہاں تک اخراجات کا تعلق ہے ،  تو حج اور عمرے کے وقت ہی یہ بات کیوں ذہن میں آئے کہ اب کسی ایثار کا وقت ہے اور دیکھا جائے کہ کوئی پڑوسی ، عزیز و اقربا ، دوست یا جاننے والا کسی اضطراری عالم کا شکار تو نہیں۔ دوسروں کی ضرورتوں کا احساس تو ہر وقت طاری رہنا چاہیے۔ ایسے وقت بھی جب ہم بے ہودہ فلمیں دیکھ کر اس ابلیسی تجارت کے فروغ میں بلا واسطہ شامل ہو جاتے ہیں۔ جب ہم صرف ایک وقت کے کھانے پہ اتنا پیسہ لٹا تے ہیں جو کسی گھر کے لیے ایک ماہ کی بنیادی ضروریات فراہم کر سکتا ہے۔جب ہم اپنے شادی اور دیگر تقریبات پر صرف دکھاوے یا نام و نمود کے لیے اتنی رقم لٹاتے ہیں جس سے کم سے کم دسیوں گھرانے وہ بس سکتے ہیں جو جہیز کی رقم نہ ہونے کی بنا  مسائیل کا شکار رہتے ہیں اور بیٹیوں کے  سر میں چاندی اتر آتی ہے۔جب ہم بہتیرے ایسی تقریبات ایجاد کرتے ہیں یا غیروں کی نقالی کرتے ہیں جس میں رنگ رلیاں منا کر  اپنے ہیجانی نفس کو تسکین فراہم کرسکیں۔جب ہم بھی دوسروں کے مقابلے میں  اپنے  وسیع اور محل نما مکانوں میں تعیش کا ہر وہ سامان فراہم کرتے ہیں جس  سے  ہمارے سفلی جذبات کو تسکین میسر آسکے ۔جب ہم  اپنے لباس فاخرہ  ، قیمتی جوتے اور زیوارت  سے لدی ہوئ الماری کو کھول کر یہ جائیزہ لیتے ہیں کہ اب کون سا برانڈ رہ گیا ہے ہمارے جسم پہ سجنے کو اور کس مغربی الکوحولک  پرفیوم سے اپنے بے ضمیر جسم کے تعفن کو چھپایا جا سکتا ہے۔ ؟  کیا یہ سارے مواقع کم ہیں  اس احساس کو جھنجھوڑنے کے لیے کہ ہماری اپنی دنیا سے الگ کوئ دو وقت کی روٹی کو  ترس رہا ہے ، کوئ  اچھا ذہن رکھنے کے باوجود تعلیم حاصل نہیں کر سکتا  کہ وہ  سکولوں کی فیس نہیں دے سکتا ،  کوئ گرمی و گردو غبار میں اپنے  جھلستے ہوئے کچے گھروں میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے، کوئ برسات میں اپنے گھلتے و لٹتے ہوئے گھر کو سمیٹ رہا ہے ، کوئ پینے کے پانی کو بھی ترس رہا ہے ، کسی کے لیے ہر بیماری جان لیوا ہے کہ اس کے پاس  علاج  کی سہولت  میسر نہیں۔ اور یہ سب  لوگ ہمیں ایسے دیکھتے ہیں جیسے کہ ہم کسی اور دنیا کے مخلوق ہوں ، انہیں کیا پتہ کہ ہم ہی  تو ہیں جنہوںنے زیادہ سے زیادہ کی ہوس میں اپنے لیے ایسی جنت اس دنیا میں ہی بنا لی ہے کہ آخرت  کے تصوراتی جنت کی ضرورت باقی نہیں رہی چاہے اس کے لیے ہمیں دوسروں کو دوزخ میں ہی دھکیلنا کیوں نہ پڑے۔ ہم یہ سب کچھ اسوقت سوچیں جب ہمیں اپنے فیشن پریڈ سے فرصت ملے ،  ہمیں اپنے جبہ و دستار سے چھٹکارا ملے ، ہمیں اپنی پیشانیوں پہ سجے ہوئے سجدوں کے داغ کے تفاخر سے گھن آنے لگے،  ہمارے کان قال قال کے فریب سے اُکتا جائیں اور ہم  اپنے حال میں واپس لوٹ آئیں۔

خودی میں گم ہے خدائ ،  تلاش کر غافل !

یہی ہے تیرے لیے اب صلاح ِ کار کی راہ

حشام احمد سید

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: