Hesham A Syed

January 8, 2009

Pakistan :Population of 80 Crore & Deplorable Judiciary

Filed under: Pakistan — Hesham A Syed @ 9:28 am
Tags:

Urdu Article : 80 crore ka pakistan aur adlia kaa diwalia – Hesham Syed

حشام احمد سید                               ۰۸ کروڑ  کا  پاکستان  اور  عدلیہ  کا  دیوالیہ

اس میں حیرت کی کیا بات ہے کہ پاکستان کی آبادی ۶۱ کروڑ سے بڑھ کر اچانک ۰۸ کروڑ ہو گی ٔ  ہے  ،  یہ مردم شماری  نہ سہی لیکن پاکستانی سیاستدانوں نے تو  فی الوقت اس ملک کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہوا ہے۔ میں غلط تو نہیں کہہ رہا  ، آپ خود ہی اس بات کا تجزیہ کر لیں ۔ کسی ٹیلی ویژن کے چینل پہ کوئ بھی ٹاک شو دیکھیں کم سے کم پانچ ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جو ہر دم یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ  ۶۱ کروڑ  عوام  صرف ان کے ساتھ ہیں اور سب نے  صرف ان ہی کے مینڈیٹ کو  ووٹ دیا ہے  سو اگر ہر پارٹی کی بات مان لی جائے تو  ۶۱  ضرب  ۵  ،  پاکستانی  ۰۸ کروڑ کے برابر ہوگئے۔ پتہ نہیں مخالف سیاسی پارٹی کے ممبران اس ۶۱ کروڑ میں ہی شامل ہیں یا نہیں ، یہ بھی ایک سوال ہے جو  ان سے کوئ نہیں کرتا۔  لوگوں کو اس بات پہ بھی اعتراض ہے کہ موجودہ ججوں کی موجودگی میں نکالے ہوئے ججوں کی بحالی سے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد ضرورت سے زیادہ ہوجائے گی۔  اس کا جواب تو خود  زرداری  صاحب نے دے  دیا ہے کہ پاکستان  کی آبادی کے مناسبت سے ججوں کی تعداد میں ویسے بھی اضافہ کیا جانا چاہیے ۔ لیکن یہ بات پہلی بار بحالئ جج کا مسٔلہ چھڑنے پہ سمجھ میں آئ ،  اس سے پہلے کسی کو بھی اس کا خیال جانے کیوں نہیں آیا  ؟  زرداری صاحب نے بھی آبادی کا حساب ۰۸ کروڑ کا ہی رکھا ہوگا  ۔ وہ تو اچھا ہوا کہ جماعت اسلامی اور عمران خان نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا  ورنہ  ۰۸ کروڑ کی آبادی بڑھ کے  ۲۱۱ کروڑ بن جاتی۔ اور پھر اتنی بڑی آبادی کے لیے پتہ نہیں اور کتنے ججوں کو ڈھونڈنا پڑتا۔ پریشانی کی اس میں بھی کوئ بات نہیں اس لیے کہ پاکستان میں ججوں کی کوئ کمی نہیں صرف منصف نہیں ملتے۔ ٹھیک ایسے ہی جیسے آدمی بہت ملتے ہیں انسان نہیں ملتے۔  ایک بات اور جو اچھی ہے کہ اتنے سارے ججوں میں رشوت کی رقم جب بٹے گی تو کم سے کم  ایک ایسا طبقہ تو ہوگا جو  مل بانٹ کے کھانے پہ یقین رکھتا ہوگا چاہے مجبوری  کے تحت ہی سہی۔پاکستان میں  رؤسا کی تعداد میں تو اضافہ ہوگا۔حالانکہ اس بارے میں بھی کچھ تحفضات ہیں لوگوں کے ( یہ تحفضات کی اصطلاح بھی آجکل خوب استعمال ہو رہی ہے )  اور خیال یہ ہے کہ یہ   جج  اپنی  رشوت کی شرح میں  اضافہ کردیں گے تاکہ آمدنی میں کسی کے بھی کبھی کوئ کمی نہ ہو۔ اللہ اللہ خیر صلیٰ ، انصاف تو انصاف ہے ، یہ اتنا سستا بھی کیوں ہو۔ جو چیز جتنی کمیاب ہوتی ہے اتنی ہی مہنگی ہوتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ انصاف  کمیاب  و  دستیاب  بھی نہ ہو  ا ور ملے بھی سستے داموں۔ یہ تو معاشیات و اقتصادیات کا بنیادی اصول ہے ۔گنگا کبھی الٹی بہتی ہے کیا  ؟

ویسے بھی اب عدلیہ  ایک  نئی سیاسی پارٹی کے طور پر ابھر رہی ہے۔ کیوں صاحب  ایسا کیوں نہ ہو  ؟  جب  مولوی سیاستداں ہو سکتا ہے اور مذہب میں سیاست گھسیڑی جا سکتی ہے تو  عدلیہ کے کارندوں نے کیا قصور کیا ہے کہ یہ بہتی گنگا سے ہاتھ نہ دھوئیں ؟ جج کیا آدمی سے الگ مخلوق ہوتے ہیں ؟  ان کے اندر بھی وہی صفات پائ جاتی ہیں جو کسی سیاستدان ، فوجی ، بیوروکریٹ ، تجار ، ساہوکار ،  وڈیرے ، لٹیرے ، یا کسی اور ادارے کے ملازم میں پائ جاتی ہیں۔سو یہ تخصیص کیوں  ؟  پاکستان میں کالے کووے جتنا اب نظر آتے ہیں پہلے کبھی نظر نہ آئے اور نہ اتنی کائیں کائیں سنائ دی۔ اب دیکھیے تو غول کے غول  چلے آرہے ہیں۔کبھی کسی کوے کے مارے جانے پہ  یا جہاں کھانے تقسیم ہورہے ہوں وہاں آپ نے کالے کووں کی بھیڑ دیکھی ہے ؟

اور جب یہ دستور چل نکلا ہے کہ کوئ کتنا بھی مال لوٹ کر ملک کو کنگال کر دے لیکن اخیر میں ایسے شخص کو آبِ زم زم سے دھو دیا جاتا ہے ۔ جو کل تک دشمن ِقوم کہلاتے تھے وہ  اب مسیحِ موجود  کا درجہ رکھتے ہیں ۔  اور جو  غازی ، شہید  و  مجاہدین کی صف میں گردانے جاتے تھے  وہ دہشت گرد بنے ہوئے ہیں۔ یہ سارے فیصلے بھی ایک قلم سے جاری ہوجاتے ہیں، اللہ سفید محل کے بھوتوں کو سلامت رکھے۔  دیانت ، امانت  وغیرہ اب فرسودہ باتیں ہیں۔کامیابی  تو اصل میں دھوکہ دہی  اور لوگوں کو بے وقوف بنانے میں مضمر ہے۔ پاکستان کو  توڑنے والے ،  پاکستانی عوام کو بے وقوف سمجھنے اور کہنے والے ہی آج کل ہمارے جذباتی نعروں میں  اور ضمیر فروش  میڈیا میں ہیرو بنے ہوئے ہیں۔

خرد کا نام پڑ گیا جنوں ،  جنوں کا خرد   :  جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

ستم اس پر یہ ہے کہ اربوں روپے کی چوری کے بعد یہ دعویٰ کہ ہم ملک بدر ہوکر یا جیل میں قوم کے غم میں عوام الناس کی دولت کے بدولت بڑے بڑے محل بنواتے رہے ، پراپرٹی  خریدتے رہے ، انڈسٹری اور نئے  کارو بار کرتے رہے ،  دادِ عیش دیتے رہے۔  لیجیے ایک اور احسان قوم کے سر۔ مگر مچھ کے آنسو بھی  پاکستان میں وافر دستیاب ہیں ۔  پاکستان ٹیلی ویژن یا میڈیا کے جتنے سر خیل ہیں وہ  ان معصومین اور مسیحانِ موجود  ،  عدلیہ کی آزادی  دلانے کے چیمپین سے کیوں نہیں پوچھتے کہ  پاکستان میں یوں تو   ڈکٹیٹر شپ ہی  کا دور دورہ رہا ہے لیکن اس  کا سب سے بد ترین دور ابھی تک دو ہی نظر آیا ، ایک بھٹو صاحب کا آخری دور تھا تو دوسرا شریف  صاحب کا دور ِ آخر تھا۔آج جو عدلیہ  عدلیہ کی رٹ لگا رہے ہیں کل یہی لوگ تھے یعنی  شریف برادران کا جتھا  جنہوں نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلی بار عدلیہ سپریم کورٹ کو ذلیل کیا  اور اس  پر پتھراؤ تک کیا۔ کیا یہ  کنٹمپٹ آف کورٹ   نہیں کہلایا جا سکتا  ؟  ہر دور میں ججوں کو اسٹیبلشمنٹ نے  یکلخت فارغ کیا  ہے چاہے وہ سویلین دور تھا یا فوجیوں کا دور۔  جن ججوں کو بحال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف  لینے والے ججوں کو  ہم جج نہیں مانتے تو  ان سارے معزول شدہ  ججوں نے بھی تو  پی سی او کے تحت ہی حلف اٹھایا ہوا تھا ۔ پھر یہ دورنگی کیسی  ؟  وہی لوگ جو آج   کوالیشنز اور  اتحاد کی بات کر رہے ہیں اور بے نظیر شہیدہ کہتے ان کی زبان نہیں تھکتی  انہوں نے پنجاب میںبے نظیر  کے زمانے میں ایک طرزِ  بغاوت اختیار کر رکھی تھی۔  جتنے  ایف آئ آر یا کیسیز زرداری  اور بے نظیر کے خلاف شریف  برادران  کے دور میں فائیل کیے گئے کسی دور میں نہیں کیے گئے  ۔ کہتے ہیں اخلاقیات کی بے ضمیری ہی  سیاست  کا ضمیر ہوتا ہے۔جن پارٹیوں کو  فاشسٹ پارٹی کہا جاتا ہے تو  فاشسزم  تو ہر پارٹی میں کسی نہ کسی درجہ میں موجود ہے۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی صلاحیت ان لوگوں میں تو کسی میں نہیں۔ ایک مصلحت  ہی ہے کہ چکنی چپڑی باتیں کر کے اپنا الو  سیدھا کیا جارہا ہے۔ ورنہ آستین میں تو سب کے خنجر ہے۔  مجھے پاکستان کے عوام  سے اور کچھ نہیں کہنا  سوائے اس کے کہ آزمودہ کو آزمانہ کیا  ؟

صاحبِ ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہے  :  گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش

حشام احمد سید

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: