Hesham A Syed

January 9, 2009

A Struggle continues —

Filed under: Muslim world,Pakistan,Social Issues — Hesham A Syed @ 5:40 am
Tags:

Urdu Article : Ek Kashmakash hai key jaari hai – Hesham Syed

حشام احمد سید                                    اک کشمکش ہے کہ جاری ہے  !

ہے  خدا کی  !  یہ  زمیں تیری نہیں تیری نہیں

تیرے آبا کی  نہیں  ، تیری نہیں،  میری نہیں

Mاقبال رحمہ اللہ کے شعر کی تضمین معذرت کے ساتھ قارئین تک اصل بات پہنچانے کے لیے کی گئی ورنہ پوری نظم کا لکھنا ضروری ہوتا۔سو بات جب ساری یہی ہے کہ جو کچھ ہے خدا کا ہے اور انسان اس زمین پر صرف ایک امین ِ نعمتِ خداوندی ہے تو پھر غم کاہے کا ؟ کرسیِ وزارت و صدارت ہو یا نہ ہو ،  دولت و  ثروت و  تجارت و  امارت  ہو یا نہ ہو  ۔ یہ سب کچھ ہے  تو عطا ہے اور آزمائیش ہے جس کا حساب دینا ضروری ہے اور  امانت کا  فریضہ حکمت و علم و  تدبر سے ہی ادا ہوتا ہے سو عطائے خداوندی میں اگر ان صفات کی کمی ہے  تو پھر غم ہی غم ہے۔ آدمی  یا تو اپنی بے لگام خواہش کے گرداب میں ہے  یا پھر انسان تکمیلِ انسانیت کی تگ و دو میں مصروف ہے۔زوالِ نعمت و جاہ ایک سانحہ ہے تو اس سے بڑا سانحہ زندگی کا محبت و معرفت سے عاری ہونا ہے۔رنگ و بو کی طغیانی کا  سدِباب  فقر ہے اور اسی سے دولتِ سلمانی و سلیمانی کا حصول ہے۔جہانِ نو کی فکرِ  تازہ کی  سرمستیاں اپنی جگہ لیکن یہ نہ ہو کہ ان میں انسان کی حقیقت گُم ہو کر رہ جائے۔ یہ  شیطان کی کرامت  ہی ہے کہ صوفی و ملا  ملوکیت کے غلام بن کے رہ گئے ۔ قلندرانہ ادائیں اور سکندرانہ جلال کو کیا ہوا ؟  جہاد کی حقیقت گُم ،  کوئی اسے حرام  قرار دیتا ہے اور کہیں یہ حلال ہے  تو قتل و غارت کی شکل میں اس کا ظہور ہوتا ہے۔ ہر روز ایک نیا فتنہ جنم لیتا ہے۔ جمیعت آدم کا  تصور معدوم اور جمیعت اقوام کا ڈنکا بج رہا ہے۔جمہوریتِ مغرب خیال و خواب میں حسین و روشن لیکن اندرونِ خانہ عملی طور پر خصائیل ِ چنگیزی سے تاریک تر۔ نگہ پاک اور  جوہرِ ادراک کہاں کھو گیا ؟ آئینہ ضمیری کیوں شکستہ ہے ؟  ذوقِ تن آسانی کی مستی  کو  اسلاف کی  نسبت ِ روحانی سے کیا سروکار ؟

 بت گری ، بت فروشی ، صنعت آزری  ، شیوہ کافری و ساحری تہذیبِ حاضر کی سوداگری بنتی جا رہی ہے اور اس دنیا کی مٹی جو کہ شاید خمیر آدم ہے وہ دوزخ کی مٹی بنتی جارہی ہے۔دستارِ حق باطل کے پیروں میں لپٹی نظر آتی ہے۔ہر آدمی سجدہ ریز ہے بلند ایواں کے سامنے  ،  شخصیت پرستی اور قبر پرستی شعار دنیا و دین  بن چکا ہے۔ اپنی عارضی زندگی کی طولانی  کے لیے ہر اک کے اندر ایک وحشت کا ابال ہے۔ بات اب دوسرا گال پیش کرنے کی نہیں رہی بلکہ دوسروں کا سر اتارنے کی چل رہی ہے یا پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی  ہو  رہی ہے ۔طمنچہ ہر اک کے ہاتھ میں ہے اور  ہر شخص اپنی قبر کی مٹی خود کھود رہا ہے ، گہری اور بہت گہری۔۔۔!  ہر روز کی  ایک کشمکش ہے کہ جاری ہے،  رات تاریک ہے  ، ہواوں میں تندی ہے  اور اُمید کا دیا ٹمٹماتا رہتا  ہے ۔حوصلہ ملتا ہے تو اس شعر سے کہ  :

جرات ہو نمو کی  تو فضا تنگ نہیں ہے

اے مرد ِخدا ،  ملکِ خدا تنگ نہیں ہے

حشام احمد سید

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: