Hesham A Syed

January 9, 2009

Cruelty is a custom

Filed under: Canada,Muslim world — Hesham A Syed @ 2:46 pm
Tags: ,

Urdu Article : Parr gayee rasm Zulm raani ki : Hesham Syed

پڑگئی رسم ظلم رانی کی

ماہِ رمضان گزر گیا اور ماہِ عید یعنی شوال آ لگا ۔ دن ہفتوں میں ، ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں یونہی گزرتے رہیں گے۔ اور ہم سب اپنا سفر تمام کرتے رہیں گے    ؎

 ہم ہی نہ ہونگے تو کیا رنگِ محفل   :  کسے  دیکھ کر  آپ  شرمائیے  گا

           ایک حدیث قربِ قیامت سے متعلق تو یہ بھی ہے کہ وقت بہت تیزی سے گزر جائے گا  اور پتہ نہیں لگے گا ۔( واللہ عالم)۔گذشتہ ماہ رمضان اور اب شوال کے حوالے سے بہت سی باتیں مشاہدات میں آئیں۔ بہت سے واقعات نے پچھلے دنوں جنم لیا ۔ طبیعت یہ چاہتی ہے کہ آپ سے ان موضوعات پہ بھی گفتگو کی جائے۔

٭  مسجدوں کے امام ، خطیب ، دین کے داعی اور عوام متوجہ ہوں :

( ۱)  مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ مسجدوں میںامام کی اقتدامیں نماز پڑھتے ہوئے ارکان نماز کی ادائیگی میں اکثر افراد امام سے پہل کر تے ہیں یعنی امام نے اللہ اکبر کہا اور اس سے پیشتر کہ امام خود رکوع اور سجود میں جائے بہت سے لوگ بڑی تیزی سے اس حالت میں منتقل ہوجاتے ہیں ۔ یہی کیفیت سلام کے پھیرنے میں ہوتی ہے۔ حضور ؐ نے مقتدی کو امام سے پہل کرنے کو سختی سے منع کیا ہے اس لئے اس طرزِ عمل کی درستگی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مسجد کے خطیب یا امام کو خود عوام کی رہنمائی کرنی چاہیے حضو ر ؐ  کی احادیث کو زبانی سنانے کے علاوہ پوسٹر پہ لکھ کر مسجدوں میں لگانا چاہیے تاکہ اس غلطی کی اصلاح  فوری طور پہ ہو سکے۔

 (۲) اجتماعی دعا کی صورت میں یہ بات بھی مشاہدے میں آئی کہ عربی زبان کی ناواقفیت کی بنا مقتدیوں میں ہر بات پہ آمین کہنے کا بے محل رواج پڑ گیا ہے مثلاّ امام نے دعا میں آہ و زاری کرتے ہوئے یہ کہا کہ اے اللہ ہم بہت گناہگار ہیں تو مقتدیوں کی آواز آئی ،’ آمین‘ ۔ اے اللہ ہم سب مجرم ہیں اور تیرے حکم کے خلاف چلنے والوں میں ہیں تو مقتدیوں کی آواز آئی ۔’ آمین‘ ۔ یہ صورت خاصی مضحکہ خیز بن جاتی ہے ۔ یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ دلوں کی کیفیت اور اخلاص کو دیکھتا ہے اور انسان کی قصیدہ گوئی یا علم القران کی ناواقفیت دعا کی قبولیت میں آڑے نہیں آتی ۔ دعا مانگنے کا سلیقہ بھی اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہمیں سکھایا ہے اور پھر یہ تو پتہ ہونا ہی چاہیے کہ دعا کیا مانگی جارہی ہے۔ ورنہ اس دعا میں اخلاص کہاں پیدا ہوگا۔ دعا کو اگر امام ایسی زبان میں ادا کرے جو عربی سے ناواقف حضرات سمجھتے ہیں تو آمین کہتے ہوئے وہ ہچکچائیں گے تو ضرور ، اس بات کی بھی تشریح اور ایسے جملے کی ادائیگی کے وقت جو الفاظ یا جملے کہے جاتے ہیں اس کی تعلیم دعا ئے جہری کے مانگنے والوں یعنی امام کو اپنے مقتدیوں کو بتانا چاہیے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنے گناہگار ہونے کا اعتراف آمین کہنے کی صورت میں بار گاہِ ایزدی میں ویسے ہی قبول ہورہا ہو اور ہم میں گمراہی کے اضافے کا سبب یہی ہو ؟ (۳) مذہبی جماعتوں سے منسلک افراد نے ایک عادت یہ بنا لی ہے کہ ماشااللہ اور انشااللہ کو ہر جملے میں کثرت سے استعمال کیا جائے ۔ یہ عادت تو اچھی اور مستحسن ہے لیکن ہر بات کا ایک موقع اور محل ہوتا ہے ورنہ وہ بات صرف ایک عادت بن کے رہ جاتی ہے اور اس کی اہمیت نہیں رہتی یا اس کی روح نکل جاتی ہے۔ تقریبات میں یہ بات سنائی دیتی ہے کہ السلام علیکم برادر مائی نیم از اختر انشااللہ۔برادرا سٹینڈ اپ ماشا اللہ ، سسٹر سٹ ڈاون ماشااللہ ۔ اسی عادت ثانیہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ کسی نے کسی کی موت کی اطلاع دی تو جواب میں کہا انشااللہ ماشااللہ۔ اس جملے کے معنی پر غور کریں تو انشااللہ کے معنی ہیں’’اگر اللہ چاہے‘‘ اور ماشااللہ کے معنی ہیں ’’جو اللہ نے چاہا ‘‘۔ یہ بات اعتراضاََنہیں بتائی جارہی بلکہ صرف اس کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ ان جملوں کو بھی سمجھ کے برمحل استعمال کیا جائے تو اس کے اثرات مثبت ہوتے ہیں۔ خود ملک ِعرب میں انشااللہ کے کہنے کا رواج اتنا زیادہ ہے کہ اخلاص غائب ہو گیا ہے ۔ بلکہ جہاں کسی کا کوئی کام نہیں کرنا یا کسی سے ایفائے عہد نہیں کرنا یا کسی کی بات کو صرف ٹالنا مقصود ہے تو انشا اللہ کہہ دیا جاتا ہے۔بلکہ اپنے دل کی کدورت کو چھپانے کے لئے بھی یا جھوٹی تعریف کرنے کے لئے بھی ماشااللہ کا استعمال ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں بھی داعی و خطیب حضرات لوگوں کی رہنمائی فرمائیں۔

 (۴) یہ ایک المیہ ہے کہ ہماری مسجدوں کا قیام و انتظام اور پھیلاؤ کا انحصار صرف چندہ کے مرہون منت ہے۔ ہم آج تک کوئی ایسا نظام نہیں بنا سکے جس سے کہ مسجدوں کے منتظمین کو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت محسوس نہیں ہو ۔ لطف یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر افراد مسجد کی انتظامیہ کو چندہ مانگتے دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتے ہےں اور انہیں برا بھلا کہتے ہےں یا انہیں شک کی نظروں سے دیکھتے ہےں جیسے یہ لوگ سب کے پیسے لوٹ کر اپنے ذاتی مصرف میں لے آتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایسا کبھی ہوا بھی ہو ، شیطان تو ہر جگہ اپنا کام کرتا رہتا ہے چاہے کوئی شعبہ کیوں نہ ہو لیکن اس طرح کام کرنے والے ہر شخص کو ایک ہی لکڑی سے ہانکنا کونسی شرافت ہے ؟ جو لوگ خلوص سے مساجد کے بنانے اور اس کی رکھوالی میں مصروف رہتے ہیں وہ قابل تحسین اور واجب الاحترام ہیں۔بحیثیت معاشرے کے ایک فرد کے یہ ذمہ داری ہم پہ بھی عائد ہوتی ہے کہ ہم بھی اس بارے میں سوچ بچار کریں اور کوئی  ایسا متبادل نظام بنائیں جس سے ہماری مساجد اور دینی ادارے بھی خود کفیل ہوجائیں اور انھیں کسی بھی شخص کا احسان نہ لینا پڑے۔ ہم سب سر پھٹویل سے بچیں ۔اس میں ہم سب کی عزت ہے۔

                    صلائے عام ہے یہ کہ تمام ممالک اسلامیہ میں اس بات کی طرف سے ایک بے حسی طاری ہے کہ ہماری دنیا کے ذرائع ابلاغ یعنی میڈیا میں بہت کم حصہ داری ہے۔ہم اس دور کے تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اللہ نے اسلامی مملکتوں کوبے انتہا دولت سے نوازا ہے لیکن یہ اس دولت کا وافر حصہ اپنی ذات پہ اور لذاتِ نفسانی پہ ، شہوانیات و عیش پرستی پہ ، محلات پہ خرچ ہو رہا ہے۔ اپنے ضمیر کو سلائے رکھنے کے لئے اور اس کو دھوکہ دینے کے لئے مسجدوں کی سجاوٹ پہ خرچ ہورہا ہے چاہے وہ دونوں مساجد الحرام ہی کیوں نہ ہوں ۔ مجھے کوئی بتائے کہ جب تک مسجد نبوی اینٹ ، گارے اور درختوں کی چھال سے بنی ہوئی تھی اور کعبتہ اللہ کے دروازے سونے کے نہیں تھے تو کیا اسلام کی قوت و سطوت آج سے کم تھی ؟ ایک طرف تو مسلمانوں کے یہاں افلاس و غربت کی پریشانی ہے اور دوسری طرف مسجدوں میں موٹے غالیچے اور سنگ مر مر کی دیواریں بن رہی ہیں۔ کیا یہی اسلام اور پیغمبر اسلام کی تعلیم ہے ؟ کیا خدا کے گھر کو بھی سجا کر اپنی عیش پرستی اور محلات کے بنانے کا جوازپیدا کیا جارہا ہے ، ذرا سوچئے یہ کس کو رشوت دی جارہی ہے ؟ معاشرتی اور اقتصادی عدل ، اسلامی دولت مشترکہ کا قیام اور نظامِ زر اور ذرائع ابلاغ میں اسلامی برتری کیا اس دور کی اہم ترین ضرورت نہیں ؟ کیا اللہ کی عطا کی ہوئی دولت میں خیانت نہیں ہو رہی ؟ کیا اللہ کی دی ہوئی عقل کو استعمال نہ کرنا خود بد دیانتی نہیں ؟ سوچئے کہ سوچنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔

          عید در اصل اس لئے ہے کہ ہم اللہ کے سامنے سر بسجود ہو کر شکرانہ ادا کریں کہ اس نے ہمیں عبادت کی توفیق بخشی اور ہمیں رمضان کا مہینہ عطا فرمایا کہ ہم اپنی باطنی اصلاح کر سکیں تاکہ اس کے اثرات اگلے گیارہ ماہ تک ہم پہ طاری رہیں ۔ یہ یوم تشکر ہے اور صرف خوشیوں کے بے ہنگم ہنگامے کا نام نہیں ۔دوسری صورت میں یہ سب نفی ہے اس روح کی لطافت کی جو ہمیں پورے رمضان کے تقوے سے حاصل ہوتی ہے۔ رمضان کے آخری دنوں سے عید کے تہوار کے لئے جو ہنگامے شروع ہو جاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ شیطان اپنی زنجیروں میں ہی ناچ رہا ہو۔مستی بھرے ہنگامے ہوں ، میلے ٹھیلے ہوں ، رنگا رنگ تقریبات ہوں ، اخبارات ہوں ، ریڈیو ہوں، فلم ہو ، ٹی وی ہو کہ بیوی ہو سب کے سب اپنے قیودا ور ضوابط سے آزاد ہو کر ایسے خوش ہو رہے ہوتے ہیں جیسے کہ سکول کی چھٹی کی گھنٹی کی آواز پر بچے بھاگتے ہوئے سکول سے نکلتے ہیں۔جو کچھ پورے ماہِ رمضان میں حاصل ہوتا ہے وہ ایک دن میں دھل دھلا کر ختم ہو جاتا ہے۔

          مقصد یہ نہیں ہے کہ انسان زاہد خشک ہو کر زندگی گزارے لیکن ایک طرف جہاں امت کی بہت ساری اقوام درد سے کراہ رہی ہوں ، گھر گھر میں آگ لگی ہو ، عورتوں کی عصمت وری ہو رہی ہو ، شہریوں ، مردوں ، عورتوں اور بچوں کو ایک دو کی تعداد میں نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں قتل کیا جا رہا ہو ، مسلمانوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کر کے در بدر کیا جا رہا ہو ، بھوک و دیگر اذیت میں مبتلا بچے بلک رہے ہوں وہاں دوسری طرف ہم اپنی بے حسی کا ثبوت سویاں ، مٹھایاں کھا کر ، گانا بجانا کر کے ، چوڑیوں اور پائل کی جھنکار سن کر ، فیشن پریڈ میں شریک ہو کر دیں ؟ صرف اپنے ضمیر کو سلانے کے لیے سجی سجائی مسجدوں میں اور آرائش سے پُر گھروں اور محفلوں میں ان مجاہدوں اور آفت شدہ انسانوں کے حق میں دعا کریں ، فلمی گانے کے انداز میں مجلسوں میں اور ٹی وی و ریڈیو پہ حمد و نعت گائیں ۔ کیا یہی سبق ہمیں اللہ کے رسولؐ نے پڑھایا ہے ؟ یہ سب کچھ ہم سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟۔کیا ہمارے اپنے گھر میں آگ لگی ہوتی ، ہماری عورتوں کے ساتھ وہی کچھ ہو رہا ہوتا ، ہمارے بچے ہماری ہی نظروں کے سامنے قتل کئے جا رہے ہوتے تو بھی ہم وہی کر رہے ہوتے جواب کر رہے ہیں ؟ کیا اللہ کے رسولؐ نے یہ نہیں کہا کہ مسلمان امت واحدہ ہے اور ایک جسم ہے کہ جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف ہو تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے ! کیا یہ احساس ہم میں باقی ہے یا ہمارے ذہن ہی سُن ہو چکے ہیں جہاں کسی تکلیف کا احساس ہی باقی نہیں رہا ۔ کسی کی تو کیا اپنی حرمت اور عزت کا بھی ہمیں پاس  نہیں رہا ۔ میرا یہ خیال ہے اور اس بات پر ہمارے چند احباب متفق ہیں کہ مسلمانوں کے لئے عید کی معروف دنیاوی خوشی اب اس وقت تک کے لئے نہیں جب تک کہ اس امت کا وقار دوبارہ حاصل نہ کر لیا جائے۔ہاں تہواروں کی خوشی ہے تو ان افرادکے لئے جو مسلمان نہیں ہر چند کہ ان کا نام مسلمانوں جیسا ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کا کیا خیال ہے ؟

          اسی حوالے سے ایک بات اور یاد آگئی کہ جتنے بھی سٹیج و فلم و ٹی وی کے اداکار ہیں ، گانے والے ، ناچ و رنگ کی محفلیں سجا نے والے ، یا اسی قسم کے پیشہ سے متعلق افراد یا فحش نگار انہیں میں نے یہی کہتے سنا کہ اللہ کا بڑا شکر ہے اور یہ سب کچھ اللہ کی دین ہے ، اللہ نے ہی مجھے ایسا اچھا رقاص بنا دیا ، گائیک بنا دیا ، موسیقار بنا دیا ،  فلموں کا اداکار بنا دیا وغیرہ ۔ میں سوچتا ہوں کہ اللہ کا شکر جتنا آج کل عوا م کے سامنے بہ بانگ دہل ادا کیا جاتا ہے شاید پہلے کبھی نہ کیا جاتا ہو ۔ شکر تو بہرحال اللہ ہی کا ادا کیا جانا چاہیے ۔ کیا پتہ اخلاق باختہ پیشے کے ماہروں کا گرو ہ اور پیر و مرشد شیطان بھی کسی دن سٹیج پر اور ٹی وی پہ نمودار ہو کر اپنے چیلوں اور چیلیوںکی ہاں میں ہاں ملائے کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے شیطان بنا دیا ۔ اللہ کا شکر ہے اس نے مجھے بیہودہ آدمی نہیں بنایا جو ابلیسیت میں مجھ سے بھی آگے بڑھ گیا ۔ اللہ کا شکر ہے بھائی ، اللہ کا شکر ہے !  چلئے صاحب! قصہ تمام ہوا ، اپنی ساری گمراہی کو بھی اللہ کے سر منڈھ دیا!!۔ نہ صرف یہ بلکہ شکر کر کے اپنی بے راہ روی کا جواز بھی نکال لیا چہ خوب ! یہ سبق البتہ زمین پر آکر انسان نے شیطان سے سیکھا ورنہ باغ عدن میں تو اک ذرا سی کوتاہی پہ بھی شرمندگی کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا ۔ اللہ نے کائنات جیسی بھی بنائی لیکن اسے انسان کی حرکتوں سے ہنسی ضرور آتی ہوگی ! آخر اشرف المخلوقات جو بنادیا ہے اسے ! خیر ، اللہ ہی سے اس کی ہدایت کی دعا کی جاسکتی ہے !

          لیجیے صاحب یاسر عرفات صاحب بھی گئے ۔ انالا للہ و انا الیہ راجعون ۔ زمین تنگ ہو جائے تو کیا کرے آدمی ؟    ؎

یہ  زمیں  اب تنگ  اتنی  ہوچکی    :  کہ  آسماں  پر گھر  بنانا  چاہیے

          ساری دنیا میں اب یہ بحث جاری ہے کہ یاسر عرفات سے فلسطین مشن کو فائدہ پہنچا ہے یا نقصان ؟ اس بحث میں شامل صرف غیر مسلمین ہی نہیں بلکہ مسلمان اور فلسطینی بھی ہیں ۔ساری بحث کا آسان سا حل ہے اور وہ یہ کہ آپ ایسی محفل سے یہ کہہ کر اٹھ جائیے کہ اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس زمانے میں جب ہر شخص کی نیت مشکوک ہی لگتی ہو تواور کیا کہا جاسکتا ہے؟ہم صرف بحث ہی کر سکتے ہیں !

 کس نے کس سے غلط بیانی کی  

 پڑ گئی  رسم  ظلم  رانی  کی

حشام احمد سید

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: