Hesham A Syed

January 9, 2009

Debauch Culture and the gentries !

Filed under: Canada,Muslim world,Pakistan,Social Issues,Urdu Articles — Hesham A Syed @ 7:43 am
Tags:

Urdu Article : Mujraa Culture , shorafa  aur Sadaat – Hesham Syed

مُجرا کلچر اور شرفاو سادات

یوںبھی ہوتا ہے کہ میں کسی تقریب میں جاتا ہوں اور وہاں غیر متوقع قسم کی حرکات اور لوگوں کے طور طریقے  دیکھ کر بوجھل دل لئے واپس لوٹتا ہوں۔شادی بیاہ کی تقریب میں بھی اب یہاں مُجرے کا اہتمام کیا جانے لگا ۔  دل اس وقت زیادہ دکھتا ہے جب وہاںرقص و موسیقی کا ہنگامہ یا اہتمام ایسے خاندان کے افراد کرتے ہیں جن کا شمار شرفامیں ہوتا ہے اور اپنے نام کے ساتھ سید بھی لگاتے ہیں۔ ان تقریبات میں سیکڑوں کی تعداد میں خاندان کے افراد اور غیرشریک ہوتے ہیں کیا بڑا اور کیا چھوٹا۔ اس میں ایسی خواتین بھی ہوتی ہیں جو بہ ظاہر حجاب میں ہوتی ہیں لیکن کیا مرد کیا عورتیں اور کیا بچے سبھی بے حجابانہ یا چور نظروں سے اعضا کی شاعری اور ساٹھ فیصد سے زیادہ برہنہ تھرکتے بدن کے نشیب و فراز سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں ۔ جب میں سوالیہ نظروں سے لوگوں کی طرف دیکھتا ہوں تو لوگ یہی کہتے ہیں کہ آپ کو کیا پریشانی ہے ، یہی کچھ تو پاکستان میں یا کسی بھی عرب ملک میںبھی ہو رہا ہے۔جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے یہ تو ان کی تہذیب و ثقافت کا حصہ ہے۔ میرا علم اس معاملہ میں بھی یہی کہتا ہے کہ یہ ہندو یا کسی اور تہذیب کا حصہ بھی کیسے ہو سکتا ہے ؟ اسلامی ثقافت اور مسلمانوں کی تہذیب کو تواس سے سروکار کیا ۔کیا ہمارے اذہان بالکل ہی ماؤف ہو چکے ہیں ؟

          سچ پوچھیں تو ایسا عمل جس سے عورت کی تضحیک یا تذلیل یا کہ ہوسناکیء مرد وںکا کوئی پہلو نکلتا ہو دنیا کے کسی بھی مذہب یا انسانی ثقافت کا حصہ نہیں ہو سکتا ہے ۔ یہ سارے کا سارا ایک شیطانی کاروبار ہے جسے فن اور ثقافت کا نام دے کر لوگ اپنے سفلی جذبات کی تسکین کا سامان فراہم کر تے ہیں۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ سب تقریب میں کیوں نہ ہو جبکہ آج کل براہ ٹی وی اور ڈش چینل یا کیبل کے ذریعہ گھر گھر میں مجرا کلچر پل رہا ہے۔ کونسی فحاشی ہے جو ٹی وی چینل پر نہیں دکھائی جا رہی۔ ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ جو باتیں کوٹھے پہ ہوا کرتی تھیں وہ اب ہمارے گھروں کے آنگن میں اور کمروں میں ہونے لگیں ۔ٹیکنالوجی کے استعمال نے دیکھئے کتنی آسانیاں پیدا کر دیں ہیں ۔ لگتا ہے کہ سفلی جذبات کے طوفان نے اسلاف کی ساری قدروں کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا ہے ۔ گھر کے بچے  یا نوجوان و جوان کے آگے کیابوڑھے یا بوڑھے ہوتے ہوئے لوگ دم مار سکتے ہیں ؟

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو   :  نغمہ  و  شعر  کو  اندوہ  رباکہتے  ہیں

 سو اس بات سے ڈر کے کہ کہیں بچے انہیں عاق نہ کر دیں وہ بھی لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو کا ہی فلسفہ اپنا لیتے ہیں اور خود بھی وہی کام کرتے ہیں جو دنیا کی ریت ہے ۔ گھوڑی اگر بڈھی ہے تو کیا ہوا لگام تو لال ہے۔ لیکن اس بات کا ذمہ دار صرف نوجوان اور جوان نسل کو قرار دینا بھی سو فیصد درست نہیں کہ خود وہ نسل جو ضعیف العمری کی جانب سفر کر رہی ہے اس نے بھی کچھ کم تماشے نہیں کئے ہیں ، مہ نوشی اور عورت تو ان کے سر پہ بھی سوار رہی ہے، عام طور پہ جب انسان کے قویٰ مضمحل ہوجاتے ہیں تو وہ شریف بن جاتا ہے کہ اب کرنے کو کچھ نہیں رہا ۔ اسی لئے اللہ کے رسولؐ نے یہ بتایا کہ جوانی میں کی گئی عبادت اور تقویٰ کا عمل ہی اللہ کے یہاں زیادہ مقبول ہے کہ صحیح آزمائش تو انسان کی اسی وقت ہوتی ہے۔ بہت سے دانشور وں، شاعر وں، فلاسفر ز، قلم کار وں سائنسدانوں ، سیاست داوں ، دینی عالموں ، صوفیوں ، پیروں اور مشاہیرِ عالم کی زندگی کا مطالعہ کریں تو تقدس کے جامے میں لپٹے ہوئے ان لوگوں کی تصویر ایسی نظر آئے گی جسے آپ پہچان نہیں پائیں گے۔بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائے گی۔ بہت سے لوگ ہر شعبہ زندگی میں ایسے نظر آئیں گے کہ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔

           آج کل لوگ اپنے ضمیر کو مطمئن کیسے کرتے ہیں یا اپنی گمراہیوں پہ تقدس کی چادر کیسے چڑھاتے ہیں یہ بات اس سے پہلے بھی لکھی جاچکی ہے لیکن ان لوگوں کے لیے مزید وضاحت کی ضرورت ہے جو میری بات کا مفہوم ابھی سمجھ نہیں پائے ، یہ ان کے فہم کا قصور کہ وہ بات جو طنزیہ انداز میں کہی جائے اس کی تہہ تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ جتنے بھی سٹیج و فلم و ٹی وی کے اداکار ہیں ، گانے والے ، ناچ رنگ کی محفلیں سجا نے والے یا اسی قسم کے پیشہ سے متعلق افراد ہیں اور جو فحش نگار ہیں انہیں میں نے یہی کہتے سنا کہ اللہ کا بڑا شکر ہے اور یہ سب کچھ اللہ کی دین ہے ، اللہ نے ہی مجھے ایسا اچھا رقاص بنا دیا ، گائک بنا دیا ، موسیقار بنا دیا ، فحش فلموں کا اداکار بنا دیا ، بے حیائی میں برق رفتار بنا دیا وغیرہ ۔ میں سوچتا ہوں کہ اللہ کا شکر جتنا آج کل عوا م الناس کے سامنے بہ بانگ دہل ادا کیا جاتا ہے شاید پہلے کبھی نہ ادا کیا جاتا ہو۔ شکر تو بہرحال اللہ ہی کا ادا کیا جانا چاہیے۔ کیا پتہ اخلاق باختہ پیشے کے ماہروں کا گرو ہ اور پیر و مرشد شیطان بھی کسی دن سٹیج پر اور ٹی وی پہ نمودار ہو کر اپنے چیلوں اور چیلیوںکی ہاں میں ہاں ملائے کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے شیطان بنا دیا ۔ اللہ کا شکر ہے اس نے مجھے بیہودہ آدمی نہیں بنایا جو ابلیسیت میں مجھ سے بھی آگے بڑھ گیا ۔ اللہ کا شکر ہے بھائی ، اللہ کا شکر ہے ! چلئے صاحب قصہ تمام ہوا ، اپنی ساری گمراہی کو بھی اللہ کے سر منڈھ دیا ۔نہ صرف یہ بلکہ شکر کر کے اپنی بے راہ روی کا جواز بھی نکال لیا چہ خوب ! یہ سبق البتہ زمین پر آکر انسان نے شیطان سے سیکھا ورنہ باغ عدن میں تو اک ذرا سی کوتاہی پہ بھی شرمندگی کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا ۔ اللہ نے کائنات جیسی بھی بنائی ہو لیکن انسان کی حرکتوں سے اسے ہنسی ضرور آتی ہوگی ! آخر اشرف المخلوقات جو بنایا ہے اسے ! خیر ، اللہ ہی سے اس کی ہدایت کی دعا کی جاسکتی ہے ! ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہنسی کے بجائے اللہ کو  غصہ ہی آتا ہو ، ہنسی کی بات تو اس کی رحمت کے حوالے سے ہوگئی جو اس کے غضب پہ حاوی ہے۔ جس کا بہانہ بنا کر یا سہارا لیکر گمراہی کی جانے کتنی دکانوں کا افتتاح انسان حضرتِ شیطان کے ساتھ مل کرکر رہا ہے۔ روز ایک نیا فیتہ کاٹتا ہے !

          اشراف اور سادات کون ہیں یہ ایک لمبی بحث ہے ، مختصراََاس بات کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ نام کے ساتھ سید کا لکھنا کسی کو محترم یا ارفع نہیں بناتا تا وقتیکہ اس شخص کو اس لفظ سید کی حرمت اور انؐ  کی ذریت ہونے کا پاس اور اس کی ذمہ داری کا احساس نہ ہو ۔ جو لوگ لفظ سید یا اشراف کو لکھ کر فخرمحسوس کر تے ہیں وہ در اصل برہمنیت کا پرچار کرتے ہیں ۔ جس میں انسانوں کی تقسیم، روحانی اور جسمانی ذات برادری کی وجہ ہے جبکہ اللہ نے بڑی وضاحت سے انسانی برادری کی تقسیم صرف پہچان کے لئے کی ہے۔یہ بات ضرور ہے کہ جس خاندان سے علم و ہدایت کا چراغ جلنا چاہیے اگر وہیں سے باطل کا سیاہ بادل امڈ کر آئے اور ماحول کو تاریک کر دے تو افسوس اور صد افسوس۔ بات یہیں تک محدود نہیںبلکہ اب تو سید زادیاں بھی پیشہ ور بالی ووڈ، لولی ووڈ یا ہالی ووڈ رقاصاؤں کی طرح کا مختصر جامہ زیب تن کر کے تقریب اور اسٹیج پہ ہیجانی رقص فرمانے لگیں ہیں۔ محلے والے ، احباب ، رشتہ داریا گھر والے جن کو ایسے ماحول میں اپنا سر یا منہ پیٹنا چاہیے وہ تالی پیٹ کر ایسی باتوں کی پزیرائی کر تے ہیں۔ شاید آنے والے وقت اور آخرت کی پٹائی سے بے خوف ہیں ۔ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ سے یہ دعا مانگی کہ ہماری ذریت سے ہی انبیا و مرسلین تشریف لائیں تو اللہ نے یہ دعا سن لی لیکن یہ بھی واضح کر دیا کہ اس ذریت میں بھی انتخاب ہوگا اور جو اس کے اہل ہونگے انہیں ہی اس درجہ پر فائز کیا جائے گا ۔ہر آدمی جو اس ذریت سے ہے اسے فضیلت حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نسل ابراہیمی تو کروڑہاکروڑ افراد کی ہے لیکن انبیا و مرسلین گنے چنے ہیں ، پھر یہ کہ اسی نسل سے تو اشرف الانبیا حضور ؐ  بھی تشریف لائے لیکن ان ہی کے خاندان اور آبائی نسل سے تو ان کے چچا ابو لہب اور ابو جہل جیسے لوگ بھی تھے اور اسی شاخ سے ایسے بھی افراد تھے جو حضور ؐ  اور ان کے خاندان رسالت کی حزیمت و گستاخی و قتل کرنے کی سازش میں پیش پیش رہے یہاں تک کہ اللہ نے ان سب کا قلع قمع کیا یا پھر وہ فتح مکہ کے بعد اسلام لے آئے۔

P                 نام کے شرفأ اور سادات جو آج کل گُل کھلا رہے ہیں وہ کسی سے کم تو نہیں ، کون سا ایسا قبیح فعل نہیں ہے جو یہ نہیں کر رہے ہیں۔ عورت ، شراب ، رقص و موسیقی ، قوم اور افراد کے لوٹنے کا عمل ، پیر بن کر تعویز و گنڈے کے ذریعے عوام الناس کو دھوکہ دینے کا کام یہ کر رہے ہیں ۔ خود ہند میں آج سے ڈیڑھ سو سال قبل کے مسلمانوں کی بیداری کے ذمہ دار اور پاکستان کے حوالے سے کئ ایک نامور مفکرین اور اس کے بنانے والوں میں جن کا نام لیا جاتا ہے سیدیا غیر سید ، صدیقی ، شیخ ، چودھری، خان و مرزا ، سر کا خطاب پانے والے، نواب ، فوجی یا شہری، تجارت پیشہ ، حکومت و نجی ادارے کے ملازم ، داڑھی سے بھرے چہرے والے ،صفاچٹ انگریز نما لوگ ہوں ان کے قول و عمل میں تضاد اور ان کی نسلوں میں افعال قبیح کے سارے جراثیم موجود ہیں ۔میری ملاقات ایسے خاندانوں کے بہت سے افراد سے ہوئی ہے اور ان سے مل کر لگتا ہے کہ جیسے چراغ تلے اندھیرا ہو اور میں کسی خود کش حملے کا شکار ہو گیا ہوں ، کسی نے میرے تصورات کے پرخچے اڑا دیئے ہوں ۔میں نے ان ہی جیسے شرفا اور سادات گھرانے کے مردوں اور عورتوں کو شغل مے نوشی میں مبتلا پایا ، خود اپنے ہاتھوں سے اپنے ہی بچوں کو شراب تقسیم کرتے دیکھا ۔ مخلوط محفلوں میں کسے باشد بلا امتیاز عمر یا محرم و غیر محرم کے ایک دوسرے کی بانہوں میں رقص کرتے اور جھولتے دیکھا ۔ ان ساری تفصیلات کا بیان کہاں تک ہو ۔

          شیطان کیسے کیسے جواز فراہم کرتا ہے ، کوئی اپنے گھوڑ دوڑ کے جوئے کے جواز کے لئے حضورؐ  کے گھوڑے کی محبت سے منسوب کر دیتا ہے ۔کوئی موسیقی کو روح کی غذا بنا دیتا ہے۔کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اتنا بڑا روحانی پیشوا ہے کہ ام الخبائث اس کے مونہہ میں جا کر شرا باََ طہورا بن جاتی ہے ، شیطانیت کی بھی انتہا ہوتی ہے ۔ ہاں بھئی انسانی فطرت کے لطائف اپنی جگہ ہیں لیکن غذا میں بھی تو حرام و حلال کی تمیز دی گئی ہے ۔ بے ہنگم موسیقی طبیعت میں کثافت تو پیدا کر سکتی ہے لطافت نہیں ۔ کھانے کے لئے تو سبھی کچھ میسر ہے اور کھانے والی مخلوق بھی اللہ نے بے شمار بنائی ہے لیکن اسی مخلوق میں کسی کی زندگی کا انحصار غلاظت کھا کر ہے تو انسان بھی وہی کھانا شروع کر دے ؟

          ایسے لوگوں کو میرا مشورہ ہے کہ وہ س سے سید کے بجائے ص سے صید لکھا کریں اپنے نام کے ساتھ یہی مناسب ہے کہ وہ اپنے نفس اور تکبر کا شکار ہی تو ہیں ۔ مجھے معلوم ہے کہ اس تحریر کو پڑھنے والے ایسے افراد جنہیں اپنی صورت اس آئینے میں نظر آئے گی تو اسی آئینے کی کرچیاں انہیں چبھیں گیں، اور اگر ایسا ہوا تو یہ بھی غنیمت ہے کہ دل زندہ ہے ورنہ سچائی کی چبھن بھی کوئی نہ محسوس کرے تو وہ دل تو مردہ ہی ہے اور کسی طور پہ شفا کے قابل نہیں ۔ خدا کرے کہ یہ نوبت عرقِ انفعال تک پہنچے ، ورنہ تو مایوسی ہی مایوسی ہے ۔ ابلیس کے بلند و بانگ قہقہوں نے تو ویسے بھی ہماری قوتِ سماعت اور دنیاوی روشنی نے قوت بصارت کو چھین رکھا ہے۔ا فراد یا قومیں صرف ناچ رنگ میں مصروف رہ کر یا تماشبین بن کر دنیا میں خلافت ارضی کا رول ادا نہیں کرتیں۔ انسان کا اور خصوصاََ مسلمان یا مومن کا  مقصدِ حیات کچھ اور ہے ، لات و منات کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ اللہ ہمارے حال پہ رحم فرمائے    ؎

کھول کر آنکھیں  مر ے  آئینہ  گفتار  میں  

  آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ !

حشام احمد سی

 

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: